حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت امیر المومنین علیہ السلام کی نگاہ میں - خیبر

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت امیر المومنین علیہ السلام کی نگاہ میں

08 فروری 2019 19:02

شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہااتنا بڑا غم تھا کہ علی ع جیسا صابر انسان بھی تڑپ اٹھا اور فرمایا : آپکی دوری مجھ پر گراں گزرے گی لیکن اس سے کوئی گریز نہیں ہے خدا کی قسم آپ کے جانے سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی مصیبت تازہ ہو گئی

خیبر صہیون تحقیقاتی مرکز: انسان کا کردار اور اسکی فکر اسکی شخصیت کے ترجمان ہوا کرتے ہیں ،انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے لیکن اپنی فکر اوراپنے کردار سے اپنی شخصیت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ جاتا ہے ،عام طور پر جب بھی کسی کی شخصیت کی بات آتی ہے تو انسان کی فکر اسکے احساس،اور اسکے کردار کو سامنے رکھا جاتا ہے ، ہر انسان کی زندگی میں اسکا وہ سلیقہ زندگی بہت اہم ہوتا ہے جسے اس نے معاشرہ میں اختیار کیا اور اسکے مطابق زندگی گزاری[۱]۔ یوں تو ہر انسان کی شخصیت اسکی فکر و اسکے عمل سے جانی جاتی ہے لیکن موجودہ دور میں شخصیت شناسی ایک مستقل موضوع ہے اور شخصیت کی تعریف کیا ہے اسی مسئلہ کو لیکر ماہرین نفسیات، فلسفیوں اور سماجی ماہرین نے اپنے اپنے انداز میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسکی مختلف تعریفیں کی ہیں جنکی تعداد سینکڑوں پر متجاوز ہے . گیلفورڈ (گئیلفورڈ) نے ۱۹۵۹ ء ان تعریفوں کو چار اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے ہر ایک پر گفتگو کی ہے جو فی الحال ہمارے پیش نظر نہیں ۔ شخصیت کی جو بھی تعریف کی جائے اس کے دو بنیادی عناصر فکر و عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کسی بھی شخصیت کی فکر کو سمجھنے اسکے طرز عمل کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت کے ساتھ رہنے والے افراد سے رابطہ کیا جائے اور دیکھا جائَے کہ اس شخصیت کے بارے میں اسکے قریبی لوگوں کا خیال کیا ہے یہی وجہ ہے کہ جب بھی بات کسی شخصیت اور اسکے کمالات کی آتی ہے تو شخصیت کے مختلف پہلووں کو بیان و واضح کرنے کے لئے شخصیت کے افکار و آثار کے ساتھ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس شخصیت کے ساتھ کن لوگوں نے وقت گزارا ہے اور گزرے ہوئے وقت میں اس شخصیت نے مختلف رشتوں کو کیسے نبھایا ہے چنانچہ علم نفسیات (Psychology) میں شخصیت کا مطالعہ اور اس کے کمالات کا احاطہ ہمیشہ ہی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

جب عام طور پر کسی عام انسان کی شخصیت کے ظاہری و باطنی اور اکتسابی و غیر اکتسابی خصوصیات (Personality Attributes) کو بیان کرنے کا مرحلہ آجائے تو ہم ان لوگوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جنہوں نے منظور نظر شخصیت کے ساتھ وقت گزارا ہو، جو متعلقہ شخصیت کے ساتھ اٹھے بیٹھے ہوں ۔ خاص مقامات پر خاص شخصیتوں کے بارے میں تو اور بھی ضروری ہے کہ ہم ان کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے لئے ان لوگوں کی طرف رجوع کریں جنکے ساتھ اس شخصیت نے وقت گزارا ہے جسے ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں ۔

شک نہیں کہ ہر شخصیت کو سمجھنے کے لئے اسکے ان خصوصیات کو جاننا ضروری ہوتا ہے جو شخصیت میں نمایاں ہیں، شخصیت کی شناخت میں وہ دور اہم ہوتا ہے جس میں شخصیت پروان چڑھی ہے، جس کے ساتھ زندگی گزاری ہے وہ ساتھی اہم ہوتا ہے ،جس شہر میں زندگی گزاری ہے وہ شہر اہم ہوتا ہے اسی طرح جس گھر اور خاندان میں زندگی گزاری ہے وہ گھر اور خاندانی پس منظر اہم ہوتا ہے ۔

ہر ایک شخصیت کی اپنی منفرد سوچ ہوتی ہے منفرد عادتیں اور خصوصتیں ہوتی ہیں جن سے اسکی پہچان بنتی ہے ۔ شخصیت کو پہچاننے میں اسکی فطری صلاحیتوں ، رجحانات و عادتوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے اور اسکے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ شخصیت کن چیزوں کی ورثہ دار ہے کیونکہ “علم التشریح { Anatomay} نفسیات ، اخلاقیات اور علم الاجتماع میں یہ بات طے ہے کہ انسان کے اندر خون اور خاندان کے اثرات بڑی حد تک موجود رہتے ہیں اور اس کی سیرت کی تشکیل فطری صلاحیتوں، رجحانات اور ذہنیت کے بنانے میں موروثی اثرات کا خاصہ دخل ہوتا ہے ۔[۲]خون اور خاندان کے علاوہ ہر شخصیت کی کچھ ایسی عادتیں ہوتی ہیں جو مستقل ہوتی ہیں، جبکہ کچھ وہ ہوتی ہیں جن میں زمانے اور حالات کے ساتھ تبدیلیاں بھی پیدا ہوتی رہتی یہی عادتیں ہی ایک شخصیت کو دوسری شخصیت سے علیحدہ کرنے کا سبب ہوتی ہیں یہی سبب ہے کہ ہر معاملے میں انسان اپنی شخصیت کے مطابق عمل کرتا ہے شخصیت کی شناخت اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ اگر کسی کی شخصیت کو درست طور ہمہ جہت جان لیا جائے اسکی تشکیل میں پائے جانے والے عناصر ، خاندانی پس منظر، وراثت، ماحول، رشتہ دار و اقارب و دوست و احباب وغیرہ پر نظر ہو تو یہ تک بتایا جا سکتا ہے کہ فرد مخصوص کن حالات میں کیا فیصلہ کر سکتا ہے اور کس عمل پر رد عمل دکھا سکتا ہے اور اسکے رد عمل کی کیفیت کیا ہوگی ؟اسی بنا پر شخصیت شناسی کا موضوع بہت اہم ہو جاتا ہے ۔

یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جس میں شخصیت کی شناخت کے بنیادی عناصر سے لیکر آفاقیت کی پہلووں پر اہل قلم حضرات نے بہت کچھ لکھا ہے ۔

اب اسے کیا کہا جائے کہ زیادہ تر ان شخصیتوں پر لکھا گیا ہے جن کا تعلق صنف قوی و رجل سے ہے جبکہ صنف نسواں سے متعلق شخصیتوں کے بارے میں خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا یہ ضرور ہوا ہے کہ جب صنف نسواں کی صلاحیتوں اور انسانی معاشرہ کی تربیت کو فلاسفہ و دانشوروں نے دیکھا تو کہا کہ عورت ہی سر چشمہ حیات ہے ۔[۳]لیکن جب اس سر چشمہ حیات کے ان پہلووں کو پیش کرنے کی بات آئی کہ جنکی وجہ سے اسے سرچشمہ حیات کہا گیا تو خاموشی و سناٹا نظر آتا ہے اگر کچھ باتیں ہیں بھی تو بہت ہی کلی اور عمومی ،سرچشمہ حیات کے معیاروں کو طول تاریخ میں مایہ ناز خواتین پر تطبیق دینے کا کام نہیں ہو سکا ہے۔

جسکی وجہ سے تاریخ کی نمایاں شخصیتوں میں مردوں کے نام زیادہ ہیں اور تاریخ کی ممتاز خواتین کی شخصیت پر شاذ و نادر ہی قابل ذکر مواد فراہم ہو پاتا ہے یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شب و روز کی تگ و دو بہت محنت کے بعد کچھ ہی ہاتھ آتا ہے ۔

اب اگر ہم دنیا میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی صنف نازک سے متعلق شخصیتوں پر کچھ بیان کرنا چاہیں تو ان کی زندگی کے کچھ ہی گوشوں کو عزم پیہم و سعی مسلسل کے ساتھ مطالعہ و تحقیق کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔ دن رات کی محنت و لگن کے بعد اگر ہم نے کمالات کے کچھ خوشے چن بھی لئے تو اتنا ضرور ہوگا کہ یہ وہ کمالات ہوں گے جنکے الگ الگ روای ہونگے، جنکی الگ الگ روایتیں ہوں گی ۔

کم ہوں گی ایسی شخصتیں جنکے بارے میں انکے ہی شریک سفر نے انکی فضیلت کا کوئی گوشہ بیان کیا ہو ، کم ہونگی ایسی با فضیلت خواتین جن کے فضائل کے راوی خود انکے اپنے شوہر ہوں اور انکی جانب سے بیان شدہ روایتوں پر کوئی حرف بھی نہ ہو، اور اگر ایسی کوئی شخصیت مل بھی گئی تو ضروری نہیں کہ اسکا شوہر و ہمسر بھی اسی کی طرح صاحب فضیلت ہو ،اگر یہ طاہرہ ہے تو وہ طاہر ہو یہ صدیقہ ہے تو وہ صدیق ہو یہ معصومہ ہے تو وہ بھی معصوم ہو ، یہ صفیہ ہے تو وہ صفی ہو یہ راضیہ ہے تو وہ مرتضی ہو ۔

الغرض ایسی شخصتیوں کو تلاش کرنا بہت مشکل ہے جنکے فضائل و مناقب کو جہاں مورخین و اہل قلم حضرات نے بیان کیا ہو وہیں انکے شریک سفر نے بھی نقل کیا ہو ۔ اوراگر تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہمیں ایسی شخصیت مل بھی جائے تو یہ ضروری نہیں ہے جو شخصیت اپنی شریکہ حیات کے مختلف گوشوں کو بیان کر رہی ہے اس میں مبالغہ آرائی نہ ہو سب کچھ حقیقت پر مبتنی ہو ، لیکن مکمل یقین سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں دامن تاریخ میں صنف نسواں میں دو ہی ایسی شخصتیں نظر آتی ہیں جواپنے مقام و مرتبہ کی حیثیت سے دنیا کی ہر شخصیت پر بھاری ہیں اور انکی فضیلت کو بیان کرنے والی مقدس ہستیاں وہ ہیں جو شوہر ہونے کے ناطے ان پر ولایت رکھنے کے باوجود عرصہ فضل و کمال میں انکے سامنے خاضع ہیں اور دونوں نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے اس میں ایک جملہ بھی نہ مبالغہ ہے اور نہ اپنی زوجہ کو خوش کرنے کے لئے بیان کیا ہے اور غلط بیانی تو استغفر اللہ …جہاں عصمت کے پہرے ہوں وہاں گمان کرنا بھی گناہ ہے کہ کوئی ایسی بات بیان کر دی جائے جو شخصیت کا حصہ نہ ہو لیکن بیان ہو جائے ۔

ان دو عظیم ہستیوں میں جنکے فضائل و کمالات کو انکے شوہروں نے بیان کیا ہے ایک شخصیت جناب خدیجہ کبری سلام اللہ علہیا کی ہے جنکے فضائل کے گوشے بیان کرنے والی شخصیت جوہر ِہست و بود ہے ،وہ ذات والا صفات جسکے صدقے میں یہ کائنات قائم ہوئی ۔ اور دوسری شخصیت جناب خدیجہ ہی کی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ہے جنکی فضیلت کے گوشوں کو انکے شوہر نامدار جناب امیر المومنین علی ابن ابی طالب نے بیا ن کیا ہے چاہے گزرا کل ہو یا آج کا دور ہر دور و زمانہ میں علی ع کی قربانیوں نے ہی دین کو بچاءے رکھا اور آج بھی علی ع کا بیٹا پردہ غیب میں محافظ دین و شریعت کی صورت ہماری رہنمائی کر رہا ہے ،اب اگر ایسی ذات جو محافظ ختم الرسل ہو ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تعلیمات اور انکے مقاصد کی پاسبانی کرنے والی ذات ہو ،ایسی ذات اگر کسی خاتون کی زندگی میں آجائے تو اسکی فضیلت کے لئے کیا کم ہے چہ جائیکہ ایسی ذات خود جس بات پر ناز کرے وہ یہ کہ میں فاطمہ ع کا شوہر ہوں ۔

دیگر ازواجِ امام علی علیہ السلام اور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علہیا کے درمیان یہی فرق ہے کہ امام علی علیہ السلام کی ذات دیگر ازواج کے لئے باعث فخر و مباہات ہے جبکہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایسی زوجہ ہیں جنہیں پانے پر علی ع کو ناز ہے کہ فاطمہ ع میری زوجہ ہے ، حضرت زہراء مرضیہ کی فضیلت کا یہ گوشہ کیا کم ہے کہ علی محافظ نبوت و رسالت ہیں تو فاطمہ ع محافظ امامت و ولایت ہیں ۔

امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی نظر میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا بیان بی بی کی عظمت و جلالت کی دلیل ہے ایک عام انسان کسی کی فضیلت کو بیان کرے اور بات ہے لیکن فضلیتیں جسکا طواف کرتی ہوں وہ کسی کے بارے میں زبان کھولے اور ہے ،ایسی ذات جو اگر نہ ہوتی تو فاطمہ ع کا کوئی ہمسر نہ ہوتا «لو لا أنّ الله تبارك و تعالي خلق اميرالمؤمنين(عليه السلام) ما كان لها كفو علي ظهر الأرض من آدم و من دونه»[۴]. اتنا ہی نہیں کہ امیر المومنین علیہ السلام نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کےپہلووں کو آشکار کیا ہے بلکہ جا بجا آپ نے ا س بات پر فخر بھی کیا ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا میری زوجہ ہیں کیا ہے کم فضیلت ہے کہ امام علی علیہ السلام جیسی تاریخ بشریت کی عظیم شخصیت جس شخصیت پر فخر کرتی ہے وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت ہے[۵] علی ع کے پاس فضیلتوں کی کمی نہیں لیکن آپ جس چیز کو اپنے لئے باعث فضیلت سمجھتے ہیں وہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات والا صفات ہے کیا یہ معمولی بات ہے؟۔

کتنا بہتر ہے کہ ایام فاطمیہ میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو شخصیت کو سمجھنے کے لئے اس کے در پر چلا جائے جسے باب مدینۃ العلم کہا گیا چنانچہ پیش نظر تحریر میں شخصیت حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے امام علی علیہ السلام کے ان بیانات و ارشادات کو پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں آپ نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سلسلہ سے بیان کیا ہے ۔

فاطمہ دلیل حقانیت :

کون ایسا صاحب ایمان ہے جو نہیں جاتنا کہ علی علیہ السلام کو کسی کے سامنے اپنی حقانیت کے اثبات کی ضرورت نہیں کہ علی ع و حق ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں جو کچھ مفہوم حق ہے اسے اگر ایک کامل مصداق میں بیان کیا جائے تو ذات علی ع میں ڈھلتا ہے علی ع و حق ساتھ ساتھ ہیں «عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»[۶] کس صاحب ایمان کو نہیں پتہ کے علی ع کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء فرمائی تھی «اللَّهُمَّ أَدِرِ الْحَقَّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ دَارَ»[۷]. حقانیت علی ع اور علی علیہ السلام کے محور حق ہونے کے باوجود جب امیر شام کو آپ ایک اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ میرے ساتھ تصادم تیری ہلاکت کا سبب بنے گا اور اسکے اور اپنے درمیان کے فرق کو واضح کرتے ہیں تو یہ نہیں فرماتے کہ میں محور حق ہو ں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے بارے میں یہ کہا اور تو میرے مقابلہ پر آیا بلکہ بہت ہی سامنے کی محسوس ہونے والی چیزوں کو بیان کرتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے وَمِنَّا خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ وَمِنْكُمْ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ،: کائنات کی سب سے ہہترین خاتون ہم میں سے ہے اور حمالۃ الحطب اور دوزخ کی لکڑیاں خریدنے والی تم میں سے ہے، ([۸] آپ اپنی فضیلت و حقانیت کے لئے بہت سی ایسی احادیث بیان کر سکتے تھے جس کے راوی اس دور کے صحابہ ہائے جلیل تھے لیکن آپ نے بالکل سامنے کی ایسی بات رکھی جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا ۔اور واضح کر دیا کہ سید ۃ النساء العالمین اور جمالۃ الحطب کے درمیان جو جنت و جہنم کا فرق ہے وہی ہماری اور تمہارےدرمیان کا فرق ہے ۔اب سمجھ لو کون حق ہے کون باطل ہے ۔

فاطمہ سلام اللہ علیہا کے ذریعہ احقاق حق :

جہاں آپ نے امیر شام کو لکھے مکتوب کے ذریعہ یہ واضح کیا کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہم میں سے ہے تم اپنے کردار اور اپنے ماضی کو دیکھو کہ کن لوگوں کے ساتھ تمہارا حشر و نشر رہا ہے وہیں آپ نے ۶ رکنی شوری میں بھی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علہیا سے اپنی نسبت کو اپنے احقاق حق کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: قال عليه السلام: نشدتكم بالله هل فيكم أحد زوجته سيدة نساء العالمين غيري؟ قالوا: لا”کیا میرے علاوہ تم میں سے کوئی ہے جس کی زوجہ تمام عورتوں کی سردار ہو ۔ سب نے کہا :نہیں [۹]

اسکے علاوہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: پیغمر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی میری زوجہ ہے ، اسکا گوشت و خون میرے ساتھ آمیختہ ہے ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے اور میرے فرزند فاطمہ زہرا سلام اللہ علہیا سے ہیں تم میں سے کون ہے جو کا میرے جتنے حصہ کا حقدار ہے ۔ [۱۰]

جہاں شوری اور دیگر مقامات پر سب کے سامنے آپ نے اس انداز سے استدال کیا وہیں خلیفہ اول کے سامنے بھی اسی انداز سے آپ کا احتجاج ملتا ہے چنانچہ تاریخ میں ہے سقیفہ میں حضرت نے اپنے فضائل و کمالات کوبیان کرتے ہوئے ابوبکرسے فرمایا: تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں ، رسول نے جسے اپنی بیٹی دی اور وہ تو ہے یا میری ذات ہے ابو بکر نے جواب دیا آپکی ذات ہے ۔[۱۱]

قول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے تمسک :

آپ حدیث اربع مائہ میں اپنے اس بیان کے بعد کہ اپنی اموات کی تجہیز و تکفین میں اچھی گفتگو کرو شائستہ باتیں کرو آگے فرماتے ہیں : «فان بنت محمد صلی الله علیه و آله لما قبض ابوها ساعدتها جمیع بنات بنی‌هاشم، قالت: دعوا التعداد و علیكم بالدعا.» حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے رحلت سرورکائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد بنی ہاشم کی ان عورتوں کو خطاب کیا جو بنی ہاشم کی مدد کر رہے تھے اور اپنی زینت ترک کر دی تھی اور لباس غم پہنا ہوا تھا فرمایا: اپنی اس حالت کو تبدیل کرو اور دعاء و ذکر میں مشغول ہو جاو ۔[۱۲]

استاد جوادی آملی اس مقام پر فرماتے ہیں : حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام خود معصوم ہیں اور آپ کا قول حجت ہے اسکے باوجود آپ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے قول سے تمسک کرتے ہیں[۱۳] کیا یہ معمولی بات ہے کہ ایک امام معصوم ایک حجت خدا ایک شرعی مسئلہ کو بیان کرتے ہوئے اسے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے مستند کرتا ہے پھر بیان کرتا ہے جبکہ امام کے اعتبا ر سے بھی آپکا قول حجت ہے اور صحابی کے اعتبار سے بھی ججت ہے ، اسکے باوجود ایک شرعی مسئلہ میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے مستند کرتے ہوئے مسئلہ کا بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شرعی معاملات میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات مرجع ہے ، اور اگر کسی جگہ تمہیں شبہہ ہو کہ حق کہاں ہے تو دیکھنا فاطمہ ع کہاں ہیں ، چاہے معاملہ خلافت کا ہو یا معاملہ فدک کا ہو جہاں فاطمہ ع ہونگی حق وہیں ہوگا ۔

سلام اللہ علیہا محور رضا و غضب ِپروردگار :

آپ نے جہاں جناب فاطمہ زہرا کے ذریعہ احقاق حق کیا ، اپنی فضیلت کو جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب ہونے میں بیان کرتے ہوئے اس بات پر فخر کیا اور شرعی مسئلہ میں آپکی ذات سے مستند کرتے ہوئے حکم شرعی بیان کیا وہیں آپ نے اس مشہور حدیث کو بھی نقل کیا جسے ہم سب جانتے ہیں کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مرضی خدا کی مرضی اور انکا غضب غضب پروردگارہے :[۱۴]

فاطمہ علی کے لئے کیا تھیں ؟

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا محض علی علیہ السلام کی ایک زوجہ نہ تھیں بلکہ آپ کی زندگی کا کل سرمایہ تھیں علی ع کی ہمدم تھیں معاون تھیں ساتھی تھیں ایسی ساتھی اور دوست کے جنکو دیکھ علی ع اپنے غموں کو بھول جایا کرتے چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں کہ جب میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے چہرہ اقدس کو دیکھتا تو اپنے حزن و ملال مجھ سے زائل ہو جاتا جاتا تھا [۱۵]

یہی وجہ ہے کہ آپ نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی میں بھی اور بعد وفات بھی جب ہمیشہ آپکو اپنے ہمراز و معاون و مددگار ساتھی کے طور پر پیش کیا ہے کہ جہاں آپ علی ع کے غمو ں کا مداوا تھیں وہیں آپ کی ذات علی ع کے مقصد حیات کی طرف بڑھنے میں معاون و مددگار تھی ایک زوجہ کے لئے اس سے بڑھ کر کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مقصد حیات کو سمجھے اور اسکے مقصد کی طرف بڑھتے قدموں میں مددگار بن جائے ،

اطاعت الہی میں معاون و مددگار :

اگر زندگی کی بات ہو تو آپ نے حضرت زہرا سلام اللہ علہیا کو اپنا بہترین ساتھی اور دوست قرار دیتے ہوئے فرمایا اطاعت الہی کی راہ میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا میری بہترین مدد گار و ساتھی ہیں انبیاء و معصوم پیشواوں نے راہ سعادت و کامبابی کو دستوارت و فرامین الہی کی پیروی میں قرار دیا ہے چنانچہ بہترین دوست و معاون تعلیمات ائمہ کی نظر میں وہی ہے جو بندگی کی راہ میں مددگار ثابت ہو ۔چنانچہ جب حضور سرور کائنات نے آپ سے پوچھا علی ع تم نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو کیسا پایا تو امام علی علیہ السلام پیغبر ص کے جواب میں فرماتے ہیں میں فاطمہ س کو اطاعت پروردگار میں نے بہترین مدد گار پایا۔[۱۶]

اطاعت گزار زوجہ :

جہاں آپ امام علی علیہ السلام کے لئے مقصد خلقت میں انکی معاون تھیں اطاعت الہی و بندگی پروردگار میں بہترین مددگار تھیں وہیں آپ نے پوری زندگی اس طرح گزاری کہ کبھی شوہر کو شکایت کا موقع نہ دیا چنانچہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

خدا کی قسم فاطمہ نے مجھے کبھی غضبناک نہ کیا اور کسی بھی کام میں میری بات سے سرپیچی نہ کی[۱۷]

جناب زہرا کی بات کو مقدم رکھنا :

جناب زہرا سلام اللہ علیہا نے اس طرح زندگی گزاری کہ جب وقت وصیت آیا تو امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

آپکو جو بھی وصیت کرنا ہے کر دیں ، یقینا آپ سے کئے گئے عہد کو پورا کرونگا ، جو آپ کا حکم ہوگا اس پر عمل کرونگا ، آپ کی خواہش و نظر کو خود کی نظر پر مقدم رکھونگا[۱۸]

امام علی کی تسکین کا سبب :

حضرت علی جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد فرماتے ہیں :

«بِمَنِ العَزاءُ‌،یا بِنتَ مُحمَد؟ كُنتُ بِكِ اَتَعزی فَفیمَ العَزاء مِن بَعدِكِ؟ ۔کس کے ذریعہ میں اپنے غموں کو ہلکا کروں ائے بنت پیغمبر ص میری تسکین تو آپ سے ہوتی تھی آپکے بعد کون ہے جو میرے لئے آرامش جاں قرار پائے [۱۹]

فقدان فاطمہ ع ایسا غم جو مندمل نہیں ہو سکتا :

جہاں آپ امام علی علیہ السلام کی تسکین کا سبب تھیں وہیں آپ کے زخموں کا مرہم بھی تھیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد امام علی علیہ السلام کا دامن صبر تنگ ہوتا نظر آتا اور آپ فرماتے ہیں : یا رسول اللہ آپکی بیٹی و وفات پر میرا صبر کم ہو گیا اور میرے اند ر سیدۃ النساء العالمین کے فراق کے بعد اب تاب نہیں قوت برداشت نہیں [۲۰]

شہادت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہااتنا بڑا غم تھا کہ علی ع جیسا صابر انسان بھی تڑپ اٹھا اور فرمایا : آپکی دوری مجھ پر گراں گزرے گی لیکن اس سے کوئی گریز نہیں ہے خدا کی قسم آپ کے جانے سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی مصیبت تازہ ہو گئی ، یقینا آپ کی مصیبت ایسی ہے جسکی بھرپائی کسی چیز سے ممکن نہیں کوئی چیز اس فقدان کی جگہ نہیں لے سکتی ۔[۲۱]

نتیجہ گفتگو:

جو کچھ ہم نے بیان کیا اسکی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت امیر المومنین علیہ السلام کے نزدیک کیا تھی، اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا کہ ایک مشترکہ زندگی میں شوہر اور زوجہ ایک دوسرے سے راضی رہیں کسی کو کسی سے شکایت نہ ہو ، جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا امام علی علیہ السلام سے کوئی خواہش نہ کرنا اور امام علی علیہ السلام کو آپ سے کسی شکایت کا نہ ہونا یہ وہ چیز ہے جو آج ہماری ماوں بہنوں کے لئے نمونہ عمل ہے کردار حضرت فاطمہ تمام ہی عورتوں کے ليے ایک مثال اور نصب العین ہے آپ نے زوجہ اور ماں کی حیثیت سے نے جو زندگی بسر کی اسکے نقوش اتنے پائدار و لافانی ہیں کہ ۱۸ سال کی مختصر زندگی صدیوں پر محیط آج بھی ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھا رہی ہے یقینا ہم ان نقوش کو اپنی زندگی میں لانے میں کامیاب ہو گئے تو ایک انقلاب آ جائے گا لیکن اسکے لئے ضروری ہے کہ آپ آپ کو رضا و تسلیم الہی کی اس منزل پر پہنچائیں جہاں ہمارا وجود کچھ نہ ہو بس سامنے خدا ہو ، جب ہر چیز سے صرف نظر کر کے خدا کی مرضی کو دیکھا جاتا ہے تب کہیں جا کر یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ شوہر سے بھی کچھ نہیں کہا جاتا اپنی ہر ضرورت کو خدا سے بیان کیا جاتا ہے ،جسکے بدلے میں خدا اپنی مرضی کا مالک بنا دیتا ہے سچ کہا تھا علامہ اقبال نے؛

مزرع تسلیم را حاصل بتول

مادراں را اسوہ کامل بتول

بقلم: سید نجیب الحسن زیدی

حواشی :

۔ [۱]اتکینسون و هیلگارد. زمینه روانشناسی. تهران: انتشارات ارجمند، ۱۳۹۲. شابک ‎۹۷۸-۶۰۰-۲۰۰-۰۵۰-۷.، نیز Corr, Philip J.; Matthews, Gerald (2009). The Cambridge handbook of personality psychology (1. publ. ed.). Cambridge: Cambridge University Press. ISBN 978-0521862189 (

[۲] ۔ )تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، سید ابو الحسن ندوی ، المرتضی ص ۳۰(

[۳] ۔) ويل دورانت/لذات فلسفه/ص۱۴۰٫۳(

[۴] ۔ )كافي، ج۱، ص ۴۱۶؛

[۵] ۔،) نہج البلاغہ مکتوب ۲۸، بحارالانوار/ج۴۱/ صص۱۵۱و ۲۲۴٫، الاحتجاج: ج۱، ص۱۷۱ و۱۹۵٫(

[۶] ۔)تاريخ مدينة دمشق – ج ۷۹ – ۸۰ (

[۷] ۔)التفسير الكبير ج۱، ص۱۶۸، نشر: دار الكتب العلمية – بيروت.

[۸] ۔)نہج البلاغہ مکتوب ۲۸، بحارالانوار/ج۴۱/ صص۱۵۱و ۲۲۴٫

[۹] ۔)الاحتجاج: ج۱، ص۱۷۱ و۱۹۵٫، نهج البلاغه.(

[۱۰] ۔)طبرسی/ احتجاج/ مؤسسه الاعلمی للمطبوعات/ بیروت/ چاپ دوم، ۱۹۸۳ ء/ج۱/ ص۱۳۵٫(

[۱۱] ۔)قال عليه السلام في مناشدة طويلة مع أبي بكر: فأنشدك بالله أنا الذي اختارني رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وزوجني ابنته فاطمة عليها السلام وقال: (الله زوجك إياها في السماء) أم أنت؟ قال: بل أنت ,الاحتجاج: ج۱، ص ۱۷۱ و۱۹۵٫(

[۱۲] ۔)الخصال ۲/۶۱۸ ضمن ح ۱۰(

[۱۳] ۔)جوادی آملی/ زن در آئینه جمال و جلال/ ص۴۲٫ \(

[۱۴] ۔ «انَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ لَیَغضِبُ لِغَضِبِ فاطِمَه وَ یَرضی لِرِضاها» انَّ اللهَ لَیَغضِبُ لِغَضَبِكِ وَ یَرضی لِرِضاكِ ۔) کنزالعمال/ مؤسسه الرسالة بیروت/ ج۱۲/ ص۱۱۱٫(

[۱۵] ۔)لقد کنت انظر الیها فتنکشف عنی الهموم والاحزان،«بحارالانوار،جلد۴۳، صفحه ۱۳۴(

[۱۶] ۔) کیف وجدت اهلک؟ فقال: نعم العون علی طاعة اللَّه بحارالانوار/ ج۴۳/ ص ۱۱۷(

[۱۷] ۔ )فوالله … لا اغضبتنی و لاعصت لی امرا،«بحارالانوار،جلد۴۳، صفحه ۱۳۴(

[۱۸] ۔) سیدمحمد کاظم قزوینی/ فاطمة الزهرا من المهد الی اللحد/ دارالصادق بیروت/ چاپ اول/ صص۶۱۰- ۶۰۹٫(

[۱۹] ۔۔) رحمانی همدانی/ فاطمة الزهرا بهجة قلب مصطفی/ ص ۵۷۸/ به نقل از مجمع الروایة.(

[۲۰] ۔ قَلَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ صَفِيَّتِكَ صَبْرِي، وَ ضَعُفَ عَنْ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ تَجَلُّدِي، أمالي، شیخ طوسي، صفحه: ۱۱۰-۱۰۹، امالی شیخ مفید، صفحه: ۲۸۱-۲۸۳ ، نهج البلاغه/ فیض السلام/ خطبه ۱۹۳٫(

[۲۱] ۔۔) سیدمحمد کاظم قزوینی/ فاطمة الزهرا من المهد الی اللحد/ دارالصادق بیروت/ چاپ اول/ صص۶۱۰- ۶۰۹٫ طبرسی/ احتجاج/ مؤسسه الاعلمی للمطبوعات/ بیروت/ چاپ دوم، ۱۹۸۳ /ج۱/ ص۱۲۳. (

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=18320

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے