دنیا بھر میں یہودی ریاست کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم توڑ دینا چاہئے - خیبر

دنیا بھر میں یہودی ریاست کے ناقابل تسخیر ہونے کا بھرم توڑ دینا چاہئے

09 مئی 2018 18:01

اسرائیل کے بارے ميں مربوط مطالعاتی نظام موجود نہیں ہے، اس ریاست کے بارے میں چند بنیادی رسالے بھی نہیں لکھے جا سکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ایران میں [اور اسلامی ممالک میں] کتنے اسرائیل شناس دانشور پائے جاتے ہیں جو ان کے افکار کو پہچان لیں؟ کوئی ایسا ہونا چاہئے جو ایک تزویرکار (Strategist) کے طور پر امریکہ کو پہچان لے، یہ اس کو سب سے پہلے جان لینا چاہئے کہ اس شعبے میں کتنے لوگ فعال ہیں اور بعد اس کے تعلیمی نظام اور قانونی نظام (Legal System) کو پہچان لے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر یعقوب توکلی اسرائیل کے صنفیاتی مطالعے اور پہچان کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں؛ کتاب “حقیقت سیمر” ان کی اہم ترین کاوشوں میں شمار ہوتی ہے جو حزب اللہ لبنان کے کمانڈر شہید سمیر قنطار کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔ شہید قنطار عشروں تک یہودی ریاست کے قیدخانوں میں اسیری کی زندگی گذار چکے تھے اور انھوں نے جناب توکلی کے ساتھ ایک تفصیلی مکالمے کے دوران اپنی یادیں ریکارڈ کرائیں تھیں جنہیں ڈاکٹر صاحب نے داستانی اسلوب میں مرتب کرکے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔ ذیل کا متن ڈاکٹر یعقوب توکلی کے ساتھ خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کا انٹرویو ہے، جس کا آخری حصہ قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:


• یہودی ریاست میں طاقت کے وہم (جھوٹا بھرم) کو مسئلہ (ایشو) بنانا، کیا طاقت کی علامت ہے یا اس کا کمزور پہلو (Achilles Heel)؟
میں اس کو نہایت سنجیدہ امر سمجھتا ہوں اور اس پر یقین راسخ رکھتا ہوں کہ یہودی ریاست آسانی سے حزب اللہ کے خلاف میدان جنگ میں نہیں اترے گی۔ حزب اللہ کے مجاہدین کی تعداد اسرائیلی افواج کے مقابلے میں شاید دس گنا یا ۱۰۰ گنا کم ہو لیکن اس کے باوجود اسرائیلی اس جنگ میں کودنے کی جرئت نہیں کرسکتے۔ کچھ واقعات رونما ہوئے اور اسرائیلیوں نے خوف کا جو وہم دنیا بھر میں بنا رکھا ھے، اب خود اسرائیلیوں کے لئے وبال جان بن چکا ہے۔
مثال کے طور پر ایک انقلابی شخص کو جنوبی امریکہ میں گرفتار کیا گیا اور اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ گرفتاری پر مامور افراد کا گروپ ۵۳ ارکان پر مشتمل تھا۔ اور جہاں بھی کوئی مخالف ظاہر ہوجاتا تھا، گرفتار کیا جاتا تھا۔ اس ۵۳ رکنی گروپ کو محاذ مزاحمت کے ایک کمانڈر کی گرفتاری کا مشن سونپا گیا تھا لیکن دلچسپ امر یہ تھا کہ محاذ مزاحمت نے ان کے نیٹ ورک میں داخل ہوکر ایک عجیب و غریب شخص کو اسرائیل کے حساس ترین ادارے میں بطور اعلی اہلکار بھرتی کروایا اور حملے کی تجویز دلوائی۔
یہ کوئی معمولی ٹیم نہ تھی، ایسے لوگ تھے جو اگر مثلا آپ کو گرفتار کرنا چاہتے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نہایت اچھے وسائل کے ساتھ بدلے ہوئے بھیس میں آ کر آپ کے گھر پر دستک دیتے؛ اسی وقت بیہوشی کا ٹیکہ لگا کر آپ کو بےہوش کرتے اور گاڑی میں ڈال کر لے جاتے اور کسی کو بھی کچھ معلوم نہ ہو جاتا۔ انھوں نے شیخ عبدالکریم عبید کو اسی طرح اغوا کیا، جواد القصوری کو اسی طرح اغوا کیا اور بعد میں مصطفی الدیرانی، آقا یوسف الفضلی کو اسی طرح گرفتار کیا اور اپنے بہت سے مخالفین کو بھی اسی روش سے گرفتار کرتے تھے۔ اب آپ ان محاذ مزاحمت کے نوجوانوں کو بھی دیکھیں کہ انھوں نے ان کے ساتھ کیا کیا؟

• محاذ مزاحمت والے کیونکر اس قدر اندر چلے گئے ان کے ادارے میں؟
ان کے جاسوسی نیٹ ورک میں گھس گئے اور انہیں تجویز دی کہ فلاں وقت پر الانتصاریہ کے علاقے میں مزاحمت کے کمانڈروں کا اجلاس ہورہا ہے، آکر کمانڈروں کو گرفتار کرو؛ ان کو راستہ بھی دکھایا، سڑک، گلی اور گھر کا پتہ بھی دیا اور پھر خود جاکر پورے راستے میں بم رکھ لئے اور بارودی سرنگیں بچھا دیں۔ بعدازاں صہیونی سیکورٹی ادارے کی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے میں آگئے؛ ہیلی کاپٹر سے اترے اور جب مقررہ راستے پر روانہ ہوئے تو مزاحمت کے مجاہدین نے تمام بموں اور سرنگوں کو پھاڑا اور کافی سارے افراد مارے گئے۔ بعد میں ہلاک شدگان کی لاشیں منتقل کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر آئے اور مجاہدین نے انہیں پرامن انداز سے لاشیں منتقل کرنے کا موقع دیا اور وہاں سے چلے گئے۔
صورت حال یہ ہوئی کہ ۵۳ رکنی ٹیم اس کے بعد لبنان میں کوئی کاروائی نہ کرسکی بلکہ تہس نہس ہوئی۔ یہ وہ ٹیم تھی جس نے ۵۰ سال تک دنیا بھر کو ستایا، اِنتِبہ (یوگنڈا) میں اسی ٹیم نے کاروائی کی، دنیا بھر میں اس ٹیم کی کاروائی کی مثال دی جاتی تھی، اسلامی انقلاب کے بعد امریکی جاسوسوں کو یرغمال بنایا گیا تو ان کی رہائی کے لئے امریکیوں کی مجوزہ کاروائی کا معیار وہی کاروائی تھی جو صہیونی ٹیم نے یوگنڈا کے انتبہ ہوائی اڈے میں انجام دی تھی۔
لیکن یہاں ایک باریک بینی سے کام ہؤا اور مزاحمت کے نوجوان اس قدر اندر گھس گئے کہ ان کے بڑے اہلکار سے ملنے میں کامیاب ہوئے، اور اس کے ساتھ ملاقات کے لئے وقت اور مقام کا تعین کیا اور اس کو اپنی مرضی کی معلومات فراہم کیں۔ نتیجہ یہ ہؤا کہ پوری تنظیم تباہ ہوگئی اور اس کے بعد دنیا کے دوسرے علاقوں میں بھی صہیونی اداروں کے خلاف کامیاب کاروائیاں ہوئیں۔
بہت سی جگہوں پر ان کے مراکز دھماکوں سے اڑ گئے اور اسرائیلوں کی توہم ساز ذہنیت ان کے اپنے وجود کے لئے وبال جان بن گئی، اب حزب اللہ سے ان کی جان نکلتی ہے، شیعہ سے ان کی جان نکلتی ہے، ایران سے خوفزدہ ہیں، ہر وقت ایران کا تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران خطرناک ہے یہاں تک کہ ان کی نیندیں حرام ہوچکی ہے اور اب خود بھی اس مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں۔ اب انھوں نے خاص حالات میں ہمارے خلاف اقدامات کئے، ہمارے بینکاری نظام پر حملہ آور ہوئے، اور یہ اسرائیلی میجر جنرل اور تزویرکار کی تجویز تھی۔
اس نے سنہ ۲۰۰۰ میں بھی یہی تجویز دی تھی اور بعد میں اس کی تجویز امریکی نظام میں منظور ہوئی۔ امریکی حکومت مکمل طور پر ان مسائل کی طرف توجہ رکھتی ہے۔ بہرحال میرا کہنا یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کے خلاف مزاحمت اور اس کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت موجود ہے اور ہم اس مسئلے کو حل کرسکتے ہیں، تاہم ہمیں احتیاط سے کام لینا ہے کہ کہیں وہم کی بیماری میں مبتلا نہ ہوں؛ خوف کے توہم میں مبتلا نہ ہوں؛ کچھ ڈٹے رہیں، تاکہ غور و فکر کریں کہ ہونا کیا چاہئے۔
شہید سمیر قنطار کہا کرتے تھے کہ “آپ ایک اسرائیلی افسر کو مٹھائی کی ایک ڈبی دے کر خرید سکتے ہیں۔ جب وہ آپ سے مٹھائی کی ایک ڈبی لے لیتا ہو تو آپ کا ذلیل بندہ بن جاتا ہے۔ آپ یہودی ریاست میں فلان تاجر سے اسلحہ خرید سکتے ہیں اور دوسرے تاجر کو اس نیٹ ورک کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔ آپ پھر بھی یہ اسلحہ خریدیں اور دوسرے کے خلاف لڑیں۔ یہودی ریاست کا ڈھانچہ بہت زیادہ زد پذیر ہے اور جلدی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے۔
یہودی ریاست کا رعب اور دبدبہ جالوتی لشکر جیسا ہے؛ جن لوگوں کو اس ڈھانچے کے خلاف لڑنا پڑا اور ایسے رعب و دبدبے کے خلاف نبردآزما ہوجاتے تھے جو بالکل جالوت کے رعب جیسا تھا؛ اگر طالوت کی سپاہ جالوت کے رعب سے مرعوب ہوجاتی، ان کی نظریں جالوتی لشکر کے وسائل، زرہ، نیزے اور ڈھال اور تلوار پر پڑتی تھیں تو بہت سے ڈر جاتے تھے لیکن ایک نوعمر لڑکے (داؤد) نے کہا کہ میں اس کو نابود کردیتا ہوں، ان کے پاس تلوار ہے، نیزہ ہے، سب کچھ ہے، تو کیا ہؤا!
میں فلاخُن مارتا ہو۔ خالی ہاتھ، ایک پتھر اٹھایا اور آگے بڑھے، پتھر فلاخن میں ڈالا اور پتھر جو پھینکا تو جالوت کے سر کو لگا، جالوت گرگیا، یعنی وہ وہمی خوف اور رعب ٹوٹ گیا۔ بعض مغربی حلقوں کے ہاں اسی تشبیہ کو استعمال کیا جاتا ہے کہ حزب اللہ جالوت کے مقابلے میں طالوت کی مانند ہے۔ ہمیں پہلے مرحلے میں اس یقین تک پہنچنا ہے کہ جو کچھ ہمارے سامنے ہے، ایک طاقت ہے اور اس میں شک نہیں ہے۔ لیکن ہمیں اس کو حقیقی اندازے میں دیکھنا چاہئے، اس کو اس کی حد اور اندازے سے بڑا نہیں دیکھنا چاہئے اور اس کو نہ اس وہمی اور خیالی شکل میں جو اس نے افکار میں داخل کردی ہے۔
یہودی ریاست نے توہم سازی کو اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھ دیا اور اس میں مہارت حاصل کی؛ کچھ لوگ ابتداء ہی سے جھوٹ بولتے ہیں اور اس جھوٹ کو اس حد تک دہراتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ خود بھی اپنے جھوٹ کا باور کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ بول رہے تھے، درست تھا! اور ان کا جھوٹ سچ تھا اور پھر اپنے اس جھوٹ کی اساس پر جیتے ہیں جس پر وہ یقین کرلیتے ہیں۔
صہیونی ریاست اور صہیونی معاشرہ کچھ ایسا ہی ہے۔ اب وہ اپنے اس جھوٹ میں الجھے ہوئے ہیں جس کو وہ سچ سمجھنے لگے تھے، تو ہمیں کم از کم ان کے جھوٹ کے توہم سے باہر نکلنا چاہئے:
۱۔ ان کے حقائق سے واقف ہوجائیں،
۲۔ ان کے مطالعاتی نظام سے آگہی حاصل کریں،
۳۔ ان کے فکری نظام کو پہچان لیں۔
دیکھ لیں آج ایران میں [اور اسلامی ممالک میں بھی] اسرائیل کے خلاف بہت کچھ بولا جاتا ہے لیکن ابھی تک اسرائیل شناسی اور اسرائیلی مطالعات کا مرکز نہیں پایا جاتا۔

• اسرائیلی تحقیقات کے بارے میں ہمارے اصل مسائل کیا ہیں؟
اسرائیل کے بارے میں مربوط مطالعاتی نظام موجود نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ ہمارے پاس ایران میں [اور اسلامی ممالک میں] کتنے اسرائیل شناس دانشور پائے جاتے ہیں جو ان کے افکار کو پہچان لیں؟ کوئی ایسا ہونا چاہئے جو ایک تزویرکار (Strategist) کے طور پر امریکہ کو پہچان لے، یہ اس کو سب سے پہلے جان لینا چاہئے کہ اس شعبے میں کتنے لوگ فعال ہیں اور بعد اس کے تعلیمی نظام اور قانونی نظام (Legal System) کو پہچان لے۔
ہمارے پاس ایسا ماہر فرد شخص نہیں ہے۔ اسرائیلی ریاست کے اندر جو مظالم ہورہے ہیں، ان کے حوالے سے ہمارا کردار کیا ہے؟ دیکھ لیں، ہمارے پاس کتنی عبری ویب گاہیں ہیں جو یہودی ریاست کے اندر کے اسرائیلی معاشرے سے رابطہ قائم کریں اور وہاں ہونے والے مظالم کی عکاسی کریں؟ تاکہ اسرائیلی معاشرہ انہیں پڑھ لے جبکہ ان کے پاس فارسی زبان کی کئی ویب گاہیں ہیں۔ ابھی تک ہمیں جناب حاج احمد متوسلیان اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے اور ہماری وزارت خارجہ کے کچھ سست، کاہل اور نااہل افراد نے پہلے سے مان لیا کہ وہ مارے گئے ہیں۔ جبکہ اس کے لئے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا، ان کی آزادی کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی اور بغیر کسی ثبوت کو قبول کرلیا کہ ہمارے یہ چار عزیز شہید ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی پائلٹ رون آراد کے لئے ہر سال لہریں اٹھتی ہیں اور پوچھا جاتا ہے کہ وہ کہاں ہے؟ ہماری سستی اور کاہلی ہماری سب سے بڑی مشکل ہے۔ ہم نے مکرر در مکرر ادارے قائم کئے، لیکن کوئی بنیادی کام نہیں ہؤا؛ بلاتکلف کہنا چاہتا ہوں کہ ایک میں نے یہاں سمیر قنطار کے سلسلے میں لکھی گئی کتاب فلسطین سے متعلق ایک تنظیم کے سربراہ کو دی؛ یہ کوئی پانچ یا چھ افراد تھے جو ایک اجلاس میں شرکت کے لئے جارہے تھے، یہ افراد ایران میں فلسطینی امور کے ذمہ دار تھے، میں نے پوچھا: میں نے سمیر قنطار والی کتاب کئی بار آپ کو پیش کی، کیا آپ نے اسے پڑھا؟
ان کے سربراہ نے کہا: میں نے وہ کتاب بطور تحفہ کسی اور کو دی ہے۔ یعنی اس نے یہ کتاب نہیں پڑھی تھی، چھ افراد میں سے صرف ایک شخص نے پڑھی تھی۔ یہود کو اس طرح سے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں کہ ان سے ڈر جائیں لیکن کتاب “حقیقت سیمر” کا مطالعہ تک نہیں کرتے اور یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقی شجاعت اس جھوٹے رعب اور دبدبے کو کس صورت حال سے دوچار کردیتی ہے۔
• بہت شکریہ، کہ آپ نے صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کو وقت دیا۔

• https://kheybar.net/1982/

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتم شد/م/ت/۶۰۲/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2493

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے