دوما میں کیمیاوی حملے کا ڈھونگ رچانے پر برطانوی نامہ نگار کی دلچسپ رپورٹ - خیبر

دوما میں کیمیاوی حملے کا ڈھونگ رچانے پر برطانوی نامہ نگار کی دلچسپ رپورٹ

۱۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۳:۴۶
دوما میں کیمیاوی حملے کا ڈھونگ رچانے پر برطانوی نامہ نگار کی دلچسپ رپورٹ

دوما میں برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے کہنہ مشق نامہ نگار ’’رابرٹ فسک‘‘ کا آنکھوں دیکھا حال: دوما میں کسی کو بھی کیمیاوی حملے کی خبر نہیں ہے / جو کچھ لوگوں کو یاد ہے اور یاد رہے گا وہ ہزاروں مصائب ہیں جو دہشت گرد ٹولے گذشتہ سات سال کے عرصے میں اس علاقے کے عوام پر مسلط کرتے رہے ہیں/ دوما پر مسلط ٹولہ جیش الاسلام ہے جس کو سعودیوں کی براہ راست سرپرستی حاصل ہے

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے کہنہ مشق نامہ نگار رابرٹ فسک، جو مغربی ایشیا کے سلسلے میں اپنے طویل المدت ابلاغیاتی کردار کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں، اور زیادہ تر مغربی نامہ نگاروں کی نسبت، علاقے کے مسائل کو منصفانہ انداز سے کوریج دیتے رہے ہیں، دوما میں کیمیاوی حملے کی افواہ اڑنے کے فورا بعد دوما پہنچ گئے، کیونکہ یہاں سے دہشت گرد چل بسے تھے اور علاقہ سرکاری افواج کے کنٹرول میں تھا، اور افواج کو یہاں اس قسم کے کسی حملے کی ضرورت نہیں تھی۔

انھوں نے اپنے مشاہدات کچھ اس انداز سے قلمبند کئے ہیں:

– میں نہیں سمجھتا کہ یہاں کوئی کیمیاوی حملہ ہؤا ہے؛ شہر سے بھاگنے کا امکان عوام کے لئے فراہم تھا لیکن ہزاروں افراد نے دہشت گردوں کے ہمراہ شہر ترک کرنے کے بجائے، یہاں رہنے کو ترجیح دی تھی جبکہ دہشت گرد حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال کر ادلب چلے گئے تھے۔

– میرے سفر کا باقاعدہ آغاز ایک ڈاکٹر کے ساتھ بات چیت سے ہؤا؛ یہ اسی اسپتال میں تعینات تھا جہاں سے دہشت گردوں نے کیمیاوی حملے کا شکار مبینہ زخمیوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا میں شائع کی تھی [وہی ویڈیو جس کو بہانہ بناکر شیطانی ٹرائیکا نے شام پر میزائل حملہ کیا] جس میں کئی عورتوں اور بچوں کو دکھایا گیا تھا جو کیمیاوی حملے کی افواہ سن کر خوفزدہ ہوئے تھے اور اپنے اوپر پانی ڈال رہے تھے!

– ڈاکٹر کا نام عصیم رہیبانی ہے، جو ویڈیو بنائے جانے کے وقت اسپتال میں موجود نہ تھا لیکن ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں سے بات چیت کرچکا تھا؛ یہ ڈاکٹر اب کیمیاوی تسدید اسلحہ کی بین الاقوامی تنظیم کے ماہرین کے سوالات کا جواب دینے کے لئے دمشق چلے گئے ہیں۔ رہیبانی نے کہا کہ ویڈیو جعلی نہیں تھی بلکہ اصلی تھی۔

مجھے حیرت زدہ ہوتے ہوئے دیکھا تو ڈاکٹر نے کہا: یہ ویڈیو بالکل درست تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ افراد کیمیاوی حملے کا نشانہ بنے تھے یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد کیمیاوی گیسوں کا نشانہ نہیں بنے تھے بلکہ حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک گھر کے زیر زمین اور کئی گوداموں میں پناہ لئے ہوئے تھے اور تیز ہوائیں مٹی کو ان کمرے اور گوداموں کی طرف اڑا رہی تھیں جس کی وجہ سے انہیں سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

– ڈاکٹر شامی حکومت کا ملازم اور حامی تھا اور دوسری طرف سے فرانس اور اس کے حلیف [برطانیہ اور امریکہ] کا دعوی ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ دوما میں کیمیاوی حملہ ہؤا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر رہیبانی کا موقف بہت مضبوط ہے اور دوما کے باشندے ان کے اس موقف کی تصدیق کرتے ہیں۔

– [دوما کا شہر دہشت گردوں کے قبضے کے دوران تقریبا تباہ ہوچکا ہے] میں نے شہر کے کھنڈرات میں دوما کے بہت سے باشندوں کے ساتھ بات چیت کی جو کیمیاوی حملے کی افواہ کا مذاق اڑا رہے تھے؛ کہہ رہے تھے ہمیں ہرگز یقین نہیں آیا، ان کا کہنا تھا کہ “اس طرح کی افواہیں مسلح انتہاپسندوں کی طرف سے اڑائی جاتی ہیں”۔

– میرا خیال ہے کہ دوما کی کہانی کیمیاوی حملہ ہونے یا نہ ہونے کی کہانی نہیں ہے بلکہ کہانی یہ ہے کہ یہاں ہزاروں انسان رہائش پذیر ہیں جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ کہ ہفتے کے دن بسوں میں بیٹھ کر ادلب جانے والے تشدد پسند مسلح افراد کا ساتھ نہ دیں؛ کیونکہ وہ ان مسلح دہشت گردوں کے تسلط کے ایام میں [گذشتہ سات برسوں کے عرصے سے] غارنشین انسانوں کی طرح زندگی گذارنے پر مجبور تھے [اور مدنیت کی طرف پلٹنا چاہتے تھے]۔

– میں دوما میں آزادانہ پھرتا رہا، پولیس اور فوج کی طرف سے کوئی نگران میرے ساتھ نہیں تھا؛ دوما کے باشندے بھی بیرونی باشندوں کو دیکھ کر خوش ہورہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔

– میں ایک بار اسپتال چلا گیا اور وہاں ایک چھوٹی بچی سے ملا جو اسپتال کے بستر پر پڑی تھی۔ اس لڑکی نے مجھے جمعہ اور ہفتہ کی درمیان شب کا واقعہ کہہ سنایا اور کہا: “یہاں سے ٹھیک ۳۰۰ میٹر دور ہمارا گھر ہے۔ ہم رات کے وقت یہاں کے معمول کے مطابق اپنے گھر کے زیر زمین کمرے میں تھے؛ یہاں کے سارے ڈاکٹر بھی حقیقت حال سے واقف ہیں۔ ہر شب یہاں شدید قسم کی فائرنگ ہوتی تھی اور جنگی طیارے بھی فضا میں منڈلاتے رہتے تھے؛ لیکن اس رات شدید قسم کی آندھی چل رہی تھی جو مٹی اڑا رہی تھی؛ اندھی سے اڑی ہوئی خاک زیر زمین اور گوداموں میں داخل ہورہی تھی جہاں لوگ رہائش پذیر تھے؛ آکسیجن نہ ہونے کے باعث لوگ سانس لینے میں مشکل محسوس کررہے تھے اور سب اسپتال چلے آئے۔ ایک آدمی یہاں دروازے کے پاس کھڑا تھا جو “سفید ٹوپی” والوں میں سے تھا، چیخنے لگا “کیمیاوی حملہ، کیمیاوی حملہ” اور اسپتال پر افراتفری اور آشوب زدگی کی سی کیفیت طاری ہوئی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کے اوپر پانی ڈالنا شروع کیا، اور ایک آدمی یہاں ویڈیو بنا رہا تھا اور وہ ویڈیو یہیں بنائی گئی؛ لیکن لوگوں کو سانس کی تکلیف تھی اور کوئی کیمیاوی حملہ نہيں ہؤا تھا”۔

– عجب ہے کہ میں نے یہاں کے ۲۰ سے زیادہ افراد کے ساتھ بات چیت کی لیکن مجھے ایک شخص بھی نہ ملا جو شام پر مغربی ممالک کے فضائی اور میزائل حملوں کی حمایت کرے اور کوئی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھا کہ مغربی حملوں کا دوما سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے!!! حتی کہ ان میں سے دو افراد نے مجھ سے کہا: ہمیں ہرگز نہيں معلوم کہ مغربی حملے کا دوما سے کیا تعلق بن سکتا ہے”۔

– میں جس دنیا میں داخل ہؤا تھا بہت عجیب دنیا تھی، “حسام” اور “نذیر” نامی دو افراد نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ شام میں کتنے افراد مارے گئے ہیں۔ لیکن پھر ان میں سے ایک نے کہا کہ “جیش الاسلام” نے اس کے چچا زاد بھائی پر حکومت کی حمایت کا الزام لگایا اور اس کو قتل کیا۔

– میں نے ان سے کہا کہ ویڈیو میں دعوی کیا گیا تھا کہ اس بدنام زمانہ حملے میں ۴۳ افراد مارے گئے ہیں، تو انہیں کندھے اچکائے اور لاعلمی کا اظہار کیا۔

ـ سفید ٹوپی والوں کو مغرب میں ایک “افسانوی امدادی تنظیم” کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن شام کی جنگ میں ان کا کردار بڑا واضح و آشکار ہے؛ اس تنظیم کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہماری (برطانوی) وزارت خارجہ دے رہی ہے؛ اور دوما کے اندر سرگرم سفید ٹوپیوں والوں کی اکثریت کا تعلق یہاں کی مقامی آبادی سے ہے۔

ـ میں سفید ٹوپیوں والی تنظیم کے دفتر میں گیا جو بظاہر ایک امدادی تنظیم ہے لیکن وہاں مجھے مختلف النوع قسم کے فوجی یونیفارمز ملے، اور گیس سلینڈرز کی بڑی تعداد، اور ہاں کچھ پرانے اور ناکارہ طبی سازوسامان اور طبی فائلیں!!!

– میں سفید ٹوپیوں والوں سے بھی ملنا چاہتا تھا لیکن میں ایسا نہیں کرسکا، کیونکہ وہاں کوئی سفید ٹوپی والا تھا ہی نہیں اور وہ سب جیش الاسلام کے دہشت گردوں کے ساتھ بسوں میں بیٹھ کر شہر کو چھوڑ کر ادلب چلے گئے تھے جہاں ابھی تک دہشت گردوں کا قبضہ ہے!!! (۱)

– اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دوما پر کیمیاوی حملہ ہؤا ہے یا نہیں؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ترکی کے ایک کیمپ میں رہائش پذیر دوما کے پناہ گزینوں نے کیونکر یہ دعوی کیا کہ ان کے شہر کو کیمیاوی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے؛ لیکن دوما کے اندر کسی کو بھی ایسے کسی حملے کی خبر نہیں ہے جو مبینہ طور پر آج ہی انجام پایا ہے؟

– چلئے ہم مان لیتے ہیں کہ شام کی حکومت آمرانہ ہے لیکن بات یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ اس حکومت نے یہاں کے عوام کو اس قدر ڈرایا دھمکایا ہو کہ مجھ سے حقائق کو چھپائیں؛ ورنہ تو مجھے دیکھ کر جذباتی کیوں ہوتے تھے اور میرے ساتھ بیٹھ کر میرے سوالات کا جواب کیوں دیتے تھے؟ انھوں نے مجھ سے کیا کہا؟ اور سب کی باتیں یکسان کیوں تھیں؟ سرکاری اہلکاروں نے مجھے کیوں آزادانہ گھومنے دیا جنہیں معلوم تھا کہ مغرب نے ان کی حکومت پر اسی شہر میں کیمیاوی حملے کا الزام لگایا ہے؟

White Helmets نامی تنظیم برطانوی ایم آئی سکس کا ذیلی دستہ ہے اور انسانی ہمدردی کی آڑ میں متعدد جرائم میں ملوث ہے؛ شام کی خانہ جنگی کے بعد اس تنظیم کے حقائق منظر عام پر آنا متوقع ہیں اور جو کچھ آج تک معلوم ہؤا ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے شامی عوام کے قتل عام میں دہشت گردوں کا خوب خوب ہاتھ بٹایا ہے۔

رابرٹ فسک نے آخر میں لکھا ہے:

یہاں کے عوام ایسے تشدد پسندوں کی بات کررہے تھے جن کے سائے میں انہیں جینا پڑا تھا؛ اور کہتے تھے کہ دہشتگرد روس اور حکومت شام کے حملوں سے بچنے کے لئے عوام کے گھروں پر قبضہ کرلیتے تھے اور انہیں گھروں سے نکال باہر کرتے تھے۔

– جیش الاسلام نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد اور دوما چھوڑنے سے پہلے اپنے دفاتر کو نذر آتش کیا لیکن جو عظیم عمارتیں جیش الاسلام کے قائم کردہ سیکورٹی زون میں واقع ہوئی تھیں، بموں اور گولوں کا نشانہ بن کر تباہ ہوچکی تھیں۔

– مجھے یہاں شامی افواج کے کرنل سے بھی ملنے کا موقع ملا جو اچانک ادھ موئی عمارت کی پشت سے ظاہر ہؤا اور مجھ سے پوچھا: “کیا جیش الاسلام کے دہشت گردوں کی بنائی ہوئی سرنگوں کی گہرائی کو دیکھنا پسند کروگے؟ میں نے رضامندی ظاہر کی اور تقریبا ایک میل تک پیدل جانا پڑا اور ایک سرنگ کے دہانے میں پہنچا۔ کرنل نے طعنہ زنی کے سے لہجے میں کہا: “یہ سرنگ شاید برطانیہ تک بھی پہنچی ہو؟ اور مجھے اچانک تھریسا مے یاد آئیں جنہوں نے بالکل اسی سرنگ کے مقام اور یہاں اڑتی ہوئی مٹی اور دھول کے بہانے شام کو اپنے میزائل حملوں کا نشانہ بنایا اور کیمیکل حملے۔۔۔؟

منبع: http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13970128001396

نقل از جاثیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/ت/۴۰۱/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2198

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے