روس کے ایس ۳۰۰ سے اسرائیل کیوں خوفزدہ؟ - خیبر

روس کے ایس ۳۰۰ سے اسرائیل کیوں خوفزدہ؟

29 ستمبر 2018 12:02

شام کا ایس ۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم سے لیس ہو جانے کے بعد اسرائیل کیلئے شام کی فضائی حدود میں ہوائی حملے انجام دینا بہت مشکل ہو جائے گا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ۲۴ ستمبر کے دن روس کے وزیر دفاع نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے حکم پر ماسکو شام کے فضائی دفاعی نظام کو بہتر بنانے کیلئے اسے ایس ۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کرے گا۔ سرگئے شائیگو نے کہا کہ روس شام کے فضائی دفاع کو بہتر بنانے کیلئے درج ذیل اقدامات انجام دینے کا فیصلہ کر چکا ہے:
الف)۔ ایس ۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم شام کو فراہم کیا جائے گا۔
ب)۔ شام کے فوجی ہیڈکوارٹر اور ایئرفورس کنٹرول روم کو آٹومیٹک کنٹرول سسٹم سے لیس کیا جائے گا۔
ج)۔ بحیرہ روم میں الیکٹرانک وار سسٹم بروئے کار لایا جائے گا جس سے دشمن کے ریڈار کو ناکارہ بنایا جا سکے گا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ روسی حکام شام کو جدید میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کرنے کی خبر دے رہے ہیں۔ گذشتہ سال مارچ کے مہینے میں بھی جب امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے ڈوما میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ردعمل میں شام کے چند فوجی ٹھکانوں کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا تو روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ شام کو جدید فضائی ڈیفنس سسٹم سے لیس کرے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ لیکن اس بار ماجرا کچھ مختلف ہے۔ اس بار جس چیز نے صورتحال مختلف بنا دی ہے وہ ۱۸ ستمبر کی صبح رونما ہونے والا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند اسرائیلی ایف سولہ طیارے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع شام کے صوبے لاذقیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور چند ٹھکانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس حملے کے دوران روس کا ایک ایلوشن ۲۰ فوجی طیارہ بھی تباہ ہو گیا جس میں پندرہ روسی فوجی سوار تھا اور تمام فوجی ہلاک ہو گئے۔
روسی حکام نے اپنے فوجی طیارے کی تباہی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ اسرائیلی ایف سولہ طیاروں نے شام کے میزائل ڈیفنس سسٹم سے بچنے کیلئے روسی فوجی طیارے کی پناہ حاصل کی جس کے نتیجے میں روسی طیارہ میزائلوں کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا۔ اسرائیل نے روس کو یہ یقین دلانے کی بہت کوشش کی کہ اس واقعے کے اسباب کچھ اور تھے لیکن روسی وزارت دفاع نے ان کے تمام دلائل مسترد کر دیئے اور اپنے موقف پر ڈٹی رہی۔ روس نے اس واقعے کے بعد حال ہی میں سرکاری طور پر شام کو جدید میزائل ڈیفنس سسٹم ایس ۳۰۰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ میزائل ڈینفس سسٹم انتہائی جدید سسٹم ہے اور شام کے پاس اب تک جو دفاعی نظام موجود تھا وہ کافی پرانا تھا۔ شام کا ایس ۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم سے لیس ہو جانے کے بعد اسرائیل کیلئے شام کی فضائی حدود میں ہوائی حملے انجام دینا بہت مشکل ہو جائے گا۔ ایس ۳۰۰ دفاعی نظام کی رینج ۲۵۰ کلومیٹر تک ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل جنگی طیاروں کیلئے خود ان کی اپنی سرزمین میں ہی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ لیکن مسئلہ صرف یہ نہیں بلکہ ماسکو تل ابیب تعلقات بھی خطرے میں پڑتے جا رہے ہیں۔
روسی وزیر دفاع ‘سرگئے شوئیگو’ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ روس ۲۰۱۳ء میں ہی شام کو ایس ۳۰۰ میزائل ڈیفنس سسٹم فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا تھا لیکن اس وقت اسرائیل نے روس سے درخواست کی کہ اس اقدام کو ملتوی کر دے۔ روس نے اسرائیل کی یہ درخواست منظور کر لی اور شام کے اہلکاروں کو ضروری ٹریننگ مکمل کر لینے کے باوجود اسے ایس ۳۰۰ دفاعی نظام فراہم نہ کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب روس نے شام کو یہ دفاعی نظام دینے کا فیصلہ کیوں کر لیا ہے؟ کیا روسی حکام سمجھتے ہیں کہ صوبہ لاذقیہ میں اسرائیلی ایف سولہ طیاروں نے جان بوجھ کر روسی فوجی طیارے کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جس کے نتیجے میں وہ تباہ ہوا؟ یا اس روسی فیصلے کی کوئی اور وجہ ہے؟
شام کے صوبہ لاذقیہ میں اسرائیلی ایف سولہ طیاروں کی جارحیت کے بعد روسی خبررساں ادارے اسپوٹنیک نے ایک خبر شائع کی جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں نصب روسی ریڈار نے عین اسی وقت بحیرہ روم میں موجود فرانسوی جنگی کشتی سے بھی شام پر میزائل داغے جانے کا عمل ریکارڈ کیا ہے۔ لہذا اس خبر کی روشنی میں حقیقت یوں ہو سکتی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک یورپی ملک کے تعاون سے شام کی سرزمین کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ یہ اقدام روس اور اسرائیل کے درمیان موجود معاہدے کی واضح خلاف ورزی محسوب ہوتا ہے۔ مزید برآں، اسرائیلی جگی طیاروں نے جان بوجھ کر روسی فوجی طیارے کو شام کے میزائل ڈیفنس سسٹم کی زد میں آنے کا مقدمہ فراہم کیا۔ اسی طرح اسرائیل نے اس آپریشن میں ایسے یورپی ملک کی مدد بھی حاصل کی جس کے روس سے دوستانہ تعلقات نہیں اور روس کا حریف شمار کیا جاتا ہے۔ روس ممکن ہے شام کی فضائی حدود میں اب تک اسرائیلی جنگی طیاروں کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کرتا آیا ہو لیکن اب جبکہ تیسری قوت بھی میدان میں آ چکی ہے تو مزید کسی قسم کی لچک کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔

تحریر: علی احمدی

اسلام ٹائمز

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12443

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے