سابق سی آئی اے افیسر: علاقے میں کشیدگی کے بنیادی عوامل امریکہ اور اسرائیل ہیں - خیبر

سابق سی آئی اے افیسر: علاقے میں کشیدگی کے بنیادی عوامل امریکہ اور اسرائیل ہیں

13 مئی 2018 22:17
اسرائیل/صهیونیسم/خیبر

سابق سی آئی اے افیسر نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کو علاقے میں اختلافات کے بنیادی عوامل قرار دیتے ہوئے کہا: یہ تین ملک اور مثلث علاقے میں جنگ و جدال کے بانی ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے شہر مشہد المقدس میں منعقدہ چھٹی بین الاقوامی کانفرنس ’’افق نو‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سی آئی اے کے سابق انٹیلی جنس افیسر ’’فلپ ایم گرالڈی‘‘ نے کہا کہ اسرائیل تنہا وہ ملک ہے جو مشرقی وسطیٰ میں جوہری اسلحہ رکھتا ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے عام افکار بدل کر علاقے میں ممکنہ نئی کشیدگی اور نئی جنگ کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔

خببر تجزیاتی ویب گاہ کے نامہ نگار سے گفتگو کے دوران انسداد دھشتگردی کے امریکی ماہر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امریکی میڈیا پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے کہا: اسرائیل اور امریکہ علاقے میں کشیدگی جاری رکھنے اور شام، لبنان اور ایران پر ناجائز حملہ کرنے کی تلاش میں ہیں اور ٹرمپ کبھی بھی تنازعات اور کشیدگی کو کم نہیں کر پائیں گے بلکہ وہ علاقے میں جنگ اور جدال کو ہی بڑھاوا دیں گے جبکہ مغربی میڈیا تو اسرائیل کو ہمیشہ بے گناہ اور معصوم ظاہر کرتا ہے۔

سی آئی اے کے سابق عہدیدار نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ علاقے میں اختلافات کے بنیادی عوامل امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب ہیں کہا: یہ تین ملک اور مثلث علاقے میں جنگ و جدال کے بانی ہیں۔

ایم جرالڈی نے واضح کیا: مشہد میں اس کانفرنس کا انعقاد ایسے حال میں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ایک خاص اہمیت کی حامل ہے اور اس مسئلے کو بھی اس کانفرنس میں مورد بحث قرار پانا چاہیے۔

انہوں نے غزہ پر اسرائیل کے ناجائز اور غیر قانونی محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج اسرائیل نے غزہ کے ڈھائی ملین افراد کو قید کر رکھا ہے۔

سی آئی اے کے سابق انٹیلی جنس افیسر نے مزید کہا: امریکہ ہمیشہ اسرائیل کی حمایت اور ہر دور میں اس کی تمام اسٹراٹیجکی غلطیوں کا دفاع کرتا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/ت/۲۰۱/ ۱۰۰۰۳

 

 

 

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2824

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے