سعودی خاندان میں اقتدار کی خونی جنگ/ خاشقجی کا قتل ایک نتیجہ (پہلا حصہ) - خیبر

سعودی خاندان میں اقتدار کی خونی جنگ/ خاشقجی کا قتل ایک نتیجہ (پہلا حصہ)

06 دسمبر 2018 16:07

واشنگٹن پوسٹ کے صحافی ڈیوڈ اگنیٹیس نے لکھا: جمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے پیچھے شاہی خاندان کے درمیان کی طاقت کی جنگ واقع ہوئی ہے جس سے محمد بن سلمان کے نفسیاتی خلل اور لا پرواہی کو تقویت ملی ہے۔ نتیجے کے طور پر واشنگٹن پوسٹ کے صحافی کو قتل کیا گیا اور ان کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اس خاندانی المیئے کا آغاز جنوری ۲۰۱۵ع‍میں ریاض کے اسپتال کے وی آئی پی سوئیٹ میں ہوا، جبکہ شاہ عبداللہ وہیں بستر مرگ پر پڑے تھے۔ ایک سعودی شہری کے مطابق، جو اس وقت اسپتال میں موجود تھا، عبداللہ کے بیٹوں اور درباریوں نے یہ بات بادشاہ کے جانشین سلمان کو بتانے میں تاخیر کی تھی کہ “بادشاہ گذر گئے ہیں”؛ شاید انہیں امید تھی کہ اس طرح وہ دربار کا خزانہ اپنے قابو میں رکھ سکیں گے اور سعودی خاندان کے شاہ عبداللہ کے حامی گروپ کے [اس وقت کے] طاقتور عہدوں کو محفوظ رکھ سکیں گے۔
بعد کے برسوں میں بنی سعود خاندان کے اندر کی خونی منصوبہ کاری ان سب واقعات سے مطابقت رکھتی ہے جو “تاج و تخت کا کھیل” (Game of Thrones) نام ڈرامہ سیریل میں دکھا جاتا ہے۔ یہ المیہ امریکہ، چین، سویٹزرلینڈ اور دوسرے ممالک تک بھی پھیل گیا؛ اور یہ منصوبہ بندی اس وقت شروع ہوئی جب بنی سعود قبیلے کی دو طاقتور شاخوں نے طاقت کی جنگ میں اپنی دوڑ کا آغاز کیا۔ تناؤ بڑھ گیا تو شاہی دربار میں ـ نئے بادشاہ سلمان کے پسندیدہ بیٹے محمد بن سلمان یہاں تک جری ہوئے کہ انھوں نے اگست ۲۰۱۶ع‍میں سابق بادشاہ عبداللہ کی شاخ کے ایک رکن کو چین کے دارالحکومت سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ جو ایک سنسنی خیز جاسوسی ناول کی ایک فصل سے شباہت رکھتی ہے۔
سلمان کا بیٹا ـ المعروف بہ ایم بی ایس (MBS) ـ تیز رفتاری کے ساتھ ان لوگوں کی نسبت پریشان حالی اور جارح بن چکا ہے، جنہیں وہ اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ امریکی اور سعودی ماہرین کے مطابق، سعودی انٹیلیجنس کارکنوں کی ایک ٹیم نے ـ سعودی شاہی دربار کے زیر نگرانی ـ ۲۰۱۷ کے موسم بہار سے اندرون و بیرون ملک سعودی باشندوں کو اغوا کرنے کا آغاز کیا ہے۔ گرفتار افراد کو خفیہ مقامات پر قید کیا گیا۔ سعودیوں نے گرفتار افراد کو بولنے پر مجبور کرنے کے لئے، تفتیش کی جدید اور متشدانہ روشوں کو استعمال کیا جو تشدد کا حیرت انگیز طریقہ تھا۔ انہیں حلف نامے پر دستخط کرنا پڑے جس کے تحت اگر وہ ان واقعات کو فاش کریں جو تفتیش کے دوران ان پر گذرے ہیں تو انہیں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
یہ سچی داستان مجھے، خاشقجی کے قتل کے بعد ہفتوں کے دوران، امریکہ کے اندر اور اس ملک سے باہر سعودی اور یورپی ماہرین کے مکالموں سے ملی۔ واقعات کے سلسلے میں ان ذرائع کی معلومات اول درجے کی معلومات ہیں لیکن چونکہ وہ حساس بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں فعال کردار ادا کررہے ہیں لہذا انھوں نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کو کہا ہے۔ موصولہ اطلاعات کی تصدیق امریکی خفیہ ایجنسیوں سے کرائی گئی ہے۔ یہ معلومات غضب اور لاقانونیت کے بھنور کی وضاحت میں مدد دیتی ہیں جنہوں نے آخرکار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خاشقجی کو ـ ۲ اکتوبر ۲۰۱۸ع‍کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں داخلے کے بعد ـ نگل لیا۔
یہاں امریکی اور سعودی ماہرین کی آراء کا خلاصہ درج کیا جارہا ہے جنہوں نے معلومات کا جائزہ لیا ہے:
– خاشقجی کو ریاض کے شاہی دربار کی بھجوائی گئی ٹیم نے قتل کیا۔ یہ ٹیم تیز رفتار کارروائی کی اس قوت کا حصہ تھی جس کو خاشقجی کی اشتعال انگیز صحافت نیز قطر اور ترکی کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کے ۱۸ مہینے قبل، معرض وجود میں لایا گیا تھا۔ خاشقجی کی صحافت اور قطر اور ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات نے مطلق العنان سعودی ولیعہد کو غضبناک کیا، جس نے جولائی ۲۰۱۸ع‍طور پر “اسے واپس لاؤ” کا حکم نامہ جاری کیا جس کو امریکی انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی تین مہینوں تک نہیں سمجھ سکی تھیں! اور انہیں اس وقت اس کا علم ہوا جب جمال خاشقجی لاپتہ ہوئے۔
امریکہ نے اس بین الاقوامی جنگ کا قریب سے مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا داماد و مشیر، جیرڈ کوشنر (Jared Kushner) ایم بی ایس کا قریبی مشیر بن گیا۔ کوشنر نے اکتوبر ۲۰۱۷ع‍کے آخری ایام میں ریاض میں ایم بی ایس کے ساتھ خفیہ ملاقات کی جس کی تفصیلات سامنے نہيں آئیں؛ لیکن عین ممکن ہے کہ وہ بنی سعود کے شاہی خاندان کی سازشوں کے سلسلے میں ایم بی ایس کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے اس دورے پر گیا ہو؛ [کیونکہ] کوشنر کے دورے کے صرف ایک ہفتے بعد، ایم ایس نے ۴ نومبر ۲۰۱۷ع‍کو ایک ایسا اقدام کیا جس کو اندرونی بغاوت کا نام دیا گیا۔ اس نے ۲۰۰ سے زائد سعودی شہزادوں اور تجارتی شخصیات کو گرفتار کرکے ریاض کے ریٹزکارلٹن ہوٹل میں قید کرلیا۔ گرفتاریوں کا یہ منصوبہ شاہی دربار میں ایم بی ایس کے قابل اعتماد ساتھیوں کی مدد سے، نہایت احتیاط کے ساتھ، بنایا گیا تھا۔
ان گرفتاریوں کے منصوبوں کو شاہی کورٹ میں ایم بی ایس کی قریبی قیدیوں کی طرف سے احتیاط سے بنایا گیا تھا۔ ایم بی ایس ریٹزکارلٹن والی بغاوت کا ہدف بننے والوں میں سرفہرست مرحوم بادشاہ کا پرعزم بیٹا “ترکی بن عبداللہ” شامل تھا جس نے قبل ازیں اپنے امریکی اور چینی رابطوں کو ایم بی ایس کے غیر متوقعہ فیصلوں کی نسبت اپنی تشویش سے آگاہ کیا تھا۔ ترکی ابھی تک اسیری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے اور اس کا اعلی فوجی ساتھی میجر جنرل علی القحطانی ـ گذشتہ سال گرفتار ہونے کے بعد ـ ریٹزکارلٹن میں حراست کے دوران [تشدد کی تاب نہ لا کر] چل بسا ہے۔
جانشینی کی جنگ
قصر شاہی کا فتنہ جنوری ۲۰۱۵ع‍کے آغاز میں، اس وقت شروع ہوا جب بادشاہ عبداللہ ـ جس کو ۲۰۱۴ع‍میں پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا قرار دیا گیا تھا ـ کی حالت نازک اور طبی لحاظ سے بد سے بد تر ہوئی۔ ریاض کے شمال مشرق میں ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع “روضة خريم” میں واقع اس کی خصوصی خلوتگاہ سے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے، ریاض کے نیشنل گارڈز اسپتال کے وی آئی پی ونگ میں منتقل کیا گیا، جو اس وقت بادشاہ کے بیٹوں اور دربار کے حامیوں کے محاصرے میں تھا۔ جب بادشاہ کومے میں چلا گیا، شاہی دربار نے اس کے مرض الموت کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی کیونکہ وہ جانشینی کے امکانات پر غور کررہے تھے جن میں عبداللہ کے بیٹے اور نیشنل گارڈ کے سربراہ متعب بن عبداللہ کی جانشینی کا امکان بھی شامل تھا، اور وہ سوچ رہے تھے کہ گویا متعب بھی بادشاہ بن سکتا ہے!
اس وقت کا ولیعہد سلمان ۲۳ جنوری کو اسپتال پہنچا تو پوچھنے لگا: “میرا بھائی کہاں ہے؟”، تو شاہی دربار کے سربراہ اور عبداللہ کے خاندانی فنڈز کے سرپرست خالد التویجری نے جواب دیا کہ “عبداللہ آرام کررہا ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ـ جیسا کہ نام خفیہ رکھنے کی شرط پر واقعے کی معلومات دینے والے سعودی شہری نے بتایا ـ عبداللہ پہلے ہی مر چکا تھا۔ جب سلمان کو حقیقت کا پتہ چلا تو وہ آگ بگولا ہوگیا اور اسپتال کی راہداریاں طمانچوں کی آواز سے گونج اٹھیں، نیا بادشاہ اب کے سابق سربراہ دربار کو تھپڑ رسید کررہا تھا۔ التویجری بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہیں نومبر ۲۰۱۷ع‍میں گرفتار کیا گیا تھا، اور اس وقت وہ، بادشاہ عبداللہ کے دور میں غیر قانونی طور پر جمع کردہ دولت کے انبار بن سلمان کے سپرد کرنے کے بعد ـ سعودی ذرائع کے مطابق ـ اپنے گھر میں نظر بند ہے۔
شاہ عبداللہ کے خاندان کے مشیر اور سعودی تاجر طارق عبید کے بقول “التویجری عبداللہ کے بیٹوں کے لئے بہت نقصان دہ تھا”۔
جانشینی کی جنگ نمایاں ہونے کے بعد سے، شاہی خاندان کے اراکین ایک دوسری کی جاسوسی کررہے تھے۔ عبداللہ کا ایک بیٹا بہت سے سینیئر شہزادوں کے ٹیلی فون سنتا تھا۔ عبداللہ کی شاخ نے ایک چینی ساختہ آلہ خرید لیا تھا جس کے ذریعے ایک سو گز کے فاصلے تک خفیہ طور پر، تمام موبائل سیٹس کے شناختی نمبرز معلوم کیا جاسکتا تھا اور یوں جاسوسی کے لئے موبائل سیٹوں تک براہ راست رسائی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
تمام شاہی محلات میں راکھ دانیوں (Ashtrays) اور دوسری اشیاء میں جاسوسی کے آلات نصب کئے گئے تھے تا کہ کسی بھی سیاسی سازش کا بروقت سد باب کیا جاسکے۔
سعود القحطانی، ـ جو ایک لالچی درباری ہے ـ جس نے ان ابتدائی مہینوں میں سلمان اور اس کے بیٹے کی طاقت کو تقویت پہنچائی؛ ایک قانوندان اور فضائیہ کا سابق کارکن ہے جو ہیکنگ اور سماجی ابلاغیات (سوشل میڈیا) کا شوقین ہے۔ سلمان کیمپ کو ابتداء میں اس پر شک تھا کیونکہ وہ شاہی دربار میں التویجری کا معاون رہا تھا اور سنہ ۲۰۰۰ع‍سے دربار سے وابستہ تھا۔ دربار کے اندر کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ القحطانی کو سلمان کے بادشاہ بننے کے پہلے دنوں میں حراست میں لیا گیا اور خوب مارا پیٹا گیا لیکن اس نے بہت جلد ـ سزا پا کر ـ ایم بی ایس کو اپنی وفاداری جتا دی۔
القحطانی نے شاہی دربار کے مرکز برائے مطالعہ و ابلاغی معاملات، کے ڈائریکٹر کے طور پر، ایم بی ایس کے شک کو ـ ممکنہ حریفوں اور بغاوت کی سازش بنانے والوں کے حوالے سے تقویت پہنچائی۔ القحطانی نے ایم بی ایس کی طرف سے سائبر ہتھیار جمع کرنا شروع کئے۔ جون ۲۰۱۵ع‍میں اس نے “ہیکنگ ٹیم” کہلوانے والے اٹلی کے ایک پراسرار گروپ کو پیغام دیا کہ “سعودی شاہی دربار آپ کے ساتھ تعمیری تعاون کا سلسلہ شروع کرنا چاہتا ہے اور ہم آپ کے ساتھ طویل المدت تزویری شراکت داری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔
سعودی اور امریکی تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ القحطانی نے ـ ایم بی ایس کی معلومات سے متعلق کاروائیوں کے کمانڈر کے طور پر ـ خاشقجی کے قتل کے منصوبے کو منظم کرنے میں مدد دی۔ ایم بی ایس صرف ۲۹ برس کا تھا جب اس کو وزیر دفاع کا عہدہ سونپا گیا۔
خاندانی سیاست
شاہ سلمان کی ٹیم نے نے اپنی اس کی بادشاہت کے پہلے ہفتے سے ہی شدید اور کانٹے دار خاندانی سیاست کا آغاز کیا۔ جنوری ۲۰۱۵ع‍کے آخر میں ایک شاہی فرمان کے ذریعے ریاض کے گورنر ترکی بن عبداللہ اور مکہ کے گورنر مشعل بن عبداللہ کو یکے بعد دیگرے ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا۔ ان دو افراد کی برطرفی ایسے داغ کا باعث ہوئی جو کبھی مندمل نہیں ہوسکا۔ سابق طاقتور وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز کے نرم مزاج بیٹے اور سی آئی کے پسندیدہ شخص محمد بن نائف کو نائب ولیعہد مقرر کیا گیا۔ جبکہ سابق سعودی انٹیلیجنس کے سابف سربراہ مقرن بن عبدالعزیز کو ولیعہد مقرر کیا گیا تھا۔ اپریل ۲۰۱۵ع‍میں سلمان اور اس کے بیٹے نے اپنے کنٹرول کو مزید مستحکم کرتے ہوئے، ولیعہد مقرن کو ڈھیر کرکے محمد بن نائف کو ولیعہد بنایا (اور جیسا تحائف کی منتقلی کے عمل سے وابستہ ایک سعودی اہلکار نے بتایا: سلمان نے ایک سال بعد وداعی تحائف کے طور پر ایک ۲۸۰ فٹ طویل پر تعیش کشتی [Solandge yacht] اور بہت ساری دوسری رعایتیں دیں [اور ۲۰۱۷ میں اس کو عسیر صوبے کا نائب گورنر بھی بنایا]) ایم بی ایس نائب ولیعہد کے عہدے پر فائز اور باضابطہ طور پر جانشینی کی قطار میں شامل ہوا۔
اگرچہ ۳۰ سال سے کم عمر کا ایم بی ایس پہلے ہی عیار اور ماکیاولی کی سوچ کا حامل شہزادہ بن چکا تھا، تاہم اماراتی نائب ولیعہد محمد بن زائد اور امارات انٹیلیجنس کے اعلی اہلکار طحنون بن زائد ـ جو اس کی ولیعہدے کے پہلے برس کے دوران ہفتے کے آخری ایام کے دوران ایک تفریحی کشتی پر اس کی ملاقات کو آتے رہتے تھے ـ اس کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ ایم بی ایس اس سے پہلے بھی ریاض میں ایک جلدباز اور لاپروا شخص کے طور پر مشہور ہوچکا تھا، جس نے اپنی کم عمری میں اراضی کے رجسٹریشن دفتر کے اہلکار کو دھمکا دیا تھا جس نے اس نوجوان شہزادے کو جائیداد کی منتقلی پر پابندی لگائی تھی۔ نوجوان شہزادے نے ایک “گولی” بھجوا کر اس اہلکار کو خبردار کرنا چاہا تھا۔
ایم بی ایس نے اپنی سلطنت کو جدید بنانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن اس دوران بھی وہ اپنے رقیبوں کی نسبت نفسیاتی الجھن اور مالیخولیا میں مبتلا ہوکر انہیں شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کیا جن میں سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے نیز محمد بن نائف شامل تھے اور ان کے بعد قابو میں نہ آنے والا صحافی خاشقجی بھی اس کے خیال میں، ان رقیبوں میں شامل ہوا۔
ستمبر ۲۰۱۵ع‍میں دو انتباہی نشانیوں کو مبصرین کی ہوشیاری کا باعث ہونا چاہئے تھا: ایک یہ ہے ـ جو ۳۰ سالہ شہزادہ ایم بی ایس [جیسا کہ میں نے ۲۸ جون ۲۰۱۶ع‍کو واشنگٹن پوسٹ میں لکھا کہ] سلطنت کی طرف چھلانگ لگا سکتا ہے یا اسے اونچائی سے گرا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں امریکی سفیر “جوزف ویسٹ فال” (Joseph Westphal) نے اس مہینے میں محمد بن نائف سے ملنے کی غرض سے جدہ کا دورہ کیا لیکن اس کو ہوائی اڈے ہی سے واپس کرکے ایم بی ایس کی ملاقات کے لئے بھیجوایا گیا ـ ایک غیر معمولی تجویز، یہ جتانے کے لئے کہ “حقیقی رئیس کون ہے؟”۔ اسی مہینے، طویل عرصے سے سعودی انٹیلیجنس کے اہلکار، سعود الجبری نے اس وقت کے سی آئی کے ڈائریکٹر جان برینان (John Brennan) سے ملنے کے لئے واشنگٹن کا خصوصی دورہ کیا۔ الجبری محمد بن نائف کا قریبی مشیر تھا اور اس نے ایم بی ایس کو اپنے دورے کے بارے میں کچھ نہيں بتایا تھا؛ چنانچہ اس کو وطن واپسی پر برطرف کیا گیا اور اب وہ جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔ شاہ عبداللہ خاندان کے افراد دیکھ رہے تھے کہ ایم بی ایس طاقت و اقتدار کے تمام وسائل ـ جو قبل ازیں ان کے ہاتھ میں تھے ـ پر قبضہ کررہا ہے۔ ان مسائل کو جانتے ہوئے جان برینن اور اوباما انتظامیہ کے دوسرے اراکین ایم بی ایس کے سلسلے میں فکرمند تھے، عبداللہ کے کئی بیٹوں کو واشنگٹن کے ایک معروف تزویری مشاورتی ادارے نے بھرتی کرلیا تا کہ امریکی ـ سعودی تعلقات کے نئے محرکات کے سلسلے میں معلومات حاصل کرسکے۔
ایم بی ایس شاید تصور کرتا کہ یہ بیٹھکیں شدت کے ساتھ ایک خفیہ منصوبہ ہوسکتی ہیں۔ ترکی بن عبداللہ اور اس کا سب سے قریبی مشیر اور سعودی تاجر طارق عبید نے جارج ٹاؤن (Georgetown) کے فور سیزنز ہوٹل (Four Seasons Hotel) میں متعدد سابق سی آئی اہلکاروں اور وزارت خارجہ کے سابق عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ سابق بادشاہ عبداللہ کا عسکری مشیر اور ترکی سمیت اس کے بیٹوں کا محافظ میجر جنرل علی القحطانی بھی ان کا ساتھ دے رہا تھا— وہی شخص جو اگلے سال ریٹز کارلٹن ہوٹل میں حراست کے بعد مارا گیا۔
میں بھی اس ہوٹل میں ایک گروپ سے ملا، تاکہ میں اس خاکے کے لئے کچھ معلومات حاصل کرسکوں جو میں ایم بی ایس کے بارے میں لکھ رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ترکی بن عبداللہ اپنے خیالات کا احتیاط سے اظہار کررہا تھا۔ اس نے سعودی پالیسیوں میں مزید توازن کی ضرورت پر زور دیا، لیکن اس نے سعودی حکمرانی میں تبدیلی کے لئے کوئی تجویز نہیں دی۔
عبید نے اپنے ایک انٹرویو میں ترکی بن عبداللہ کے ۲۰۱۶ع‍کے واشنگٹن والے رابطوں کو کچھ یوں بیان کیا: “اجلاسوں کے اس دور کا مقصد ـ امریکہ کے باخبر قومی اور سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے ـ یہ معلوم کرنا تھا کہ سعودی بادشاہی کے سلسلے میں امریکی حکام کا تزویری نقطۂ نظر نیز ان کا موقف کیا ہے”۔
ایم بی ایس اس کے ایک مہینے بعد صدر بارک اوباما اور دوسرے حکام سے ملنے کی غرض سے جون ۲۰۱۶ع‍میں واشنگٹن پہنچا۔ اس وقت تک امریکی انتظامیہ ـ شاہی خاندان کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ـ حتی کہ وہ ولیعہد محمد بن نائف اور نائب ولیعہد ایم بی ایس کے درمیان تصادم کے سلسلے میں، غیر جانبدار تھی۔ تاہم اوباما اس نقطہ نظر اور توانائی سے متاثر ہوا جو جو ایم بی ایس اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کے سلسلے میں لایا تھاجنبی کو لایا، اور اس جون کے دورے کے بعد، امریکہ نے اس جذباتی “مصلح” کی طرف جھک گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری,ت؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15964

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے