سعودی صحافی کا قتل اور امریکا کا رد عمل - خیبر

سعودی صحافی کا قتل اور امریکا کا رد عمل

09 اکتوبر 2018 13:07

سعودی صحافی کے حوالے سے امریکی سینیٹر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ امریکہ ایسے واقعات کو اکٹھا کرتا رہے گا، تاکہ ان کے ذریعے سے سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: سعودی عرب کے معروف صحافی جمال خاشقجی ۲ اکتوبر کو شادی کی دستاویزات لینے کے لئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں گئے اور ترکی کی پولیس کے مطابق وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے۔ استنبول میں حکام کا کہنا ہے کہ سفارتخانے کی چار دیواری میں انہیں مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا۔ دوسری طرف سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ صحافی خاشقجی سفارتخانے سے نکل گئے تھے۔ خاشقجی کی ترک منگیتر خدیجہ چنگیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ۱۱ گھنٹے تک قونصل خانے کے باہر جمال کا انتظار کیا لیکن وہ باہر نہیں نکلے۔ جمال خاشقجی سعودی شاہی خاندان کے بہت قریب رہے ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں انہیں سعودی عرب کی پشت پناہی میں چلنے والے العرب نیوز چینل کی سربراہی کے لئے منتخب کیا گیا۔ اس چینل کو قطری نیوز چینل الجزیرہ کا حریف کہا جاتا ہے، لیکن بحرین میں قائم کیا جانے والا نیوز چینل ۲۰۱۵ء میں اپنے آغاز کے ۲۴ گھنٹوں کے اندر ہی بحرین میں حزب اختلاف کے ایک معروف رہنما کو مدعو کرنے کے سبب بند کر دیا گیا۔

۲۰۱۷ء کے موسم گرما میں وہ سعودی عرب کو چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوگئے تھے۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے اپنے پہلے کالم میں لکھا کہ کئی دوسرے لوگوں کے ساتھ انہوں نے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی ہے، کیونکہ انہیں گرفتار کئے جانے کا خوف ہے۔ یہ وہی دور تھا کہ جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر سعودی عرب نے دھڑا دھڑ گرفتاریاں کی جا رہی تھیں، ان میں شاہی خاندان کے بہت سے شہزادے بلکہ شہزادیاں بھی شامل تھیں۔ علماء، اساتذہ اور صحافیوں کی ایک بڑی کھیپ بھی دھر لی گئی تھی۔ جمال خاشقجی تو بہت سی حکومتی پالیسیوں کو ناپسند کرتے تھے اور اس سلسلے میں انہیں بھی ناقدین میں سمجھا جاتا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اگر خود ساختہ جلاوطنی کا فیصلہ کیا تو وہ قابل فہم ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ درجنوں افراد ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بظاہر مخالفین پر کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں حراست میں لئے گئے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان ملک میں اقتصادی اور سماجی اصلاح کے اپنے ویژن پر کاربند ہیں اور اس راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ہٹا دینا چاہتے ہیں۔

جمال نے اپنے مذکورہ کالم میں سعودی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے عربی اخبار ”الحیات“ میں ان کا کالم بند کروا دیا اور انہیں اپنے ۱۸ لاکھ ٹوئٹر فالوورز کے لئے ٹویٹ کرنے سے اس وقت روک دیا گیا، جب انہوں نے ۲۰۱۶ء کے اواخر میں اپنے ملک کو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ”والہانہ طور پر گلے لگانے“ کے جذبے کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے لکھا: میں نے اپنا گھر، اپنی فیملی، اپنا کام سب چھوڑا اور میں اپنی آواز بلند کر رہا ہوں۔ اس کے برخلاف کام کرنا ان لوگوں کے ساتھ غداری ہوگی، جو جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں بول سکتا ہوں جبکہ بہت سے لوگ بول بھی نہیں سکتے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ ہم سعودی شہری اس سے بہتر کے حقدار ہیں۔ کالم میں یمن پر سعودی عرب کے حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے سعودی حکومت پر کریک ڈاﺅن میں اصل انتہا پسندوں کو نظرانداز کرنے کا الزام لگایا اور ولی عہد محمد بن سلمان کا روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے موازنہ کیا۔ ان کا آخری کالم ۱۱ ستمبر کو شائع ہوا تھا اور ۵ اکتوبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ کو اخبار نے ان کی گمشدگی کو اجاگر کرنے کے لئے ایک خالی کالم کی اشاعت کی ہے۔

امریکہ کی ریپلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لینزی گریم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ چند روز اس معاملے پر خاموش رہنے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وائٹ ہاﺅس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اس مسئلے پر تشویش ہے، میں اس بارے میں کوئی بری خبر نہیں سننا چاہتا، امید ہے صورت حال جلد واضح ہو جائے گی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ابھی انتظار میں ہیں کہ صورت حال مزید واضح ہو جائے، تاکہ وہ سعودی عرب پر زیادہ دباﺅ ڈال سکیں۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل اپنے ایک کالم ”ٹرمپ دودھ ختم ہونے کے بعد گائے کا کیا کریں گے“ میں واضح کیا تھا کہ امریکی مختلف حیلوں بہانوں سے سعودی عرب سے پیسہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے لئے ان کے پاس دیگر موضوعات کے علاوہ ۹/۱۱ کے واقعے میں سعودی شہریوں کی شرکت ہے۔ یہ مقدمہ تیار ہے اور اس کے ذریعے امریکہ کئی سو ارب ڈالر سعودی عرب سے نکالنا چاہتا ہے۔ سعودی صحافی کے حوالے سے بھی امریکی سینیٹر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔ امریکہ ایسے واقعات کو اکٹھا کرتا رہے گا، تاکہ ان کے ذریعے سے سعودی عرب سے زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکے۔ سعودی عرب کو نچوڑنے کے لئے امریکی صدر اپنے صدارتی انتخاب سے پہلے سے لے کر حالیہ دنوں تک جو کچھ کہہ چکے ہیں، وہ ان کے دل میں چھپے ارادوں کو جاننے کے لئے کافی ہونا چاہیئے۔

نومبر ۲۰۱۴ء میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی ایسے ڈرپوک ہیں کہ جن کے پاس پیسہ تو ہے شجاعت نہیں۔ مئی ۲۰۱۵ء میں انہوں نے سعودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے دنیا کے مختلف ملکوں میں جو دہشتگرد بنائے ہیں اور ان سے تقاضا کیا ہے کہ وہ جہالت، درندگی، انسانوں کے سروں کو کاٹنے اور انسانوں کی زندگی کو تباہ کرنے کے سلسلے کو رواج دیں، ان کے بارے میں یہ گمان نہ کرنا کہ وہ تمھاری حمایت کریں گے اور وہ تمھارے ساتھ رہیں گے، وہ پوری دنیا سے سمیٹ کر آخر تمھارے پاس پہنچیں گے اور تمھارے اوپر مسلط ہو جائیں گے اور تمھیں ہی چبا جائیں گے۔ انہوں نے اگست ۲۰۱۵ء میں کہا تھا کہ ہم پسند کریں یا نہ کریں، ہمارے درمیان جو لوگ سعودی عرب کی حمایت کرنا چاہتے ہیں، میں ان کے مخالف نہیں ہوں، لیکن ہم نے سعودی عرب کی حمایت میں بہت مخارج برداشت کئے ہیں، جبکہ اس کے بدلے میں ہم نے اس سے کچھ نہیں لیا۔ انہیں یہ مخارج ادا کرنا چاہئیں۔ اب اگر ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات کو سامنے رکھا جائے، جن میں انہوں نے شاہ سلمان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ شاید تم اپنے ہوائی جہازوں کی حفاظت بھی نہیں کرسکتے، لیکن اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو پرسکون رہو گے، البتہ اس کے بدلے میں ہمیں جو کچھ ملنا چاہیے تھا نہیں مل رہا۔

ان تمام بیانات اور واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ دن بدن سعودی عرب سے اس کے وسائل لوٹنے کے لئے گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یقینی طور پر امریکہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے واقعے سے بھی اپنے استعماری مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ترکی کے اندر اس کے لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ابھی تک یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سعودی قونصل خانے سے گاڑیاں تو آتی جاتی رہی ہیں، لیکن سعودی صحافی پیدل باہر نکلتے دکھائی نہیں دیئے، جبکہ انہیں داخل ہوتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی نئے حقائق سامنے نہ آئے تو ترک حکام کی اس رائے کو تقویت پہنچے گی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔

اس اندیشے کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ سعودی عرب اس سے پہلے بھی ایسے بہت سے کام کرچکا ہے۔ بیرون ملک سے منحرف شہزادوں کو سعودی عرب واپس لا کر قتل کیا جا چکا ہے۔ ملک سے باہر بھی حکومت مخالف سعودیوں کے قتل کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ خود ترکی کے اس وقت امریکہ سے کچھ ایسے تعلقات نہیں ہیں کہ وہ اس واقعے پر پردہ ڈالنے کے لئے سعودی عرب کی حمایت کرے۔ ترک حکومت بھی اپنا دامن بچانے کی کوشش کرے گی۔ ایسے میں نتائج جو کچھ بھی نکلیں گے، ان کا سامنا سعودی حکومت کو تنہا ہی کرنا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک سعودی عرب کی نہ تو کوئی عزت ہے اور نہ خادم الحرمین شریفین کا احترام، وہ سعودی عرب کو ایک دودھ دینے والی گائے کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، رحم کی کوئی نظر اس پر نہیں ڈالتے۔ گائے کے ان کے نزدیک دو ہی فائدے ہیں، جیسے کہ وہ متعدد مواقع پر بیان کر چکے ہیں۔

تحریر: ثاقب اکبر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=13008

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے