سپاہ پاسداران کے خلاف ٹرمپ کے احمقانہ فیصلہ کی صرف اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے حمایت کیوں؟ - خیبر

سپاہ پاسداران کے خلاف ٹرمپ کے احمقانہ فیصلہ کی صرف اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے حمایت کیوں؟

11 اپریل 2019 11:42

ایک جانب سے اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے تئیں پرانی دشمنی اور دوسری جانب سے دونوں کو ایران کے زیر حمایت مزاحمتی محاذ سے لگے شام و عراق میں زخم اور آخر کار اسرائیل اور مزاحمتی محاذ سے اسرائیل کو درپیش دائمی خطرات کے پیش نظر یہ واضح تھا کہ نیتن یاہو ٹرمپ کی حمایت کے زیر سایہ اپنے حریفوں پر بھاری پڑ جائیں گے۔

بقلم خیبر ٹیم

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: دو روز قبل جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سپاہ پاسداران کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا تو سوائے اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین کے دنیا کے کسی ملک نے ٹرمپ کے اس احمقانہ فیصلے کی نہ صرف حمایت نہیں کی بلکہ بعض ممالک نے مخالفت کا اظہار بھی کیا۔
یہ اقدام ایسے حال میں سامنے آیا جب صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو پارلیمانی انتخابات میں اپنے حریف کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اسرائیلیوں کو ایران کے خطرے سے ڈرا رہے تھے اور جیسا کہ اکثر تجزیہ نگاروں نے تحریر کیا کہ پہلے مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حاکمیت کا اعلان اور اس کے بعد اسرائیل میں انتخابات کے آغاز سے ٹھیک ایک دن قبل سپاہ پاسداران کو دھشتگردوں کی فھرست میں شامل کرنا دونوں ایسے اقدامات ہیں جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کے لیے انتخاباتی تحائف سمجھا جاتا ہے جو انتہائی موثر بھی واقع ہوئے اور اسرائیلی قوم نے دوبارہ اسی نیتن یاہو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان کر دیا جس پر مالی گھوٹالوں اور کرپشن کے دسیوں کیس چل رہے تھے اور عام حالات میں ان کی جیت ناممکن ہو رہی تھی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوستی کا رشتہ خوب نبھاتے ہوئے بروقت ایسے اقدامات کئے جس سے یہودی قوم کی ذہنیت پلٹ گئی اور نیتن یاہو پانچویں مرتبہ صہیونی ریاست کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔
لہذا ایک جانب سے اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے تئیں پرانی دشمنی اور دوسری جانب سے دونوں کو ایران کے زیر حمایت مزاحمتی محاذ سے لگے شام و عراق میں زخم اور آخر کار اسرائیل اور مزاحمتی محاذ سے اسرائیل کو درپیش دائمی خطرات کے پیش نظر یہ واضح تھا کہ نیتن یاہو ٹرمپ کی حمایت کے زیر سایہ اپنے حریفوں پر بھاری پڑ جائیں گے۔
سعودی عرب کے حوالے سے بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان کی ایران سے شدید نفرت اور امریکہ سے شدید وابستگی اس بات کا باعث بنتی ہے کہ سعودی عرب ڈونلڈ ٹرمپ کے ہر جائز اور ناجائز اقدام کا استقبال کرنے میں پیش پیش نظر آئے۔ بن سلمان ان چاپلوسیوں کے ذریعے نہ صرف اپنے جرائم پر پردہ ڈلوانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ امریکہ کی سرپرستی میں سعودی بادشاہت کے تخت پر قبضہ جمانے کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ گذشتہ شب کو ٹرمپ اور بن سلمان کے درمیان انجام پانے والی ٹیلیفونی گفتگو اور ایران پر دباو بڑھانے کے لیے طرح طرح کے اقدامات کرنے پر دونوں کا گٹھ جوڑ بھی انہیں مقاصد کے ضمن میں دیکھا جا سکتا ہے۔
بحرین تو مکمل طور پر سعودیہ کا پٹھو اور بن سلمان کا دست راست ہے علاقائی سطح پر اس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے جس کروٹ سعودیہ کی اونٹنی بیٹھے گی وہ اسی کروٹ بیٹھنے کی کوشش کرے گا لہذا وہ خواستہ یا ناخواستہ اسرائیل، امریکہ اور سعودی عرب کی مثلث میں گھس کر ایران کی دشمنی کا طبل بجاتا ہے۔
یہ کہ علاقے کے دیگر امریکی اور سعودی حامیوں نے ٹرمپ کے اعلان کی حمایت نہیں کی اس کی ایک وجہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں اور امریکہ و سعودیہ میں اندر اندر سے دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ امریکہ کے ہر احمقانہ اقدام کی تصدیق نہیں کر سکتے چونکہ اس سے ان کی حماقت بھی کھل کر سامنے آ سکتی ہے۔
اس کے باوجود کہ سپاہ پاسداران کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنا بہت ساروں کی نگاہ میں امریکی پابندیوں کی تکمیل کا آخری حصہ شمار کیا جاتا ہے لیکن اس اقدام نے علاقے میں مستقبل قریب میں ممکنہ جنگ کے ریسک کو مزید بڑھا دیا ہے۔ واضح ہے کہ اس میدان میں دیگر ممالک نے اپنی عقلانیت، سالمیت اور مصلحت کے پیش نظر ٹرمپ کے احمقانہ فیصلے سے خود کو نہیں ملایا اور اس اقدام کی مخالفت کی۔ علاوہ از ایں، ٹرمپ کے اعلان کے خلاف ایران کے فوری اقدام اور امریکی فوج کو دھشتگردوں کی فہرست میں شامل کرنے کے اعلان نے بھی دیگر ممالک کو چوکنا کر دیا کہ وہ سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ لیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=20364

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے