شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد کے ساتھ حالات حاضرہ پر اہم گفتگو - خیبر

شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد کے ساتھ حالات حاضرہ پر اہم گفتگو

14 جون 2018 18:46

بشار الاسد نے کہا کہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کریں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: العالم ٹی وی چینل نے شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد کے ساتھ ملکی اور غیر ملکی حالات پر اہم گفتگو کی ہے جس کا خلاصہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔
۔ آپ نے دھشتگردوں کے خلاف جنگ میں عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کامیابیوں کے سایے میں جنوبی شام کے اندر کافی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس وقت شام کے جنوب کی صورتحال کیا ہے؟
بشار الاسد: سادہ لفظوں میں کہوں کہ مشرقی غوطہ کی آزادی کے بعد ہم نے جنوب کا رخ کیا ہمارے سامنے دو آپشن تھے یا دھشتگردوں کے ساتھ صلح کریں یا ان کے خلاف طاقت کا استعمال کریں۔
روس کی پیشکش یہ تھی کہ مسلح افراد کے لیے صلح کا موقع فراہم کیا جائے جیسا کہ بعض علاقوں میں ایسا ہوا ہمارا مقصد یہ تھا کہ ۲۰۱۱ سے پہلے کے حالات پلٹ آئیں یعنی شامی فوج ان علاقوں جو صہیونی ریاست کے مدمقابل علاقے ہیں میں پلٹ جائے دھشتگرد ان علاقوں سے نکل جائیں۔ یہ پیشکش ہمارے لیے ایک مناسب پیشکش تھی۔
لیکن یہ منصوبہ عملی جامہ نہیں پہن پایا چونکہ اسرائیل اور امریکہ نے براہ راست دھشتگردوں کی حمایت کی اور انہیں شام کے جنوب سے نکلنے نہیں دیا۔


۔ کیا صہیونی ریاست شامی افواج کے گوالان کی پہاڑیوں پر واپس جانے پر رضامند ہو جاتی؟
بشار الاسد: یقینی طور پر امریکہ اور اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون یا اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔ دھشتگردوں کے ساتھ جنگ کے ابتدا سے ہی اسرائیل ہمیشہ شامی افواج کو اپنی بمباری کا نشانہ بناتا رہا ہے اور دھشتگردوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
اسرائیل کی فضائیہ اور اس کے توپ خانے دھشتگردوں کے اختیار میں تھے۔ اسرائیل کی جانب سے دھشتگردوں کی مسلسل حمایت کے باوجود ہم نے اپنی ذمہ دایوں پر عمل کیا اور شامی افواج نے شام کا بہت سارا علاقہ دھشتگردوں سے آزاد کروا لیا۔ اسرائیل رضامند ہو یا نہ ہو ہم اپنی قومی ذمہ داری پر عمل پیرا ہیں۔
۔ کیا اسرائیل اتنی آسانی سے گوالان کی پہاڑیوں کو چھوڑ دے گا اور شامی فوج کو وہاں پلٹنے کا موقع فراہم کرے گا؟
بشار الاسد: میری نظر میں اسرائیل کے لیے دونوں آپشن برے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے متعدد بار شام سے تعلقات اور مزاحمت میں شام کے کردار کے بارے میں گفتگو کی ہے لہذا کیسے اسرائیل ان دونوں آپشنوں میں سے ایک کو انتخاب کر سکتا ہے جبکہ دونوں اس کے لیے برے ہیں۔
۔ صہیونی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے تنصیباتی مراکز کو حملے کا نشانہ بنائیں گے آپ ان کے خلاف کیا اقدام کریں گے؟
بشار الاسد: ہم ان کے کسی بھی حملے کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑیں گے ہم اپنے موجودہ فوجی امکانات کے مطابق ان کا مقابلہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کا منہ توڑ جواب، اسرائیلی فوج کو شام میں شکست دینا ہے۔ میری مراد وہ دھشتگرد ہیں جو واضح اور آشکارا طور پر اسرائیلی مفادات کے لیے شام میں لڑ رہے ہیں۔ انہیں شروع سے ہی امریکہ اور اسرائیل کے طرف سے اسلحہ، تربیت اور رہنمائی حاصل رہی ہے۔
سیاسی اور عسکری سطح پر سب سے بڑا حملہ اسرائیل کے خلاف یہ ہے کہ ہم شام میں موجود اسرائیلی دھشتگردوں کو نابود کریں۔ وہ دھشتگرد جو داعش یا النصرہ کا حصہ ہیں یا دیگر ٹولے جو اسرائیل کے تیار کردہ منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں۔
۔ اسرائیل کے حملوں میں شدت آنے کی صورت میں کیا آپ ان کے جواب کے لیے آمادہ ہیں؟
بشار الاسد: ابھی بھی ایسا ہو رہا ہے ہم اس صہیونی ریاست کے شدید ترین حملوں کا جواب دے رہے ہیں ہم اپنے ملکی وسائل کے دائرے میں دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دیں گے میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ یہ بات کہ ہم دشمن کی جارحیت کا جواب دیں گے یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ قومی تصمیم اور ملی ارادہ ہے جو روز اول سے ہی لیا گیا ہے۔


۔ فلسطین کی حمایت کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے کیا آپ سیاسی اور عسکری سطح پر فلسطین کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں؟
بشار الاسد: ہمارے سیاسی نظریے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسئلہ فلسطین ہمارے لیے ویسے ہی ہے جیسے دس سال قبل تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
البتہ ہمارے نزدیک آج اولویت شام کے اندرونی مسائل کو حاصل ہے شام سے دھشتگردوں کا صفایا کرنا ہے اس کے بعد فلسطین کی بھی بہر صورت حمایت کے لیے تیار ہیں۔
۔ بعض ممالک نے شام میں آپ کا ساتھ دیا جنگ میں قدم با قدم آپ کے ساتھ ڈٹے رہے جیسے حزب اللہ لبنان، اور انہوں نے اس راہ میں بہت قربانیاں دیں آپ ان کے بارے میں کیا کہیں گے؟
بشار الاسد: تمام مزاحمتی گروہوں جیسے حزب اللہ لبنان، یا وہ ہمارے بھائی جو عراق سے آئے اور انہوں نے شام کا دفاع کیا شامی باشندوں کا دفاع کیا میں یہاں پر ان کے بارے میں کہنا چاہوں گا وہ تمام عزیزان جو لبنان سے آئے عراق سے آئے، ایران سے آئے یا دوسرے ممالک سے آئے اور انہوں نے شام میں اپنا خون دیا وہ سب کے سب ہمارے شامی شہداء اور مجاہدین کے جیسے ہیں سب ایک گھرانے کے افراد ہیں میرے پاس ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں الفاظ کے ذریعے ان کے ایک قطرہ خون کا حق ادا کر سکوں لہذا یہ چیز الفاظ کے دائرے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اہم بات یہ ہے کہ تاریخ انہیں یاد کرے گی۔ بلکہ انہوں نے تاریخ کو رقم کیا ہے۔
میں یہاں پر اپنی تمام تر محبتوں کو اور احترام و اکرام کو نثار کرنا چاہوں گا تمام مجاہدین، شہداء، اور ان کے شجاع گھرانوں کے نام کہ جنہوں نے اپنے عزیزوں کو شام کی سرزمین پر بھیج کر ملت شام پر قربان کیا یہ گھرانے موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے اخلاق و اصول کے آئیڈیل ہیں۔
۔ کیا آپ نے ایرانی مشیروں کو دعوت دی کہ وہ شام میں آپ کی مدد کریں؟
بشار الاسد: جی ہاں، ہم نے شروع میں ہی ایران اور روس کو دعوت دی کہ وہ شام میں مدد کے لیے پہنچیں۔ اس لیے کہ ہمیں ان کی مدد کی ضرورت تھی ایران نے ہمارے دعوت پر لبیک کہی۔
ایران اور شام کے تعلقات اسٹراٹیجک ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران نے شام کی درخواست پر مدد فراہم کی اور ایران کی شام میں فوجی مشیروں کی موجودگی شامی حکومت کی درخواست پر ہے۔
بہت سے ممالک منجملہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کریں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔

بشار الأسد / خيبر
۔ آپ نے اس سے پہلے بھی کئی بار کہا ہے کہ شام میں کوئی ایرانی ٹھکانہ نہیں ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ شام میں روس کا فوجی ٹھکانہ موجود ہے؟
بشار الاسد: چونکہ ایران روس کا حامی ملک ہے لہذا اس اعتبار سے روس کے شام میں فوجی ٹھکانہ ہونے پر کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔
۔ گزشتہ ہفتے عالمی یوم القدس تھا، لہذا ’’صدی کی ڈیل‘‘ اور ’’بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی‘‘ جیسے مسائل کے پیش نظر مسئلہ فلسطین ایک پیچیدہ مسئلہ ہو چکا ہے۔ آپ اس موقع پر فلسطینیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کیا شام پہلے کی طرح فلسطین کی مدد کر سکتا ہے؟ کیا اصلا شام پر جنگ تحمیل کرنے کا مقصد ہی یہ نہیں تھا کہ اس ملک کو جو مسئلہ فلسطین میں مزاحمت کی راہ میں کھڑا ہے کو درکنار کریں؟
بشار الاسد: فلسطین کا مسئلہ تو ۱۹۴۸ سے اب تک پیچیدہ ہی رہا ہے۔ اس کی وجہ مغربی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی دائمی حمایت اور عربوں کو ناامید کرنے کے لیے ہمیشہ تلاش و کوشش ہے۔ دوسری وجہ عرب اقوام کے ذہنوں کو فرعی مسائل میں الجھانا اور انہیں مسئلہ فلسطین پر سوچنے کا موقع نہ دینا ہے۔ اور وہ اس معاملے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ اس کے باوجود عرب اقوام کا مسئلہ فلسطین کے ساتھ ایک اندرونی رابطہ موجود ہے۔ شام کی جنگ بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے کہ وہ عرب دنیا کو اس پٹری سے ہٹا دیں۔ سب سے پہلے شام کو مسئلہ فلسطین کی حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کریں اس کے دوسرے حامی ملکوں کو۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے گزارش کیا صہیونی ریاست کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ، شام میں امن کی برقراری، دھشتگردوں کی نابودی اور شام میں صہیونی منصوبوں کی شکست در حقیقت فلسطین کی ہی حمایت ہے۔
ممکن ہے بعض جگہوں پر اس کے اثرات بلاواسطہ مترتب ہوں اور بعض جگہوں پر بلاواسطہ۔ لیکن بہرصورت ان مسائل کے فلسطین کی داخلی صورت حال پر گہرے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔

منبع: http://fa.alalam.ir/news/3617931

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=5742

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے