صہیونیت مخالف شخصیت ’’ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے‘‘ (David Ernest Duke) کا تعارف - خیبر

صہیونیت مخالف شخصیت ’’ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے‘‘ (David Ernest Duke) کا تعارف

11 جون 2018 19:13

ڈیوڈ دسمبر ۲۰۶ ء میں ہلوکاسٹ کے سلسلہ سے ہونے والی کانفرنس کے مندوبین میں سے ایک اہم مقرر تھے، انہوں نے اس بین الاقوامی کانفرنس میں کہا تھا جو بھی آج کی دنیا میں ہلوکاسٹ کے بارے میں کچھ کہتا ہے وہ ایک دلیر و شجاع انسان ہے

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: طول تاریخ میں ایسے بہت سے گروہ ہیں جنہوں نے گوناگوں نظریات کے حامل ہونے کے باوجود صہیونیت کی فکر پر تنقید کی ہے، یہی وجہ ہے کہ محض فلسطینی مسلمانوں کو یہودیوں اور صہیونیوں کا ناقد و مخالف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ بعض مغربی دانشورو اسکالرز نے بھی انسانی، نسلی ، قومی اور آئڈیالوجیکل بنیادوں پر صہونی فکر کا تجزیہ کیا ہے اور انکی فعالیت و سرگرمیوں پر تجزیاتی گفتگو کرتے آئے ہیں۔

انہیں مغربی دانشوروں میں صہیونی فکر کے خلاف بولنے والی ایک یہود ستیز شخصیت ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے David Ernest Duke” کی [۱]ہے

ڈیوڈ ارنسٹ ڈوکے کو ایک صہیون مخالف اور ماضی میں ’’کے کے کے۔k.k.k‘‘[۲]کے بلند پایہ رہبروں کے روپ میں جانا جاتا ہے۔

ڈیوڈ نے اوکلاھما [۳]ریاست کے شہر ’’ تالزا ‘‘ [۴]میں اس دنیا میں قدم رکھا ، ڈیوڈ کے اجداد و اسلاف جدید امریکہ کے معماروں اور بانیوں میں تھے۔

ڈیوڈ نے ابتدائی تعلیم کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یونیورسٹی کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا۔

وہ اپنی کتاب ’’میری بیداری: امریکا میں یہودیوں کے سلسلہ سے ان کہی باتوں‘‘ میں لکھتے ہیں : ’’نوجوانی میں ہی یہ بات میرے گھر والوں کے لئے واضح ہو گئی تھی کہ میں واعظ و مقرر تو بننے سے رہا ،اس لئے کہ میں ایک خاموش اور چپ رہنے والا شخص تھا اور ذرا بھی تقریر کے لئے مناسب نہ تھا چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی میری مطالعہ کتب کے سلسلہ میں حوصلہ افزائی کی، میرے والد کا اصرار تھا کہ روز کم سے کم میں ایک گھنٹے کا وقت تو مطالعہ کو دوں، شروع میں تو میں اس سے فرار کرتا رہا لیکن آہستہ آہستہ مطالعہ کی مجھے عادت پڑ گئی اور پھر میں دائم المطالعہ ہو گیا ‘‘

ڈیوڈ ماضی میں سیاہ فاموں اور قوم پرستوں کے سلسلہ سے خاص طور پر نسل پرستی کے سلسلہ سے شدت پسندانہ موقف اختیار کرتے رہے ہیں، لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ہجرت، و نسلی بھید بھاو جیسے موضوعات میں انکے شدت پسندانہ رجحان میں لچک پیدا ہوتی گئی، اور شدت پسندانہ نظریات کا پکا رنگ کچا ہوتا چلا گیا جسکی بنیاد پر مختلف النوع و مختلف الفکر لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے میں انہیں خاطر خواہ کامیابی نصیب ہوئی، اور ہر قسم کے لوگ ان سے جڑنے لگے ۔

ڈیوڈ ’’کے کے کے‘‘ نامی نسل پرست گروہ کے ان نو نازی اولین سربراہوں میں تھے جنہوں نے کلاں اور نازیوں کے مخصوص لباس پہننے پر روک لگائی ، اسی طرح انہوں نے ان تمام روایتی پہنے جانے والے کپڑوں کے پہننے کی میڈیا میں مخالفت کی جو نسلی تعصب کی علامت تھے اور جن سے نفرت پھیلتی تھی ، انہوں نے نفرت آمیز نسلی امتیاز کی ترجمان علامتوں کی کھل کر مخالفت کی، انہوں نے اپنے گروہ کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ شدت پسندی کے رویہ کو ترک کر دیں اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔

۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۲ء میں جعلی حکم ناموں اور تحریروں کے ساتھ ٹیکس سے فرار کے لئے اپنی سیاسی جدو جہد کے سلسلہ سے نقلی دستاویزات بنانے کی بنا پر پولس کو مطلوب رہے، اور چونکہ پولس انکے تعاقب میں تھی لہذا انہوں نے اپنا کچھ وقت روس اور کریمہ یوکرائن میں گزارا ان دونوں ہی مقامات پر قیام کے دوران انہوں نے یہودیوں پر اپنے تنقیدی سرگرمیوں کے سلسلہ کو جاری و ساری رکھا ۔

۱۹۸۰ کی دہائی میں ڈیوڈ سفید فاموں کی برتری کا دفاع کرنے والوں کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن چکے تھے ، ۱۹۸۰ میں وہ پہلے تو ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب امید وار کے طور پر کھڑے ہوئے ، اسکے بعد چار سال قبل ویلس کارتو کی جانب سے تاسیس پانے والی عوام پارٹی کی جانب سے صدر جمہوریہ کا انتخاب لڑنے کے لئے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے ۔

۱۹۹۱ میں ریاست لویزانہ کے گورنر کے الیکشن میں بھی میدان رقابت میں امید وار کی طور پر انہوں نے اپنی قسمت آزمائی کی اور چونکہ انہیں لگتا تھا کہ سنا کے انتخابات میں انہوں نے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں شاید یہ سیاسی نشیب و فراز اسی خاطر ہوں کہ وہ ہر جگہ ابھرتے نظر آئے ڈیوڈ نے اپنے الیکشن کی رقابت کے سلسلہ سے ہونے والی تشہیری مہم میں ایک مقام پر کہا: ’’یہودی اپنی نجات کے لئے تمام ثقافتوں کی نابودی کے درپے ہیں ‘‘انکا ماننا تھا کہ یہود و غیر یہود ایک قومی جنگ کے کگار پر ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے ’’ ان دو نسلوں اور دو تہذیبوں کے درمیان جدید صدی کے آغاز کے باجود نہائی معرکہ بہت دور نہیں ہے اور ممکن ہے دونوں کے درمیان ایک نہائی ٹکراو پیش آ جائے[۵]‘‘

ڈیوڈ دسمبر ۲۰۶ ء میں ہلوکاسٹ کے سلسلہ سے ہونے والی کانفرنس کے مندوبین میں سے ایک اہم مقرر تھے، انہوں نے اس بین الاقوامی کانفرنس میں کہا تھا جو بھی آج کی دنیا میں ہلوکاسٹ کے بارے میں کچھ کہتا ہے وہ ایک دلیر و شجاع انسان ہے [۶]۔

حواشی :

[۱] ۔ David Ernest Duke ۔ ایک سفید فام قوم پرست امریکن مصنف جو اپنے یہود مخالف نظریات اور یہودی مخالف رجحان کی خاطر مشہور ہیں

[۲] ۔ The Ku Klux Klan (/ˈkuː ˈklʌks ˈklæn, ˈkjuː۔ سفید فاموں کی برتری کا دفاع کرنے والی ایک ، کیتھولک مخالف امریکن تنظیم ، ۱۸۶۶ اور ۱۸۶۹ میں سیاہ فاموں کے امریکہ میں قتل عام میں اس تنظیم کا بڑا ہاتھ رہا ہے ، یہ لوگ مخصوص قسم کا لباس پہنتے اور ایک صلیب کے سامنے کھڑے ہو کر خاص مراسم انجام دیتے اس کے بعد ایک قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ۔ مزید مطالعہ کے لئے رجوع کریں : Drabble, John, The FBI, COINTELPRO-WHITE HATE and the Decline of Ku Klux Klan Organizations in Mississippi, 1964-1971, Journal of Mississippi History, 66:4, (Winter 2004)

[۳] ۔ریاستہائے متحدہ امریکا کی ایک ریاست جو ۱۹۰۷ء میں وفاق امریکا میں شریک ہوئی۔ ایسی ریاست جہاں کپاس، گہیوں دوسرے اناج کا شت کیے جاتے ہیں۔ کانوں سے کوئلہ، سیسہ اور جست نکلتا ہے۔ مویشی پالنا لوگوں کا اہم پیشہ ہے۔ شمال مشرق میں تیل نکلتا ہے اور ریاست کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔یہاں امریکا کے قدیم باشندے ریڈ انڈین بھی آباد ہے۔ ۱۹۶۰ء کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد پینسٹھ ہزار کے قریب بتائی جاتی رہی ہے

[۴] ۔ Tulsa، ریاست اوکلاما Oklahomaکا دوسرا سب سے بڑا اور امریکہ کا سینتالیسواں بڑا شہر

[۵] ۔ www.splcenter.org/fighting-hate/extremist-files/individual/david-duke

[۶] ۔ KKK’s David Duke Tells Iran Holocaust Conference That Gas Chambers Not Used to Kill Jews, Published December 13, 2006, Fox News

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/ت/۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=5547

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے