صہیونیت کی وجہ سے: امریکی ثقافت میں یہودی -عیسائی میراث - خیبر

کتاب کا تعارف

صہیونیت کی وجہ سے: امریکی ثقافت میں یہودی -عیسائی میراث

30 ستمبر 2018 13:08

یہ عیسائی جماعت جو یہود و نصاریٰ کی یکجہتی کو شدت پسندانہ طریقے سے ترویج کرتی ہے اس بات کی تلاش میں ہے کہ اسلام کو دونوں ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مشترکہ دشمن کے عنوان سے متعارف کروائے۔ انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی طاقت کا بھرپور استعمال کر کے اسلام، عربوں اور مسئلہ فلسطین کی نسبت امریکہ کے لوگوں کی نگاہ کو تبدیل کر دیا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:

کتاب کا اصلی نام: “من اجل صهیون: التراث الیهودی- المسیحی الثقافه الامریکیه”

تالیف: فواد شعبان

اسلام کے تئیں مغربی دنیا کی دشمنی اور بدظنی سات سو سال پرانی ہے۔ اس دشمنی کا آغاز اس وقت ہوا جب گیارہویں اور بارہویں صدی عیسوی میں مغرب کے اندر صلیبی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ لیکن عصر حاضر میں جس چیز نے اس پرانی دشمنی کو مغربیوں کے دلوں باقی رکھا ہوا ہے وہ اسلامی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی مخالفت اور اسے ایک آزاد ریاست کے عنوان سے تسلیم نہ کرنا ہے جس کی وجہ سے صہیونی میڈیا نہ صرف مغربی معاشرے کو مسلم ممالک کے خلاف ابھارتا بلکہ وہ بطور کلی مغربی معاشرے میں اسلام کو ایک شدت پسند دین کے عنوان سے متعارف کروانے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام کے تئیں ان کی قدیمی دشمنی کو بہر صورت ذہنوں سے مٹنے نہیں دیتا۔ امریکہ کا عیسائی بنیاد پرست معاشرہ کتاب مقدس کے لفظ لفظ پریقین رکھتا ہے اور اس بنا پر وہ یہودی قوم کے لیے ایک خاص مقام و منزلت اور اسرائیل اور صہیون کے لیے اہمیت کا قائل ہے۔
یہ عیسائی جماعت جو یہود و نصاریٰ کی یکجہتی کو شدت پسندانہ طریقے سے ترویج کرتی ہے اس بات کی تلاش میں ہے کہ اسلام کو دونوں ادیان کے ماننے والوں کے درمیان مشترکہ دشمن کے عنوان سے متعارف کروائے۔ انہوں نے اپنے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی طاقت کا بھرپور استعمال کر کے اسلام، عربوں اور مسئلہ فلسطین کی نسبت امریکہ کے لوگوں کی نگاہ کو تبدیل کر دیا۔ لہذا آپ مشرقی امور کے ماہرین امریکی دانشوروں جیسے ویلیم تھامسن (William thomson) ایڈوارڈ رابن سن (Edward robinson) اور ویلیم لینچ (William Lynch) کے آثار میں اسلام پر عسکریت پسندانہ حملوں کو بخوبی ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
کتاب “صہیونیت کی وجہ سے” کے مولف اس کتاب کو چار حصوں اور ایک ضمیمے کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
کتاب کے پہلے حصے میں براعظم امریکہ کو کشف کرنے والے “کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) کی داستان کو بیان کیا گیا ہے اور اس کی شخصیت کو اس اعتبار سے کہ دین اس کے کردار میں کس قدر موثر تھا اور امریکہ کو انکشاف کرنے میں اس کی تلاش و کوشش کتنی موثر تھی کو مورد بحث قرار دیا ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں پیوریٹن (تطہیری) (۱) گروہ پر کتاب مقدس اور دین یہود کے مبانی کی تاثیر اور امریکہ کے انکشاف میں ان کی نگاہ کی نوعیت پر گفتگو کی گئی ہے۔ فواد شعبان اس بارے میں لکھتے ہیں کہ پیوریٹن گروہ پر کتاب مقدس کے عہد نامہ قدیم کی تاثیر اس قدر گہری تھی کہ پیوریٹنوں کے عقائد اور ان کے طرز زندگی نے امریکہ کے لوگوں کی مذہبی، سیاسی اور سماجی بنیادوں کو بطور کلی تبدیل کر دیا۔
تیسرے حصے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ پیوریٹنوں اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے امریکہ ہجرت اور وہاں کے مقامی امریکیوں کے ساتھ طرز رفتار کو بنی اسرائیل کے قصے یعنی ان کا مصر سے اخراج اور کنعان میں سکونت سے جوڑ دیا ہے۔ ورنون پرینگٹن (vernon parrington) کے بقول “پیوریٹن گروہ نے خدا کی بادشاہی کی سرحدوں کو وسعت دینے کے لیے سرزمین امریکہ میں قدم رکھا”۔
اس حصے کے دوسرے مقام پر مولف نے امریکی سلطنت میں اس تفکر کی گہرائیوں کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان میں موجود علامتیں عیسائی عقائد کی بنسبت یہودی عقائد سے کہیں زیادہ نزدیک ہیں ۔ اور یہ طرز تفکر اس قدر امریکی معاشرے میں جڑیں پکڑ چکا ہے کہ کوئی بھی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔
فواد شعبان اس کتاب کے اگلے حصے میں امریکی عوام کے مصر اور فلسطین زیارتی سفر کی کثرت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی میں اس مسافرت نے شدت اختیار کر لی تھی۔ اور اس سفر کا شوق اس قدر امریکی عوام میں زیادہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے رنج و الم کا بہتر ادراک کرنے کے لیے صحرائے سینا سے یروشلم تک کا سفر برہنہ پا کرتے تھے اور اس راہ میں موجود تمام مشکلات کو تحمل کرنے کے لیے تیار تھے۔ مولف نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ سرزمین مقدس کی جانب سفر کے اشتیاق نے امریکی سماج میں دین یہود کی محبوبیت کو کئی گنا اضافہ کر دیا جس کے نتیجے میں مشرق زمین اور سرزمین مقدس کے نام سے سفرناموں کی خرید و فروخت نے بھی خوب بازار گرم کیا۔
کتاب کے آخری حصے میں امریکہ میں دین کے کردار کو موضوع سخن بنایا ہے یہ کہ امریکی عوام کی زندگیوں میں دین کا کیا کردار ہے اور یہ کہ امریکہ کا موجودہ دین یورپ سے وارد ہوئے دین سے کوئی اختلاف رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کتاب کے ضمیمے میں آخرالزمان کے مکاتب فکر، پیش گوئیاں اور حضرت مسیح کی حکومت کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔

۱؛ سولہویں اور سترہویں صدی میں ایک انگریز کالوینی پروٹسٹنٹ گروہ تھا جو کلیسیائے انگلستان سے تمام رومن کیتھولک رسومات اور طرز عمل سے پاک کرنا چاہتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12529

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے