صہیونیت کے ناقد مایکل کولینز بیر نارڈ پیپر (Michael Collins Bernard Piper) کا تعارف - خیبر

صہیونیت کے ناقد مایکل کولینز بیر نارڈ پیپر (Michael Collins Bernard Piper) کا تعارف

10 مئی 2018 15:20

پیپر ہلوکاسٹ کے واقعہ کے منکرین کی آزادی بیان کے حق کے محفوظ رکھے جانے کے قائل تھے ۲۰۰۶ ء میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران میں ہلوکاسٹ کے موضوع پر منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا کہ ہلوکاسٹ کے موضوع پر اپنے افکار و نظریات کو پیش کر سکیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: مائکل کولینز بیرنارڈ پیپر{  Michael Collins Bernard Piper }[1] ایک مصنف، صحافی صاحب نظر، ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں جو  صہیونی رجیم کے ناقدین میں شمار ہوتی ہے، انہوں نے ۱۶ جولائی ۱۹۶۰ ء میں آئر لینڈ کے ایک کیتھولک گھرانے میں آنکھیں کھولیں ۔

پیپر نے بہت ہی منظم طور پر پوری لگن اور محنت کے ساتھ مختلف اخباروں اور ریڈیو چینلز[۲] میں کام کیا جسکی بنا پر وسیع پیمانہ پر گوناگوں ویب سائٹوں نے انکے مطالب کو  منظر عام پر پیش کیا ۔

پیپر نے بش حکومت اور قدامت پسندوں کی پارٹی { neoconservatives } پر تنقید کرتے ہوئے متعدد کتابیں لکھیں اور متعدد مقالات میں ان پر تنقید کی نیز اپنے مطالعات میں انہوں نے اس بات کو ثابت کیا  صہیونی حکومت کے خفیہ ایجنسی موساد نے  امریکی صدر جان ایف کنیڈی[۳] کو قتل کیاہے [۴]پیپر نے امریکی سسٹم کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس تنقیدی سلسلہ کے آغاز کا محرک انہوں نے جنگ ِویتنام میں انکے بھائی کے تلخ تجربات کو بیان کیا ہے کہ جو جسمانی اور نفسیاتی طور پر اس طرح ٹوٹ گئے کہ بعد تک اس جنگ کے نفسیاتی و جسمانی اثرات سے بہبودی حاصل نہ ہو سکی[۵] ، پیپر کو اپنے ریڈیو کے پروگراموں میں یہودیت کی مخالفت کی بنیاد پر کئ بار  مختلف الزامات کا سامنا کرنا پڑا اور کئی بار ان پر عدالتی کاروائی کی گئی [۶]۔

پیپر  ہلوکاسٹ کے  واقعہ کے منکرین کی آزادی بیان کے حق کے محفوظ رکھے جانے کے قائل تھے  ۲۰۰۶ ء میں انہیں اسلامی جمہوریہ ایران میں ہلوکاسٹ کے موضوع پر منعقد ہونے  والی بین الاقوامی کانفرنس میں مدعو کیا گیا تھا کہ ہلوکاسٹ کے موضوع پر اپنے افکار و نظریات کو پیش کر سکیں۔

اس کانفرنس میں «امریکا جدید یروشلم اور امریکہ میں صہیونی نفوذ »[۷]  نامی کتاب کی رونمائی ہوئی ، بعد میں اس کتاب کا فارسی ترجمہ بھی منظر عام پر آ گیا نیز  پیپر کی  معروف کتاب«ناپاک اسرار :ظلم  فریب اور بیسویں قرن کی درپردہ حقیقت »   کا بھی فارسی ترجمہ ہو گیا ہے۔

پیپر کے بعض معروف آثار یہ ہیں :

Best Witness: The Mel Mermelstein Affair, (1993) Center for Historical Review

Final Judgment: The Missing Link in the JFK Assassination Conspiracy, (1993) The Wolfe Press

The High Priests of War, (2004) American Free Press

The New Jerusalem: Zionist Power in America, (2004) American Free Press

Target: Traficant, The Untold Story, (2005) American Free Press

The Judas Goats, The Enemy Within, (2006) American Free Press
The Golem: a World Held Hostage, (2007) American Free Press

پیپر نے اپنی پوری زندگی امریکہ میں صہیونی لابی کے نفوذ کے چلتے امریکہ کو لاحق خطرات و چیلنجز کو سامنے لانے میں وقف کر دی  انجام کار  بہت ہی نابہ گفتہ اور دشوار اور برے حالات میں کچھ اس طرح انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا کہ انہیں اپنے زندگی کے آخری ایام میں صہیونیوں کی طرف سے شدید پابندیوں کا سامنا تھا اور زندگی کے تمام وسائل سے انہیں محروم کر دیا گیا تمام تر زندگی کی سہولیات پر قدغن تھا چنانچہ صیہونیوں کی جانب سے شدید دباو کے چلتے بہت ہی رقت آمیز و مشکوک انداز میں  ۲۰۱۵ ء میں انکی موت ہوئی [۸]۔

[۱]Michael Bernard Piper

[۲] Controversial American Author to Give Talk in Malaysia, Malaysia General News, August 22, 2004

[۳]  John Fitzgerald Kennedy

[۴] https://web.archive.org/web/20080606041755

https://www.mashreghnews.ir/news/265608/

[۵] https://web.archive.org/web/20080606041755

[۶] www.thepoliticalcesspool.org/guestlist.php

[۷] Iran Opens Conference on Holocaust”, The New York Times, December 12, 2006.

[۸] http://www.cdapress.com/archive/article-924e812e-1518-5dfb-b89a-09210fcf5ef9.html

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/الف/ت/۷۰۲/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2592

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے