صہیونی تفکر کے ناقد اور فلسطینی مقاصد کے حامی اسرائیل شحاک کا تعارف - خیبر

صہیونی تفکر کے ناقد اور فلسطینی مقاصد کے حامی اسرائیل شحاک کا تعارف

۰۶ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۰۷:۱۳
صہیونی تفکر کے ناقد اور فلسطینی مقاصد کے حامی اسرائیل شحاک کا تعارف

اسرائیل شحاک ایک لیبرل مفکر اور انسانی حقوق کے حامی جانے جاتے تھے۔ صہیونی تفکر کی نسبت تنقید اور فلسطین کے مظلوم عوام کی نسبت حمایت کا موقف اختیار کر کے یہودیوں کے درمیان انہوں نے خاص شہرت حاصل کی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل شحاک، اسرائیل کے ایک اہم اسکالر اور معروف محقق تھے وہ ۱۹۳۳ میں پولینڈ کے شہر ورسزاوا(۱) میں پیدا ہوئے۔ شحاک اشکنازی یہودی گھرانے کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔(۲)
شحاک نے اپنے بچپنے کے کچھ ایام بلسن (۳) کے جنگی اسراء کے کیمپ میں گزارے اور ۱۹۲۵ میں فلسطین ہجرت کر کے اس ملک کے مکین ہو گئے۔ نوجوانی کا دور فلسطین میں گزارا اور اس دوران عبری زبان پر بھی مہارت حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہودی معاشرے کے اخلاق و اداب سے بھی بخوبی آشنا ہوئے۔
انہوں نے ۱۹۶۱ میں امریکہ کا سفر کیا اور “اسٹین فورڈ”(۴) یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ دو سال کے بعد واپس اسرائیل لوٹے اور “ہیبرو یروشلم(۵) یونیورسٹی میں ایک تجربہ کار استاد کی حیثیت سے کام شروع کیا۔
اسرائیل شحاک ایک لیبرل مفکر اور انسانی حقوق کے حامی جانے جاتے تھے۔ صہیونی تفکر کی نسبت تنقید اور فلسطین کے مظلوم عوام کی نسبت حمایت کا موقف اختیار کر کے یہودیوں کے درمیان انہوں نے خاص شہرت حاصل کی۔ وہ ۱۹۷۰ سے ۱۹۹۰ تک اسرائیل کے انسانی حقوق یونین(۶) کے چیئرمین مقرر ہوئے اور ہمیشہ اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔ انہوں نے اس دوران متعدد بار فلسطینیوں کو “Apartheid ” (نسل پرستی کے ظلم کا شکار) کے عنوان سے یاد کیا۔ اور ان صہیونیوں کو جو فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرتے تھے متعصب یہودیوں کا نام دیا۔ شحاک صہیونیت پر تنقید کرنے کی وجہ سے یہودیوں کے درمیان “یہود ستیز” (یہودی مخالف) معروف تھے۔
پروفیسر شحاک اسرائیل نے بہت ساری کتابیں اور مقالے تحریر کئے ہیں کہ جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں: “عیسائیت کی نسبت یہودیوں کی نفرت”(۷)، الخلیل کے قتل عام کے پشت پردہ خفیہ سازشیں”(۸)، “تاریخ یہود اور تین ہزار سالہ یہودی دین”، “اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی”۔(۹)
امریکہ کے معروف رائٹر گورویڈل (۱۰) کتاب “تاریخ یہود” کے مقدمے میں شحاک کو ایک یہودی محقق کا لقب دیتے ہیں کہ جو اپنی پر نشیب و فراز زندگی کے تلاطم میں انسانیت کے حامی رہے اور اپنی توانائی کے مطابق یہودیت کے ظلم و جور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے۔
اسرائیل شحاک نے ۱۹۹۰ میں شوگر کی بیماری کی وجہ سے یونیورسٹی میں تدریس کی سرگرمیوں کو ترک کر دیا اور آخر کار ۶۸ سال کی عمر میں ۲ جون ۲۰۰۱ کو اسی بیماری کی وجہ سے انتقال کیا۔

حوالے
۱ Warszawa
۲ catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb13521443g
۳ Belsen or Belson
۴ Stanford University
۵ Hebrew University
۶ Israeli Human Rights league
۷ Jewish Hatred toward Christianity
۸ Idealogy behind the Hebron Massacre
۹٫The Jewish fundamentalism and its Profound Impact on Israeli Politics
۱۰ Gore vidal

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/ت/۷۰۲/ ۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=1672

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے