صہیونی جیلوں میں فلسطینی خواتین سے کیسے کیسے انتقام لیا جاتا ہے؟ - خیبر

صہیونی جیلوں میں فلسطینی خواتین سے کیسے کیسے انتقام لیا جاتا ہے؟

05 دسمبر 2018 10:44

فلسطینی محکمہ امور اسیران کے مطابق صہیونی حکام فلسطینی اسیر خواتین کو کئی طرح کے حربوں سے انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین کے محکمہ اسیران کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فلسطینی اسیر خواتین ھشارون اور دامون جیل میں قید ہیں اور گنجائش سے زیادہ خواتین کو کال کوٹھڑیوں میں ٹھونسا گیا ہے۔

ھشارون جیل میں اسیر خواتین کو کمرے سے باہر نکلنے کے وقفے کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی ہے۔ جیل میں‌ قید خواتین کی نگرانی کے لیے جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں۔

محکمہ اسیران کے مطابق “دامون” جیل میں ۵۱ خواتین پابند سلاسل ہیں۔ ان میں ۲۲ بچوں کی مائیں ہیں، دو کم عمر بچیاں، ۱۹ مقدمہ چلائے بغیر اور ۳۲ سزا یافتہ قیدی خواتین شامل ہیں۔

صہیونی حکام کی طرف سے اسیرات کو انتقامی کارروائیوں میں انہیں دفاع کے حق سے محروم کرنا بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی زندانوں میں ۶۵۰۰ فلسطینی پابند سلاسل ہیں ان میں ۳۵۰ بچے،۶۲ خواتین، ۶ ارکان پارلیمان،۵۰۰ انتظامی قیدی اور ۱۸۰۰ مریض شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15906

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے