صہیونی ریاست اور سعودی اتحاد 'فرعون' سے بھی بدتر - خیبر

ہم کیوں فلسطین کی حمایت کرتے ہیں؟

صہیونی ریاست اور سعودی اتحاد ‘فرعون’ سے بھی بدتر

01 اکتوبر 2018 11:51

«يُخْرِجُونَ» کا مصداق دنیا میں اس وقت فلسطین ہے کہ ۷۰ سال کے زیادہ عرصہ سے مظلوم عوام کو ان کی سرزمینوں سے باہر نکالا ہوا ہے۔ اور «يذبحون» کا مصداق وہ قتل عام ہے جو سعودی اتحاد یمن میں انجام دے رہا ہے۔ کیا یہ فرعون سے بدتر نہیں ہیں؟

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: قرآن کریم کی ایک اہم آیت جو دشمن شناسی کے حوالے سے ہماری توجہ کا مرکز قرار پانا چائیے سورہ ممتحنہ کی نویں آیت ہے:
خداوند عالم اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے: «إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ أَخْرَجُوكُم مِن دِيَارِكُمْ وَ ظَاهَرُوا عَلَي إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ وَ مَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ، وہ تمہیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے اور تمہیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمہارے نکالنے پر دشمنوں کی مدد کی ہے کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے گا وہ یقینا ظالم ہو گا۔
اس آیت میں چند بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں:
۔ ظلم، ظلم ہے چاہے بلاواسطہ ہو یا چاہے بالواسطہ اور کسی کی حمایت کے ذریعے
۔ حتیٰ اگر مظلوم واقع ہوں تو کفار کی طرف دوستی کا ہاتھ مت بڑھانا اور نیکی کی بجاآوری سے کنارہ کشی نہ کرنا۔
۔ دوسروں کی سرزمین کو غصب کرنا اور انہیں ان کے وطن سے نکال باہر کرنا جرم اور ممنوع ہے اور ان ظالموں اور ستمگروں کے ساتھ اسلامی جہاد کے عنوان سے جنگ کی جا سکتی ہے۔
دوستی اور انسانی دوستی کے نام سے کفار حربی کے ساتھ مصالحت ممنوع ہے۔(۱)
قرآن کریم نے فرعون کے بارے میں “یخرجون” کا لفظ استعمال کیا ہے جو عربی قواعد کے مطابق فعل مضارع ہے یعنی فرعون وہ ہے جو موسی کے ماننے والوں کو ان کے وطن سے نکال باہر کرتا ہے۔ در حقیقت یہ ظالم کا طریقہ کار ہے وہ ملت مظلوم کو ان کے وطن سے باہر نکالتا ہے۔ جو کچھ اس دور میں فرعون انجام دیتا تھا آج اس سے کہیں بدتر اسرائیل فلسطین میں انجام دے رہا ہے اور سعودی اتحاد یمن میں۔ یہ “يذبّحون ابنائهم و نسائهم و يقتلون رجالهم” ہیں، یعنی ان کے بچوں اور عورتوں کو ذبح کرتے ہیں ان کے مردوں کو قتل کرتے ہیں۔ فرعون کیا کرتا تھا «يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ»[۲] تمہارے بچوں کو قتل کرتا تھا اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ لیکن یہ جب بم مارتے ہیں تو بچوں، عورتوں، مردوں سب کا ایک ساتھ قتل عام کرتے ہیں۔
«يُخْرِجُونَ» کا مصداق دنیا میں اس وقت فلسطین ہے کہ ۷۰ سال کے زیادہ عرصہ سے مظلوم عوام کو ان کی سرزمینوں سے باہر نکالا ہوا ہے۔ اور «يذبحون» کا مصداق وہ قتل عام ہے جو سعودی اتحاد یمن میں انجام دے رہا ہے۔ کیا یہ فرعون سے بدتر نہیں ہیں؟
سامراجیت اور صہیونیت سے برائت اختیار کرنا چاہیے، آل سعود سے برائت اختیار کرنا چاہیے۔ اور ہر اس ظالم اور طفل کش سے جو «يَقْتُلُونَ»[۳] اور «يُذَبِّحُونَ» کا مصداق ہو اس سے برائت حاصل کرنا چاہیے۔ (۴)
اگر کوئی ان سے برائت کے بجائے دوستی اور محبت کرے تو اس سے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، چونکہ وہ «إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ» بے نیاز ہے۔ لیکن اس دوستی اور محبت کا تلخ نتیجہ خود انہیں کی طرف پلٹے گا؛ «وَ مَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» یہ ظلم خود ان کے دامن گیر بھی ہو گا جو ظٓالمین سے برائت حاصل کرنے کے بجائے ان سے دوستی کرتے ہیں۔ اور یہ خود بھی دھیرے دھیرے ظالمین کی صف میں شامل ہو جائیں گے بلکہ قرآن کریم نے تو انہیں خود ظالم کہا ہے” وَ مَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ،.»[۵] جو لوگ ان سے دوستی کریں گے وہ خود بھی ظالم ہوں گے۔
منابع:
[۱] تفسیر نور، محسن قرائتی، تهران:مركز فرهنگى درسهايى از قرآن، ۱۳۸۳ ش، چاپ يازدهم جلد ۹ – صفحه ۵۸۷
[۲] سوره بقره، آيه۴۹؛ سوره ابراهيم، آيه۶٫
[۳] سوره اعراف، آيه۱۴۱٫
[۴] تفسيرآیت الله جوادی آملی، سوره ممتحنه جلسه پنجم ۱۳/۱۲/۱۳۹۶
[۵] تفسيرآیت الله جوادی آملی، سوره ممتحنه جلسه پنجم ۱۳/۱۲/۱۳۹۶

مجید رحیمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12626

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے