صہیونی سیاحت یا دھشتگردی کا رواج؟ - خیبر

صہیونی سیاحت یا دھشتگردی کا رواج؟

18 مئی 2018 17:23

ان کیمپوں میں سیاحوں کے لیے حقیقی جنگ کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ’’دھشتگردی سے مقابلہ‘‘ کے عنوان سے نیوی فورس کی ٹریننگ کا علاقے ان کے اختیار میں دیا جاتا ہے اور وہاں انہیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ’’دھشتگردوں کو مارو‘‘ اور جو فرضی دھشتگرد ان کے سامنے بنائے جاتے ہیں وہ فلسطینی عربوں کے مشابہہ ہوتے ہیں!

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: قدس کی قابض اور غاصب ریاست ان سیاحوں کو جو مقبوضہ فلسطین میں سیاحت کے لیے جاتے ہیں فوجی ٹریننگ دیتے ہیں اور ٹریننگ کے دوران ان سے یہ کہا جاتا  ہے کہ جہاں بھی تمہیں کوئی فلسطینی نظر آئے اسے مار ڈالو۔

یہ ٹریننگیں بچوں کے لیے کنسیشن پر رکھی جاتی ہیں، صرف سیاح بچے روزانہ ۸۵ ڈالر دے کر نسل کشی کی ٹریننگ حاصل کر سکتے ہیں۔ صہیونی ریاست نے اس طرح کی ٹریننگ کے لیے ایک ویب سائٹ اور کچھ مخصوص کیمپ اس نعرے کے ساتھ’’سب سے اچھا بننے کے لیے یہاں آؤ اورسب سے اچھوں کے ساتھ تربیت حاصل کرو‘‘ تشکیل دیے ہیں۔

یہ کیمپ دن بدن غیر معمولی ایٹوٹائزمنٹ کی وجہ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

ان کیمپوں میں سیاحوں کے لیے حقیقی جنگ کا ماحول فراہم کیا جاتا ہے ’’دھشتگردی سے مقابلہ‘‘ کے عنوان سے نیوی فورس کی ٹریننگ کا علاقے ان کے اختیار میں دیا جاتا ہے اور وہاں انہیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ’’دھشتگردوں کو مارو‘‘ اور جو فرضی دھشتگرد ان کے سامنے بنائے جاتے ہیں وہ فلسطینی عربوں کے مشابہہ ہوتے ہیں!

فوجی ٹریننگ کا یہ منصوبہ جو اس رژیم کے زیر قبضہ تمام علاقوں میں اجرا کیا جاتا ہے اس کے ماتحت بڑوں سے ۱۱۵ ڈالر اور بچوں سے ۸۵ ڈالر وصول کئے جاتے ہیں۔ ان پروگراموں اور سرگرمیوں کی ایٹوٹائزمنٹ عام طور پر اسرائیلی اخبار ’’ہاآرتض‘‘ کرتا ہے۔

سیاحوں کو اصلی بندوقیں استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور انہیں شوق دلایا جاتا ہے کہ چند گولیاں ان لوگوں کی طرف بھی فائر کریں جو ان پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سیاحوں کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کا کردار ادا کریں اور بڑے آرام سے ان لوگوں کو زخمی کر دیں یا حتیٰ مار ڈالیں کہ جنہیں دھشتگرد کہا جاتا ہے۔

’’عِش عِش‘‘ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں جن کا مطلب ہے ’’گولی چلاؤ اور مارو‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو لگاتار آپ سیاحوں کی زبان سے سن سکتے ہیں ان الفاظ کو وہ اس وقت اپنے مربی کے ساتھ دھراتے ہیں جب وہ کسی ہدف کو نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں اور فائر کر رہے ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، معروف ترین (دوسرے لفظوں میں بدنام ترین) کیمپ، کالیبر ۳(caliber 3 ) ہے جو مغربی کنارے میں یہودی بستی گاش اتزیون ( (Gush Etzion میں واقع ہے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سالانہ ۱۵ سے ۲۵ ہزار سیاح اس مرکز میں ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔

یہ کیمپ ۲۰۰۱ میں اسرائیلی فوجی کرنل شیرون گیٹ کے ذریعے تاسیس کیا گیا جس کے کچھ عرصہ بعد ۶ فرضی دھشتگردی کیمپ تمام مقبوضہ علاقوں میں تعمیر کئے گئے۔

کالیبر ۳ اکیڈمی اور کیمپ کے موسس شیرون گیٹ کا کہنا ہے: ’’جو لوگ ہمارے منصوبوں پر عمل کرتے ہیں اس ملک کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتے ہیں اور وہ اسرائیلی حکومت کے نمائندے ہوتے ہیں‘‘۔

ان کیمپوں میں رجوع کرنے والے سیاح زیادہ تر امریکی یہودی ہوتے ہیں جبکہ دوسرے ممالک جیسے برازیل، ارجنٹائن، فرانس، اٹلی، روس اور چین سے بھی قابل توجہ تعداد میں درخواستیں آتی ہیں ان کیمپوں کے علاوہ اٹھارہ سال سے کم نوجوانوں کے لیے سہ ماہی ٹوڑ بھی رکھے جاتے ہیں۔ پرسنل سیکیورٹی کے لیے پیشہ ورانہ ٹریننگ، فوجی ہارڈ ویئرز کی ٹریننگ نیز شرکت کرنے والوں کے لیے ٹی شرٹ اور دیگر ضروری مصنوعات کی فراہمی ان کیمپوں کے تربیتی منصوبوں کا حصہ ہیں۔

جوش و خروش کے علاوہ ان تربیتی کیمپوں میں جس چیز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور تربیت پانے والے افراد لاشعوری طور پر اسے حاصل کر لیتے ہیں وہ ہے صہیونی مشن اور صہیونی تعلیمات۔ یہاں پر نسل کشی کو انسان کے لیے عادی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور انسان کے قتل کو اسے ایک تفریحی سرگرمی کے عنوان سے باور کرایا جاتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ کیسے ایک یہودی ملک کی حفاظت کریں اس کے لیے لڑیں اور قربانی دیں۔

بہت سارے ناظرین ان کیمپوں کو صہیونی اہداف کی ترقی کی راہ میں اسرائیل کا ایک اہم اقدام سمجھتے ہیں؛ اینٹی ٹروریسم کے بہانے سے اسرائیلی دھشتگردی کو رواج دیا جاتا ہے اور فلسطینیوں، عربوں اور مسلمانوں کو دھشتگرد قرار دے کر انہیں نشانہ بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

جو آپ نے پڑھا ہے یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جس کی صہیونی اور غیر صہیونی میڈیا نے تصدیق کی ہے۔

اس قسم کی دھشتگردی فوجی سیاحت کے عنوان سے آج کی متمدن دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہو سکتی وہ بھی ایسے دور میں کہ جہاں جانوروں کا شکار جانوروں کے حامی اداروں کے غصہ کو تو بڑھکا دیتا ہے اور مختلف تنظیمیں انسان کے علاوہ ہر موجود کے دفاع میں تو بول اٹھتی ہیں لیکن استکباری نظام کے ماتحت قائم شدہ انسانی حقوق کے ادارے ـ کہ جو قاتل، دھشتگرد اور چور کی سزا کو عنوان بنا کر اسلامی ممالک پر دھشتگردی کا دھبہ ضرور لگاتے ہیں ـ مکمل طور پر اس حوالے سے خاموش ہیں اور یہ مراکز جو سن ۲۰۰۱ میں وجود میں لائے گئے ان کی رپورٹوں کو دیکھ کر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/ت/۴۰۱/ ۱۰۰۰۳

 

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=3197

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے