صہیونی کال کوٹھریوں میں شہید ہونے والے فلسطینی - خیبر

صہیونی کال کوٹھریوں میں شہید ہونے والے فلسطینی

18 اکتوبر 2018 11:49

سنہ ۱۹۶۷ء میں فلسطینیوں نے پہلی بار تحریک اسیران کا آغاز کیا تو اس تحریک کے پہلے اسیر النویری کو صہیونی زندانوں میں اذیتیں دے کر شہید کیا گیا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور فلسطینیوں کو سسک سسک کر قید خانوں میں موت کے منہ میں اتارا جا رہا ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، النویری خاندان کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے اور ان کے فرزند کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ صہیونی زندانوں میں جام شہادت نوش کرنے والے پہلے شہید قرار پائیں۔ اب تک ۲۱۸ فلسطینی اسرائیلی عقوبت خانوں میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

جمعہ ۱۲ اکتوبر کو اسرائیلی جیل میں قید ایک فلسطینی ۲۸ سالہ و سام عبدالمجید نایف شلالدہ جیل کی سخیتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کا تعلق غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے سعیر قصبے سے تھا۔

صہیونی حکام نے شلالدہ کی شہادت کے اسباب کے بارے میں کوئی تفصیلات مہیا نہیں کیں، انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق شلالدہ کو دوران حراست غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ طویل عرصہ بیمار رہے مگر انہیں کسی قسم کی طبی سہولت مہیا نہیں کی گئی۔

کلب برائے اسیران کے مطابق شلالدہ کو سنہ ۲۰۱۵ء کو “ایلون” الرملہ نامی جیل منتقل کیا گیا تھا۔  انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے تین سال قید وہ کاٹ چکے تھے۔ وہ شادی شدہ تھے اور ان کے چار بچے ہیں جو اب یتیم ہوگئے۔

کلب برائے اسیران کے مطابق صہیونی حکام کی طرف سے اچانک شلالدہ کے اہل خانہ کو بتایا کہ ان کا بیٹا فوت ہوگیا ہے۔ وہ اس کی لاش کے لیے اسرائیل کے ابو کبیر میڈیکل انسٹیٹیوٹ سے رابطہ کریں۔

فلسطینی انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق شلالدہ کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ صہیونی زندانوں میں کسی فلسطینی کی پراسرار موت کے پیچھے صہیونی جلادوں کا غیر انسانی سلوک ہے مگر دشمن ریاست اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے قیدیوں پر تشدد کی تفصیلات سامنے نہیں لاتی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے دوران اب تک اسرائیلی زندانوں میں ۴ فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔ یاسین السرادیح نامی ایک نوجوان کو حراست میں لینے اور عقوبت خانے میں‌ ڈالنے کے بعد جیل میں‌ گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ اس کے بعد القدس کے عزیز عویسات کو ۱۹ مئی ۲۰۱۸ء کو اسرائیل کے بدنام زمانہ جلادوں کی یونٹ “نخشون” کے جلادوں نے تشدد کر کے شہید کیا۔

اسی طرح رام اللہ کے نوجوان محمد زغلول الخطیب کو ۱۹ ستمبر  ۲۰۱۸ٕء کو وحشیانہ تشدد کر کے شہید کیا گیا۔ سنہ ۱۹۶۷ء کے بعد سے اب تک ۲۱۸ فلسطینیوں کو صہیونی زندانوں میں ماورائے عدالت شہید کیا گیا ہے۔

سابق فلسطینی اسیر اور اسیران کے امور کے نگران عبدالناصر فروانہ کا کہنا ہے کہ سنہ ۱۹۶۷ٕء کے بعد اسرائیلی زندانوں میں ۲۱۸ فلسطینیوں کو مختلف قسم کے غیرانسانی ہتھکنڈے استعمال کر کے شہید کیا گیا۔ اس کی پہلی کڑی غزہ کے النویری جب کہ اب تک کی آخری کڑی شلالدہ ہیں۔

فلسطینی امور اسیران کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ۷۵ فلسطینی قیدیوں کو دانستہ طور پر قتل کیا گیا۔ ۷ فلسطینی قیدیوں کو جیلوں میں ڈالنے کے بعد قریب سے گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ ۶۲ کی شہادت علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث ہوئی جب کہ ۷۳ فلسطینیوں کو اذیتیں دے کر شہید کیا گیا۔

انہوں‌ نے کہا کہ سیکڑوں ایسی فلسطینی شہری بھی ہیں جو اسرائیلی زندانوں سے رہا تو زندگی میں ہوگئے تھے مگر ان کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ اس قدر شدید کیا گیا تھا کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ وہ سکے اور جام شہادت نوش کر گئے۔

مرکز اطلاعات فلسطین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/۱۰۰۰۳

 

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=13437

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے