طاقت کی جنگ میں الجھاؤ - خیبر

سعودی خاندان میں اقتدار کی خونی جنگ (دوسرا حصہ)

طاقت کی جنگ میں الجھاؤ

06 دسمبر 2018 16:29

عبید نے در حقیقت چینی سرمایہ کار گروپ کی موجودگی میں ایم بی ایس کی نجکاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے چینیوں سے کہا تھا کہ روایتی سعودی نظام کی حمایت کریں، وہی روایتی نظام جس نے عبداللہ بن عبدالعزیز اور سابقہ بادشاہوں کی زعامت کے تحت امن و استحکام کا تحقظ کیا تھا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عبداللہ کے خاندان کے ـ بالخصوص ایشیا میں ـ کچھ اہم رابطے تھے، وہی رابطے جو بہت تیزی سے ایم بی ایس کے ایجنڈے کے ساتھ الجھ گئے۔
عبید نے جولائی ۲۰۱۶ع‍میں شنگھائی کا دورہ کیا تا کہ اسی سال ماہ ستمبر میں ـ ہانگ ژو (Hong Zhu) میں منعقد ہونے والے گروپ ۲۰ کے اجلاس سے چند روز قبل ـ منعقد ہونے والے بین الاقوامی مالیاتی فورم کے اجلاس میں ترکی بن عبداللہ کی شرکت کی تیاری کرسکے۔ ایم بی ایس کو گروپ ۲۰ کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی چنانچہ ترکی بن عبداللہ کا منصوبہ یہ تھا کہ بین الاقوامی مالیاتی فورم میں شرکت کرکے خاندان کے اندر کی رقابتوں کو دنیا پر واضح کردے۔ عبید نے بند کے علاقے میں واقع پیننسولا شنگھائی ہوٹل (The Peninsula Shanghai Hotel) میں ایک سوئیٹ لے لیا تھا اور ساتھ والے کمرے میں میجر جنرل علی القحطانی مقیم تھا۔ اور پھر چیزیں عجیب بننا شروع ہوئیں۔ واقعات کے اس سلسلے کو کئی سعودی، سوئس اور امریکی ذرائع نے بیان کیا ہے۔
عبید ایک اہم کاروباری قسمت آزمائی میں ترکی بن عبداللہ کا ایلچی تھا۔ ترکی شاہراہ ریشم مالیاتی کارپوریشن (Silk Road Finance Corp. [SRFC]) نامی ترقیاتی فنڈ میں کم از ایک کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کارپوریشن کا سربراہ ـ متعلقہ ویب گاہ کے مطابق ـ “شان لی” ایم آئی ٹی (Massachusetts Institute of Technology [MIT]) کا فارغ التحصیل تھا۔ شاہراہ ریشم کے اس سلسلے کی چوٹی کی چینی شخصیت کا نام “چان یوان” تھا، جو بہت سینئر راہنما تھا اور اس سے پہلے ۱۹۹۸ع‍سے ۲۰۱۳ع‍تک چائنہ ڈیویلپمنٹ بینک کا سربراہ رہ چکا تھا اور اس کا باپ ـ جیسا کہ رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے ـ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے تھا۔
عبید اگست ۲۰۱۶ع‍کے آغاز میں ترکی بن عبداللہ کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں بات چیت کے لئے بیجنگ پہنچا، تو غالبا اس کو شاندار پارک ہائٹ ہوٹل (Park Hyatt hotel) میں ایک بڑے تقابل کا سامنا تھا۔ اس کو شاہراہ ریشم کے مالیاتی ادارے کے سربراہ “جان تھورنٹن” (John Thornton) نے رات کا کھانا ساتھ کھانے کی دعوت دی جہاں لی بھی ہوگا۔ تھورنٹن نے نیویارک کے ایک بینکر “مائیکل کلین” (Michael Klein) کو بھی کھانے پر بلایا تھا۔ اور کلین وہ شخص تھا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ “وہ آرامکو تیل کمپنی کے کچھ حصص فروخت کرنے کے عوض ۱۰۰ ارب ڈالر سرمایہ جمع کرنے کے سلسلے میں محمد بن سلمان کا قریبی مشیر ہے”— آرامکو کے حصص کی فروخت سے ممکنہ ۱۰۰ ارب ڈالر سرمایہ جمع کرنے کا منصوبہ، تیل کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے سعودی بجٹ کو درپیش خسارے سے نمٹنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ (گوکہ کلین نے اس کام کو مکمل نہیں کیا اور یہ مشن دوسرے بینکاروں کو سپرد کیا گيا۔) تھورنٹن اور کلین کی ترجمان کے مطابق، کلین نے عبید کے ساتھ مختصر ملاقات کی اور ہوٹل سے چلا گیا۔
ہائٹ ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کے دوران عبید نے خبردار کیا کہ مغرب میں رائج معیاروں کی بنیاد پر آرامکو کی نیلامی سعودی عرب کی قومی سلامتی پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرسکتی ہے؛ کیونکہ یہ اقتدار پر سعودی خاندان کی گرفت کو کمزور کردیتی ہے، جبکہ آرامکو کمپنی عرصہ دراز سے سعودی بادشاہی انتظام کے ستون کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ عبید نے کہا کہ اس کے بجائے، چین کو امریکی محکمہ خزانہ کے بانڈز کے کچھ حصے کو مبادلۂ اجناس (barter) کے طور پر سعودی تیل کے بدلے ادا کرنا چاہئے۔
عبید نے در حقیقت چینی سرمایہ کار گروپ کی موجودگی میں ایم بی ایس کی نجکاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے چینیوں سے کہا تھا کہ روایتی سعودی نظام کی حمایت کریں، وہی روایتی نظام جس نے عبداللہ بن عبدالعزیز اور سابقہ بادشاہوں کی زعامت کے تحت امن و استحکام کا تحقظ کیا تھا۔
ادھر کلین نے اپنے ایک ترجمان کے ذریعے بیان کیا کہ عبید کے ساتھ مختصر بات چیت کے دوران اس نے تیل کی بارٹر ڈیل یا آرامکو کی نجکاری کے سلسلے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ تھورنٹن کو بھی یاد ہے کہ عبید نے تیل کی بارٹر ڈیل کی تحویز دی تھی لیکن اس کو یہ یاد نہیں ہے کہ وہاں کون لوگ موجود تھے۔ تھورنٹن نے ایک ٹیلی فون انٹرویو کے دوران کہا: “میں نے اس حوالے سے ایک سنجیدہ خیال کے عنوان سے کوئی نئی بات نہیں کی”۔ شاہراہ ریشم کے ایک انتظامی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ ترکی اور عبید شاہراہ ریشم سے متعلقہ کارپوریشن کے سرمایہ کاروں میں شامل نہیں تھے۔
شاید ایم بی ایس کی نجکاری کے منصوبے پر عبداللہ کی شاخ کے اصلی تجارتی مشیر کی تنقید ریاض تک پہنچ چکی ہو۔ ایک ہفتہ یا کچھ زیادہ دن گذرنے کے بعد عبید کو سعودی نمبروں سے رابطوں کی گولہ باری شروع ہوئی۔ عبید انہیں نہیں جانتا تھا چنانچہ اس نے کسی بھی فون کا جواب نہیں دیا۔ آخرکار عبید کو سعودی انٹیلیجنس کے سربراہ خالد الحمیدان کا فون موصول ہوا اور اس نے عبید سے کہا: “شاہی دربار کہتا ہے کہ فورا سعودی عرب واپس آجاؤ۔ عبید نے کہا: “میں پہلے اپنے رئیس شہزادہ ترکی بن عبداللہ سے اس سلسلے میں پوچھوں گا کہ میری ذمہ داری کیا ہے”۔
ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ اس کے بعد ترکی بن عبداللہ نے خالد الحمیدان سے رابطہ کیا اور پوچھا: “کیا بادشاہ سلمان نے ذاتی طور پر حکم دیا ہے کہ عبید سعودی عرب واپس آجائے؛ اگر ایسا ہے میں ذاتی طور پر اسی وقت طارق عبید کو طیارے میں بٹھا کر واپس بھیج دیتا ہوں”، لیکن حقیقت میں الحمیدان نے صرف کہا تھا کہ یہ درخواست “دربار” کی طرف سے ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ترکی نے عبید سے کہا کہ چین ہی میں رہے۔
مورخہ ۲۱ اگست کو “لی” نے عبید کو شاہراہ ریشم کارپوریشن کے لئے ایک دفتر کا معائنہ کرنے کے لئے بیجگ بلایا۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ دفتر گویا شہر کے مرکز میں واقع ہوا ہے۔ یہ ایک شاندار اور پررونق علاقہ ہے اور دفتر اسی عمارت میں ہے جہاں ہائٹ ہوٹل واقع ہوا ہے۔ لی کہتا ہے کہ عبید اس سفر کے دوران شاہراہ ریشم کے منصوبے کے گاڈفادر “چن” سے مل سکتا تھا۔ مورخہ ۲۵ اگست کو عبید اپنے ذاتی طیارے میں بیٹھ کر شنگھائی سے بیجنگ چلا گیا۔ طیارہ اترا تو ہوائی اڈے کے ایک دور افتادہ گوشے میں ایک دوسرے طیارے کے پہلو میں پارک کرایا گیا جس کے دم پر لکھا ہوا تھا “HZ-ATR”۔ سابقہ “ایچ زیڈ” سے معلوم ہو رہا تھا کہ یہ طیارہ بھی سعودی عرب کا ہے۔ جو کچھ اس کے بعد رونما ہوا وہ باخبر سعودی اور سوئس ذرائع نے بتایا جنہیں اس حوالے سے بریف کیا گیا تھا۔
عبید طیارے سے اترا تو اس کو سفید کپڑوں میں ملبوس چینی سیکورٹی اہلکاروں نے روک لیا۔ سیکورٹی گروپ کے کمانڈر نے عربی زبان میں عبید سے کہا: “ہم ریاستی سلامتی کے وزارت خانے کے اہلکار ہیں، “کیا آپ تم ہمارے ساتھ تعاون کرو گے؟”۔ عبید ہار مان گیا۔ ان کے سر اور جسم کو تھیلے میں کچھ اس طرح سے کس دیا گیا کہ نہ کچھ دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی کسی کی مدد کے بغیر ہل جل سکتا تھا۔ اس کو بیجنگ میں ایک تفتیشی کمرے میں منتقل کیا گیا اور اسے ہتھکھڑیوں کے ذریعے ایک کرسی سے باندھ لیا گیا۔
ایک چینی سیکورٹی افسر نے عبید پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردوں کا مالی معاون ہے، اور “پاکستانی دہشت گردوں” کے ذریعے ایک سازش کا انتظام کررہا ہے اور اس کا مقصد اگلے مہینے منعقد جی ۲۰ سمّٹ میں خلل ڈالنا ہے۔ چینی افسر نے عبید سے پوچھا: “تم نے اپنے دہشت گردوں کو کہاں چھپا رکھا ہے؟ کہاں چھپایا ہے تم نے پاکستانی دہشت گردوں کو، بتاؤ”۔ عبید نے احتجاج کیا اور کہا: “آپ کس چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں؟ آپ نے مجھے کوئی اور سمجھ کر پکڑ لیا ہے”۔ عبید کی تفتیش بہت طویل اور تکلیف دہ تھی۔
عبید کی خوش قسمتی یہ رہی کہ چین کے سیکورٹی ماہرین نے اس کے آئی پیڈ اور موبائل کا معائنہ کیا اور آئی پیڈ اور موبائل سے حاصل ہونے والی معلومات کی اپنے ذرائع سے جانچ پڑتال کرائی، اور وہ بہت تیزی سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ اور یہ سعودی ذرائع تھے جنہوں نے چینی حکام کو غلط معلومات دی تھیں اور سعودی حکام نے [چین سے ایک مشہور سعودی شہری کو اغوا کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہوئے] عبید کو گرفتار کروانے اور سعودی عرب واپس بھجوانے کا انتظام کیا تھا۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق، ایک اعلی چینی سیکورٹی اہلکار نے عبید سے کہا” “دیکھئے، ایک غلطی ہوئی ہے اور کسی نے آپ کے ملک سے، آپ کا طیارہ اترنے سے پانچ منٹ پہلے، ہمیں بتایا کہ آپ دہشت گردی کی مالی معاونت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جی ۲۰ کے اجلاس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ “آپ اپنے ملک کو دو طاقتور شہزادوں کے درمیان کی اقتدار کی جنگ میں پھنس گئے ہیں”۔
چینی انٹیلیجنس افسر کافی غضبناک تھے کہ انہیں دھوکا دیا گیا تھا۔ انھوں نے فوری طور پر عبید کی شنگھائی واپسی کا انتظام کیا اور شنگھائی میں قیام کے دوران اس کو پوری سیکورٹی فراہم کردی۔
دریں اثناء، سعودی، جنہیں توقع تھی کہ وہ عبید کو بیجنگ سے اغوا کرسکیں گے، غضبناک تھے اور سمجھ رہے تھے کہ ان شکار ان کے ہاتھ سے پھسل چکا تھا۔ انھوں نے اپنے گماشتے روانہ کئے کہ بیجنگ کے ہوٹلوں کو چھان ماریں، اور عبداللہ کی شاخ کے کارگزار کا سراغ لگائیں۔ عبید جب شنگھائی میں تھا تو سودی انٹیلیجنس کے نائب سربراہ جنرل “یوسف بن علی الادریسی” نے اس سے فون پر رابطہ کیا اور کہا: جہاز میں بیٹھ کر بیجنگ چلے جاؤ اور سعودی جہاز میں ـ جو تمہاری واپسی کے لئے بھجوایا گیا ہے ـ بیٹھ کر سعودی عرب واپس آؤ۔ عبید نے ایک بار پھر ترکی بن عبداللہ سے رابطہ کیا اور ترکی نے الادریسی سے رابطہ کیا اور کہا: “اگر بادشاہ نے کہا ہے کہ عبید کو سعودی عرب واپس آنا چاہئے، تو یہ کام انجام پائے گا لیکن تم بتاؤ کہ کس کی ترجمانی کررہے ہو؟ ادریسی نے ـ اس شخص کے بارے میں، جس نے عبید کی جبری واپسی کا حکم دیا تھا، مبہم سا جواب دیا۔ عبید ایک ہفتہ مزید، چینی ریاستی سلامتی کی وزارت کی کڑی حفاظتی نگرانی کے تحت، شنگھائی میں مقیم رہا۔
عبید کے پاس سوئس پاسپورٹ تھا اور اسی بنا پر شنگھائی میں واقع سوئس قونصلیٹ کی حمایت سے بھی بہرہ ور تھا۔ شنگھائی میں مقیم سوئس قونصل جنرل “فرانسوا کیلیاس زیلویگر” (Françoise Killias Zillweger) نے ۱۱ جنوری ۲۰۱۷ع‍کو، ایک خط طارق عبید کے وکیل کو خط لکھا جس میں اس موضوع کی تصدیق ہوئی ہے۔ قونصل جنرل لکھتا ہے: “جناب طارق عبید کی حفاظت کی ذمہ داری کے موضوع کے بارے میں، میں تائید کرسکتا ہوں کہ اس قونصلیٹ نے قونصلر تحفظ سے متعلق خدمات ان کے لئے فراہم کردیں”۔
ترکی بن عبداللہ ۳۰ اگست کو چین پہنچا، اور یکم ستمبر کو بین الاقوامی مالیاتی فرم کے اجلاس سے خطاب کیا اور صدر ژی جین پنگ (Xi Jinping) کے ساتھ تصویر بنوائی جو نشر ہوئی۔ ایم بی ایس نے ۴ اور ۵ ستمبر کو جی ۲۰ کے اجلاس میں شرکت کی جو ہانگ ژو (Hong Zhu) میں منعقد ہوا جبکہ اسی وقت عبید ترکی بن عبداللہ کے ذاتی ائیربس طیارے میں سویٹزلینڈ کی طرف محو پرواز تھا۔ چینی حکام نے عبید کے بحفاظت جنیوا پہنچنے کو یقینی بنانے کے لئے اس کے سفر کی نگرانی کی تھی۔ سوئس ذریعے کے مطابق، سوئٹزرلینڈ پہنچتے ہی عبید نے ایک خصوصی کلینک میں ان چوٹوں کا علاج کرایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت,۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15967

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے