عرب حکام کی یہودی نوازی اور غزہ کی ناگفتہ بہ صورت حال (۱) - خیبر

عرب حکام کی یہودی نوازی اور غزہ کی ناگفتہ بہ صورت حال (۱)

05 مئی 2018 16:42
غزہ/خیبر/فلسطین

غزہ میں زندگی بہت دشوار ہے، یہاں رہنے والے ۲۰ لاکھ فلسطینیوں میں سے کوئی بھی یہاں کے معاشی بحران سے محفوظ نہیں ہے جو ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہے اور غزہ کے گھرانے زندگی کی ابتدائی ترین ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: اسرائیل کہلوانے والی غاصب ریاست نے ـ وہی جو آج عربوں کے لئے صدی کے سودے کررہی ہے اور عرب ریاستوں کے حکمران اس کے دامن میں بیٹھ کر قبلہ اول سے مسلمانوں کی دستبرداری کے اعلانات کرکے فخر محسوس کررہے ہیں ـ گذشتہ ۱۲ برسوں سے غزہ میں ۲۰ لاکھ انسانوں ـ جو سنی مسلمان ہیں ـ کا محاصرہ کررکھا ہے، اور یہاں کے مظلوم مسلمانوں پر گذرنے والے بارہ سالہ محاصرے کے دوران حالیہ ایام غزہ کے عوام پر گذرنے والے مشکل ترین ایام ہیں؛ اور غزہ کے عوام نے انکشاف کیا ہے آل سعود کی دلالی سے امریکہ اور فلسطینی اتھارٹی کے حکام کے درمیان “صدی کے سودے” کے اسباب فراہم کرنے کے لئے فلسطینی عوام کو ہراساں کرکے ان کے حوصلے تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
غزہ میں زندگی بہت دشوار ہے، یہاں رہنے والے ۲۰ لاکھ فلسطینیوں میں سے کوئی بھی یہاں کے معاشی بحران سے محفوظ نہیں ہے جو ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہے اور غزہ کے گھرانے زندگی کی ابتدائی ترین ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہیں۔
ابومحمد نامی شہری نے “العربی الجدید” نامی ویب سائٹ کے نمائندے سے کہا: ہم پابندیوں کے مد و جذر سے گذر رہے ہیں، کبھی کچھ دن ہماری مشقتوں اور صعوبتوں میں کمی آتی ہے اور کبھی مسائل عروج کو پہنچتے ہیں، آج ہم مقاطعے اور مصائب کے تکلیف دہ ترین ایام سے گذر رہے ہیں اور اس انداز سے جینا ممکن ہی نہیں ہے۔
ابومحمد سودا سلف نے خریدنے والوں سے بالکل خالی بازار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بازار تو ہے لیکن عوام اسے ایک محلے سے دوسرے محلے جانے کے لئے راستے کے طور پر استعمال کرتے ہیں؛ آج کل غزہ میں جینا ناقابل برداشت ہوچکا ہے اور بہت سے مرد اپنے گھرانوں کے مسائل حلے کرنے سے بے بس ہوچکے ہیں اور ان کے معاشی مسائل حل نہیں کرسکتے۔
۱۲ سال قبل جب انتخابات میں حماس کامیاب ہوئی اور اس نے غزہ میں فلسطینی حکومت قائم کی اور یہودی ریاست نے اس علاقے کی ناکہ بندی کی، اسرائیلی ذرائع نے یہاں کے عوام کے ساتھ یہودی ریاست کے طرز سلوک سے پردہ اٹھایا۔ اس زمانے میں کہا گیا کہ یہودی ریاست غزہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے یہاں “بوند ٹپکانے” کی پالیسی پر عمل کررہی ہے اور بازاروں میں پہنچائی جانے والی اشیاء ضرورت بازاروں میں عوامی ضروریات سے بہت کم ہیں، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اشیاء ضرورت ان بازاروں میں بالکل نایاب ہوں!!
چنانچہ کہنا چاہئے کہ یہودی ریاست نے غزہ کے عوام کے لئے “نہ مرنا نہ ہی جینا” کی پالیسی اپنا رکھی تھی لیکن آج صورت حال بالکل برعکس ہے؛ ہر قسم کی اشیاء ضرورت بوفور غزہ میں پہنچائی جاتی ہیں لیکن یہاں کے عوام کے پاس خریدنے کے لئے رقم نہیں ہے کیونکہ یہودی نواز خودمختار فلسطینی اتھارٹی کی اسرائیل نواز مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں یہاں کی معیشت اور تجارت بھی نابود ہوچکی ہے اور نقد اثاثے فنا ہوچکے ہیں۔
دریں اثناء بہت سی ابتدائی ضروریات کی اشیاء کا داخلہ ممنوع ہے کیونکہ یہودی ریاست کا دعوی ہے کہ ان اشیاء سے دوہرا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور مزاحمتی جماعتیں ان کے ذریعے اپنی قوت اور صلاحیت میں اضافہ کردیتی ہیں؛ جس کی وجہ سے بہت سے کارخانے بند اور کاریگر اور مزدور بےروزگار ہوچکے ہیں۔
یہاں لوگ فلسطین کی قومی آشتی سے ناامید ہیں اور اگرچہ حماس کا ایک اعلی سطحی وفد قاہرہ میں ہے لیکن زمینی حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وفد کا دورہ تا حال کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے؛ جیسا کہ فلسطین کی خودمختار اتھارٹی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی تحریک فتح کا وفد بھی قاہرہ میں ہی تھا مگر بدگمانیاں اس قدر گہری ہیں کہ ان دو وفود کے درمیان ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔
محمد دحلان محمود عباس سے علیحدہ ہوچکے ہیں لیکن حماس محمود عباس کے مقابلے میں دحلان کے ساتھ تعامل و تعاون کی مخالفت کررہی ہے لیکن اندرونی طور پر اس موقف کی حمایت نہیں ہورہی ہے اور قومی آشتی کے نفاذ کے بعد ـ جس میں بہت سی واضح پیچیدگیاں اور بےاعتمادیاں نظر آئیں ـ حماس نے بعض اختلافی مسائل پر دحلان سے سمجھوتہ کیا۔
چند دن پہلے فلسطین کی قومی مفاہمت کی حکومت کے سربراہی “رامی الحمد للہ” نے اعلان کیا کہ وہ ۲۰۰۰۰ کارکن جو حماس نے فلسطینی حکومت کے ساتھ اختلاف کے بعد بھرتی کردیئے تھے، اپنے کام پر لوٹا دیئے جائیں گے لیکن یہ اقدام ان متعدد وعدوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے جو حماس کو غزہ میں نبھانا ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وعدے وہ ہیں جن پر عملدرآمد فی الحال حماس کے لئے ممکن نہیں ہے جب تک کہ غزہ میں موجود پچاس ہزار افراد کی بند تنخواہیں نہیں دی جاتیں۔
غزہ میں سرکاری کارکنوں نے الحمد للہ کے خیالات کا خیر مقدم نہیں کیا اور انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اپنے میدانی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور بعض ایام کے بعض اوقات میں کام بند رکھیں گے اور ان اوقات میں دھرنے دیں گے اور قومی آشتی کی حکومت کی طرف سے اپنی صورت حال سے چشم پوشی کے خلاف احتجاج کریں گے۔ (جاری)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری/گ/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2170

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے