فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے لیے اسرائیل کی قانون سازی - خیبر

فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے لیے اسرائیل کی قانون سازی

08 نومبر 2018 13:58

اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمںٹ میں آئندہ ہفتے اُس قانون کے حوالے سے ابتدائی رائے شماری ہو گی جس کے تحت اسرائیلیوں کے قتل یا قتل میں شرکت کے ذمّے دار ٹھہرائے گئے گرفتار فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کی اجازت ہو گی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، قابض اسرائیلی فوج تو پہلے ہی نہتے فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کی کاروائیوں پر عمل پیرا ہے۔

تاہم منگل کی صبح لیبرمین نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ ” تین برس کی شدید مزاحمت کے بعد آخر کار آئندہ ہفتے بدھ کے روز پارلیمنٹ میں آئین اور انصاف کی کمیٹی کے سامنے سزائے موت کے قانون کا بل پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد قانون کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں ابتدائی رائے شماری کے واسطے پیش کیا جائے گا”۔ لیبر مین نے واضح کیا کہ مشن کے پایہ تکمیل تک وہ ہر گز نہیں رکیں گے۔

قانون کے بل کے لیے لازم ہے کہ وہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں تین مرتبہ غور کے لیے پیش کیا جائے جہاں سے منظوری کے بعد وہ ایک نافذ العمل قانون کی صورت اختیار کر لے گا۔

فلسطینی تنظیم برائے آزادی فلسطین PLO کے زیر انتظام قیدیوں کے امور کی کمیٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جیلوں میں گرفتار فلسطینیوں کی تعداد ۶۵۰۰ ہو چکی ہے۔ ان میں ۳۵۰ بچّے، ۶۲ خواتین، فلسطینی پارلیمنٹ کے ۶ ارکان، ۵۰۰ انتظامی گرفتار شدگان (بنا کسی الزام زیر حراست) اور ۱۸۰۰ مريض شامل ہیں۔ مریضوں میں ۷۰۰ افراد کو فوری طبّی امداد کی ضرورت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14414

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے