فلم بھولبلییوں میں دوڑنے والا (The Maze Runner) ایک حیران کن مغربی تفکر - خیبر

فلم بھولبلییوں میں دوڑنے والا (The Maze Runner) ایک حیران کن مغربی تفکر

22 اپریل 2018 16:42

اس فلم میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ کچھ ایسے افراد ہیں جو کسی مستقل ارادے کے مالک نہیں ہوتے ان کو اگر میدان میں ٹکا کر رکھا جائے تو بہادر نکلیں گے ورنہ ممکن ہے فرار ہوتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے جائیں

خیبر صیہون ریسرچ سینٹر: جب تھامس ((Thomas (Dylan O’Brien) نوجوانوں کے ایک ٹولے کے ساتھ ایک خوفناک اور ڈراؤنے علاقے میں نیند سے اٹھتا ہے تو باہر کی دنیا سے کچھ بھی اسے یاد نہیں ہوتا سوائے ایک عجیب و غریب تنظیم کے بارے میں خواب کے جس کا نام W.C.K.D ہوتا ہے اور پھر درندہ مکڑوں کے زہر سے خودکشی کے بعد اسے سب کچھ یاد آتا ہے۔
تھامس کو امید ہوتی ہے کہ وہ اس جگہ پر آنے اور پھر وہاں سے بھاگنے کا سبب معلوم کرے۔ تھامس اپنے گروہ کے ہمراہ آخر کار مجبور ہوتا ہے اس جگہ سے بھاگنے کے لیے کوئی راہ فرار تلاش کرے۔ لیکن ان لوگوں کو بھولبلییوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جس کے دونوں طرف اونچے اونچے پہاڑ ہوتے ہیں اور ان کے درمیان سے گزرنے کے دروازے کبھی کبھی کھلتے ہیں۔
اس فلم کے ڈائریکٹر ’’وس بال‘‘(Wes Ball) نے کوشش کی ہے کہ اس فلم کے ذریعے ناظرین کو یہ یقین دلائے کہ مشکلات کو برداشت کر لینا، یا مشکلات کو بھول جانا کسی مسئلہ کا راہ حل نہیں ہے بلکہ انسان کو چاہیے کہ وہ مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور مشکلات کے سامنے اپنی ہار مان کر جھک نہ جائے۔
اس فلم میں ایک اہم چیز یہ ہے کہ کچھ ایسے افراد ہیں جو کسی مستقل ارادے کے مالک نہیں ہوتے ان کو اگر میدان میں ٹکا کر رکھا جائے تو بہادر نکلیں گے ورنہ ممکن ہے فرار ہوتے ہوئے موت کی آغوش میں چلے جائیں اور قربانی کا بکرہ بن جائیں۔
یہ فلم در حقیقت مغربی زندگی کی حیراں و سرگرداں بھوبلییوں کی عکاسی کرتی ہے کہ جہاں پر ہزار طرح کے پیچ و خم رکھنے والے راستے سے گزرنے کے بعد بھی انسان ایک بڑے بھولبلییاں میں داخل ہو جاتا ہے کہ جس سے نہ صرف اس کو نجات نہیں ملتی بلکہ اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ مشکلات سے خود کو چھٹکارا دلائے ختم نہ ہونے والے مشکلات اس کے دامن گیر ہو جاتی ہیں۔
مغرب کی دنیا میں جوانوں کی زندگی اکثر و بیشتر انہیں بھولبلییوں کا شکار ہے جن سے وہ کتنا بھی بھاگ کر باہر نکلنے کی کوشش کریں نہیں نکل پاتے۔ اور آخر کار خودکشی کے ذریعے خود کو مشکلات سے نجات دلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
منبع: جاثیہ تجزیاتی ویب سائٹ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=1290

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے