قبالہ کی رکن یہودی لڑکی کے لرزہ خیز اعترافات+ویڈیو کلیپ - خیبر

قبالہ کی رکن یہودی لڑکی کے لرزہ خیز اعترافات+ویڈیو کلیپ

12 اگست 2018 16:30

پروگرام کے میزبان نے ایک نوجوان یہودی لڑکی “ویکی پیلن” عرف “ریچل” کا انٹرویو لیا۔ اس لڑکی کے اعترافات بہت دلچسپ اور غور طلب تھے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ایک بہت اہم اور دلچسپ واقعہ مئی ۱۹۸۹ میں ‘اوپرا’ کے عنوان سے براہ راست ٹیلی ویژن پروگرام میں پیش آيا جس نے ناظرین کو حیران کردیا۔ پروگرام کے میزبان نے ایک نوجوان یہودی لڑکی “ویکی پیلن” عرف “ریچل” کا انٹرویو لیا۔ اس لڑکی کے اعترافات بہت دلچسپ اور غور طلب تھے۔

میزبان: میری اگلی مہمان شیطان کی پوجا سے تعلق رکھتی ہے اور اس نے انسان کی قربانی اور آدمخواری اور قبالہ کی رسومات میں شرکت کی ہے؛ وہ کہتی ہے کہ اس کا گھرانہ بھی کئی نسلوں سے اسی سلسلے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس وقت اس کا علاج معالجہ ہورہا ہے اور ذاتی شخصیتی عدم توازن سے دوچار ہے۔ بچپن کی تمام ڈراؤنی یادوں کو کچل دینے کے مرحلے سے گذر رہی ہے؛ ریچل کو دیکھیں جس نے اپنے تحفظ کے لئے اپنا چہرہ تک بدل دیا ہے۔

سوال: کیا تم ان لوگوں کی نسل سے ہو جن کے ہاں بہت بھونڈی رسمیں رائج ہیں۔

جواب: جی ہاں! میرے خاندان کا ایک لمبا چوڑا شجرہ نامہ ہے۔ ہمارے ہاں ان لوگوں کے اعداد و شمار کو بھی محفوظ کیا جاتا ہے جو اس قسم کی رسمیں بجا لاتے ہيں اور ان لوگوں کے اعداد و شمار کو بھی، جو ان رسموں کو بجا نہیں لاتے اور ان کا یہ کام سنہ ۱۷۰۰ع‍ تک پلٹتا ہے۔

سوال: کیا تمہیں بھی ان رسومات میں شریک کیا جاتا تھا؟

جواب: جی ہاں! میں نے ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جو اس عمل پر یقین رکھتا تھا۔

سوال: کیا باقی لوگ تصور کرتے تھے کہ تمہارا خاندان ایک اچھا یہودی خاندان ہے؟ کیا باہر سے تم ایک اچھی یہودی لڑکی دکھائی دیتی رہی ہو؟ کیا تم لوگ گھر میں شیطان کی پوجا کرتے تھے؟

جواب: بہت سے یہودی خاندان پورے امریکہ میں ایسے ہیں، صرف میرا خاندان ہی نہیں ہے۔

سوال: واقعی؟

جواب: جی ہاں۔

سوال: کون اس سلسلے میں معلومات رکھتا ہے یعنی بہت سے لوگ؟

جواب: بہرصورت مین نے شکاگو پولیس کے تفتیشی افسر سے بات کی۔ میرے بہت سے دوست بھی جانتے ہیں اور میں نے اس سلسلے میں عام لوگوں سے بھی خطاب کیا ہے۔

سوال: گھرانوں کی رسومات میں کیا کچھ ہوتا ہے؟

جواب: وہ رسمیں جن میں بچوں کو قربان کیا جاتا ہے اور آپ مجبور ہیں کہ قربانی کی اس رسم کو دیکھ لیں۔

سوال: کن کے بچے؟

جواب: ہمارے خاندان میں ایسے لوگ تھے جو بچے پیدا کرتے تھے، کوئی بھی ان بچوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا؛ خواتین بہت موٹی ہوجاتی تھیں اور معلوم نہیں ہوتا تھا کہ حاملہ ہیں۔ یا وہ کچھ عرصہ غائب ہوجاتی تھیں اور پھر پلٹ کر آتی تھیں۔ دوسرا نکتہ جو میں بتانا چاہتی ہوں یہ ہے کہ سارے یہودی بچوں کو قربان نہيں کرتے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ رسم بہت رائج نہیں ہے۔

سوال: میں نے پہلی بار سنا ہے کہ یہودی بچوں کو قربان کرتے ہیں، لیکن تم بہرحال بچوں کی قربانی کی گواہ رہی ہو۔

جواب: درست ہے۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو انھوں نے مجھے مجبور کیا کہ اس رسم میں شرکت کروں اور ایک شیرخوار بچے کو قربان کروں!

سوال: اس قربانی کا مقصد کیا تھا؟ تم کس لئے قربانی دیتے تھے؟

جواب: طاقت کے لئے۔

سوال: طاقت! کیا انھوں نے تم سے بھی کام لیا؟ یعنی تم سے بھی اس رسم میں استفادہ کیا؟

جواب: مجھے کئی مرتبہ ازار و اذیت اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

سوال: تمہاری ماں کیا کررہی تھی؟ اس ماجرا میں اس کا کیا کردار تھا؟

جواب: ابھی تک میں نے اپنی تمام یادیں بیان نہیں کی ہیں لیکن میری ماں کا خاندان ان رسومات میں مکمل طور پر ملوث تھا۔ میری ماں نے مجھے ان اعمال اور رسومات کی طرف کھینچ لیا؛ میرے ماں باپ دونوں نے مجھے اس کام میں ملوث کیا۔

سوال: تمہاری ماں اس وقت کہاں ہے؟

جواب: وہ شکاگو میں رہائش پذیر ہے اور شہر کے انسانی تعلقات کمیشن کی رکن اور قابل احترام شخصیت ہے۔

ریچل نے اوپرا کے پروگرام میں کہا: میں نے بچوں کو قتل کرتے اور کھاتے ہوئے دیکھا، صرف “طاقت” کے حصول کے لئے جو کھانے والے حاصل کرتے تھے۔ ان بچوں کو گھرانے کے اندر اور اسی مقصد کے لئے پیدا کیا جاتا تھا۔ ریچل نے کہا: مجھے کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اپنے باپ کی جنسی زیادتی کی وجہ سے مجھے پانچ بار اسقاط حمل کروانا پڑا ہے۔

ریچل کا معالج ڈاکٹر بھی اوپرا نامی اس پروگرام میں موجود تھا لیکن یوٹیوب میں نشر ہونے والے اس کلپ سے اس کی باتیں حذف کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اب تک وہ اس قسم کے فرقوں کا شکار ہونے والے چالیس مریضوں کا علاج کرچکا ہے جن کا تعلق ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کی مختلف ریاستوں سے ہے اور وہ ایک دوسرے کو نہیں جانتے لیکن ان سب کے تجربات بالکل ایک ہی طرح کے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=9967

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے