قدس شریف میں صہیونی پرچموں کا رقص، عرب حکام کی خیانت اور فلسطینیوں کی آہ و بکا +تصاویر - خیبر

قدس شریف میں صہیونی پرچموں کا رقص، عرب حکام کی خیانت اور فلسطینیوں کی آہ و بکا +تصاویر

14 مئی 2018 15:21

آج بھی یہ دن فلسطینی تاریخ کا دوسرا اہم دن ہے کہ ایک مرتبہ پھر عالمی صہیونیت کے زیر سایہ امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو مقدس سرزمین قدس منتقل کر دیا اور ایک مرتبہ پھر درجنوں فلسطینوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر کے قدس میں صہیونی پرچموں کا رقص برپا کیا گیا…

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ۱۴ مئی تاریخ فلسطین کا ایک اہم دن ہے۔ اس دن ۱۹۴۸ میں ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کا ناسور قائم کیا گیا تھا۔ اسی دن سے فلسطینی قوم پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اور عالمی صہیونیت نے فلسطین کو ان کے گھروں اور زمینوں سے باہر کر دیا تھا۔
آج بھی یہ دن فلسطینی تاریخ کا دوسرا اہم دن ہے کہ ایک مرتبہ پھر عالمی صہیونیت کے زیر سایہ امریکہ نے اپنے سفارتخانے کو مقدس سرزمین قدس منتقل کر دیا اور ایک مرتبہ پھر درجنوں فلسطینوں کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کر کے قدس میں صہیونی پرچموں کا رقص برپا کیا گیا مظلوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیل کر جشن منایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی اور داماد نے سیاسی وفد کے ہمراہ اس ناکام جشن میں شرکت کی۔

اگر چہ امریکی سفارتخانہ کی افتتاحی تقریب انعقاد سے پہلے ہی ناکام ہو چکی تھی ۸۶ ممالک کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی ۳۳ نے شرکت کی ۵۳ نے انکار کر دیا امریکہ اور اسرائیل کی شکست کا ایک ثبوت یہی ہے۔

جن ممالک نے امریکی سفارتخانے کی قدس منتقلی کی تقریب میں شرکت کی

 

عرب ممالک کی خیانت
عرب ممالک کا مسئلہ فلسطین کے ساتھ براہ راست اور گہرا تعلق ہے مگر افسوس کا امر یہ ہے کہ عرب حکومتوں کی طرف سے امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی روکنے کے لیے جس طرح کے ٹھوس اور جاندار موقف اپنانے کی ضرورت تھی وہ انہیں اپنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکا اور صہیونیوں کو اپنے اس مذموم پلان کو آگے بڑھانے کا حوصلہ ملا۔
مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا اور اس کے بعد تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کے تمام اقدامات میں بعض عرب ممالک نے امریکا اور اسرائیل کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ تاریخی خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔
حالیہ ایام میں عرب ممالک کی طرف سے امریکی اور اسرائیلی اقدامات پر جس طرح کی خاموشی برتی گئی اس نے ان عرب حکومتوں کی بدنیتی واضح کردی ہے۔ تاہم فلسطین کی سطح پر آنے والے دنوں میں سخت بھونچال کا امکان ہے۔ امریکی سفارت خانے کی منتقلی فلسطین میں تشدد کی ایک نئی لہر کو جنم دے سکتی ہے۔ فلسطینیوں کی شہادتوں اور کریک ڈاؤن میں ان کی گرفتاریوں میں اضافے کا امکان ہے۔

صهیونیسم/یهود/استراتژی/خیبر/عربستان/نفوذ
بعض ممالک کی طرف سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تحفظات کے اظہار نے بھی امریکیوں کو اس فیصلے پر نظرثانی پر مجبور نہیں کیا۔ اردن کی طرف سے بار بار شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر امریکا ایسا کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے نتیجے میں مزید خون خرابہ ہوسکتا ہے۔
مصر اور خلیجی ملکوں کا موقف تقریبا ایک ہی ہے۔ یہ ممالک بہ ظاہر حالات کو پرسکون رکھنے کی کوشش کرتےہیں مگر انہوں نے امریکا کے اس پلان کو روکنے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال نہیں کیا۔ ان کی طرف سے فلسطین میں کشیدگی کے بڑھنے کے امکانات کے سوا اور کوئی خاص بات نہیں کی گئی۔ بعض ذرائع تو یہ بتاتے ہیں کہ موثر خلیجی ممالک در پردہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہیں۔

مظلوم فلسطینیوں کے خونی مظاہرے
یوم نکبت کے موقع پر غزہ اور غرب اردن میں فلسطینیوں نے بھرپور مظاہرے کئے ہیں مظاہرین پر اسرائیلی فوجیوں کی براہ راست فائرنگ اور زہریلی گیس کے استعمال سے تاحال ۲ فلسطینی شہید اور ۱۴۷ زخمی ہو چکے ہیں۔
خبروں کے مطابق، شمالی غزہ کے علاقے البریج ٹاؤن میں مظاہرہ کرنے والے فلسطینی نوجوانوں نے آتشگیر مادہ پھینکنے والے اسرائیلی ڈرون کو بھی مار گرایا ہے۔
البریج کیمپ اور بیت لحم میں بھی فلسطینیوں اور صیہونی فوجیوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں جن میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/ت/۴۰۱/ ۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2858

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے