قدس کی سرزمین خون سے رنگین/ لاشوں پر قائم امریکی سفارتخانہ!+ تصاویر - خیبر

قدس کی سرزمین خون سے رنگین/ لاشوں پر قائم امریکی سفارتخانہ!+ تصاویر

16 مئی 2018 17:50

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظلوم فلسطینی شہداء کی لاشوں پر اپنا سفارت خانہ قائم کیا ہے، جلد یا بہ دیر صہیونیوں اور امریکیوں کو القدس سے اپنا بوریا بستر گول کرنا ہو گا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکی حکومت نے عالم اسلام کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کیا ہے۔ امریکی حکومت نے سفارت خانہ منتقلی کے ڈرامہ کے لیے ۱۴ مئی کا دن منتخب کیا۔ یہ دن فلسطینی قوم کی یادوں میں ہمیشہ منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وہ روز سیاہ ہے جب ۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو ارض فلسطین میں صہیونی ریاست کا ناسور گاڑھا گیا۔ اس نام نہاد اسرائیلی ریاست کی آڑ میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو ان کے گھر بار اور صدیوں سے ملکیتی اراضی سے محروم کر دیا گیا۔ آج ان فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر ۶۰ لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

القدس میں امریکی سفارت خانہ فلسطینی قوم کی امنگوں کا خون کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی، فلسطینی قوم کے حق خود ارادیت پر ڈاکہ اور فلسطینی قوم کی لاشوں پر قائم کیا گیا۔

اگرچہ عالمی سطح پر امریکی حکومت کے اس متنازع اور ناقابل قبول اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ خود امریکا کے بہت سے اتحادیوں اور مخالفین نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگیوں اور تناؤ میں اضافہ ہو گا۔

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو سوچا سمجھا قتل عام قرار دیا۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا تاریخ کی بہت بڑی غلطی اور امریکا کی حماقت قرار دیا۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسامے کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے کسی حتمی فیصلے تک پہنچنے سے پہلے ہم امریکا کی جانب سے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں۔ فرانس کے صدر ایمانوئل مکرون نے غزہ میں پیر کے روز ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے اور کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے نتائج کے متعلق کئی بار خبردار کر چکے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ماسکو کا اعتراض ایک بار پھر دوہراتے ہوئے کہا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ اس طریقے سے یک طرفہ طور پر بین الاقوامی کمیونٹی کے فیصلے کو بدلنا غیر مناسب اقدام ہے۔

لیکن ان سب مخالفتوں کے باوجود القدس میں امریکی سفارت خانہ ایسی حالت میں قائم کیا گیا کہ شہر مقدس سے چند سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر ایک ملین سے زاید فلسطینی جمع تھے جو اپنے حق واپسی کے لیے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ ان پرامن فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زاید شہری شہید اور تین ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔

گذشتہ برس جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں ۱۹۳ ملکوں میں سے۱۲۸ نے القدس کو امریکہ کا دارالحکومت قرار دینے کی مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والوں میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے امریکہ کے حلیف ممالک بھی شامل ہیں۔ تاہم عالمی دباؤ اور مخالفت کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی قوانین کو دیوار پر مارا اور ۱۴ مئی کو امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کر کے تاریخ کا ایک نیا سیاہ باب رقم کیا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کے مغربی حصے پر اسرائیل نے سنہ ۱۹۴۸ء کی جنگ کے بعد غاصبانہ تسلط جمایا جب کہ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا گیا۔ سنہ ۱۹۸۰ء میں اسرائیل نے متحدہ القدس کو صہیونی ریاست کا ابدی دارالحکومت قرار دیا تاہم آج تک امریکا سمیت عالمی برادری اسرائیل کے اس دعوے کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ فلسطینی قوم نے القدس کی آزادی کے لیے ہرسطح پر مزاحمت کی۔ القدس فلسطین میں اٹھنے والی انقلابی تحریکوں اور انتفاضہ کا عنوان بنتا رہا۔

گذشتہ برس ۶ دسمبر کو جب امریکی صہیونیت نواز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے القدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پرتسلیم کیا تو فلسطینی قوم نے ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع کی۔ اب تک اس تحریک کے دوران ۱۴۰ فلسطینی شہری شہید کیے جا چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی اور گرفتار کیے گئے۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ القدس شہر کو دو بار صفحہ ہستی سےمٹایا گیا۔ ۲۳ بار اس کا محاصرہ کیا گیا،۵۲ بار جنگوں کا میدان بنا، ۴۴ بار اس پر قبضہ کیا اور آزاد کرایا گیا، ہر بار اس پر قبضہ کرنے والوں کو منہ کی کھانا پڑی اور آخری فتح اس کے اصل باشندوں یعنی فلسطینی قوم کو ملی۔ آج بھی فلسطینی قوم پورے عزم اور جرات کے ساتھ القدس کی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظلوم فلسطینی شہداء کی لاشوں پر اپنا سفارت خانہ قائم کیا ہے، جلد یا بہ دیر صہیونیوں اور امریکیوں کو القدس سے اپنا بوریا بستر گول کرنا ہو گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد/ت/ب/۳۰۴/ ۱۰۰۰۳
  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=3073

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے