مار خور جانور اور نام خور حکومت کی مماثلت اور موجودہ ہندوستان - خیبر

مار خور جانور اور نام خور حکومت کی مماثلت اور موجودہ ہندوستان

21 نومبر 2018 09:00

یہ مسلسل ناموں کی تبدیلی بتا رہی ہے کہ مارخور حکومت کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے جو ہندوستانی عوام کی فکری تعمیر کر سکے، علمی اور اقتصادی طور میں ہمیں آگے بڑھا سکے خاص کر اتر پردیش کے غریب عوام کو کچھ دے سکے.

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کہتے ہیں ایک جانور ایسا ہے جو سانپوں کو کھاتا ہے لیکن یہ بس مشہور ہی ہے کس قدر حقیقت ہے پتہ نہیں ؟ اسکے بارے میں آپ اگر گوگل کریں تو آپکو یہ اطلاع مل سکتی ہے کہ” یہ ایک قسم کا ایک ایسا جنگلی بکرا ہے جس کے سینگوں کا طول چار فٹ ہوتا ہے اور یہ گلگت اور کوہِ سلیمان میں پایا جاتا ہے، سانپ کھانا اسے مرغوب ہوتا ہے۔ ویسے یہ ایک چرندہ ہے اور سانپ نہیں کھا سکتا۔ اس کی وجہ تسمیہ شاید اس کے بَل دار سینگوں کی سانپ سے مشابہت کی بنا پر ہو التبہ مقامی لوک کہانیوں کے مطابق مارخور سانپ کو مار کر اس کو چبا جاتا ہے اور اس جگالی کے نتیجے میں اس کے منہ سے جھاگ نکلتا ہے جو نیچے گر کر خشک اور سخت ہو جاتاہے۔ لوگ یہ خشک جھاگ ڈھونڈتے ہیں اور اس کو سانپ کے کاٹنے کے علاج میں استعمال کرتے ہیں۔مارخور کے جسم کی بُو عام گھریلو بکرے کے مقابلے میں بہت تیز ہوتی ہے۔یہ پہاڑی جانور ۶۰۰ سے ۳۶۰۰ میٹر تک کی بلندی پر پایا جا سکتا ہے۔ اس جانور کی الگ الگ قسمیں ہیں : ستور مارخور،بخارائی مارخور کابلی مارخور،و۔۔۔۔
عجیب بات یہ ہے کہ آپ کو گوگل کا سرچ انجن یہ تو بتا دے گا کہ مارخور کیسا جانور ہے اسکی خصوصیات کیا ہیں اور زیادہ تحقیق کریں تو شاید یہ بھی پتہ چل جائے کہ یہ عام بکروں کے اجداد کی صف سے متعلق ہے اور اگر آپ کتب خانوں اور لائبریوں کی طرف جائیں تو ممکن ہے اس بارے میں بھی چارلس ڈارون[۱] کی تحقیق بھی مل جائے کہ اور یہ بھی پتہ چل جائے کہ یہ بکرا پہاڑی بکروں کی آپسی افزائش نسل کا نتیجہ ہے لیکن پوری گارٹنی سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سرے سے آپ کو” نام خور حکومت “کے بارے میں کچھ نہیں ملنے والا ہے ، یقین نہ آئے تو تلاش کر کے دیکھ لیں جبکہ یہ مار خور بکرا اس وقت کہاں ہے اساطیری داستانوں میں کتنی حقیقت ہے کیا اس نے واقعی کبھی سانپوں کو کھایا ہے اسکی موجودہ سکونت کہاں ہے؟ یہ کس ملک کا قومی جانور ہے پڑوسی ملک میں اسے کس نظر سے دیکھا جاتا ہے یہ سب آپ کو ذرا سی جستجو میں مل جائے گا لیکن نام خور حکومت کے بارے میں جب آپ تلاش کریں گے تو کچھ نہیں ملنے والا ہے کہ اب تک حکومت نے کتنے ناموں کو کھایا ہے اور ڈکار بھی نہیں لی اور کتنے ناموں کو کھانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے ، ممکن ہے کسی کتاب یا کسی سائٹ پر نام خور حکومت کے بارے میں نام خوری کے تحت کچھ نہ ملے لیکن حرام خوری کے تحت بہت کچھ مواد مل جائے گا جس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مار خور کی کہانی میں اگر کچھ بھی سچائی ہے تو چلو کم از کم یہ موذِ ی جانور کو کھا جاتا تھا اچھا ہی تھا لیکن یہ کونسی حکومت ہے جو ایک طرف حرام خوری کے ذریعہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کھا رہی ہے تو دوسری طرف ان ناموں تک کو نہیں چھوڑ رہی جو ہماری عظیم ثقافت کے ساتھ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہیں۔
حال ہی میں جب حکومت کی جانب سے الہ باد کے نام کی تبدیلی کی بات ہوئی تو کسی جگہ پڑھا تھا اور یقینا جس نے بھی سچ لکھا ہے ” کہا جاتا ہے انتقام کا جذبہ اورتعصب انسان کی عقل کو مسخ کردیتے ہیں ۔ کیا نام بدل دینے سے گنگا کی گندگی ختم ہوجائیگی؟ کیا اس کی تاریخ اور شکل وصورت بدل جائے گی؟ ایک شہر کا نام بدلنے پر کثیررقم خرچ ہوتی ۔ جس سے بہت سے ترقیاتی کام ہوسکتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ نام بدلنے سے کیا الہ آبادی امردو بازار میں پریاگ راجی امرود کہلانے لگیں گے؟ اس شہر سے نہروفیملی کا ہی نہیں آرایس ایس پرمکھ پروفیسرراجندرسنگھ عرف رجو جی، پروفیسرمرلی منوہرجوشی اوراشوک سنگھل کا تعلق بھی ہے۔ اسی شہر سے ملک کے دو وزیراعظم لال بہادر شاستری اوروی پی سنگھ چن کرآئے۔ اسی شہر سے رام منوہر لوہیا نے اپنی تحریک چلائی ۔ملک کی سیاست، صنعت وتجارت، شعبہ تعلیم وثقافت غرض زندگی کے ہر شعبہ کو الہ آباد یونیوسٹی نے ہزاروں لعل دئے ہیں۔ ہائی کورٹ کی بدولت سینکڑوں قانون داں یہاں آئے اوربس گئے ، جن میں کشمیری بھی ہیں، بنگالی بھی،یوپی کے مختلف شہروں کے باشندے اوردیگربھی ہیں۔ ان میں ہندو بھی ہیں، مسلمان، سکھ اورعیسائی بھی۔ الہ آباد ایک چھوٹا سا ہندوستان ہے۔ کثیر مذہبی ، کثیرثقافتی اورکثیر تہذیبی ۔ اورہاں اسی شہر میں الہ آباد ہائی کورٹ کی سیشن جج اکبرحسین رضوی بھی ہوئے ہیں، جن کو ہم اکبر الہ آبادی کے نام سے جانتے ہیں، کیا خوب نصیحت کرگئے ہیں:

اگر مذہب خلل انداز ہے ملکی مقاصد میں

تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں”[۲]

یہ مسلسل ناموں کی تبدیلی بتا رہی ہے کہ مارخور حکومت کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے جو ہندوستانی عوام کی فکری تعمیر کر سکے، علمی اور اقتصادی طور میں ہمیں آگے بڑھا سکے خاص کر اتر پردیش کے غریب عوام کو کچھ دے سکے. یوں تو بڑی بڑی باتیں کی گئیں کہ ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے لیکن عملی طور پر نہ یہ ہوا نہ ہی وہ کہیں نظر آیا سب طرف سناٹا ہی سناٹا ہے اور اس سناٹے میں بڑی خاموشی کے ساتھ مارخور حکومت اسلامی ناموں کی تختیوں کو نگل رہی ہے۔

جبکہ ایک زمانے میں بڑے زور و شور سے کہاگیا تھا کہ ہم شہروں کو نیا فریم دیں گے ۱۰۰ کے قریب شہروں کو اسمارٹ سٹی بنایا جائے گا اور بظاہر حکومت ہی کی جانب سے ان شہروں میں سے ۲۰ کا انتخاب بھی عمل میں آیا تھا جنہیں اسمارٹ سٹی کے طور پر پیش کیا جانا تھا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہو سکا ہاں اتنا ضرور ہوا کہ مغل سرائے جنکشن کا نام تبدیل کرکے دین دیال اپادھیائے جنکشن رکھ دیا گیا ۔ اب الہ آباد کا نام پریاگ راج ہو گیا اور شہروں اور ریلوے جنکشن ہی کی بات نہیں اب تو چوراہوں تک کے نام تبدیل ہونے لگے اور لکھنو کا معروف علاقہ حضرت گنج ، اب” اٹل چوک” کی تختی لگائے دکھے گا ایک غیر مسلم مضمون نگار نے’ریاستی تخریب کاری کے عنوان کے تحت اس طرح ناموں کی تبدیلی پر اپنی برہمی کا اظہار کچھ یوں کیا کہ : ’الہ آباد کا نام تبدیل کرنا تاریخ اور قوم کی یاداشت کو مٹانے جیسا ہے۔ اس سے ایسی سیاست کی بوآتی ہے جو’ سب کا ساتھ‘ کے بجائے بس ایک گروہ کیلئے مخصوص ہے۔ الہ آباد کے باشندوں نے کبھی شہرکا نام بدلنے کا مطالبہ نہیں کیا اس لئے اس فیصلے سے من مانی اور(فرقہ پرستانہ )سیاست کی بوآرہی ہے۔ ‘ مضمون نگار نے مزید لکھا : ’الہ آباد ایک زمانے سے علمی، ثقافتی، صنعتی، حرفتی اورتجارتی اعتبار سے کثیرجہتی وکثیر ملی شہر رہا ہے۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس کی قدیم عظمت میںگراوٹ آئی ہے۔ نام کے تبدیل کردینے سے نہ تو یہ انحطاط رک جائے گا، نہ شہریوں کی کوئی توقع پوری ہوگی نہ انکا کوئی مسئلہ حل ہوگا۔‘‘

محض منصف مزاج غیر مسلم قلمکار و دانشور طبقہ ہی ان ناموں کی تبدیلی سے نا خوش نہیں بلکہ ظاہری طور پر مسلمان اور نظریاتی طور پر سیکولر حلقوں کی جانب سے بھی مسلسل ناموں کی تبدیلی کی سیاست کے خلاف آواز آٹھائی جا رہی ہے چنانچہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی اس بات پر اپنی ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ : ہندوستان کے تاریخی اور شہرہ آفاق شہریوں ،مقامات اور تنصیبات کا نام بھی فرقہ پرستی اور مذہبی بنیادوں پر تبدیل کیا جارہا ہے ، جو دنیا بھر میں ملک کیلئے ہزیمت کا سامان بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ مرکز کے سنگھاسن پر براجمان حکمران اس سب کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ ریاستی حکومتیں خصوصاً اترپردیش حکومت فرقہ پرستی کی تمام حدیں پار کررہی ہے اور نئی دلی اس سب پر قابو پانے میں سرے سے ہی ناکام ہوگئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ناموں کی تبدیلی سے تاریخ مسخ نہیں کی جاسکتی۔ ملک کی تقسیم کے وقت ہندوستانی مسلمانوں نے ہندوستان کو اپنا وطن اختیار کیا۔ مسلمان صرف ہندوستان کا حصہ نہیں رہے بلکہ آزادی کے حصول کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں اور آزادی کے بعد تعمیر وطن میں گراں قدر حصہ ادا کیا، پھر بھی سنگھ پریوار کو مسلمانوں اور ان کی تاریخی علامات سے نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آزادی اور تعمیر میں مسلمانوں کے رول کو کسی بھی صورتحال میں تاریخ سے مسخ نہیں کیا جاسکتا۔ اگر مسلمانوں کی نشانیوں کو ہندوستان میں مٹادیا جائے تو پھر جنگل ، پہاڑوں اور ریگستان کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔[۳]

ان سب مخالفتوں کے باوجود مسلسل اپنے ایجنڈے پر چلتے رہنا اور ہر کچھ دن کے بعد ایک نام کا تبدیل ہوکر بھگوائی رنگ میں رنگ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نام خور حکومت مار خور بکرے سے زیادہ خطرناک ہے، اسکا پیٹ بھی بڑا ہے اور اسکی بھوک بھی جلدی مٹتی نظر نہیں آ رہی ہے ،یہ تو اس رفتار سے ناموں کو بدل رہی ہے کہ مار خور جانور بھی حیران ہو کر اسکی طرف دیکھ رہا ہوگا کہ میرے تو افسانے گڑھے جائیں گے لیکن اس حکومت کی حقیقی تاریخ ہی نام خور حکومت سے عبارت ہوگی اور دنیا میں میرے افسانے کے ساتھ ایک اور کڑوی سچائی کا اضافہ ہو جائے گا جہاں کہا جائے گا ایک ایسی نام خور حکومت بھی ہندوستان میں بنی جو ہندوستان کی تمام تر تہذیبی علامتوں کو بغیر ڈکارے نگل گئی ۔

حواشی

[۱] ۔ چارلس ڈارون (۱۸۰۹–۱۸۸۲) ایک انگریز ماہر حیاتیات تھے انہوں نے نظریہ “ارتقا “پیش کیا جسکی بنا پر دنیا کی سوچ میں ایک بڑی تبدیلی آئی

[۲] ۔ http://www.jadidkhabar.com/article/200/%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%92-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D8%AA%D8%A8%D8%AF%DB%8C%D9%84-%DA%A9%D8%B1%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA

[۳] ۔ http://www.dailyaftab.com/aftabnew/Details/52130/p%D8%B4%DB%81%D8%B1%D9%88%DA%BA-

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ایس سندر وویک کمار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15272

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے