مدینہ سے قدس تک؛ یہودی فوجی تیاری - خیبر

مدینہ سے قدس تک؛ یہودی فوجی تیاری

07 نومبر 2018 12:22

یہودیوں نے مدینہ سے قدس کی دیواروں تک رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں؛ کیونکہ اگر پیغمبر(ص) قدس کو فتح کرتے، تو یہودی تنظیم، اپنی عظیم آرزو ـ یعنی عالمی حکومت کے قیام ـ سے مایوس ہوجاتی اور اس عظیم فتنے کی آگ ـ جو حال حاضر تک عالم اسلام کو جلا کر راکھ کررہی ہے ـ ہمیشہ کے لئے بجھ جاتی۔ قدس ان کا اصلی مرکز تھا اور ان کی مقدس کتاب میں اس کی خاص اہمیت تھی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پیغمبر اسلام(ص) کی ولادت کا راستہ روکنے کے لئے یہود کے دہشت گردانہ اقدامات کے بعد، اہم ترین مسئلہ رسول اللہ(ص) کی قدس تک رسائی کا سدّباب کرنے کے لئے فوجی اقدامات اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا انتظام تھا۔ یہودیوں کے ساتھ پیغمبر(ص) کی جنگوں اور ان جنگوں کے اوقات اور مقامات پر نظر ڈالی جائے تو ان کے عجیب اور شاطرانہ منصوبوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پہلے قدم میں تاریخ مدینہ کے پس منظر کا جائزہ لینا پڑے گا جو کہ حکومت نبوی کا دارالحکومت ہے۔ تاریخ میں منقول ہے کہ سب سے پہلے یہودی یثرب میں آئے اور اس شہر کی بنیاد رکھی۔ وہ پیغمبر(ص) کی ہجرت سے قبل اجتماعی طور پر یہاں سکونت پذیر ہوئے۔

یہود کا تاریخی جھوٹ

یہودیوں نے سنا تھا کہ نبی آخرالزمان یثرب جائیں گے اور اس بارے میں ان کے پاس مکمل معلومات تھیں۔[۱] ان کا دعوی تھے کہ کہ نبی آخرالزمان(ص) کو تلاش کرکے آپ پر ایمان لانے کے لئے مدینہ آئے ہیں، لیکن اگر ان کا دعوی سچا تھا تو عیسیٰ(ع) پر ایمان کیوں نہیں لائے جنہوں نے بہت سے معجزات بھی دکھائے؟ اور حضرت عیسیٰ(ع) کے ظہور کی خبر صراحت کے ساتھ یہود کی مقدس کتب میں موجود تھی؛ یہاں تک کہ اب تک بھی وہ حقیقی مسیح یا مسیح جدید کی تلاش میں تھے۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ کم از کم یہودیوں کی ایک جماعت اس دعوے میں ـ کہ ہم ایمان لانے کے لئے یہاں آئے ہیں ـ جھوٹی تھی۔ قرآن کریم نے بھی یہودیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے: امین یہودی اور جھوٹے یہودی:

“وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لاَّ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلاَّ مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَآئِماً ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ؛[۲]

اور اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر اس کے پاس ڈھیر بھر بھی روپیہ تم امانت رکھواؤ تو وہ اسے تمہیں ادا کر دے گا اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے کہ ایک سکہ بھی دینار کا امانت رکھو تو وہ اسے بھی ادا نہ کرے گا مگر جب تک کہ تم اس کے سر پر کھڑے نہ رہو یہ (بدمعالگی) اس لئے ہے کہ ان کا یہ قول ہے کہ ہم پر غیر اہل کتاب کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ہے اور وہ جان بوجھ کر اللہ پر جھوٹ منڈھتے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہودی ـ جو جانتے تھے کہ نبی آخرالزمان (ص) مکہ میں مبعوث ہونگے ـ مکہ کیوں نہیں گئے؟ وہ ایسے علاقے میں کیوں سکونت پذیر ہوئے جہاں کسی کی سکونت نہ تھی؟

یہودی جانتے تھے کہ پیغمبر اسلام(ص) عیر اور احد کی پہاڑیوں کے درمیانی علاقے میں سکونت پذیر ہونگے لہذا وہ اسی علاقے میں رہائش پذیر ہوئے۔[۳] یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہودی سرزمین حجاز میں کیوں پھیل گئے حالانکہ ان پہاڑوں کے درمیان ایک محدود علاقہ واقع ہؤا ہے؟

وہ دعوی ٰکرتے تھے کہ اس علاقے کے مصداق کی تلاش میں خطا سے دوچار ہوگئے ہیں اور ان میں کچھ خیبر میں، کچھ تبوک میں اور کچھ دوسرے علاقوں میں آ بسے ہیں، لیکن یہ دعوی کھلے جھوٹ کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ ان علاقوں کا نقشہ دیکھا جائے تو ہم بآسانی سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی سکونت کے یہ علاقے مدینہ اور قدس کے راستوں میں واقع ہوئے ہیں۔ انھوں نے ان علاقوں میں بسیرا کرکے در حقیقت بیت المقدس کی طرف رسول اللہ(ص) کا راستہ بند کردیا تھا۔ آنحضرت جس راستے سے بھی سرزمین کنعان (فلسطین) کی طرف عزیمت کرنے کا ارادہ کرتے، یہودیوں کو اپنے مد مقابل پاتے۔ اگر عراق کے راستے سے جانا چاہتے تو فدک سے گذرنا پڑتا اور اگر مدینہ کے راستے سے جانا چاہتے تو خیبر سے گذرنا پڑتا۔ ہم کیونکر قبول کرسکتے ہیں کہ وہ حادثاتی طور پر آ کر آپ کے دارالحکومت میں اس انداز سے تعینات ہوئے تھے؟

تیرہ سال تک پیغمبر(ص) مکہ میں تھے اور یہودی آپ کی بعثت سے آگاہ تھے؛ لیکن اس عرصے میں ایک یہودی عالم نے آنحضرت کی ولادت کے دن آپ کو پہچان بھی لیا تھا۔[۴] تو پھر کیسے قبول کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ کے یہودی نہیں جانتے تھے کہ پیغمبر(ص) مدینہ میں پیدا ہوئے ہیں؟ جبکہ یہودی اندرونی لحاظ سے بہت ہی منظم اور ہمآہنگ تھے اور حتّٰی کئی بار آنحضرت اور آپ کے اجداد کے خلاف دہشت گردانہ اقدامات بھی عمل میں لاچکے تھے۔ اگر واقعی وہ نبی آخرالزمان(ص) کی مدد کے لئے مدینہ گئے تھے، تو آپ کو یقینی طور پر جانتے ہوئے بھی، مکہ کیوں نہیں گئے اور آپ پر ایمان کیوں نہیں لائے؟

مدینہ کے یہودی اس سے قبل عربوں کے ساتھ اپنی لڑائیوں میں نبی موعود کے ہمراہ اپنی فتح کی بشارتیں بھی دیتے رہے تھے:

وَلَمَّا جَاءهُمْ كِتَابٌ مِّنْ عِندِ اللّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ وَكَانُواْ مِن قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَاءهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّه عَلَى الْكَافِرِينَ؛[۵]

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو ان کے پاس والی کتاب (توراۃ) کی تصدیق کرتی ہے باوجودیکہ اس کے آنے سے پہلے خود یہ لوگ کافروں کے خلاف اس کے ذریعے سے فتح و ظفر طلب کیا کرتے تھے۔ مگر جب وہ (کتاب) ان کے پاس آگئی جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر دیا۔ پس کافروں (منکروں) پر اللہ کی لعنت ہو۔

ولادت ِپیغمبر(ص) سے بہت پہلے ہاشم نے مدینہ سے گذرتے ہوئے اپنی زوجہ سے کہا: اگر یہودی اس بچے (عبدالمطلب) کو پا لیں تو اسے قتل کریں گے۔[۶] یہ وہی زمانہ تھا جب یہودی مدینہ کے لوگوں سے کہتے تھے: یہ پیغمبر ہمارے لئے ہے اور ہم آئے ہیں کہ اس پر ایمان لائیں۔

لہذا یہودی درحقیقت پیغمبر(ص) کی قدس تک رسائی کا سدّباب کرنے کے لئے مدینہ اور اس کے اطراف میں آبسے تھے۔ حجاز میں یہودیوں کی سکونت کے نقشے کے پیش نظر، انھوں نے مدینہ سے لے کر شہر قدس کی فصیلوں تک مورچے اور پشتے قائم کئے تھے اور غیر معمولی فوجی پوزیشن اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عظیم موانع کا انتظام کیا تھا۔ پیغمبر(ص) پر قدس تک پہنچنے کے لئے سات پشتوں سے گذرنا لازم تھا: بنی قریظہ، بنی مصطلق، بنی نضیر، خیبر، تبوک، موتہ اور قدس۔ پہلے تین پشتے مدینہ میں واقع ہوئے تھے اور یہاں تعینات یہودیوں میں سے ہر ایک، ایک خاص وقت میں رسول اللہ(ص) کے خلاف نبرد آزما ہؤا۔ دوسرے پشتوں میں، آنحضرت مختلف جنگوں میں موتہ تک آگے بڑھے لیکن یہودی مکر کے نتیجے میں قدس تک نہ پہنچ سکے۔

یہود کے لئے قدس کی اہمیت

یہودیوں نے مدینہ سے قدس کی دیواروں تک رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں؛ کیونکہ اگر پیغمبر(ص) قدس کو فتح کرتے، تو یہودی تنظیم، اپنی عظیم آرزو ـ یعنی عالمی حکومت کے قیام ـ سے مایوس ہوجاتی اور اس عظیم فتنے کی آگ ـ جو حال حاضر تک عالم اسلام کو جلا کر راکھ کررہی ہے ـ ہمیشہ کے لئے بجھ جاتی۔ قدس ان کا اصلی مرکز تھا اور ان کی مقدس کتاب میں اس کی خاص اہمیت تھی۔

یہود کے لئے ضروری تھا کہ عالمگیر ہونے کے لئے تین مراحل کو سر کرلیں: قدس کو فتح کرنا، نیل سے فرات تک کے خطے پر قبضہ کرنا اور آخرکار پوری دنیا پر قابض ہونا۔ ارضی سیاسیات اور تزویری حکمت عملی سے متعلق مباحث میں نیل سے فرات تک کا علاقہ بہت اہم ہے۔ مشرق وسطٰی کا بیشتر حصہ ان دو دریاؤں [دریائے نیل اور دریائے فرات] کے درمیان واقع ہے، یہاں سے پوری دنیا کی توانائی کی زیادہ تر ضررویات پوری ہوتی ہیں۔ اس علاقے میں اسلام، عیسائیت اور یہودیت جیسی عظیم تہذیبوں نے جنم لیا ہے اور تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے بھی اہم رتبہ رکھتا ہے۔ پوری تاریخ میں ـ حتّٰی کہ تیل دریافت ہونے سے قبل بھی ـ مشرق وسطیٰ کا خطہ عالمی سیاست کا مرکز و محور تھا۔

مغالطے میں ڈالنے والی گمراہ کن کاروائیاں، جنگ کے اصلی اہداف میں شامل ہیں۔ حالیہ ایک صدی کے دوران ہونے والی تمام تر حرکتوں کا مقصد اسرائیل کی یہودی ریاست کا قیام تھا۔ دوسری عالمی جنگ کا نتیجہ اسرائیلی ریاست کی صورت میں برآمد ہؤا ہے۔ اقوام اور حکومتیں ابھی تازہ ہی دوسری عالمی جنگ میں ہونے والے وسیع انسانی قتل عام کے سکتے سے خارج ہوئی تھیں اور سب تھکے ماندے اور پارینگی کا شکار ہوچکے تھے کہ ناگہانی طور پر اسرائیل نامی ریاست معرض وجود میں آئی۔ عالم اسلام بھی توقف اور تعطل سے دوچار ہوگیا تھا۔ جنگ افریقہ تک پیشقدمی کرچکی تھی اور عرب ممالک بھی چنداں طاقتور نہ تھے؛ بلکہ ان ممالک پر کٹھ پتلی حکومتیں فرمانروائی کررہی تھیں۔ مغربی افواج جنگ کے دوران ایران سے گذری تھیں جس کی وجہ سے ایران بھی تھکا ماندہ تھا۔

یقیناً عالمی اقدامات اور تحریکوں کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے تا کہ ہم جان سکیں کہ اصلی مقصد تک پہنچنے کی راہ میں یہود کو کونسی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ یہ جو کچھ لوگ عالمی جنگ کا مقصد سوویت روس کی فتح یا ہٹلر کی نابودی قرار دیتے ہیں، در حقیقت اصل موضوع کو بھول بھلیوں میں گم کردینے کی کوشش ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہٹلر کے زمانے میں صہیونی تنظیم نے عالمی حکمرانی تک پہنچنے کا ارادہ کیا تھا یا پھر اس کے لئے مقدمات اور تمہیدات فراہم کرنا چاہتی تھی؟ کون ہے جو صہیونیت کی عالمگیریت کو روک لیتا ہے؟ کیا مسلمانوں ـ اور بالخصوص شیعیان اہل بیت(ع) ـ کے سوا صہیونیت کی راہ میں اور بھی کوئی حائل ہے؟

بلاشبہ وہ پیغمبر(ص) کی رسالت اور مشن کے تقاضوں کو پوری طرح پہچانتے تھے اور جانتے تھے کہ رسول اللہ(ص) کا مشن جاری رکھنے والے ـ یعنی ائمہ(ع) اور شیعیان اہل بیت(ع) ـ ہی ان کی راہ میں حائل ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں شیعیان اہل بیت(ع) کی موجودگی ایسا مسئلہ تھا جو صہیونیوں کے خیال ميں ایک نہایت قوی تدبیر کے ذریعے حل ہونا چاہئے تھا۔ نیل تا فرات کے موضوع میں چھوٹی سی خطا بھی سرزد ہوجائے تو یہودی اور صہیونی سب کچھ کھو جائیں گے۔ ان کے خیال میں عالمگیریت کا آغاز قدس سے ہونا چاہئے۔ چنانچہ قدس یہودیوں کے لئے اہمیت اور موضوعیت رکھتا ہے اور اگر وہ قدس پر مسلط ہوجائیں تو دنیا کے تالے کھل جائیں گے۔ وہ ایک تشکیل یافتہ منظم فرمانروائی کی تلاش میں ہیں۔

فرعونیوں کی نابودی کے بعد، حضرت موسیٰ(ع) مصر واپس جاکر وہاں کے فرمانروا بن سکتے تھے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا؛ کیونکہ اللہ کا حکم یہ تھا کہ یکتا پرست، قدس پر قبضہ کریں۔ یہودی صرف نیل تا فرات کے خطے پر زور دیتے ہیں کیونکہ اگر نیل سے فرات تک کے علاقے پر مسلط ہوجائیں، تو گویا کہ انھوں نے تمام علاقوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ تاہم اسرائیلی تنظیم میں گمراہیاں اور انحرافات ظاہر ہونے کے بعد، انہیں قدس پر قبضہ کرنے کا حق حاصل نہ تھا؛ بلکہ قدس پر تصرف کا مشن یکتاپرستوں کو سونپ دیا گیا ہے۔[۷] تزویری حکمت عملی کے لحاظ سے[۸] قدس کی اہمیت اس نکتے میں مضمر تھی کہ یہودی مآخذ میں متذکرہ روایات کے مطابق، اگر نبی آخرالزمان(ص) کسی علاقے میں متصرف ہوتے یا کسی علاقے میں سکونت پذیر ہوتے تو اس کو کبھی بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔

چنانچہ اگر پیغمبر اسلام(ص) قدس پر قبضہ کرلیتے تو یہود کو اپنی عالمی حکومت کی آرزو سے چشم پوشی کرنا پڑتی۔ چنانچہ اس راستے پر بنی قینقاع، بنی قریظہ، خیبر وغیرہ جیسے پشتے اور قلعے، مدینہ سے قدس تک، قائم کئے گئے۔ یہ استحکامات طویل عرصے کے دوران معرض وجود میں آئے تھے۔ خیبر کے استحکامات پہاڑ میں واقع تھے۔ یہودیوں نے پہاڑ میں خندق کھودی اور خندق کے اوپر دیواریں تعمیر کیں اور دیواروں کے اس پار قلعے بنائے حالانکہ ان کا مدینہ میں کوئی دشمن نہيں تھا لہذا جو بات بآسانی سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ یہودیوں نے نبی آخرالزمان(ص) کے مقابلے میں وسیع سطح پر شدید دفاع کے لئے انتظام و انصرام کیا تھا۔ انھوں نے پیغمبر(ص) کے خلاف جنگ میں ان قلعوں سے ہمہ جہت استفادہ کیا۔ بعدازاں تبوک میں انھوں نے پیغمبر(ص) کی پیشقدمی کو روک لیا تا کہ موتہ کی جنگ میں لشکر اسلام کو شکست ہو۔ اسامہ کا لشکر رسول اللہ(ص) کی آخری فوجی مہم تھی جو آپ روم اور آج کے فلسطین کی سرحدوں کی طرف روانہ کرنا چاہتے تھے؛ لیکن پیغمبر(ص) کی رحلت کے سبب یہ مہم پوری نہ ہو سکی جبکہ تاریخ میں جانے پہچانے افراد ـ نے بھی اس مہم کی راہ میں رکاوٹیں ڈال دیں ـ اور کچھ لوگوں کی نافرمانی کی بنا پر یہ لشکر حرکت نہ کرسکا اور بدقسمتی سے یہودیوں کی تأخیری اور انسدادی کاروائیوں نے پیغمبر اکرم(ص) کو قدس تک نہیں پہنچنے دیا۔

[۱]۔ رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج۸، ص۳۰۸؛ طبرسی، مجمع البیان، ج۱، ص۲۹۹؛ سمہودی، وفاء الوفاء، ج۱، ص۱۵۷۔

[۲]- سورہ آل عمران، آیت ۷۵۔

[۳]- کلینی، الکافی، ج۸، ص۳۰۹۔

[۴]۔ رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج۸، ص۳۰۰؛ طوسی، الأمالی، ص۱۴۵ و ۱۴۶؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۱۵، ص۲۶۰۔

[۵]۔ سورہ بقرہ آیت ۸۹۔

[۶]۔ رجوع کریں: مجلسی، بحارالانوار، ج۱۵، ص۵۱۔

[۷]۔ رجوع کریں: عہد قدیم، اسثنا، ابواب ۲۶-۳۰۔

[۸]۔ Geostrtegically

ماخوذ از کتاب دشمن شناسی تالیف آیت اللہ مہدی طائب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14364

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے