مسجد ابراہیمی کا دینی تقدس اور صہیونیوں کے ذریعے اس کی بے حرمتی - خیبر

مسجد ابراہیمی کا دینی تقدس اور صہیونیوں کے ذریعے اس کی بے حرمتی

03 مارچ 2019 09:02

جب ایک یہودی مذہبی پیشوا’،موشے لیفنگر‘ نے اس سے پوچھا کہ آیا اسے مسجد میں نمازیوں کا قتل عام کرنے پر کوئی افسوس یا شرمندگی ہےتو اس کا جواب تھا کہ مجھے مکھی یا مچھر کو مارنے پر جتنی شرمندگی ہوتی ہے، عربوں اور مسلمانوں کو قتل کرکے اتنی شرمندگی اور افسوس بھی نہیں ہوا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ارض فلسطین کو بجا طور پر انبیاء کی سر زمین کہا جاتا ہے۔ اس ارض پاک کو یہ نام بلا وجہ نہیں ملا بلکہ یہاں کی مٹی میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور بنی اسرائیل کے دسیوں عظیم المرتبت پیغمبر آسودہ خاک ہیں۔ انہی بزرگ ہستیوں کی نسبت سے یہ اسلام کے پر انوار مقدس مقامات سے بھی بھرپور ہے مگردرندہ صفت صہیونیوں کی وحشت وبربریت کا نشانہ جہاں فلسطینی قوم ہے وہیں یہ مقدس مقامات بھی ان کا خاص نشانہ ہیں۔

فلسطین کے ان گنت مقدس مقامات کی وجہ سے حرمین شریفین کے بعد فلسطین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں مسلمانوں کا پہلا قبلہ وکعبہ موجود ہے۔ قبلہ اول کے خلاف سال ہا سال سے جاری یہودی و نصاریٰ کی سازشوں کے ساتھ ساتھ فلسطین کے دوسرے مقدس ترین مقامات بھی خطرے میں ہیں۔ انہی میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں  واقع تاریخی جامع مسجد ابراہیمی جسے ’حرم ابراہیمی‘ بھی کہا جاتا ہے فلسطین میں قبلہ اول کے بعد دوسرا مقدس ترین مقام ہے۔ فلسطین میں یہودی  اور صہیونی سرطان کے سرائیت کرنے کے بعد فطری طور پر وہاں کے دوسرے مقدس مقامات کی طرح مسجد ابراہیمی بھی صہیونیوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں کا شکار ہے۔

فلسطین میں سنہ ۱۹۶۷ء کی چھ روزہ عرب ۔ اسرائیل جنگ کے دوران صہیونی غاصب افواج نے غرب اردن کے شہرالخلیل پرغاصبانہ قبضہ کیا تو یہ مسجد بھی صہیونیوں کے نرغے میں آگئی تھی۔ اس کے بعد اس مسجد کو تقسیم یا مسلمانوں سے چھین لینے کے لیے خوفناک سازشیں جاری رہیں۔ یہاں تک کہ سنہ ۲۵ فروری ۱۹۹۴ء کا وہ منحوس اور مکروہ وقت بھی آن پہنچا جب ایک انتہا پسند یہودی دہشت گرد گولڈ چائن نے مسجد میں گھس کر نماز میں کھڑے  فرزندان توحید پراندھا دھند گولیاں برسائیں۔

یہودی درندے کی وحشیانہ فائرنگ سے ۲۹ نمازی حالت سجدہ میں جام شہادت نوش کرگئے جب کہ ۱۵۰ شدید زخمی ہوئے۔ یہودی دہشت گرد باروکھ گولڈ چائن نے نہتے نمازیوں پر۵۰۰ گولیاں برسائی تھیں۔ تاریخ انسانی کی اس بدترین بربریت کے بعد صہیونیوں نے اگلی چال یہ چلی کہ مسجد ابراہیمی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم کردیا۔ یوں اس مسجد کے آدھے سے زاید حصے کو یہودیوں نے غصب کرلیا اور اسے یہودی انتہا پسندوں کی عبادت کے لیے مختص کرتے ہوئے اس میں فلسطینیوں کے داخلے پرپابندی عاید کردی۔

مسجد ابراہیمی کی تاریخ

فلسطینی مورخین کے مطابق تاریخی مصادر ومآخذ سے پتا چلتاہے کہ الخلیل شہر اور مسجد ابراہیمی کی تاریخ کا آغاز جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس شہر میں ایک سیاسی پناہ گزین کی حیثیت سے آمد کے نتیجے میں ہوتا ہے۔ قرآن پاک کی سورہ ’’الانبیاء‘‘ کی آیت ۷۱ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ :’اور ہم نے اسے [ابراہیم] اور لوط کو اس سرزمین میں پناہ دی جسے ہم نے تمام جہاںوں کے لیے بابرکت بنایا تھا‘۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کئی سال تک یہاں ایک مہمان کی حیثیت سے مقیم رہے۔ حضرت ابراہیم چونکہ کنعانی عربوں کے مہمان تھےیہی وجہ ہے وہ انہیں کے پاس رہے۔ ان کی اس شہرمیں آمد نے الخلیل کوایک نئی شناخت دی اور ابراہیم خلیل اللہ کے نام سے نسبت ہونے کی بدولت یہ شہر’’مدینۃ الخلیل‘‘ قرار پایا۔

تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ الخلیل شہر میں جہاں آج مسجد ابراہیمی بنائی گئی ہے اس کے نیچے ایک غار تھی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ سارہ کو ۳۸۰۰ سال قبل یہاں دفن کیا گیا۔ بعد ازاں اسی غار میں حضرت ابراہیم خود، حضرت اسحق اوران کی بیوی اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی بیوی بھی وہیں آسودہ خاک ہیں۔

مسجد ابراہیمی کے پہلو میں کئی جلیل القدر انبیاء کرام آسودہ خاک ہیں۔ ان میں حضرت یعقوب اور ان کی اہلیہ، حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ سارہ، حضرت یوسف علیہ السلام اور کئی دیگر بزرگ ہستیاں شامل ہیں۔

صہیونی یلغار

فلسطین میں یہودیوں کے غاصبانہ تسلط کے قیام کے بعد مسجد ابراہیمی مسجد انتہا پسند صہیونیوں کی ریشہ دوانیوں کے نشانے پر ہے۔ مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر الحاج منذر رفیق ابو الفیلات کا کہنا ہے کہ سنہ ۱۹۶۷ء کے بعد مسجد ابراہیمی اور اس میں نماز کے لیے آنے والے فلسطینی بارہا صہیونیوں کے حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

سنہ ۱۹۷۰ء میں شدت پسند یہودی موشے ڈایان کے مسجد میں داخلے کے بعد اس کے نیچے غار کو بند کر دیا گیا۔ سنہ ۱۹۷۶ء میں یہودیوں شرپسندوں نے مسجد میں گھس کر قرآن کریم کے کئی نسخے نذرآتش کیے جس کے بعد فلسطین  سمیت پوری اسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی روز تک اسرائیل اور یہودیوں کی سازشوں کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے۔سنہ ۱۹۹۴ء مسجد ابراہیمی کے حوالے سے نہایت المناک سال ہے کیونکہ اسی برس باروکھ گلڈچائن نامی ایک یہودی دہشت گرد نے مسجد میں نماز فجر کی ادائی میں مصروف نمازیوں کوگولیوں سے بھون ڈالا جس کے نتیجے میں ۲۹ نمازی شہید اور دسیوں زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل صہیونی حکام نے سنہ ۱۹۸۷ء میں مسجد کے تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر الیکٹرانک آلات، کیمرے اور جاسوسی کے دیگر آلات نصب کرکے اس پرقبضہ مضبوط کرنے کی سازش کی تھی۔

مسجد کی تقسیم

مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کے سفاکانہ قتل عام کے بعد صہیونی حکومت نے اس کی تحقیقات کے لیے ’شمغار کمیٹی‘ کے نام سے ایک کمیشن قائم کیا۔ اس کمیشن نے قاتل یہودی کے خلاف کارروائی کے بجائے مسجد ابراہیمی کو یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ فلسطینی مسلمانوں پر زبردستی مسلط کیا گیا۔ شمغار کمیشن نے مسجد کا ۵۶ فی صد حصہ یہودیوں کو اور ۴۴ فی صد فلسطینیوں کو دیا تاکہ مسجد پر یہودیوں کی بالا دستی قائم رکھی جاسکے۔ کمیشن کے فیصلے کے تحت مسجد کے یعقوبیہ، الیوسفیہ، العنبر، سدنہ ہال اور لائبریری یہودیوں کو دے دیئے گئے اور صرف الاسحاقیہ کا مقام فلسطینیوں کو دیا گیا۔

اس فیصلے کے بعد فلسطینی شہری صبح تین بجے سے رات نو بجے تک اپنے حصے کی مسجد میں عبادت کرسکتے ہیں۔ تاہم یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر پوری مسجد یہودیوں کے قبضے میں ہوتی ہے۔

باروکھ گولڈ چائن نےجب مسجد ابراہیمی میں نمازیوں کا قتل عام کیا تو اس وقت اس کی عمر ۴۲ سال تھی۔ اس کا شمار یہودیوں کی ایک شدت پسند مذہبی جماعت ’کاخ‘ کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ وہ سنہ ۱۹۸۰ء کو امریکا سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم ’کریات اربع‘کالونی میں آباد ہوا۔

جب ایک یہودی مذہبی پیشوا’،موشے لیفنگر‘ نے اس سے پوچھا کہ آیا اسے مسجد میں نمازیوں کا قتل عام کرنے پر کوئی افسوس یا شرمندگی ہےتو اس کا جواب تھا کہ مجھے مکھی یا مچھر کو مارنے پر جتنی شرمندگی ہوتی ہے، عربوں اور مسلمانوں کو قتل کرکے اتنی شرمندگی اور افسوس بھی نہیں ہوا۔

فلسطینی نمازیوں کے قتل گولڈ چائن کو یہودیوں میں ایک مقدس ہستی کا درجہ حاصل ہے۔ یہودیوں نےاس مجرم کا مزار بنا رکھا ہے اور اس کی سیکیورٹی پر یہودی فوجیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

palinfo.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=19162

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے