مفروضوں اور اوھام پر کھڑی صہیونی ریاست - خیبر

مفروضوں اور اوھام پر کھڑی صہیونی ریاست

05 نومبر 2018 15:46

ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کا قیام ایک ناسور ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا بدترین ظلم ہے۔ دوسری جانب قابض اور غاصب صہیونی اپنے نام نہاد مذہبی دعوئوں اور تلمودی نظریات مسلط کرنے کے لیے اسرائیل کو معاصر تاریخ کی جمہوری ریاست قراردینے کا دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کے وقت دنیا بھر میں اس بات کا ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے قائم کئے جانے والا ملک ایک جمہوری، جدید شہری ریاست ہوگا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ نام نہاد جمہوری ریاست نسل پرست اور آبادیاتی ریاست کے طور پر سامنے آئی۔ یوں صہیونی ریاست جن اوھام اوردعوئوں پرکھڑی تھی وہ سب کے سب کھوکھلے اور بے بنیاد ثابت ہوئے۔

سنہ ۱۹۴۸ء میں ارض فلسطین پر صہیونی ناسور کے قیام کے وقت یہودی بلوائیوں، منظم جرائم پیشہ قاتلوں اور اجرتی جلادوں نے فلسطینی قوم پر عذاب مسلط کیا اور خود کو “خدا کی پسندیدہ قوم” قرار دیتے ہوئے ارض فلسطین کو اپنی موعودہ قرار دیا۔ اس کے بعد  پے درپے کئی دوسرے اوھام اور وساوس بھی کھڑے گئے۔ رنگ بہ رنگے نعرے تخلیق کئے گئے اور دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کے لیے مذہبی ترغیبات کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی اور سماجی ترقی کے سبز باغ دکھا کرانہیں فلسطین میں لایا گیا۔

اب تک فلسطین میں صہیونی ریاست کےقیام کو ۷۰ برس کا عرصہ بیت گیا ہے۔ اس پورے عرصے میں یہ صہیونی ناسور ارض فلسطین میں مسلسل سرایت کرتا رہا۔ جمہوریت کی آڑ میں فلسطینیوں کے خلاف بدترین نسل پرستی کا مظاہرہ کیا گیا اور ایسے سنگین جرائم برتے گئے جن کی مشرق وسطیٰ میں کوئی مثال نہیں‌ ملتی۔

عرب ملکوں کا تعاون

صہیونی ریاست کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے پاس “ناقابل شکست” سپاہ موجود ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ہزیمت سے دوچار نہیں کرسکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کو مشرق وسطیٰ کے عرب بادشاہوں کا بھی تعاون حاصل رہا۔ ان عرب حکمرانوں اپنے اقتدار کی بقاء کے لیے امریکا اور اسرائیل جیسے سہارے کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے قضیہ فلسطین کی حمایت کے بجائے در پردہ اسرائیل کے حامی وناصر رہے۔ ان عرب ملکوں کے ہاں اسرائیل سے محاذ آرائی کا عنصر غائب رہا اور قضیہ فلسطین کی حمایت محض لفظی بیان بازی اور نعروں تک محدود رہی۔

دوسری جانب فلسطینی قوم نے اپنے بل بوتے اور قربانیوں کے ذریعے صہیونی ریاست کے نام نہاد ناقابل شکست ہونے کے دعوے کو جھوٹ ثابت کردکھایا۔ اگرچہ عالمی ذرائع ابلاغ میں فلسطینی قوم کی قربانیوں اور تحریک کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی جس کا وہ حق رکھتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ اسرائیل اور صہیونی لابی نے اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لیےاربوں ڈالر کی سرمایہ کی۔ اس سرمایہ کاری کا ایک بڑا حصہ عالمی ابلاغی اداروں کی پالیسیاں بدلنے پر صرف ہوا۔ یوں صہیونی فوج کو کھل کر فلسطینی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو بے رحمی کے ساتھ قتل کرنے اور ان کے حقوق غصب کرنے کا موقع مل گیا۔

فلسطینی تاریخ میں اسرائیلی ریاست کے سنگین جرائم کے انگ گنت واقعات ہیں۔ ان میں ایک واقعہ تصویر کی شکل میں آج بھی نہ صرف فلسطینیوں بلکہ پوری دنیا کے ذہنوں میں ہوگی۔ یہ واقعہ ۳۰ ستمبر ۲۰۰۰ء کا ہے جب اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی بچے محمد الدرہ کو جو اپنے والد کی گود میں چھپ کر بیٹھا تھا گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔

دفاع کے گھمنڈ کا سقوط

فلسطین میں یکے بعد دیگر اٹھنے والی انتفاضہ تحریکوں کے دوران صہیونی ریاست کے ناقابل تسخیر ہونے کے گھمنڈ کو خاک میں ملا دیا گیا۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی ریاست کی طرف سے تین بڑی جنگیں مسلط کیں۔ ایک جنگ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مسلط کی گئی۔ اجن جنگوں اور انتفاضہ تحریکوں نے صہیونی ریاست کی طاقت اور ناقابل تسخیر ہونے کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا۔ سنہ ۲۰۱۴ء کی جنگ میں صہیونی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کا وجود ختم کر دیں گے۔

اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا دعویٰ دراصل صہیونیوں تک محدود ہے اور کئی عشروں تک صہیونی ریاست خود عالمی سطح پر بالعموم اور مشرق وسطیٰ میں بالخصوص ناقابل شکست قرار دیتا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی ریاست نے اپنے جرائم کے ساتھ ساتھ نسل پرستانہ قانون سازی اور فلسطینی قوم کے حقوق کی نفی کی مہم بھی جاری رکھی۔

ایک طرف فلسیطین کے اندر سے صہیونی ریاست کے نام نہاد ناقابل تسخیر ہونے کے دعوے کی قلعی کھول دی گئی اور ساتھ ہی ساتھ پوری دنیا میں اسرائیلی ریاست کے بائیکاٹ کے لیے جاری تحریک “BDS ” نے صہیونی ریاست کے جرائم کو بےنقاب کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

palinfo.com

…………….

ختم شد؍گ؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14260

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے