نیویارک ٹائمز کی بد پرہیزی؛ امریکہ میں صہیونیوں کے خلاف تزویری خطرہ - خیبر

امریکی بھی یہودی ریاست سے اکتا گئے؛

نیویارک ٹائمز کی بد پرہیزی؛ امریکہ میں صہیونیوں کے خلاف تزویری خطرہ

07 فروری 2019 16:29

دو ہفتے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک عجیب “بدپرہیزی” کا ارتکاب کرتے ہوئے رائج سرخ لکیروں کو روند ڈالا اور ایک مضمون بعنوان “فلسطین کے سلسلے میں خاموشی توڑ دینے کا وقت آن پہنچا ہے” شائع کیا؛ جس کے باعث امریکہ میں یہودی لابیوں اور صہیونی تنظیموں کے رابطہ کار “مائیکل اورن” نے کالم نویس “مشیل الگزینڈر” کو تزویری خطرہ قرار دیا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: تقریبا دو ہفتے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک عجیب “بدپرہیزی” کا ارتکاب کرتے ہوئے رائج سرخ لکیروں کو روند ڈالا اور ایک مضمون بعنوان “فلسطین کے سلسلے میں خاموشی توڑ دینے کا وقت آن پہنچا ہے” (۱) شائع کیا۔ مورخہ ۱۹ جنوری ۲۰۱۹ع‍ کو چھپنے والے اس مضمون کی اشاعت نے یہودی لابی اور اس کے اتحادیوں کو اس حد تک تناؤ سے دوچار کیا اور امریکہ کی صہیونی تنظیموں کے رابطہ کار مائیکل اورن (۲) نے کالم نویس محترمہ “مشیل الگزینڈر”(۳) کو تزویری خطرہ قرار دیا۔
جو لوگ امریکہ میں یہودی اور صہیونی لابیوں کے لب و لہجے اور کلام سے آشنا ہیں وہ اس الزام اور اس عنوان (یعنی “تزویری خطرہ”) کی اہمیت اور اس کے معنی اور مفاہیم کو بخوبی جانتے ہیں۔ اس طرح کے کئی دیگر واقعات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے عناوین سے معنون افراد کا انجام بالکل ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ ایسے افراد ابتداء میں اپنے ذریعۂ ابلاغ اور اپنے منبر یا اسٹیج سے محروم ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں مبہم وجوہات کی بنا پر انہیں جامعات میں تدریس سے روک لیا جاتا ہے اگر پھر کہیں سیاسی اور انتظامی عہدوں پر فائز ہوں تو بڑی آسانی سے برخاستگی کے مستحق قرار پاتے ہیں؛ لیکن اب سوال یہ ہے کہ “مشیل الیگزینڈر کون ہیں اور ۱۹ جنوری ۲۰۱۹ع‍ کے کالم میں کن اصولوں کی حمایت کی وجہ سے وہ یہودی لابی کی طرف سے “تزویری خطرے” (۴) کے عنوان کے لائق ٹہریں۔
اس ماجرا کا آغاز دو ہفتے قبل اس وقت ہوا جب یہودی لابیوں نے شہری حقوق کی جدوجہد کے طویل پس منظر کی حامل انجیلا ڈیوس (۵) کو “اسرائیلی بائیکاٹ تحریک” (۶) کی حمایت کے الزام میں، نشانہ بنایا۔ اس تنقیدی سلسلے میں اور دباؤ کے اس عمل کے حوالے سے ہی ریاست آلاباما (۷) کے برمنگھم شہری حقوق انسٹٹیوٹ (۸) نے اپنی سالانہ عشائیہ کو منسوخ کیا؛ کیونکہ طے یہ پایا تھا کہ اس ضیافت کے دوران انجیلا ڈیوس کو انسانی حقوق کے اہم سالانہ انعام سے نوازا جائے۔
یہ الگ بات ہے کہ ڈیوس کو گویا منظر عام سے ہٹانے کے لئے اس انعام سے محروم کیا گیا تھا لیکن یہ محرومیت ان کی کئی گنا زیادہ شہرت کا سبب بنی اور شہری حقوق کے حوالے سے ان کا پس منظر وسیع سطح پر توجہات کا مرکز بن گیا جبکہ اس واقعے سے پہلے امریکی شہری حقوق کے حلقوں میں انہیں سنہ ۱۹۶۰ع‍ کی کمیونسٹ پارٹی کی سربراہ، حقوق نسوان کی سرگرم کارکن، سیاہ فاموں کے حقوق کی علمبردار اور جنگ ویتنام کے خلاف چلنے والی تحریک کی صف اول کی راہنما کے طور پر پہچانا جاتا تھا؛ لیکن مذکورہ تقریب کی منسوخی سے واضح ہوا کہ محترم ڈیوس اسرائیل مخالف افکار اور طرز فکر کی حامل راہنما ہیں اور انھوں نے اسرائیلی بائیکاٹ تحریک کو پہلے سے کہیں زیادہ شہرت عطا کی اور امریکہ میں وسیع سطح پر اس تحریک کے بارے میں بات چیت ہونے لگی اور تقریب کی منسوخ پر وسیع سطح پر تنقید ہوئی اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں نے محترمہ ڈیوس کی زبردست حمایت کی جس سے ظاہر ہوا کہ ۷۴ سالہ انجیلا ڈیوس امن پسندانہ پس منظر اور شجاعت و بہادری کے باعث امریکہ کی رائے عامہ میں ہنوز بہت قابل احترام ہیں۔
مذکورہ تقریب کی منسوخی پر سامنے آنے والے رد عمل کے نتیجے میں برمنگھم شہر کی شہری کونسل نے ایک بیان جاری کرکے شہری حقوق کے سلسلے میں ڈیوس کے کردار کو خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن بہت جلد مذکورہ ادارے کے سربراہ اور نائب سربراہ کو استعفا دینا پڑا۔ واقعات کی سلسلہ وار رونمائی کے بعد ـ جب تصور یہ تھا کہ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا ہے ـ اچانک ایک مضمون نیویارک ٹائمز نے شائع کیا جس کا عنوان تھا: “فلسطین کے سلسلے میں خاموشی توڑ دینے کا وقت آن پہنچا ہے” (۹)؛ جو راکھ تلے آگ کی طرح بھڑک اٹھا جس نے نہ صرف امریکی دانشوروں کی طویل خاموشی کو چیلنج کیا ہے بلکہ انہیں فلسطین کے بارے ميں خاموشی کی مہریں توڑنے کی دعوت دی ہے۔
محترمہ مشیل الیگزینڈر شہری حقوق کے شعبے کی سرگرم کارکن اور وکیل ہیں جن کی حالیہ کاوش “نیا “جم کرو قانون”: رنگ ناشناسی کے دور میں عمومی قید” (۱۰) ـ (۱۱) ـ جس کا موضوع سیاہ فام قیدیوں کی ناگفتہ بہ حالت ہے ـ کو بڑی پذیرائی ملی ہے اور اس مضمون میں بھی انھوں نے بےمثل بےباکی کے ساتھ، شہری حقوق کے تمام کارکنوں کو فلسطین کے بارے میں بہادری اور شجاعت اور حقائق فاش کرنے کی دعوت دی ہے۔
لکھتی ہیں کہ مارٹن لوتھر کنگ (۱۲) جنگ ویت نام کے خلاف جدوجہد کرنے والے پیشرو اور پہل کار راہنما تھے جنہوں نے اخلاقی رویہ اپنایا اور یہ وہی کام ہے جو ہم سب کو فلسطین کے بحران اور فلسطین کے حوالے سے گذشتہ عشروں میں ہونے والے تمام جرائم اور مظالم نیز تمام امتیازی رویوں کے سلسلے میں، ہم سب کو کرنا چاہئے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہم مسئلۂ فلسطین کے سلسلے میں اپنی طویل خاموشی کو توڑ دیں۔
انھوں نے لکھا ہے: “مارٹن لوتھر کنگ نے شجاعت کے ساتھ ویتنام کی جنگ کے بارے میں اظہار خیال کیا؛ ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ اس اہم ناانصافی سے نمٹ لیں۔ لوتھرکنگ نے ویت نام کی جنگ کے خلاف جدوجہد میں اخلاقی رویہ اپنایا، اگرچہ یہ رویہ ان کے لئے بہت مہنگا پڑا، لیکن اگر ہم ایک بحرانی دور میں اپنے حقیقی اقدار کی پابندی کریں تو ہمیں ان ہی کے رویوں کو نمونہ عمل بنانا چاہئے؛ حتی اس صورت میں بھی کہ خاموشی ذاتی طور پر ہمارے لئے منافع بخش ہو اور ہمیں ان مقاصد تک پہنچانے میں مدد دے رہی ہو جو ہمارے لئے عزیز ہیں۔ ان ہی بہانوں اور مصلحت اندیشیوں اور تعلقات و روابط کی طرح جو آج تک اس زمانے کے عظیم ترین چیلنج ـ یعنی اسرائیلی، فلسطینی بحران ـ کے آگے مجھ جیسوں کی خاموشی کا سبب بنے ہوئے ہیں”۔
محترمہ مشیل الیگزینڈر لکھتی ہیں: “ہمیں آخرکار ایک دن اسرائیل میں رائج قانونی امتیازات کے آگے کھڑا ہونا پڑے گا؛ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کو لازمی سمجھا گیا ہے اور ہم اس قانون کی خلاف ورزی کے آگے خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتے۔ وہ تمام اخراجات جو امریکی حکومت نے غزہ میں عداوتوں اور دشمنیوں اور ہزاروں قربان ہونے والوں کے قتل عام پر اٹھائے ہیں نیز یہودی ریاست کو ۳۸ ارب ڈالر فوجی امداد کی فراہمی کے سلسلے میں حکومت امریکہ کے اعتراف، کے بارے میں وضاحت مانگنا چاہئے [اور اس کو متنازعہ بنانا چاہئے]۔ بالآخر ایک دن ہمیں پوری شجاعت اور بےباکی کے ساتھ اور اپنے اصولوں کے سہارے، سب یک صدا ہوکر اسرائیل میں قانوی امتیازی سلوک کے آگے بند باندھنا پڑے گا؛ اس نظام کے خلاف جس نے عرب [عوام جنہیں] اقلیت [میں بدل دیا گیا ہے] کے خلاف کم از کم ۵۰ امتیازی قوانین منظور کرلئے ہیں اور ان قوانین کو نافذ کیا گیا ہے؛ جن میں سے ایک “یہودیوں کی قومی ریاست” کا نیا قانون (۱۳) ہے جو باضابطہ طور پر صرف یہودی اسرائیلیوں کو خود ارادیت (۱۴) کا حقدار قرار دیا گیا ہے اور اس قانون نے ۲۱ فیصد عرب آبادی کو یکسر نظرانداز کیا ہے”۔
الیگزینڈر اپنے مضمون میں اسرائیلی بائیکاٹ کی تحریک کے حامیوں پر ڈالے جانے والے دباؤ اور ان کی عجیب صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتی کہ اگر لوتھر کنگ زندہ ہوتے تو کیا وہ برمنگھم کو اس حوالے سے مبارک باد کہتے یا نہیں کہ اس (برمنگھم) نے انجیلا ڈیوس کے دفاع فلسطین پر مبنی موقف کی نہایت بہادرانہ حمایت کی، لیکن میں برمنگھم کو مبارک باد کہتی ہوں۔ نئے سال کے ان ابتدائی ایام میں، ماضی سے زیادہ شجاعت اور بےباکی اور ایمان و یقین کے ساتھ سرحدوں سے باہر ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہوں، کیونکہ میرا ضمیر اس کے سوا کوئی بھی دوسرا راستہ مجھے نہیں دکھا رہا ہے”۔
مشیل الیگزینڈر کا یہ مضمون یہودی ریاست کے حکام کے غیظ و غضب کا سبب بنا۔ متبادل خبررساں ویب گاہوں میں اس مضمون کو وسیع پذیرائی حاصل ہوئی اور انھوں نے اس کو نہ ختم ہونے والی لامتناہی قیاس آرائیوں کے موضوع میں تبدیل کیا ہے۔ اس مضمون کی اشاعت سے قبل، اخبار نیویارک ٹائمز اپنے یہودی نواز اور اسرائیلی نواز موقف کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کن عوامل و اسباب نے مل کر اس مضمون کی اشاعت کے لئے راستہ ہموار کیا ہے؟ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صومالیائی نژاد امریکی خاتون “الہان عمر” (۱۵) کا بطور رکن کانگریس انتخاب بھی اس مضمون کی اشاعت میں غیر مؤثر نہیں تھا۔
الہان عمر کانگریس کی مسلم رکن اور اسرائیلی بائیکاٹ تحریک کی حامی خاتون ہیں اور امریکی کانگریس میں ان کی موجودگی اس تحریک کے حامیوں کو مزید حوصلہ اور شجاعت عطا کرتی ہے۔ اسرائیلی بائیکاٹ تحریک یا اس ریاست میں عدم سرمایہ کاری، اسے تنہا کرنے اور اس پر پابندیاں لگانے کی تحریک ایک عالمی تحریک ہے [جسے امریکی چرچ کی حمایت بھی حاصل ہے] اور اس کا مقصد و ہدف یہودی ریاست پر دباؤ بڑھانا اور اسے مقبوضہ فلسطین سے قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرنا، امتیازی سلوک کے خاتمے اور کروڑوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حق واپسی دلانا ہے۔
سنہ ۲۰۱۰ع‍ کے صدارتی انتخابات میں شرکت کے لئے ڈیموکریٹ خاتون سینٹر کمالا ہیرس (۱۶) کی نامزدگی کا باقاعدہ اعلان بھی اس مضمون کی اشاعت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ ۔ کمالا ہیرس کا شمار ڈیموکریٹ جماعت کے ترقی پسند اراکین میں ہوتا ہے؛ تاہم ان اراکین کا ترقی پسندانہ موقف، ترقی پسندی تو ہے لیکن اس میں فلسطین کا مسئلہ شامل نہیں ہے۔ جب کہیں انسانی حقوق، تحریک نسواں (۱۷) اور ہمجنس پرستوں کی بات ہو تو یہ لوگ ترقی پسند بن جاتے ہیں لیکن مسئلہ فلسطین کو اپنی ترقی پسندی کے دائرے سے نکال باہر کرتے ہیں۔
بہرحال، ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مضامین کی اشاعت ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں عمومی موقف پر براہ راست اثرات مرتب کرے گی؛ اس طرح کے بےباکانہ مضامین کے زیر اثر، محترمہ ہیرس جیسے آئپیک (۱۸) کے انتہائی جذباتی وکالت کاروں میں شامل نامزد امیدواروں کا کام بہت مشکل ہوجائے گا اور وہ بڑی دشواریون کے ساتھ عوامی حمایت اور ووٹ حاصل کرسکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: معصومه اصغری
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
http://fna.ir/brd588
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ Time to break the Silence on Palestine
۲۔ Michael Oren
۳۔ Michelle Alexander
۴۔ Strategic Threat
۵۔ Angela Yvonne Davis
۶۔ The Boycott, Divestment, Sanctions (BDS) movement
۷۔ Alabama
۸۔ Birmingham Civil Rights Institute
۹۔ Time to break the Silence on Palestine
۱۰۔ جم کرو کا قانون یا (Jim Crow laws) جنوبی امریکی علاقوں کی ریاستی و مقامی قوانین تھے جنکا مقصد نسلی بنیادوں میں انسانی فرق کو واضح کرنا تھا۔ اسے امریکا کی تعمیر نوع کہے جانے والے دور میں بنایا گیا اور یہ قانون ۱۹۶۵ء تک نافذ رہا۔ امریکا کی کنفیدریٹ ریاستوں میں اس قانون کو تمام عوامی سہولیات میں نافذ کیا گیا، ۱۸۹۰ء میں اسے الگ لیکن برابر کے نعرے کے تحت افریقی امریکیوں کے لیے شروع کیا گیا اس کے تحت افریقی امریکی گورے امریکیوں کے مقابل کم اور قدرے ناقص سہولیات استعمال کرتے تھے۔
۱۱۔ The New Jim Crow: Mass Incarceration in the Age of Colorblindness ۔۔۔ Colorblindness طب میں بیماری کا نام ہے جس میں مریض رنگوں کو تشخیص نہيں دیتا اور سیاست میں رنگ و نسل میں فرق نہ رکھنے کے معنی میں ہے۔
۱۲۔ Martin Luther King
۱۳۔ ישראל – מדינת הלאום של העם היהודי ‎ The Nation-State of the Jewish People
۱۴۔ Self-determination
۱۵۔ Ilhan Abdullahi Omar
۱۶۔ Kamala Devi Harris
۱۷۔ feminism
۱۸۔ امریکہ-اسرائیل تعلقات عامہ کمیٹی (American Israel Public Affairs Committee [AIPAC])

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=18283

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے