ٹورنٹو کے فٹ پاتھ پر رقص موت اور مغرب کی بے بسی - خیبر

ٹورنٹو کے فٹ پاتھ پر رقص موت اور مغرب کی بے بسی

۱۹ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۳:۲۵
کنیڈا کے سڑکوں پر موت کا رقص

کاش مغربی ممالک صہیونی لابیوں کے ہاتھوں اسیر نہ ہو کر انکے اشاروں پر ناچنے کے بجائے اپنے ملک اور اپنے باشندوں کی خبر لیتے اور حالات کا تجزیہ کرتے تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا لیکن انہیں مشرق وسطی میں سیاست سے فرصت نہیں کہ اپنے ملک کی طرف دھیان دیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یوں تو آپ مغرب کی ترقی اور برق رفتاری کے ساتھ وہاں کی ٹکنالوجی کے قصے روز ہی سنتے رہتے ہیں اسی مغرب کی ترقی کی داستانوں کے درمیان گاہے بگاہے ایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جو مغرب کی تمام تر ترقی کے دعوں کے درمیان اسکی بے بسی کی قلعی بھی کھول دیتے ہیں اور اکثر و بیشتر ہم سنتے رہتے ہیں کہ کسی مغربی ملک میں کسی اسکول یاکالج میں ،کسی نوجوان نے اپنے ہی ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تو کہیں کسی کلب میں کسی نے اپنے ہی ساتھیوں کو موت کی آغوش میں سلا دیا ، کہیں کسی شاپنگ مال میں حملہ ہوتا ہے تو کہیں عام شاہراہوں پر کوئی موت کا بگل بجاتا عام شہریوں کی لاشے بچھاتا چلا جاتا ہے؟ ان تمام واقعات کو دیکھ کر بھی مغربی حکمرانوں کو عقل نہیں آتی اور انہیں فرصت نہیں کہ دوسرے ممالک میں دخالت سے باز آ کر اپنے ملک کے نظم و نسق پر دھیان دیں اپنے عوام کی مشکلات پر دھیان دیں، وہ جو تھوڑا بہت دھیان دیتے بھی ہیں تو محض رفاہیات و مادیات پر جبکہ لوگوں کو ضرورت رفاہیات سے زیادہ اس وقت معنویت کی ہے، جب معنویت کی پیاس نہیں بجھ پاتی تو جھنجھلاہٹ کے شکار لوگ سڑکوں اور شاہراہوں پر اپنا غصہ نکالتے ہیں اور مغرب کی ترقی کی ساری قلعی کھل جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے ممالک ہیں جنکا وجود خود اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور وہ دور دراز کے ملکوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ انکے اپنے ہی عوام ایک قسم کے نفسیاتی بیماری کا شکار ہیں جس میں بے حد رفاہیات کے باجود وسائل زندگی کی کثرت کے باوجود روح کی تشنگی کا سامان جب فراہم نہیں ملتا اور مسلسل تشدد آمیز فلمیں انکے ذہن کو خراب کر دیتی ہیں تو یہ لوگ اپنے ہی ہم نوعوں کو تشدد کا نشانہ بنا دیتے ہیں جیسا کہ ابھی کچھ دنوں قبل اپریل کے مہینے کے آخر میں کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں ہوا ، کتنا ہولناک و خوفناک منظر تھا جب ایک وین کی صورت میں موت کا پاگل ہاتھی کنیڈا کے ایک فٹ پاتھ پر جھوم رہا تھا ، لوگوں کی چیخیں بلند تھیں، اور وہ مسلسل لوگوں کو کچلتا ہوآٓگے بڑھا چلا جا رہا تھا، تھوڑی ہی دیر بعد جب اسکا رقص موت ختم ہوا تو پورے فٹ پاتھ پر خون کے دھبے تھے ایک ویرانے کا ماحول تھا ، کہیں زخمیوں کو امداد پہنچاتے لوگ تھے تو کہیں کچل کر مر جانے والوں کی نعشوں کو سفید چاردوں میں ڈھکا جا رہا تھا ۔اور لوگوں کے سوال بنے چہرے تھے کس نے کیا کیوں کیا ؟ اس طرح فٹ پاتھ پر عام لوگوں کو نشانہ بنا کر وین میں سوار شخص کو آخر کیا ملا، جائے حادثہ پر موجود لوگ جہاں کشمکش و اضطراب کی عجیب کیفیت کا شکار تھے وہیں مسلسل بریکنگ نیوز کے عنوان کے تحت اس حادثہ کی خبر دنیا بھر کے چینل ایک ساتھ دکھا رہے تھے چنانچہ مختلف ذرائع ابلاغ کی جانب سے جو خبر مشترکہ طور پر بیان کی گئی اسکا خلاصہ کچھ یہ ہے :
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک شخص نے وین فٹ پاتھ پر چڑھا کر راہگیروں کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں ۱۰ افراد ہلاک اور ۱۵ زخمی ہوگئے۔ ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ ہے۔
مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق ۲۵ سالہ ایک میناسیان نامی شخص نے کینڈا میں ٹورنٹو کے مصروف علاقے میں فٹ پاتھ پر چلنے والے افراد پر وین چڑھا دی جس کے بعد اس نے بھاگنے کی کوشش کی جسے پولیس نے حراست میں لے لیا۔
ٹورونٹو پولیس کے سربراہ نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش میں کافی وقت لگے گا اور انھوں نے عینی شاہدین سے استدعا کی کہ وہ تفتیش میں مدد کریں۔ انھوں نے اسکائی نیوز کو بتایا ’اس سڑک پر ۶۰ سے ۷۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار پر ایک سفید وین آئی۔ وہ وین گھومی اور راہگیروں پر چڑھ گئی۔ میرا اندازہ ہے کہ جان بوجھ کر وین کو فٹ پاتھ پر چڑھایا گیا تھا۔‘
ٹورنٹو پولیس چیف مارک سندرس کا پریس کانفرنس کے دوران واقعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ وین ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو ٹورنٹو کے علاقے رچمنڈ ہل کا رہائشی ہے جب کہ ملزم اس سے قبل کبھی پولیس کو مطلوب نہیں رہا۔اس مقام پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب ٹورنٹو پولیس چیف سے سوال کیا گیا کہ کیا ملزم کے عالمی دہشتگردوں سے رابطے کے شواہد ملے ہیں تو پلیس سربراہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم جائے وقوعہ سے ایسی کوئی چیز نہیں ملی جس سے یہ کہا جائے کہ ملزم دہشت گرد ہے۔ البتہ پولیس چیف نے یہ ضرور کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر راہگیروں کو روندا ہے اس واقعہ کے فورا بعد کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈ نے اس سلسلہ سے کہا : اس ’المناک اور بدحواس حملے‘ سے ’بہت صدمہ‘ ہوا ہے، اس پورے واقعہ میں یوں تو کئی ایسے پہلو ہیں جن پر گفتگو اور تجزیہ ممکن ہے لیکن وین کے ڈرائور کا بالکل نڈر ہو کر اس واردات کو انجام دینا ہے اور پولس کی بے جا نرمی ہے جبکہ دوسری طرف میڈیا میں پولیس کی جانب سے حملہ آور پر فائرنگ نہ کرنے کے اقدام کو سراہا بھی گیا ہے جیسا کہ سی بی سی نیوز پر نشر ہونے والی ویڈیو میں حملہ آور پولیس کی بندوق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ’مجھے مار دیں۔‘جبکہ دوسری جانب پولیس افسر اُسے جب ’نیچے بیٹھنے کو کہتا ہے تو ملزم جواب دیتا ہے میرے پاس بھی اسلحہ ہے۔ یہ صحیح کے پولیس نے حملہ آور کو بغیر کوئی گولی چلائے حراست میں لے لیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس گولی نہ چلانے کی قیمت کیا چکانی پڑی ؟۔اگر پولس نے یہ سوچ کر گولی نہیں چلائی کہ اس اقدام کے محرکات کا پتہ چلے تو یہ کس حد تک معقول امر ہو سکتا ہے ،جبکہ دوسری طرف مسلسل لوگ گاڑی کے نیچے دب کر مر رہے تھے؟ مغرب میں یہ عجیب چلن ہے کہ واقعات کی تہہ تک جانے کے لئے اسکی بھاری قیمت چکانے پر یہ لوگ تیار رہتے ہیں لیکن اسباب و علل کے معلوم ہو جانے کے بعد بھی اسکے سد باب سے عاجز رہتے ہیں اپنے آپ میں کتنا عجیب ہے کہ ایک ایسا مغربی ملک جو اپنے باشندوں کی رہائشی سہولتوں کو لیکر دنیا میں معروف ہے وہ مصروف ترین مقامات پر اپنے عوام کے تحفظ سے قاصر ہے کہا جاتا ہے کہ ینگ سٹریٹ جہاں وین کے نیچے لوگوں کو کچلا گیا ٹورونٹو کی مصروف ترین شاہراہ ہے، یوں تو ابھی تک اس ہولناک واقعہ کے عوامل سامنے نہیں آ سکے ہیں، اور نہیں پتہ چلا کہ عام لوگوں کو ایک شخص نے کیوں نشانہ بنایا لیکن دی گلوب اینڈ میل اخبار نے کالج میں میناسیان کے ساتھی طالب علم سے بات کی تو حملہ آور مینا سیان کے بارے میں اتنا ضرور پتہ چلا کہ وہ کمپیوٹر کا ماہر تھا۔ تحقیقاتی ادارے یوں تو اس بارے میں کچھ کہنے سے قاصر ہیں لیکن اتنا ضرور کہہ رہے ہیں کہ حملہ آور نے مختلف اس سے پیشتر ہونے والے ایسے ہی واقعات کو سرچ کیا تھا چنانچہ این بی سی نیوز کے رپورٹر جوناتھن ڈیئنسٹ کے ٹویٹ سے پتہ چلتا ہے ’میناسیان نے مبینہ طور پر ۲۰۱۴ کے کیلیفورنیا قتلِ عام کے متعلق تحقیق اور انٹرنیٹ پر چیٹ کی تھی‘۔اگر یہ بات صحیح ہے تو کیا اپنے آپ میں سوچنے کا مقام نہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اپنے ہی ہم نوعوں کو تقلیدی طور پر قتل کرنا مغرب میں ایک فیشن بنتا جا رہا ہے ؟ ایسے میں کس کی ذمہ داری ہے کہ ان جوانوں کے ذہنوں کو پڑھ کر جو تنہائی و جنھجھلاہٹ کی بنیاد پر تشدد آمیز کاروائیوں کا حصہ بن جاتے ہیں، انہیں صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرے ،اس طرح کے تشدد آمیز رویوں کے محرکات کو جاننا کس کی ذمہ داری ہے ؟ ان سے مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات کا نہ صرف یہ کہ منطقی تجزیہ کیا گیا بلکہ اس کے روک تھام کے بارے میں راہ حل بھی پیش کیا گیا لیکن مغربی حکمرانوں نے اس پر قابل قدر توجہ نہ کی با این ہمہ کچھ منصف مزاج لوگوں نے یقینا اس پر نہ صرف غور کیا بلکہ اسے بے نظیر قرار دیا چنانچہ
رہبر انقلاب اسلامی نے مغرب کے جوانوں کے نام اپنا معروف خط لکھا تو بعض عظیم اسکالرز نے نہ صرف توجہ کی بلکہ اسے حقیقت پر مبنی ایک بے نظیر تجزیہ قرار دیا چنانچہ کینیڈا یونیورسٹی کے ہی ایک سابق پروفیسر نے مغربی نوجوانوں کےنام رہبر معظم انقلاب اسلامی کےدوسرے خط کو عالمی دہشتگردی کی جڑوں کا نفسیاتی ،جغرافیائی وسیاسی تجزیہ قراردیا ہے ۔کینیڈاکےممتاز سیاسی تجزیہ نگاراورکینیڈا یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ’’ڈینس رانکوٹ ‘‘نے اپنے فیس بک پیغام میں لکھا: اگرچہ میں نوجوان نہیں ہوں تاہم مغربی نوجوانوں کے نام خط کو میں نے بڑی دلچسپی اورتوجہ کےساتھ پڑھا اور اس خط نے میرے دل ودماغ کو جذباتی کردیا ۔انہوں نے لکھاہےکہ دہشتگردی سے متعلق آپ کا گہرا تجزیہ حقیقت پر مبنی ہے اوریہ بنیادی طورپر صحیح ہےاور آپ کی سچائی کی وضاحت سے میں حیران ہوں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی نوجوان آپ کے خط کا مطالعہ کریں گے اور مغربی نوجوانوں کے دل ودماغ کو بیدارکرنے میں آپ کا خط مددگار ثابت ہوگا ۔
ویسے تو رہبر انقلاب کا یہ پورا خط ہی پڑھنے کے لائق ہے اور اس پر گفتگو ہونا چاہہے لیکن اس خط کے یہ جملے اپنے آپ میں بہت کچھ کہہ رہے ہیں :…’’شاید صنعتی اور اقتصادی ترقی کے برسوں کے دوران عدم مساوات اور بعض اوقات قانونی اور اسٹرکچرل امتیازی سلوک کے نتیجے میں مغربی معاشرے کے بعض طبقات میں بوئي جانے والی شدید نفرت کی وجہ سے ایسا کینہ پیدا ہو گیا ہے کہ جو وقتا فوقتا ایک مرض کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ بہرحال یہ اب آپ لوگ ہیں  کہ جنہیں معاشرے کے اس ظاہری خول کو اتار پھینکنا ہے اور دشمنی اور کینے کا پتہ لگا کر اسے ختم کرنا ہے ۔ شگافوں کو گہرا کرنے کے بجائے پر کرنا ہے۔ دہشت گردی سے مقابلے کے سلسلے میں سب سے بڑی غلطی عجلت پر مبنی وہ رد عمل ہے کہ جو موجودہ مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں تشکیل پانے والے مسلمان معاشرے کو، کہ جو کئي ملین سرگرم اور فرض شناس انسانوں پر مشتمل  ہے ، تنہائی اور اضطراب میں مبتلا کرنے پر منتج ہونے والا ہر ایسا اقدام جو جذبات کی رو میں بہہ کر اور عجلت پسندی سے کام لے کر انجام دیا گيا ہو  اور جو اس معاشرے کو اضطراب ، تنزلی اور خوف و ہراس میں مبتلا کردے اور پہلے سے زیادہ انہیں ان کے اصلی حقوق سے محروم کر دے اور انہیں میدان عمل سے دور کردے۔ اس سے نہ صرف مشکل حل نہیں ہوگی بلکہ اس سے فاصلے مزید بڑھیں گے اور نفرتوں میں وسعت آئے گی۔ سطحی تدابیر اور رد عمل میں انجام دیئے جانےوالے اقدامات کا ،  خاص کر اگر ان کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے، سوائے موجودہ دھڑے بندیوں میں اضافہ کرنے اور آئندہ بحرانوں کا راستہ ہموار کرنے پرمنتہی ہونے کے علاوہ کوئي اور نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ ‘‘۔
کاش مغربی ممالک صہیونی لابیوں کے ہاتھوں اسیر نہ ہو کر انکے اشاروں پر ناچنے کے بجائے اپنے ملک اور اپنے باشندوں کی خبر لیتے اور حالات کا تجزیہ کرتے تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا لیکن انہیں مشرق وسطی میں سیاست سے فرصت نہیں کہ اپنے ملک کی طرف دھیان دیں۔
مقام افسوس ہے کہ یکے بعد دیگرے مغرب میں مسلسل ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جہاں انسان انسان کو مار کر اپنے معاشرہ میں پیدا ہونے والی جنھجھلاہٹ کو دور کر رہا ہے اور ساری دنیا تماشائی ہے کیا یہ مغرب کی بے بسی نہیں ہے وہ مشرق وسطی میں امن کی بات کرتے ہیں جبکہ اپنے ہی باشندوں کی جانوں کے تحفظ میں ناکام ہیں ۔اگر مغرب نے جلد ہی اس طرح کے واقعات کے سدباب کے لئے عملی چارہ جوئی نہ کی تو اسکے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/ت/۳۰۳/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2435

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے