پروفیسر لیزا اینڈرسن (Professor Lisa Anderson) کا تعارف - خیبر

کتاب ’’ایک سو ایک خطرناک پروفیسر‘‘ (۳)

پروفیسر لیزا اینڈرسن (Professor Lisa Anderson) کا تعارف

16 ستمبر 2018 17:31

پروفیسر اینڈرسن نے ’دھشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ یہ صرف امریکہ کے پاس ایک بہانہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے دوسرے ملکوں پر چڑھائی کرے ورنہ امریکہ خود ایک دھشتگرد ملک ہے

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، پروفیسر لیزا اینڈرسن مشرق وسطی اسٹڈیز ایسوسی ایشن یونیورسٹی کی سابق صدر اور ۱۹۸۶ سے کولمبیا یونیورسٹی میں سیاسی سائنس فیکلٹی کی رکن ہیں۔
اکیڈمک بیوگرافی (Academic Biography) کے میدان میں وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے شعبے میں ملک کی ایک اہم اسکالر کے عنوان سے متعارف ہوئیں۔ پروفیسر اینڈرسن نے صرف ایک کتاب “تیونس اور لیبیا میں سماجی اور ریاستی تبدیلیاں ۱۹۳۰ سے ۱۹۸۰ تک؛ (The state and social transformation in Tunisia and Libya, 1830-1980) تحریر کی ہے۔ وہ موجودہ دور میں کولمبیا انٹرنیشنل کالج کی چیف اور مشرق وسطیٰ میں انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
حالیہ سالوں میں ” مشرق وسطی اسٹڈیز میں ایڈورڈ سعید کے مقام” کی وجہ سے پروفیسر اینڈرسن کی آمدنی میں ۴ ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جو بطور کلی عرب ذرائع سے حاصل کی جاتی تھی۔ اگر چہ ایڈورڈ سعید اسلام اور مشرق وسطیٰ کے محقق نہیں تھے لیکن ایک ادبی اور اسرائیل مخالف محقق کے نام سے معروف تھے۔
اینڈرسن نے عوامی تنقید اور اس چیز کے باوجود کہ نیویارک کے قوانین کے مطابق انہیں اپنی ساری آمدنی کی رپورٹ حکومت کو دینا پڑتی انہوں نے اپنے مالی منابع کو کافی عرصے تک پوشیدہ رکھا۔ اس مقام پر براجمان کے لیے انہیں پروفیسر رشید خالدی نے انتخاب کیا جو یاسر عرفات کے حامیوں میں سے تھے اور آزادی فلسطین تنظیم کے سابق رکن تھے اور انہوں نے اسرائیل کو ایک نسل پرست ریاست کے نام سے متعارف کروانے کی کوشش کی۔
پروفیسر اینڈرسن کے لیے یہ عہدہ اس وقت تک پروفیسر رشید خالدی نے محفوظ رکھا جب تک وہ شیکاگو یونیورستی میں اپنے عہدے سے کنارہ گیری کرتے، انہوں نے کہا کہ انصاف سے کلمبیا یونیورسٹی میں ان سے بہتر کسی شخص کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا۔
پروفیسر اینڈرسن، جوزف میسیڈ (Joseph Massad )جو پی ایچ ڈی کے رسالے کی تدوین میں ان کے مشیر تھے کی مدد سے کلمبیا یونیورسٹی میں تدریس کے منصب کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ جوزف میسیڈ قائل ہیں کہ یہودی حکومت ایک نسل پرستانہ حکومت ہے لہذا اس کو جینے کا کوئی حق نہیں، اور یہ کہ فلسطینی خودکش حملے کرنے والے، سامراجیت مخالف مزاحمت کار ہیں۔ دوسری عالمی جنگ میں یہودی نازیوں کی جو پناہ گزیں کیمپوں میں صورتحال تھی وہی صورتحال موجودہ دور میں اسرائیلی عقوبت خانوں میں فلسطینیوں کی ہے۔ کولمبیا کے انٹرنیشنل کالج کی سیاسی فیکلٹی نے پروفیسر اینڈرسن کی سرپرستی میں اسرائیلی حکومت کی مذمت میں متعدد پروگراموں کا انعقاد کیا۔
مثال کے طور پر، ستمبر ۲۰۰۲ میں اس کالج نے انسٹی ٹیوٹ برائے مطالعات افریقہ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار بعنوان ’اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے جنوبی افریقہ کے نظریات‘ کی سرپرستی کی۔ پروفیسر اینڈرسن نہ صرف صہیونی ریاست کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں بلکہ امریکہ پر بھی سخت تنقید کرتی ہیں۔ پروفیسر اینڈرسن نے ’دھشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا کہ یہ صرف امریکہ کے پاس ایک بہانہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے دوسرے ملکوں پر چڑھائی کرے ورنہ امریکہ خود ایک دھشتگرد ملک ہے اور اس کا یہ کہنا کہ وہ دھشتگردی کے خلاف جنگ کر رہا ہے ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ وہ امریکہ کو اس جنگ میں ایک متجاوز کے عنوان سے پیش کرتی ہیں اور افغانستان اور عراق میں امریکہ کی فوجی کاروائی کو پورے خطے پر حملے کے مترادف سمھجتی ہیں اور کہتی ہیں کہ امریکہ اس کوشش میں ہے کہ خطے کے نقشے کو بدل کر اپنی مرضی سے اسے ترسیم کرے۔
تحقیق: Hugh Fitzgerald

…………

ختم شد/م/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=11901

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے