پروفیسر چومسکی کا مختصر تعارف - خیبر

موجودہ عالمی بحران، اور اسکی نشاندہی

پروفیسر چومسکی کا مختصر تعارف

۱۷ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۵:۵۰

نوم چومسکی کا شمار ان ممتاز ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے جن کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے ۔اپنے ہاتھ میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے اس دانشور نے بڑے ٹھاٹ اور کر و فر سے زندگی بسر کی ہے

اَورام ناؤم چومسکی (عبرانی: אברם נועם חומסקי) (پیدائش ۷ دسمبر ۱۹۲۸) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات ، فلسفی ، مؤرخ ، سیاسی مصنف، اور لیکچرار ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہیں اور اس ادارے میں پچھلے ۵۰ سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹرسائنس ، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔ وہ ۱۰۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ انکی ایک کتاب “دنیا کس طرح کام کرتی ہے” نے بڑی شہرت پائی۔

۱۹۶۷ء میں انہوں نے نفسیات کے شہرت یافتہ سائنسی کتاب بی ایف سكينر کی وربل بی هیوير کی تنقید لکھی جسے ۱۹۵۰ کی دہائی میں وسیع قبولیت حاصل ہوئی اس کتاب میں نظریہ کردار Behaviorism کے اصولوں کو چیلنج کیا گیا تھا، اس کے سبب كاگنيٹو نفسیات میں ایک طرح کے انقلاب کا آغاز ہوا، جس سے نہ صرف نفسیات کا مطالعہ اور تحقیق متاثر ہوئی۔ بلکہ لسانیات، سوشیالوجی و سماجیات ، انسانی نفسیات جیسے کئی شعبوں میں تبدیلی آئی۔

آرٹس اینڈ هيومنٹج ساٹیشن انڈیکس کے مطابق ۱۹۸۰-۹۲ کے دوران جتنے محققین اور علماء کرام نے چامسكي کو حوالہ دیا ہے اتنا شاید ہی کسی زندہ مصنف کو دیا گیا ہو۔ اور اتنا ہی نہیں، وہ کسی بھی مدت میں آٹھویں سب سے بڑے حوالہ کئے جانے والے مصنف ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفک انفارمیشن کے ایک حالیہ سروے کے مطابق تعلیمی کتب، تحقیق خطوط وغیرہ میں مارکس، لینن، شیکسپیئر، ارسطو، بائبل، افلاطون، اور فرائیڈ وغیرہ کے بعد چامسكی سب سے زیادہ حوالہ کئے جانے والے دانشور ہیں جو ہیگل اورسسرو سے بھی ارجاع و حوالہ دہی میں آگے ہیں .

دنیا بھر کی ممتاز جامعات میں نوم چومسکی نے توسیعی لیکچرز دئیے ہیں۔ان کی تصانیف لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوئی ہیں[۱]۔ نوم چومسکی کا شمار ان ممتاز ادیبوں اور مورخین میں ہوتا ہے جن کا سب سے زیادہ حوالہ دیا جاتا ہے ۔اپنے ہاتھ میں سونے کا قلم تھام کر افلاس کے عقدے حل کرنے والے اس دانشور نے بڑے ٹھاٹ اور کر و فر سے زندگی بسر کی ہے ۔دنیا بھر کے مفلس و قلاش، محکوم ،مظلوم و محروم طبقوں اور پس ماندہ اقوام کے غم میں درد انگیز نالوں سے لبریز تصانیف پیش کرنے والے اس مصنف نے مسلسل سات عشروں سے دکھی انسانیت کے ساتھ جو عہدِ وفا استوار کر رکھا ہے اسی کو حصول رزق بسیار کا موثر ترین وسیلہ بھی سمجھ رکھا ہے ۔اس نے بلاشبہ اپنی تحریروں سے اپنے قارئین کو ایک ولولۂ تازہ عطا کیا لیکن اس کی نجی زندگی کے شب و روز اور شاہانہ انداز کو دیکھ کر لوگ ششدر رہ جاتے ہیں۔ آخر سب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کواکب کی تابانی اور چکا چوند اپنی جگہ مگر ان کی اصلیت کچھ اور ہوتی ہے ۔

حوالہ
نوم چومسکی کی کچھ اہم تصنیفات : .Manufacturing Consent,1988,2.Understanding Power,2002,3.Hegemony or Survival,4.Chomsky on Anarchism,2005,5.Failed States,2006,6.Profit over People,1999,7.Necessary Illusions,1989,8.Who Rules the World?2016,9.Deterring Democracy,1991,10.The Fateful Triangle,1983,11.The Year 501,1992,12.Syntactic Structures,1957,13,How the World Works,2011,14.Language and Mind,1968,15.American Power and the New Mandarins,1969,16.Powers and prospects,1996,17.Hopes and Prospects,2010,18.Pirates & Emperors, Old & New,1986,19.Gaza in Crisis,2010,20.The Essential Chomsky,1999,21.
,۲۱٫Rethinking Camelot,1993,22.Because We Say So,2015,23.9-11
Book by Noam Chomsky,2001,24.The Chomsky Reader,1987,25.Aspects of the Theory of Syntax,1965,26.What Uncle Sam really wants,1992,27.Masters of Mankind: Essays and Lectures, 1969-2013,28.Imperial Ambitions,2005,29.The Prosperous Few and the Restless Many,1994,30.Rogue States: The Rule of Force in World Affairs,2000,31.Secrets, lies, and democracy,1994,32.On power and ideology,1987,33.The culture of terrorism,1988,34.The Washington connection and Third World fascism,1979,35.Propaganda and the Public Mind,2001,36.At war with Asia,1969,37.For Reasons of State,1973,38.The Sound Pattern of English,1968,39.Keeping the rabble in line,1994,40.World Orders Old and New,1994,41.What We Say Goes,2007,42.The New Military Humanism,1999,43.What Kind of Creatures Are We?2015,44.Government in the Future2005,45.Knowledge of Language: Its Nature, Origin, and Use,1986,46.Perilous Power. The Middle East and US Foreign Policy. Dialogues on Terror, …۲۰۰۶,۴۷٫Making the Future,2012,48.Problems of Knowledge and Freedom1971,49.Chomsky on Mis-Education,2000,50.On Palestine,2015.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/الف/ت/۶۰۴/ ۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2266

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے