پیغمبر اسلام (ص) کی ذات عطوفت و مہربانی کی سب سے بڑی تجلی گاہ - خیبر

پیغمبر اسلام (ص) کی ذات عطوفت و مہربانی کی سب سے بڑی تجلی گاہ

03 اپریل 2019 21:09

آنحضرت ( ص) نے فرمایا : مومنوں کو دیکھتے ہو کہ یہ ایک دوسرے سے مہر ومحبت میں ایک جسم کی مانند ہیں کہ اگر جسم کے کسی ایک حصہ میں درد ہو تو دوسرے حصہ کو بھی قرار نہیں رہتاہے ۔

خیبر تجزیاتی ویب گاہ: گزشتہ سے پیوستہ
اگر ہم پیغمبر اسلام ( ص) کی حیات طیبہ پر ایک نظر ڈالیں تو واضح طور پر ہمیں حق ، عدالت ، عشق ، رحمت ، جیسی حقیقتوںکے جلوے نظر آئیںگے اور ہم آپ کو مکارم اخلاق کو پایہ تکمیل تک پہونچانے والا اور ایسی رحمت کا مالک پائیں گے جو پوری انسانیت کو تحفہ میں عطا کیا گیا ہے ۔ چنانچہ امام علی علیہ السلام آپکے خصوصیات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ایک حاذق اور تجربہ کارطبیب جس نے اپنے مرہم کو خود ہی تیار کیا اور اپنے دیگر آلات طبابت کو اس طرح تیار کیا جس کے ذریعہ دل کے اندھوں بہروں اور گونگوں کو شفامل گئی ( نہج البلاغہ صبحی صالح ، ١٥٦)
” اور محمد( ص) بیشک خدا کی طرف سے بھیجے گئے رسول اور اسکے پاک و صاف بندہ ہیں، انکے فضل اور انکی بزرگی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، انکے فقدان کوکوئی چیز پورا نہیں کر سکتی ہے ، یہ دنیا گمراہی اور ضلالت کے بعد انہیںکے پرتو سے روشن ہوئی اورجہل و جفا کاری و ظلم و انحطاط اس سرزمین سے انہیں کے وجود کی بنا پر ختم ہوا ۔ ( ایضا ص٢١٠)
”آپ زمین پر بیٹھتے تھے اور ایک بندہ کی طرح کھاتے تھے ، دو زانو ہو کر زمین پر بیٹھتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی جوتیاںٹانکتے تھے۔ اپنے پھٹے ہوئے لباس کو خود ہی سیتے تھے ، برہنہ و بغیر پالان کی سواری پر سوار ہوتے تھے اور کسی اور کو بھی اپنے پیچھے بٹھاتے تھے ۔ (ایضا ٢٢٩) آپکی زندگی میں پائی جانے والی رحمت و عطوفت کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں :
۔ ابن مسعود سے نقل ہے ” ہم پیغمبر( ص) کو دیکھتے ہیں کہ آپ کسی پیغمبر کی داستان کو بیان کرتے تھے کہ جنکی قوم نے انہیں اذیت دی اور ستایا اور وہ اس حال میں کہ خون اپنے چہرے سے صاف کر رہے ہوتے تھے کہتے تھے ” پروردگار ! میری قوم کو بخش دے کہ یہ لوگ جاہل اور نا سمجھ ہیں ” ( ابن حنبل ، وہی مدرک ،جلد ١ ص ٤٤١ ،و مسلم ، جلد ٣ ، ص ١٩١٧ ، و ج ١٧٩٢) یہ پیغمبر ( ص) کی وہی رحمت و عطوفت ہے جو اپنی حد سے گزر جانے والے کافروں کو بھی شامل ہے۔
۔ جابر بن سمرة سے روایت ہے ” میں رسول اللہۖ کے ساتھ پہلی نماز کو بجا لایا، بعد نماز آپ ۖ اپنے گھر والوں کے پاس گئے، میں بھی آپ کے ساتھ ہو لیا ، دو فرزندوں نے آپکا بڑھ کر استقبال کیا ، آپ نے دونوں بچوں کے رخساروں پر جس طرح شفقت سے ہاتھ پھیرا میرے بھی رخساروں پر ویسے ہی ہاتھ پھیرا اور میں نے آنحضرت ۖ کے ہاتھوں میں ایسی خوشبو محسوس کی گویا آپ نے ان ہاتھوں کو ابھی کسی عطر کے چرمی تھیلے سے باہر نکالا ہو ( مسلم ِ جلد ٤، ص ١٨١٤ ۔ح٨٠)
۔ آنحضرت ( ص) نے فرمایا : مومنوں کو دیکھتے ہو کہ یہ ایک دوسرے سے مہر ومحبت میں ایک جسم کی مانند ہیں کہ اگر جسم کے کسی ایک حصہ میں درد ہو تو دوسرے حصہ کو بھی قرار نہیں رہتاہے ۔ ( مسلم ، وہی مدرک ، ص ١٩٩٩ح ٦٦و مجلسی ، ج، ٧٤، ص ٢٧٤) اور اس طرح مومنین کے مابین محبت آمیز اور پائدار تعلق قائم رہتا ہے ۔
۔ اور دوسرے مقام پر آپ فرماتے ہیں : اگر کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ( امامت کرے) تو اتنا طول نہ دے کہ نمازیوں کے درمیان اگر کوئی ناتوان اور بوڑھا یا بیمار شخص پایا جاتاہو تو اسے دقت ہو، اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہے تو جس قدر چاہے نماز کو اپنی مرضی کے مطابق طول دے سکتا ہے ( مسلم ، ج ، ١، ص ٣٤١، ح ١٨٥، و تہذیب الاحکام ، ج، ٣، ص ٢٨٣، ح ، ١١٣٩) .
۔ ”مالک بن الحویرث ” نے روایت کی ہے کہ ” ہم چند ہم سن جوان پیغمبر ( ص) کی خد مت میں حاضر ہوئے اور بیس شب حضور کی خدمت میں رہے آنحضرتۖ کو یہ گمان ہوا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد آ رہی ہے ،انہوں نے ہمارے گھر والوں کے بارے میں ہر ایک سے الگ الگ سوال کیا اور ہم میں سے سب نے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتایا۔ آپ بہت مہر و محبت کرنے والے تھے آپ نے فرمایا : اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائو اور انہیں اسلامی تعلیمات سکھائو اور جس طرح تم نے مجھے نماز کی حالت میں دیکھا ہے ویسے ہی نماز پڑھو اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے ایک اذان کے لئے کھڑا ہو جائے پھر جو تم میں سب سے بڑا ہے وہ نماز کی امامت کرے ( مسلم ،گزشتہ حوالہ ص ٤٦٥،ح ٤٦٦ و علل الشرائع ، ص ٣٢٦ ،ح ٢ )
۔ اسیروں کو آنحضرت( ص) کی خدمت میں لے کر آئے ان کے درمیان ایک ایسی عورت بھی تھی جس کاسینہ دودھ سے بھراتھا جب بھی وہ کسی بچے کو دیکھتی تو اپنے سینہ سے چمٹا لیتی اور دودھ پلانا شروع کر دیتی پیغمبر( ص) نے فرمایا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ اس عورت نے اپنے بچے کو آگ میں ڈال دیا ہے اصحاب نے کہا نہیں ، وہ یہ کام نہیں کر سکتی ، حضرت ۖ نے فرمایا خدا وند متعال اپنے بندوں پر اس عورت کی اپنے فرزند کے لئے مہربانی سے زیادہ مہربان ہے ( مسلم ، ج، ٤، ص ٢١٠٩، ح ٢٢، المعجم الصغیر ، ج ، ١، ص ٩٨ )
۔ احد کے واقعہ کے دوران فرشتوں نے آنحضرتۖ کو پیغام دیا کہ اگر آپ چاہیں تو دشمنوں کے لئے نفرین وبد دعا کار ساز ہو سکتی ہے ، حضرت( ص) نے فرمایا : نہیں میں ایسا نہیں کرنا چاہتا میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ خدا انکے درمیان ایسے لوگوں کو دنیا میں پیدا کرے جو خدائے واحد کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں ( شرح السنہ البغوی ، جلد ١٣ ص ٣٣٣، ٢١٤ )
۔ رسول خدا ( ص) نے فرمایا : ایک کتا جو پیاس کی شدت سے مر رہا تھا ، بنی اسرائیل کے ایک دیہاتی نے اسکی حالت پر ترس کھا کر اسے پانی پلایااور اسکی جان بچا لی اور وہ دیہاتی اسی کام کی وجہ سے بخش دیا گیا ( بخاری ، ج، ٣ ، ص ١٢٧٩ ، ح ٥٢ ، ص ١٧٦١، ح ١٥٥)
۔ اسامہ بن زید نے روایت کی ہے ” پیغمبر خداۖ مجھے ایک زانو پر بٹھاتے تھے اور حسن ابن علی کو دوسرے پر پھر ہم دونوں کوقریب کر کے فرماتے تھے ” پروردگار ان پر اپنی رحمتیں نازل کر میں بھی ان کے ساتھ مہربان ہوں ( بخاری ، جل ، ٥، ص ٢٢٣٦، و شیخ صدوق ، ص ٣٤ ، ح ١٥٣)
۔ آنحضرت( ص) نے ایک جنازہ پر نماز پڑھی اور فرمایا : خدایا اس کو بخش دے اور اس پر اپنی رحمتیں نازل کر ( مسلم ، ج، ٢، ٦٦٢،ح ٨٥، فقہ الرضا ، ص ١٩، عوالی اللئالی ، ج، ٢ )
۔ حضرت (ص) نے فرمایا: ”میں محمد احمد .لوگوں کو جمع کرنے والا پیغمبر توبہ اور پیغمبر رحمت ہوں ( مسلم، ج، ٤، ص ١٨٢٨، ح، ١، ص ١٢٨، ح٢، مجلسی ، ج، ١٠٣، ص ١٠٤)
۔ ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا : خداوند سبحان اس پر رحم نہیں کرتاہے جو لوگوں پر رحم نہ کرے ( بیھقی ، ج، ٩ ، ص ٤١، ری شہری ، ج، ٤، ص ١٤١٦)
۔ آنحضرت( ص) سے کہا گیا ” ائے رسول خدا مشرکین کے لئے بد دعا کر دیں آپ نے فرمایا میں بد دعا کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ میں دونوں عالم کے لئے رسول رحمت ہوں ( مسلم ، ج، ٤، ص ٢٠٠٦ ، ح ٨٧، ری شہری ، ج ، ٩ ص ٣٦٨٤ ، ح ١٨٢٣٤)
نتیجہ گفتگو :
یہ وہ چند ایک نمونے تھے جن پر ہم غور کریں گے تو بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر ہماری خوشیاں منانے کا انداز ہی دوسرا ہو جائے گا ہم بعثت کی محفلوں میں ایک دوسرے سے تبرک یا دیگر چیزوں میں مادی طور پر بازی مار لے جانے کی تگ و دو میں رہ رہ کر سوچیں گے کہ ہم کیا کریں کہ اخلاق حسنہ اور مہربانی و عطوفت میں دوسروں سے بازی لے جائیں ، یقینا بعثت کے اس پر مسرت موقع پر ہمارے سامنے اگر اسلامی جمہوریہ ایران کے سیلاب سے متاثرین کی تصویر سامنے ہو گی تو ہمیں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم فورا اقدام کریں گے کہ یہی ہمارے وجود کی مہربانی اور ہماری عطوفت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے برادران ایمانی کے مشکل وقت میں انکے کام آئیں ۔
منابع و مآخذ ۔
١۔ ابن ابی جمھور ، عوالی اللئالی ، تحقیق : مجتبی عراقی ، مطبعة سید الشہداء .قم ، چاپ اوال ، جلد ٢، ٣، ١٤ .
٢۔ ابن حنبل ، احمد ، مسند، دار صادر ، بیروت ، جلد ٢.
٣۔ ابن ہشام ، السیرة النبویہ ِ دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ سوم ، جلد ٣ ، ١٤٢١
٤۔ ابو دائود ، السنن ، تحقیق : محمد محی الدین عب الحمید ، دار الفکر ، بیروت ، جلد ٤ .
٥۔ بخاری ، صحیح ، بخاری ، تحقیق، قاسم الشعاعی ، دارلقلم ، بیروت ، چاپ اول ، ج، ١،٢،٣،٥، ١٤٠٧.
٦۔ بغوی ، شرح السنة ، تحقیق: سعید اللحام ، دار الفکر ، بیروت، جلد ١٣، ١٤١٩
٧۔ بیھقی ، ابوبکر، سنن بیہقی ، دار المعرفة ، بیروت جلد ٦
٨۔ بیہقی ، ابوبکر ، سنن بیہقی ، دار المعرفة ، بیروت جلد ٨،و٩
٩ ۔ ثواب الاعمال جلد ١
١٠ ۔ حاکم نیشابوری ، مستدرک الھاکم ، تحقیق، مصطفی عبد القادر عطاء دار الکتب العلمیہ، بیروت ، چاپ اول ، ج، ١،و ٤، ١٤١١۔
١١۔ رازی ، تفسیر ابی الفتوح الرازی ، شرکت بہ نشر ، مشہد چاپ سوم جلد ٢ ، ١٣٨١
١٢۔ راغب اصفہانی ، مفردات ، تحقیق: حقوان دائودی ، نشر ذوی القربی ، قم
١٣۔ ری شہری ، محمد ، میزان الحکمہ ، دار الحدیث ، قم ، چاپ اول ،جلد ٩، ١٠، ١٤٢٢ھ
١٤۔ زیلعی ، نصب الرایہ ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ سوم ، جلد ٣، ١٤٠٧
١٥۔ شیخ صدوق ، الخصال ، تحقیق : ولی اکبر غفاری ، موسسہ النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین ، قم ، جلد ٢،٣ .١٤٠
١٦۔ ثواب الاعمال ، موسسہ الاعلمی ، بیروت ، چاپ چہارم ، جلد ٢ ، ١٤١٠
١٧۔ شیخ صدوق ، علل الشرائع ، مکتبة الداوودی ، قم جلد ١
١٨۔ شیخ طوسی ، تہذیب الاحکام ، دارالکتب الاسلامیہ ، تھران ، چاپ چہارم ، جلد ٣ ، ١٣٦٥
١٩۔ صبحی صالح ، نھج البلاغہ ، دار الکتب اللبنانی ، بیروت
٢٠۔ طبرانی ، معجم الصغیر ، المکتبة السلفیہ ، مدینة منورہ جلد ١
٢١۔ فقہ الرضا ، الموئتمر العالمی لامام الرضا ، مشہد ، چاپ اول ، جلد ١٩ ، ١٤٠٦
٢٢۔ قاضی نعمان، دعائم الاسلام ، تحقیق: آصف بن علی اصغر فیض ، دارالمعارف ، قاہرہ ، چاپ دوم ،
جلد ١،و ٢،١٣٨٥،ق
٢٣۔ کلینی ، الکافی ، تحقیق: علی اکبر غفاری ، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران ، چاپ سوم ، جلد ٢
٢٤۔ مجلسی ، محمد باقر ، بحار الانوار ، موسسہ الوفاء بیروت ، چاپ ، دوم ، جلد ١ ،١١،٦١، ٢٠، و ١٠٣،١٤٠٣.
٢٥۔ مسلم ، صحیح مسلم ، تحقیق: محمد فواد عبد الباقر ، دار الاحیاء التراث العربی ، بیروت ، چاپ دوم ، جلد ١، ٢، ٣، ٤، ١٩٧٢،م
٢٦۔ نوری مستدرک الوسائل ، موسسہ آل البین لاحیاء التراث ، بیروت ، چاپ اول ، جلد ٨، ١٢، ١٨، ١٤٠٨.
٢٧۔ واقدی ، المغازی ، تحقیق، دمارمدن ، جونس ، مرکز النشر فی مکتب اعلام الاسلامی ، ایران ، جلد ١،و٢، ١٤١٤.
٢٨۔ ورام ، تنبیہ الخواطر، دار الکتب الاسلامیہ ، تہران،چاپ دوم جلد١ ١٣٦٨۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=20105

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے