ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ، امریکی وجود کو خطرہ - خیبر

ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ، امریکی وجود کو خطرہ

07 اپریل 2019 00:15

روس، چین، ہندوستان اور جاپان بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے ڈالر کے ذخائر کو کم کر رہے ہیں، احتیاط اس لئے کہ معاشی بدامنی کا احساس ستانے نہ پائے؛ لیکن وہ بڑے استحکام اور تسلسل کے ساتھ یہ کام سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی بالادستی کے دن گنے جاچکے ہیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ عراق کی جنگ کا ہارا ہوا سپاہی ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو آج کے مشرق وسطی میں امریکی موقف کا تعین کررہا ہے؛ صدام کی افواج کو نیست و نابود کرنے کے بعد، ابوغریب کی شرمناک داستان اور اس کے زائل نہ ہونے والی رسوا کن تصاویر کی اشاعت کے بعد، فلوجہ کی مکمل تباہی نیز اس علاقے میں درندگی، خونخواری اور سنگ دلی کے ناقابل بیان واقعات رقم کرتے ہوئے عراقیوں کی توہین و تحقیر کی قیمت پر، ناقابل ذکر کامیابی کے بعد، امریکہ نے عراق کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ بعد ازاں مبینہ “باغی” ظہور پذیر ہوئے جو دھماکہ خیز مواد سڑکوں کے کنارے نصب کرکے ایک موبائل سیٹ کے ذریعے امریکی گشتی دستوں کو دھماکے سے اڑا سکتے تھے؛ انھوں نے کار بموں کا انتظام کیا جن کے ہوتے ہوئے کسی بھی ناکے کے قریب آنے والی کوئی بھی گاڑی موت کا پیغام لا سکتی تھی۔ انھوں نے دھماکہ خیز جیکٹ پہن کر امریکی سپاہیوں کے بیچ پہنچ کر خودکش دھماکوں کا انتظام کیا۔
امریکی فوجی سڑکوں پر ظاہر نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ ان کی کوئی بھی حرکت ان کی زندگی کی آخری حرکت ثابت ہوسکتی تھی؛ دشمن ہر جگہ تھا اور کہیں بھی نہیں تھا۔ یہ لوگ موت کو ترجیح دیتے تھے اور اس زمانے میں مشینوں اور ہتھیاروں سے لیس احمق بربر [امریکی] ان پر حکومت کرتے تھے۔ ہر چیز بظاہر پرسکون اور پرامن تھی لیکن اچانک کسی لمحے نہ معلوم کہاں سے دھماکوں سے پھٹ کر ٹکڑوں میں تبدیل ہوسکتے تھے۔ یہ روش انسان کو فرسودہ کردیتی ہے۔ ان کے گشتی سپاہیوں کا مشن روسی رولیٹ گیم کے بےمقصد کھلاڑیوں کی طرح “تلاش کرو اور نظرانداز کرو” (Search and avoid) جیسے محدود مشن میں تبدیل ہوا۔ زندگی چڑچڑے اور غیرلچکدار بھوتوں کے بغیر چل رہی تھی؛ امریکی فوجی اڈے ایڈز کے مریضوں کے بدن میں موجود کاپوسی سارکوما (Kaposi’s sarcoma) نامی غدود میں بدل چکی تھی۔ تعمیرنو کی امریکی کوششیں نہایت مضحک انداز سے ان کی نااہلی کو نمایاں کررہی تھیں؛ سڑکیں جو کہیں بھی اختتام پذیر نہیں ہورہی تھیں اور کچھ پولٹری فارمز جہاں پیدا ہونے والے مرغوں کا کوئی خریدار نہ تھا۔
المختصر، عراق پر امریکی قبضہ، [ظاہری] فتح کے بعد، مضحک نااہلی سے عبارت ایک ‏عظیم مصیبت میں بدل چکا تھا۔ شیعہ عالم دین مقتدا صدر امریکیوں سے زیادہ طاقتور تھے۔ آخرکار عراقیوں نے امریکی فوجی اڈوں کی حیثیت سے متعلق مفاہمت نامے کو مسترد کردیا۔ بالفاظ دیگر، وہ عراقی قوتیں جو امریکہ کی مدد سے برسراقتدار آئی تھیں ان ہی نے امریکیوں کو بغیر کسی وداعی تقریب کے، لاتیں مار مار کر عراق سے نکال باہر کیا۔
اس زمانے تک امریکہ ہمیشہ سے حفاظتی شوروغوغا بپا کرتا رہا تھا، لیکن جب عراق ہاتھ سے نکلا تو یہ خطرات بہت کم معقول لگتے تھے۔ کھیل یہ تھا: تیل کو ڈالر میں فروخت کیا جانا چاہئے۔ اس شور و غوغا نے ـ جس کو “ڈالر کی بالادستی” (Dollar hegemony) کہا جاتا ہے ـ امریکہ کو نوٹ چھاپنے کی اجازت دے دی۔ تیل ہوگیا تھا ڈالر کا سہارا، جیسا کہ اس سے سونا اس کا سہارا ہوا کرتا تھا۔ حکومتیں مجبور تھی کہ “ہنگامی” سے بچنے کے لئے ڈالر کا بڑا ذخيرہ فراہم کریں اور ہنگامی جالات وہ حالات تھے جب ان کے زر مبادلہ پر سٹے بازانہ یلغاریں ہوتی تھیں۔ سٹے بازانہ حملوں اور اپنے زرمبادلہ میں [بیرونی] دست اندازیوں سے بچنے کے لئے، دنیا بھر کے مرکزی [یا اسٹیٹ] بینکوں کو اپنے ملک کے اندر گردش میں موجود قومی زرمبادلہ کی مقدار کے برابر ڈالر کا ذخیرہ رکھنا پڑتا تھا۔
امریکہ ڈالر کی بالادستی کو فوجی دھمکیوں کے ذریعے نافذ کرتا ہے۔ عراق پر حملے کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ صدام ڈالر کی بالادستی تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ صدام نے تیل یورو میں فروخت کرنا شروع کیا تھا۔ امریکہ پر لازم تھا کہ عراق کو روک لیتا چنانچہ اس نے عراق پر حملہ کیا اور فتح پاتے ہی اس پالیسی کو پلٹ دیا۔ ڈالر کی بالادستی واپس آئی لیکن “عراق میں شکست” سے واضح ہوا کہ امریکہ کے تحفظ کے لئے ہونے والا شور شرابہ محض ایک گمراہ کن فریب سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اچانک نوبت یہاں تک پہنچی کہ امریکہ کی دھمکیاں مزید کسی کو قائل کرنے سے عاجز ہوئی تھیں۔
ایران نے پابندیوں کی بنا پر سنہ ۲۰۰۷ع‍ سے اپنا تیل دوسری کرنسیوں میں بیچنا شروع کیا تھا۔ امریکہ ایران پر جارحیت کرنے والا نہیں تھا! نقشے پر ایک نگاہ ڈال کر ایران پر کسی قسم کے امریکی حملے کے المناک نتائج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دشمنی آغاز ہوتے ہی، حتی ایک گولی چلنے سے پہلے، کسی کو بھی یقین نہيں تھا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی تیل بردار جہاز گذرسکے گا یا نہیں جبکہ تیل بردار جہازوں کے مالکین بیمے کے بغیر اپنے جہاز اس آبنائے سے گذارنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے تھے۔ دشمنی کے آغاز سے ہی کم از کم ۲۰ فیصد تیل عالمی منڈی سے غائب ہوجاتا۔ عالمی معیشت کمزور ہوکر اس بار افراتفری اور انارکی کا شکار ہوتا۔ امریکہ کے پاس کوئی بھی راستہ نہیں تھا کہ عراق کی دلدل میں دھنس جانے کے بعد ایران پر قبضے کا بھی منصوبہ بنا سکے۔ بحرین میں تعینات پانچویں امریکی بحری بیڑے کی حفاظت کے لئے کوئی راستہ نہیں تھا [جو در حقیقت امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے یہاں تعینات کیا جا چکا تھا مگر اب اسے خود تحفظ کی ضرورت تھی] امریکیوں کو خلیج فارس کے ہر نقطے میں محتاط ہونا پڑتا۔ اگر ایرانی امریکی بیڑے کو تباہ کرتے تو امریکہ اس جنگ کا ہارا ہوا فریق ہوتا؛ مگر یہ کہ اس ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کا نشانہ بناتا!! اور اس صورت میں تیسری عالمی جنگ شروع ہوجاتی اور محض مخبوط الحواس دیوانوں کو اس طرح کے منصوبے سوجھ سکتے ہیں۔
امریہ نے طویل عرصے تک بڑی آسانی سے ـ اور محض نوٹ چھاپ کر ڈالر کی بالادستی سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ امریکہ نے ہر سال روزافزوں تجارتی خسارہ ریکارڈ کروایا تھا۔ چین، جاپان اور تمام دوسرے ممالک اگر تیل کی خریداری اور قوم زر مبادلہ محفوظ رکھنے کے لئے ڈالر کا بڑا ذخیرہ محفوظ رکھنا پڑتا تھا۔ یہ درحقیقت امریکہ کے لئے ان ان قرضوں کی طرح ہیں جو کبھی واجب الاداء نہیں ہونگے”، لیکن اگر یہ ممالک دوسری کسی کرنسی بروئے کار لاسکتے تو یقینا ڈالر کے ذخائر کے شر سے جان چھڑا لیتے، کیونکہ وہ واحد چیز جو ان ذخائر کو افراط (Inflation) سے محفوظ رکھتی تھی، ڈالر کی بالادستی اور ڈال کر حاصل تیل کی پشت پناہی تھی۔ ایران کا ڈالر کے بغیر دوسری کرنسیوں میں کاروبار تجارت، ایک بڑے بند (ڈیم) میں چھوٹا سا سوراخ بنانے کے مترادف ہے۔ [ایران نے یہ سوراخ بنا دیا اور دوسرے ممالک کو بھی پیغام ملا کہ ڈالر کے بغیر بھی تجارت ہوسکتی ہے، جس کے بعد دوسرے ممالک بھی میدان میں کود پڑے مگر قلمکار کے بقول بڑی احتیاط سے ڈالر کے ذخائر سے جان چھڑانے لگے ہیں۔]
روس، چین، ہندوستان اور جاپان بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے ڈالر کے ذخائر کو کم کررہے ہیں، احتیاط اس لئے کہ معاشی بدامنی کا احساس ستائے نہ پائے؛ لیکن وہ بڑے استحکام اور تسلسل کے ساتھ یہ کام سرانجام دے رہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی بالادستی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ فطری سی بات ہے کہ سعودی عرب بھی دیکھ رہا ہے کہ کیا کچھ ہورہا ہے اور کیا کچھ ہونے جا رہا ہے، یہ ملک بھی [ہزار مجبوریوں کے باوجود] ڈالر کا دلدادہ نہیں ہے۔ جب تک کہ وہ [سعودی اور دوسرے عرب حکمران] دیکھتے ہیں کہ امریکہ انہیں ایران سے ـ اور البتہ اپنے آپ سے ـ بچا رہا ہے، تو وہ بھی ڈالر کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ مزید ڈالر کی بالادستی کے نفاذ سے عاجز ہوا ہے چنانچہ کل کلاں اگر ڈالر کی بالادستی ختم ہوئی تو سعودیوں کے تیل سے کمائے ہوئے ڈالروں کی قدر میں شدید کمی آئے گی۔ بالخصوص جب سے ٹرمپ نے خاشقجی کے قتل کے پر ان کی سرزنش کی ہے، وہ تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں۔ شیطان شیطان، محمد بن سلمان۔ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ انہیں ایران سے بچا نہيں سکے گا اور وہ خوفزدہ ہیں۔
امریکہ اپنی حد تک عراق میں اپنی شکست قبول کرنے سے پہلو تہی کررہا ہے، اگرچہ اس کی کمزوری مکمل طور پر آشکار ہوچکی ہے۔ امریکہ بدستور ڈالر کی بالادستی اور اس کے تحفظ کے لئے شورشرابہ جاری رکھنا چاہتا ہے؛ جبکہ ڈالر کی بالادستی کا خاتمہ امریکہ کے لئے سر دست ایک نقد خطرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ان ڈالروں کے عوض ضمانتیں، تمسکات (securities) کے سودے کئے ہیں جو کاغذ کے کچھ پرزوں یا مرکزی بینک کے چند رمزی حروف (code words) کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ پھر [امریکہ] ان ڈالروں کو عسکری شعبوں میں خرچ کرتا ہے۔ امریکی مرکزی بینک ہر اس ملک کو ڈالر کہلوانے والی یہ کاغذی یا رمزی ضمانتیں فراہم کرسکتا ہے جو ڈالر پر ایمان رکھتے ہیں۔ کافی اچھا پیشہ ہے بشرطیکہ آپ اسے سرانجام دے سکیں لیکن ان ضمانتوں کی حقیقت حاصلہ قرضے ہیں۔
امریکہ اس قدر مقروض ہو رہا ہے کہ اسے ہر سال تقریبا ایک ٹریلین ڈالر (۱۰۰۰ ارب ڈالر) قرضہ جاتی سروس کو ادا کرتا ہے؛ ایسا کرنے کے لئے آپ کو مزید ڈالر چھاپنا پڑیں گے اور مزید ضمانتیں بیچنا پڑیں گی۔ دھوکہ دہی کے اس پونزی اسکیم (Ponzi scheme) پر اعتماد جھلملا سکتا ہے! اگر ہر کوئی ڈالر کی ضمانتیں حاصل کرے تو امریکہ کو مزید ڈالر چھاپنا پڑیں گے اور مزید ضمانتیں بیچنا پڑیں گی تا کہ ڈالر خرید سکے؛ بصورت دیگر ان کی قدر و قیمت گر جائے گی۔ لیکن کیا رمزی حروف کی شکل میں یہ ڈالر کسی حقیقی شیئے کی خریداری کے کام آسکیں گے؟ کیونکہ اگر یہ رقم کچھ خریدنے کے کام نہ آسکے تو منڈی میں اس کا کوئی خریدار بھی نہ رہے گا۔ اس صورت میں ضمانتیں اپنی قدر و قیمت کھو جائیں گی، اگر امریکہ کی یہ ضمانتین قدر و قیمت کھو جائیں تو ڈالر کی قدر و قیمت بھی ختم ہوجائے گی۔۔۔ الوداع امریکہ ۔۔۔
مکھیوں کے چھتے کی ذہنیت شُتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبا کر حقائق سے آنکھیں چرا کر بڑی سادگی سے ہر حقیقت کا انکار کرتی ہے، کہ “امریکہ عراقی جنگ ہارا نہيں ہے، امریکہ نے مشرق وسطی میں اپنی ساکھ نہیں کھویا اور ڈالر کی بالادستی کا احیاء بھی ممکن ہے اور امریکہ بالآخر ایران پر حملہ بھی کرسکتا ہے”؛ ڈالر کی بالادستی کی دوربارہ بحالی کے لئے ایسی دنیا کی ضرورت ہے جس میں کہ ہمپٹی ڈمپٹی (Humpty-Dumpty) خود کو پاتا ہے۔
[امریکیوں کا خیال ہے کہ] اگر صرف ایران کو ڈالر کی بالادستی کے دائرے میں واپس لایا جائے تو ہر چیزی اپنی پہلی کی سی حالت کی طرف پلٹ سکتی ہے۔ سنہ ۲۰۱۲ع‍ میں امریکہ نے عالمی مالیاتی مواصلاتی سوسائٹی (سوفٹ نظام) (۱) تک ایرانی بینکوں کی رسائی پر پابندی لگا دی اور یوں اس عالمی پیغام رسان نظام کو ایران کے خلاف ڈالر کی بالادستی سے نکل جانے کی سزا کے طور پر استعمال کیا۔ یہ پہلی مرتبہ تھی جب اس نظام کو ایک سیاسی اوزار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سوفٹ نے ایرانی اثاثوں کو منجمد کردیا اور اس اعتبار و اعتماد کو ـ بین الاقوامی بینکاری ـ کے لئے ضروری تھا ـ تباہ کردیا۔ اس کے باوجود ایران نے ناقابل یقین انداز سے اپنا سفر جاری رکھا۔ اب امریکہ کو ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں بین الاقوامی معاہدے “مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (۲) سے الگ ہونا تھا جو اس معاہدے کے دوسرے دستخط کنندگان کے لیے بہت فائدہ مند تھا۔ ایران پر امریکی پابندیوں کی پیروی امریکی اور یورپی مفادات کے درمیان کشمکش با باعث ہورہی ہے۔
ڈالر کی بالادستی کے بغیر، ڈالر شدید افراط زر (hyperinflation) کا سامنا کرے گا جو امریکہ کو ویرانے میں بدل دے گا۔ چنانچہ امریکہ نے سوچا کہ ڈالر کی بالادستی کی بحالی کے لئے ایران کو
ڈالر کے دائرے میں لانا چاہئے۔ اس زمانے میں اوباما نے مذکورہ معاہدے پر دستخط کئے؟ حقیقت یہ ہے کہ اوباما نے حسن روحانی اور ان کی جماعت کے لئے یہ کام کیا۔ حسن روحانی ایرانی صدر کے طور پر [امریکیوں کے خیال میں] “اعتدال پسند” تھے اور احمدی نژاد کے جانشین کے طور پر برسراقتدار آئے تھے۔ احمدی نژاد یہاں تک غیر لچکدار تھے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات تک کو ٹھکرا دیا تھا اور وہ بلاواسطہ طور پر ڈالر کی بالادستی کے خاتمے کو خواہاں تھے۔ روحانی نے یہ کہہ کر انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی کہ “وہ پابندیوں سے جان چھڑانے کے لئے امریکہ سے مذاکرات کریں گے”۔ اوباما کو ان کی مدد کرنا چاہئے تھی تاکہ وہ ایران کو ڈالر کی بالادستی کے دائرے میں واپس لے آئیں۔ شاید تختہ پلٹ (coup d’etat) کی ایک چھوٹی سی قسم!۔
اوباما کو امید رکھنا چاہئے تھی کہ “روحانی تہران میں ہمارے آدمی میں بدل جائیں گے”، جوہری معاہدہ، جس نے کچھ پابندیوں سے ایران کو نجات دلائی تھی، ایران کو باور کروا سکتا تھا کہ اگر یہ ملک امریکی خواہشات کی متابعت کرے، خاص کر ڈالر کی بالادستی تسلیم کرنے کی طرف آگے بڑھے تو یہ ایران کے لئے بہت اچھا ہوگا۔ روحانی وہی شخص تھے جنہوں نے وعدہ دیا تھا کہ امریکہ کی دوبارہ قربت کی وجہ سے ایران کو اچھی چیزیں مل سکتی ہیں۔ اور جوہری معاہدے پر کامیاب مذاکرات کے نہ ہونے کی صورت میں، روحانی انتخابات میں شکست سے دوچار ہوجاتے۔
ایران کے ساتھ حقیقی معاہدے تفصیلات ـ جوہری تحقیقات اور یورینیم کی افزودگی کے سلسلے میں چھوٹی چھوٹی قدغنوں کے ہمراہ، ـ سایوں کے ایک لامتناہی نمائش میں بدل چکی تھیں۔ آخرکار اوباما نے روحانی سے ایک چیز مانگی جو وہ انہیں دے سکتے تھے۔ بہر حال یہ سب سب سایوں کا ایک کھیل تھا کیونکہ ایران نے کبھی ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ ہی نہیں بنایا تھا۔ امریکہ کی تمام خفیہ ایجنسیوں نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کا منصوبہ سنہ ۲۰۰۳ع‍ میں ہی ترک کردیا ہے؛ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کا ایسا کوئی پروگرام تھا ہی نہیں۔ جدید قدامت پسند (neoconservatives) نے سایوں کے اندر شکایت کر ڈالی کہ اوباما حد سے زیادہ رعایتیں دے رہے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے یہی کچھ کیا۔ ایرانی فریق میں احمدی نژاد نے کہا کہ جو کچھ اوباما دے رہے ہیں وہ غیر مؤثر اور بہت کم ہے۔
بہرحال ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود، دونوں جماعتوں نے مختلف شرائط کی وضاحت کی، مذاکرات کو لامتناہی انداز سے طویل عرصے تک جاری رکھا، احتیاط کے ساتھ کام کیا اور ایسا مسودہ تیار کیا جو دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ یہ سب کچھ ایسی صورت حال پیدا کرنے کے لئے ہوا جس سے روحانی کو تقویت پہنچ سکتی تھی اور اوباما کے لئے بھی سہارا بن سکتی تھی۔ امریکہ کی طرف سے [وعدوں کے برعکس] محض کچھ ہی پابندیاں اٹھانے میں حقیقت تھی۔ یہ روحانی کی جیت تھی اور اس کے عوض اوباما کو امید تھی کہ روحانی ایران کو ڈالر کی بالادستی کی قلمرو میں پلٹا دیں گے یا کم از “ایران کی اس قلمرو میں واپسی کے لئے راستہ ہموار کریں”۔
لیکن روحانی نے اصولا ایسا کام نہیں کیا یا وہ ایسا نہ کرسکے! گوکہ وہ ایران کو مغرب کے قریب لانا چاہتے تھے لیکن وہ ڈالر کی بالادستی بحال کرنے میں ناکام رہے۔ جب روحانی نے وہ کچھ نہ کیا جس کی امریکہ کو امید تھی تو امریکہ نے انہیں بھی اور جوہری معاہدے کو بھی، اپنے حال پر چھوڑ دیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ جبکہ اوباما نے اس معاہدے پر روحانی کو تقویت پہنچانے کے مقصد سے دستخط کئے تھے۔ یہ یوکرین کی طرز پر ایران کے نظام حکومت کی تبدیلی کی تمام امیدوں کا اختتام تھا۔
اس نقطے پر پہنچ کر امریکہ مجبور ہوکر ایک بار پھر مشرق وسطی کے جابر و ظالم بدمعاش کی روپ میں ظاہر ہوا اور اس روپ کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ایران کو حملے کی دھمکی دے دے۔ کیونکہ بصورت دیگر، سعودی عرب، جو ایران سے بہت زیادہ ڈرتا ہے، ڈالر کی بالادستی کے سلسلے میں تذبذب سے دوچار ہوجاتا اور امریکی حفاظت پر مزید اعتماد نہیں کرسکتا تھا اور عین ممکن تھا کہ وہ خود بھی ڈالر کی بالادستی کو ترک کردے۔ یہ کھیل کے اختتام کا مترادف ہوسکتا تھا۔
اس سال کے آغاز پر سعودی اہلکاروں کے ساتھ ریاض میں مقیم چینی سفیر لی ہوا شین (Li Huaxin) کی تصویریں چھپ گئیں جنہوں نے سعودی عرب کے ویژن ۲۰۳۰ کی تعریف کی تھی اور دو ملکوں کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔ یہ معاہدہ سعودیوں کو “پٹرو یوآن” اختیار کرنے پر مجبور کررہا ہے جو “پٹرو ڈالر” کو خیرباد کہنے پر منتج ہوسکتا ہے۔ یعنی، اگرچہ سعودی عرب بہت شدت سے امریکی عسکری طاقت سے وابستہ ہے، مگر چین کی قربت اور اس کے ساتھ قریبی تعلقات کے سلسلے میں مفاہمت، [امریکہ کے لئے] تشویشناک ہے۔ چینی معیشت کی ترقی اور دنیا میں اس کی حیثیت، ریاستہائے متحدہ کی طرف سعودی جھکاؤ کے رویے کو کمزور کر سکتی ہے. سب سے پہلے اور سب سے اہم بات یہ کہ اتحاد میں تبدیلی مشرق وسطی میں بھی اور اور پوری دنیا میں بھی، امریکہ کی ساکھ کو خطرے سے دوچار کرسکتی ہے۔
امریکہ ـ جو حقیقت کا سامنا کرنے سے عاجز تھا ـ نے باور کرانے کی کوشش کی کہ اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہيں آئی ہے۔ برے سلوک کی سزا ضروری تھی؛ امریکہ پہلے قدم کے طور پر جوہری معاہدے سے الگ ہوئی، اگرچہ سب نے اعتراف کیا کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ دستخط شدہ معاہدے سے پسپائی کی وجہ سے امریکہ مزید “کچھ عطا کرنے کے قابل” نہ رہا جیسا کہ روسی صدر پیوٹن نے کہا کیونکہ کوئی بھی امریکہ کے وعدوں پر اعتماد نہيں کرسکتا تھا۔ [ایران کے ساتھ] نئے معاہدے کے سلسلے میں ٹرمپ کی لفاظیاں مہمل اور بےمعنی تھیں۔ سفارتکاری امریکہ کے لئے “میز سے ہٹا دی گئی ہے”۔ امریکہ کے آگے یورپ کی غلامانہ اطاعت نے ثابت کیا کہ یورپی حکومتیں امریکہ کی کٹھ پتلی ہیں جس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے یورپی قوم پرستانہ جذبات میں شدت آئی ہے اور یہ جذبات امریکی بالادستی کے دشمن ہیں؛ چنانچہ امریکہ کو ایک بار پھر ایران کے خلاف اپنی دھمکیاں سلگانا پڑیں لیکن ان دھمکیوں نے اوباما کے زمانے کی پیچیدگیوں دوبارہ پلٹا دیں، کیونکہ امریکہ تیسری عالمی جنگ کے شعلے بھڑکانے کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کرسکتا۔
امریکہ بطور ریاست ہائے متحدہ، جو اعتبار کما چکا تھا، وہ اب قصہ پارینہ بن چکا ہے اور ایران پر حملہ ریاستہائے متحدہ کے اندر کسی بھی عقلمند کے لئے ناممکن ہے۔ ٹرمپ کے پاس ایک سے زائد اختیارات ہیں جن کی ڈالر کی بالادستی بحال کرنے کے لئے ضرورت ہے: کہ پاگل بن جائے؛ لیکن پاگل بننے کا واحد متبادل ایران پر حملہ نہيں ہے بلکہ وہ یہ ہے کہ وہ ڈالر کو عالمی سطح سے غائب ہونے دیں (کیونکہ یہ ناگزیر عمل ہے جسے بہرصورت ہونا ہے) اور یوں وہ امریکہ کا خاتمہ کریں کیونکہ ڈالر کی بالادستی کے دوران اکٹھا ہونے والا قرضہ اس قدر عظیم ہے کہ اسے افراط زدہ ڈالر کے سوا کسی بھی ذریعے سے ادا کرنا ممکن نہيں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: مائیکل ڈالینر (Michael Doliner) شکاگو یونیورسٹی کے فارغ التحصیل
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ The Society for Worldwide Interbank Financial Telecommunication [SWIFT]
۲۔ فارسی میں: برنامہ جامع مشترک [برجام]، اور انگریزی میں: The Joint Comprehensive Plan of Action [JCPOA]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ی؍۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=20205

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے