ڈونلڈ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو انتخاباتی تحفہ! - خیبر

مقبوضہ گولان؛

ڈونلڈ ٹرمپ کا نیتن یاہو کو انتخاباتی تحفہ!

07 اپریل 2019 09:45

۔اسرائیل میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو پہ رشوت خوری کے الزامات عائد ہیں جن کی تحقیقات شد و مد سے جاری ہے۔ اِن الزامات کی شدت کم کرنے کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ ، نیتن یاہو کی جولی میں گولان کی بلندیوں کا تحفہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

بقلم ڈاکٹر جاوید اقبال

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدرات میں ٹویٹوں کے ذریعے امریکہ کی سیاست چرخانے کا جو سلسلہ شروع کیا وہ جاری و ساری ہے۔ ۲۵مارچ ۲۰۱۹ء کے روز ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کا جائز و قانونی حصہ قرار دیا حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ شام کا یہ علاقہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ہتھیا لیا تھا اور عالمی ایوانوں میں اِسے مقبوضہ علاقہ مانا جاتا ہے ۔پچھلے ۵۲سالوں سے عالمی نظریہ یہی رہا ہے کہ گولان کی بلندیاں شام کا جائز علاقہ ہے جو اسرائیل کے نا جائز قبضے میں ہے۔ عربوں کے حقوق پامال کرنے کی مذموم امریکی کوششیں مغربی دنیا کی اُس سازش کا حصہ ہیں جو آج گئے کم و بیش سو سال پہلے شروع ہوئیں۔ پہلے پہل اِن سازشوں کا سرغنہ برطانیہ تھا لیکن د وسری جنگ عظیم کے بعد مغرب کی رہبری امریکہ کے ہاتھ میں آئی۔ مغرب کی اولاد نا خلف اسرائیل امریکہ کا لے پالک بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اسرائیل کو اِس لئے پال رہا ہے تاکہ مغربی ایشیا پہ اپنا تسلط جمائے رکھے۔اسرائیل کو امریکہ کی پراکسی مانا جاتا ہے یعنی در پردہ اسرائیل امریکہ کے تحفظات کا نگہباں ہے۔
گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کا جائز و قانونی حصہ قراردینا اُن مغربی سازشوں کا حصہ ہے جو کہ عالم اسلام کو دبائے رکھنے کے لئے بیسویں صدی کے آغاز میں شروع کی گئیں ۔ اِس سازش کی پہلی کڑی عربی دنیا کو خلافت عثمانیہ سے متنفر کرنے کی تھی اور اِسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے عربی نیشنلزم کو اُبھارا گیا۔ شریف حسین آف مکہ اس سازش کا حصہ بنے جس کی پاداش میں عراق واُردن کے ممالک میں اُن کی آل و اولاد کو بادشاہی نصیب ہوئی۔ شریف حسین نے برطانیہ کی عنایتوں کے عوض میں صہیونیوں کے فلسطین میں خود ساختہ حقوق کو تسلیم کیا اور دوسری جانب جنگ عظیم اول میں ہزیمت اٹھانے کے بعد عثمانی خلافت کے وزیر طلعت نے برطانیہ کو فلسطین کا منڈیٹ عطا کیا۔ ۱۹۱۷ء میں برطانوی وزیر بالفور نے صہیونیوں کو فلسطین کی دھرتی میں بستیاں بسانے کی اجازت دے دی۔ شروع میں برطانوی وزیر کا یہ عندیہ اِس شرط کے ساتھ منسلک تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے گا لیکن یہ محض ایک سیاسی پینترا تھا جس کی بعد میں دھجیاں اڑا لی گئیں۔ صہیونی دہشت گردوں نے فلسطینیوں کا جینا حرام کیا اور انجام کار فلسطینی اپنے وطن عزیز سے بے دخل کئے گئے۔ عربوں کے ساتھ جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں ۱۹۴۷/۴۸ء ۱۹۶۷ء اور ۱۹۷۳ء کی جنگوں کو گردانا جا سکتا ہے۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جہاں مصر سے صحرائے سینا کے علاقے چھینے گئے وہی شام سے گولان کی بلندیاں اور اُردن سے یروشلم اور رود اُردن کا مغربی کنارہ چھینا گیا۔ انورالسادات نے ۱۹۷۳ء کی جنگ میں جو پایا تھا وہ صہیونیوں کی دہلیز پہ ماتھا رگڑ کے کھو دیا ۔عربوں کے اجتماعی حقوق سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک علیحدہ امن معاہدے میں مصر کو کھوئے ہوئے علاقے تو مل گئے لیکن یروشلم ،رود اُردن کا مغربی کنارہ اور گولان کی بلندیاں اسرائیلی قبضے میں ہی رہتے ہوئے لاینحل رہ گئے۔ آج تک یہ موضوع جوں کا توں پڑا ہوا ہے، گرچہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اُسے اب نئے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے۔
گولان کی بلندیاں پہاڑی چٹانوں کا ۱,۸۰۰ مربع کیلو میٹر پہ پھیلا ہوا ایک سلسلہ ہے ۔یہ تاریخی نوعیت کا مقام ہے ۔ازمنہ قدیم کے اسرائیل میں وہاں کے شاہاں اور دمشق کے اطراف میں رہنے والے آرمینیوں کے مابین ہمیشہ ہی گولان کی بلندیوں پہ قبضے کیلئے تصادم رہتا تھا جس کے تذکرے سے قوم یہود کی مذہبی کتابیں بھری پڑی ہیں ۔ دفاعی اہمیت سے یہ مقام ہمیشہ ہی اہم رہا ہے، چناںچہ یہ مقام مسلمانوں کے زیر تصرف آیا۔ ۱۶ ویں صدی میں گولان کی بلندیاں خلافت عثمانی کے کنٹرول میں آگئیں جبکہ ۱۹۱۸ ء میں جنگ عظیم اول میں ہزیمت اٹھانے کے بعد شام کا منڈیٹ فرانس کو حاصل ہوا۔اِس منڈیٹ میں گولان کی بلندیاں شامل رہیں۔ ۱۹۴۶ ء میں فرانسوی منڈیٹ کا خاتمہ ہوا اور شامی ریپبلک کے قیام عمل میں آیا۔ شامی افواج کی گولان پہ تعیناتی اسرائیل کے لئے ایک عذاب بنی ہوئی تھی چناچہ ۱۹۶۷ء کی جنگ میں گولان کی بلندیوں کا حصول اسرئیل کے اہم ترین جنگی اہداف میں شامل تھا۔ ۱۹۶۷ء تک امریکہ اور مغربی ممالک نے اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کیا ہوا تھا تاکہ وہ اعراب پہ بھاری پڑ جائے چناچہ جہاں اعراب نے صحرائے سینا، یروشلم اور رود اُردن کا مغربی کنارہ کھویا وہی گولان کی بلندیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا البتہ آج تک اقوام عالم اِن علاقوں کو مقبوضہ قرار دے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی ایسا ہی مانتی ہے ۔اِن قراردادوں کو اب ڈونالڈ ٹرمپ انکارنے پہ تلا ہوا نظر آتا ہے جیسا کہ حالیہ اقدامات سے صاف نظر آتا ہے۔
اسرائیل نے جب اپنی انتظامیہ کو گولان کی بلندیوں تک بڑھانا چاہا اور صہیونی فلسفے میں ڈوبے ہوئے اپنے قوانین کو شام سے چھینے ہوئے علاقے میں لاگو کرنا چاہا تو اقوام متحدہ نے قرار داد برقم ۴۹۷پاس کی ۔ اِس قرار داد کے مطابق اسرائیلی اقدامات کو رد کر کے کالعدم قرار دیا گیاثانیاَ یہ اقدامات قرار داد برقم ۲۴۲ کے منافی قرار پائے۔ مذکورہ قرار داد میں جنگ کے ذریعے حاصل کی گئی اراضی کو قبولیت دینے کی ممانعت ہے ۔اسرائیل البتہ اِس قدر ڈھیٹ و فریبی ہے کہ اُس نے اِسی قرارداد میں شامل ایک عبارت کو اپنے ضدی موقف کی حمایت میں بروئے کار لایا۔ اِس عبارت میں ایسی نوعیت کے محفوظ و تسلیم شدہ سرحدوں کی ضمانت دی گئی ہے جو دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے مبرا ہوں ۔اسرائیل کا ماننا ہے کہ اُس کے لئے وہی سرحدیں تسلیم شدہ ہو سکتی ہیں جو اُس کی نظر میں اُسکے لئے محفوظ ہوں بھلے ہی وہ زور و زبردستی سے حاصل کی گئی ہوں۔ اسرائیل کی اِس بے تکی دلیل کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی ملک اپنے ہمسایہ ممالک کی اراضی پہ طاقت کے بل بوتے پہ قابض ہو کے یہ دلیل پیش کرنے میں حق بجانب ہو گا کہ یہ اقدام اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے کیا گیا۔اِس دلیل کو منطقی مانا جائے تو اِس سے ہر طاقتور ملک کو اپنے کمزور ہمسایوں پہ چڑھائی کرنے کی چھوٹ مل سکتی ہے ۔ اسرائیل در اصل صہیونیت کے تعین کردہ نقشے پہ عمل پیرا ہے جس میں قوم یہود کا یہ ماننا ہے اپنے گناہوں کی پاداش میں وہ جہاں جہاں بھی وہ ازمنہ قدیم میں بھاگ بھاگ کے پہنچی ہے اُن مقامات کو اپنے تصرف میں لائے۔ ازمنہ قدیم میں اسرائیلی بابل بھی پہنچے جہاں سے ایرانی بادشاہ بخت نصر نے اُنہیں بیدخل کیا۔ طلوع اسلام پہ یہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقوں اور خیبر میں مقیم تھے ۔آنحضورؐ نے میثاق مدینہ میں اُنہیں تمام حقوق کے ساتھ مسلمین کے ساتھ مل جل کے رہنے کے شرف سے نوازا لیکن یہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آئے چناچہ بیدخل کئے گئے اور عصر حاضر میں اپنی دیرینہ رنجشوں کا بدلہ لینے پہ کمر بستہ ہیں۔
قوم یہود کا دیرینہ بغض عصر حاضرمیں صہیونیت کا رنگ لئے مغربی دنیا کی مسیحی برادری کو اپنا حلیف بنائے ہوئے ہے حالانکہ یہ یروشلم میں ہیکل سلیمانی کے یہودی کاہن ہی تھے جنہوں نے حضرت عیسی ؑ کا مقدمہ فلسطین کے رومی گورنر پونٹیس پیلیٹ کی عدالت میں پیش کر کے صلیب پہ لٹکانے کی مانگ کی۔ جہاں مسیح برادری کا ماننا ہے کہ وہ صلیب پہ لٹکائے گئے وہی قران کریم میں یہ واضح ذکر ہے کہ ایسا ہونے سے پہلے ہی آسمانوں سے بلاوا آیا۔ قبل ازطلوع اسلام رومی سلطنت میں مسیح برادری نے یہودیوں کاقافیہ تنگ کر کے رکھا تھا۔ مسیح برادری کے مذہبی پیشوا سینٹ پال اُنکے بد ترین مخالفوں میں سے تھے حالانکہ کہا جاتا ہے کہ وہ یہودی پیدا ہوئے بعد میں عیسائی بن گئے ۔سینٹ پال فلسفہ تثلیث و کفارہ کے موجد مانے جاتے ہیں ۔ صرفنظر از اینکہ اِن اصلاحات کے ضمن میں صیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ہم اپنی بات تاریخ کے دائرے میں محدود رکھیں گے۔ رومی (بازنطینی) سلطنت میں بد ترین مظالم سہنے کے بعد جب یہ سلطنت اسلام کے پیغام حق کے سامنے سرنگوں ہوئی تو یہودیوں نے اطمیناں کا سانس لیا۔ کہتے ہیں جب جنگی مصلحت میں کچھ دیر اسلامی افواج کو دمشق چھوڑنا پڑا تو قوم یہود پرانے مظالم یاد کر کے رو پڑی لیکن عصر حاضر میں جودیو کرسچن (Judeo-Christian) تہذیب یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کی ملی جلی تہذیب کا راگ الاپا جا رہا ہے اور اِس تہذیب کو اسلام ومسلمین سے محفوظ رکھنے کا نعرہ نوک زباں پہ لئے سازشوں کے پل باندھے جا رہے ہیں۔
صہیونی سازشوں کو رو بعمل لانے کیلئے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی صورت میں ایک من پسند حلیف ملا ہے۔ امریکہ کا کوئی بھی صدر اسرائیل کے حق میں اِس حد تک جانے کیلئے تیار نہیں جتنا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ہے حالانکہ کوئی بھی امریکی صدر اسرائیل کے خلاف نہیں جا سکتا چونکہ امریکی سیاست پہ صہیونیوں کی چھاپ ہے۔ اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی تجارت ،وہاں کی بینک کاری اور مطبوعات کو صہیونی اپنی گرفت میں جکڑے ہوئے ہیں ۔یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے حالانکہ امریکہ سمیت مغربی دنیا میں یہودیوں کے خلاف کئی تحریکیں کار فرما ہیں لیکن صہیونیوں کا جال اتنا وسیع ہے کہ خاصی حمایت کے باوجود یہودیوں کے خلاف تحریکیں دم توڑ جاتی ہیں۔ یہ عصر حاضر تک محدود نہیں بلکہ صدیوں پہ محیط روایت ہے۔ مغربی دنیا میں اتنا دم ہی نہیں کہ صہیونیوں کے خلاف عملی اقدام کا حصہ بنیں باوجود اینکہ اسرائیل کی دست درازی عالمی سیاست کی ایک حقیقت ہے۔ جہاں امریکہ اسرائیل کی حمایت پہ کمر بستہ رہتا ہے وہی کئی مغربی حلقے دبی زباں سے اسرائیلی اقدامات کی تردید بھی کرتے ہیں لیکن یہ زبانی جمع خرچ تک محدود ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد عملی اقدامات تک نہیں پہنچ پاتی ۔ڈونالڈ ٹرمپ سے پہلے امریکہ کے صدر بھی احتیاط سے کام لیتے تھے اور کچھ حد تک عالمی رائے عامہ کا احترام بھی کرتے تھے جو ہمیشہ ہی اسرائیل کے خلاف رہی ہے لیکن صدر ٹرمپ ہر حد سے گذر گئے جہاں کل وہ یروشلم کو اسرائیل کا جائز دارالخلافہ ماننے کے حق میں سامنے آئے وہی آج گولان کی بلندیوں پہ اسرائیل کے قبضے کو جائز قرار دینے پہ تلے ہوئے نظر آتے ہیں۔
عالمی تجزیہ نگاروں کی نظر میں ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کو اسرائیلی سیاست کی داخلی یلغار سے بچانا چاہتے ہیں ۔اسرائیل میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو پہ رشوت خوری کے الزامات عائد ہیں جن کی تحقیقات شد و مد سے جاری ہے۔ اِن الزامات کی شدت کم کرنے کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ ، نیتن یاہو کی جولی میں گولان کی بلندیوں کا تحفہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کی اکثریت مطلق گولان کی بلندیوں کو اسرائیل کے تحفظ کیلئے حیاتی مانتی ہے اور ایسے میں امریکی صدر کی کھلی حمایت نیتن یاہو کی جیت کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے جبکہ ظاہراَ وہ خطروں سے دو چار ہیں۔
امریکہ میں فکس ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعوا کیا ہے کہ گولان کی بلندیوں کے بارے میں اُنکے فیصلے میں نہ ہی اسرائیلی انتخابات مد نظر رہے نہ ہی یہ فیصلہ اُنہوں نے عجلت میں لیا بلکہ کافی غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا۔اِس ضمن میں کہا جاتا ہے کہ سٹیٹ ڈیپارمنٹ یعنی وزارت خارجہ نے کچھ عرصہ پہلے ہی حقوق بشر کے بارے میں اپنی رپورٹ میں گولان کی بلندیوں کا ذکر مقبوضہ اسرائیلی علاقے کے بجائے اسرائیلی کنٹرول میں علاقے کے طور پہ کیا تھا جبکہ ماضی میں اُسکا ذکرمقبوضہ علاقے کے طور پہ کیا جاتا تھا۔ اِس کا یہ مطلب لیا جا رہا ہے کہ پہلے سے ہی سوچ بن رہی تھی کہ اِس علاقے کا عنواں بدل دیا جائے۔ عنواں بدلنے کی اِس سازش کے جواب میں شامی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقے کو واپس لینے کیلئے ہر ممکنہ اقدام کریں گے۔شامی حلیفوں روس و ایران نے شام کی کھل کے حمایت کی ہے جبکہ امریکہ کے مغربی اتحادیوں یورپین یونین میں شامل ممالک نے امریکی اقدام کی حمایت کرنے سے انکار کیا ہے۔ترکی نے بھی سختی سے مخالفت کی ہے۔ اقوام عرب جن میں خلیجی ممالک بھی شامل ہیں نے امریکی اقدام کی مذمت کی ہے حالانکہ خلیجی ممالک کو امریکہ کا حلیف مانا جاتا ہے۔ اِس بیچ امریکی وزیر خارجہ میک پامپیو کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اِس اقدام سے اسرائیل اور فلسطین کے بیچ امن کے امکانات کو فروغ ملے گا! شاید ہی سفارتی دائرے میں اتنا بڑا جھوٹ بولا گیا ہو!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=20209

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے