کاش سعودی عرب اسرائیل کا ٹٹو بننے کے بجائے ایران کی طرح فلسطین کی حمایت کرتا - خیبر

ڈیموکریٹک فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے رہنما:

کاش سعودی عرب اسرائیل کا ٹٹو بننے کے بجائے ایران کی طرح فلسطین کی حمایت کرتا

۱۵ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۷:۴۶
طلال ابو ظریفہ/خیبر/فلسطین

طلال ابو ظریفہ نے کہا: صہیونی ریاست گزشتہ جمعہ کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے خاص طور پر جب فلسطینی جوانوں نے سرحدی دیواروں کو پھاند ڈالا ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ڈیموکریٹک فرنٹ برائے آزادی فلسطین کے رہنما طلال ابو ظریفہ نے گذشتہ روز جمعہ کو غزہ پٹی پر واپسی مارچ ریلیوں کے دوران العالم ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: صہیونی ریاست وحشیانہ طریقے سے پرامن مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں کو گولیوں کا نشانہ بناتی ہے تاکہ ۱۴ اور ۱۵ مئی کو وسیع پیمانے پر کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کو روک سکے۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ دو دنوں میں ایک ملین سے زیادہ فلسطینی ‘حق واپسی’ مظاہروں میں شرکت کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
ابوظریفہ نے زور دیتے ہوئے کہا: امریکی سفارتخانے کی قدس منتقلی کا منصوبہ کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے اور یہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فلسطینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا: تم لوگوں نے تشدد اور انتہا پسندی کا باب کھولا ہے اور اب اسے کنٹرول کرنا تمہارے بس کی بات نہیں ہے۔
ابوظریفہ نے عربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ سازشی مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بجائے فلسطین اور مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کریں۔
انہوں نے عربی ممالک مخصوصا سعودی عرب کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا: سعودی عرب نے اپنی گندی سیاستوں کی بنا پر فلسطین اور قدس کو رہا کر دیا ہے اور اس وقت صرف ایران، شام اور حزب اللہ ہیں جو صہیونیت کے مقابلے میں فلسطین کی حمایت کر رہے ہیں۔

منبع: http://fa.alalam.ir/news/3537726

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/خ/ب/۲۰۱/ ۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=2189

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے