کتاب’’جمہوریت کا اختتام‘‘ پر تفصیلی تبصرہ - خیبر

کتاب’’جمہوریت کا اختتام‘‘ پر تفصیلی تبصرہ

07 دسمبر 2018 17:02

جمہوریت و ڈیمو کریسی میں جو طاقت ہے وہ صرف ایک مجازی طاقت نہیں ہے بلکہ ایسی طاقت ہے جو پیسہ کے بل پر اپنا اظہار کرتی ہے جہاں معاملہ پیسہ کا ہو تو جمہوریت کا حال یہ ہوتا ہے کہ عمومی مال کو خصوصی اور انفرادی سے تمیز نہیں دی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ رشوت کا لین دین اور مالی فساد و کرپشن مغربی انسان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے۔۔۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہم نے گزشتہ تحریر میں عرض کیا کہ کس طرح امریکائی فیصلوں کے چینل میں اگر کوئی بڑی طاقت کہیں سر اٹھاتی ہے تو اسے فی الفور کچل دیا جاتا ہے یا اس مرکز کو تتر بتر کر دیا جاتا ہے اب اس تحریر میں ہم سلسلہ مراتب کے ڈھانچہ کو بیان کرنے کی کوشش کرنے یہ ساتھ یہ بیان کریں گے کہ کس طرح موجودہ جمہوری نظام میں ایک دوسرے کو بیوقوف بنایا جاتا ہے اور سلسلہ مراتب میں ہمنوائی کے مناظر مفادات کے پیش نظر کیوں کر ایک ٹریڈ مارک کی نظر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ رات و رات امیر بن جاتے ہیں ۔
سلسلہ مراتب کا ڈھانچہ
جمہوریت میں ایک سلسلہ مراتب کا وجود پایا جاتا ہے نیز یہاں پر ایک ایسے مشینی ماڈل کو پیش کیا جاتا ہے کہ جس میں ہم نوائی اور ایک جیسا ہونا ایک اصول ہے یہاں پر بھید بھاؤ، رسومات کو توڑنا اور طاقت سیاسی قدرت کے اہرام میں سے ایک ہے اس کا تعلق اجتماعی ڈھانچہ سے نہیں ہے یہ ماڈل نہ تو شاہوں سے متعلق ہے نہ فلسفیوں، ثروت مندوں اور دانشوروں سے بلکہ اس میں ایک ہی سطح کے ایک جیسے ہم نوا لوگوں کی ضرورت ہے، البتہ یہ ایک حقیقت ہے صنعتی اور ترقی یافتہ معاشروں میں ایک جیسا اور ایک سطح پر ہونا نہ کوئی الگ سے ایک اتفاق ہے اور نہ کمزوری یا لائق افسوس شئے بلکہ یہ مغربی ڈیموکریسی کے مطلوبہ لیبرل نظام کی ایک شرط ہے ، اور اس کے معنی تمام حاکم اور مسلط طبقے کی سطح کی اس طرح یکجائی ہے کہ صرف وہی ہے جو اپنے افکار اور سوچ کے زاویوں کو سماج کے حوالے کر رہا ہے اسی کی فکر سماج میں رائج ہے اور اسی پر عمل ہو رہا ہے چنانچہ جب ہم سری اور ہم نوائی کو اس رخ سے دیکھتے ہیں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایسے ہم نوا معاشروں میں ہم نوائی کے مخالفوں کو بدمعاشوں اور نظم عامہ کو تباہ کرنے والوں کا نام دے کر الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے ۔
ہم نوائی کے اس مرحلہ میں تمام جگہوں پر ایک ہمنوائی دیکھنے میں آتی ہے کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں سے لیکر خیاطی و لباس دوزی کا کام کرنے والوں تک سب کے سب یہ چاہتے ہیں کہ خلاقیت کو وجود بخشے بغیر ایک انحصاری خلاقیت کو پیش کریں، درحقیقت اس مقام پر کسی کارخانے یا کمپنی کی سب سے گراں قدر پونجی صنعت اور اس کے مصنوعات میں منحصر نہیں ہے بلکہ ایک مارک کی حیثیت رکھتی ہے اور صرف نام کا سکہ چلتا ہے یہاں پر اتنا ہی اہم ہے کہ وہ اپنا نام و سکہ جمانے میں کامیابی سے ہم کنار ہو چنانچہ عصر ڈیموکریسی یا جمہوریت کو ایک دوسرے کو ٹوپی پہنانے والے کا نام بھی دیا جا سکتا ہے جہاں واقعی خلاق افراد کو انکے مقام کے اعتبار سے احترام حاصل نہیں ہوتا ہے ، بلکہ سماج ایک ایسی صورت میں ڈھل جاتا ہے جہاں طاقت ہر روز پہلے سے زیادہ ایک نقطہ میں سمٹتی چلی جاتی ہے ، کوئی بھی بے نام و نشان انسان اپنے عمل اور ایکشن کو دیگر افراد کے عمل سے یکساں نہیں پاتا ہے ، یہاں اطلاعات اور اسالیب کو تھوپا جاتا ہے ، آپسی فاصلے اور وہ کثرت کار جو ہدف تک پہچنے میں اٹھنے والے قدموں کی رفتار کو کند کر دے یہاں اچھی طرح نظر آتی ہے ، ہر ایک فیصلہ اپنی جگہ ایک فیصلہ ہوتا ہے ان کا دوسرے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے صرف بعض فیصلوں ہی کی سماج میں پبلسٹی ہوتی ہے ۔
ہم نوائی اور اتفاق کی فرانس ایک جیتی جاگتی مثال ہے ، ١٩٤٠ ء میں فرانسیوں نے یہ باور کر لیا تھا کہ انہوں نے جرمنیوں کے مقابل ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے نہ یہ انہیں شکست ہوئی ہے ، اسی طرح فرانس نے ١٩٦٦ ء میں نیٹو کی مشترکہ افواج سے نکل کر اپنے استقلال کو امریکہ کے سامنے بھی محفوظ رکھا ، اس اطمینان بخش یکسوئی نے انہیں زندگی کی گاڑی آگے بڑھانے میں مدد کی اور ان کی خود اعتمادی کو مضبوط کیا لیکن اگر غور کیا جائے تو انداہ ہوتا ہے کہ یہ چیز ایک ماہرانہ منظر سازی کے علاوہ کچھ نہ تھا ، اس لئے کہ اگر فرانس کے بارے میں اس طرح کا تصور درحقیقت ہمیں ١٩٤٠ ء کے جرمنی ، ١٩٦٦ ء کے امریکہ اور ١٩٩٣ ء کے جرمنی ٢٠٠٤ کے امریکہ کو اس طرح دیکھنے میں مانع ہے جس طرح وہ اس زمانے میں تھے۔
یہ قلبی باور و یقین صحیح طور پر معاملہ کو سمجھنے کے لئے ایک رکاوٹ ہے ، ہم نوائی کا دلدادہ ہونا در حقیقت ایک ایسے لباس کی طرح ہے جو بارہا پہننے کی بنا پر جسم ہی کے قالب میں ڈھل جاتا ہے اور اسکا بیرونی وجود وہی بن جاتا ہے جو جسم کا ہوتا ہے اس طرح یہ لباس اپنی لچک کو کھو دیتا ہے ، اس بات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور ڈیموکریسی ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر انعطاف و لچک تقریبا نہ کے برابر ہے ۔
ادیان سے جنگ
مغربی انسان کے دل میں دین و مذہب کا رجحان بالکل نا پید ہے ، بظاہر دو صدی پہلے مونٹسکو کی کی گئی یہ پیشین گوئی درست ثابت ہو رہی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جدیت پسندی کے دور میں پیدا ہونے والی ہلچل اور اتھل پتھل دین کی موت پر منتہی ہوگی، آج ایسا ہی کچھ ہے، آج مغربی انسان کی نظر میں اپنی روز مرہ کے حوادث سے جھوجھتی زندگی کو با معنی بنانے کے لئے سحر آمیز تعلقات اور ماورائی رجحانات سے جوڑنے کے سوا دین کے کوئی معنی نہیں ہیں ۔
سیاست نے اس سے دینی سرچشمہ کو چھین لیا ہے جس کے نتیجہ میں آج وہ دین سے دوری کے درد میں پیچ و تاب کھا رہا ہے لیکن اسے سکون میسر نہیں ہے
ایسی صورت حال میں اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کے بعد جو رجعت پسندی کی لہر مغرب میں دوڑی ہے اس کا ہم و غم یہ ہے کہ آپس کے معاشرتی اور فردی تعلقات کوگرمی بخشنے کے ساتھ باہمی اجتماع کے ذریعہ دین کو دوبارہ منظر نامے پر واپس پلٹایا جائے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رجعت پسند و قدامت پرست افراد جس عدالت کے اصولوں پر مبنی سماج کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ کھی بھی اوپر سے اور معاشرے کی اوپری سطح پر کسی شاہزادے کے بیٹھ جانے سے میسر نہ ہوگا بلکہ ایسے سماج کی تعمیر نچلے اور دبے کچلے طبقوں سے اس وقت ممکن ہو سکے گی جب مستضعفین کو پاور حاصل ہو ، یہ معقول بلند پروازی محض دین و سیاست کے آپسی جوڑ کے ناکام رہنے پر مبتنی ہے ، مغرب کی ثروت مند جمہوریتوں میں دین کی طرف رجحان کچھ مختلف انداز میں ظاہر ہوتا ہے لیکن یہا ں بھی سیاست سے مایوسی نظر آتی ہے.
سیاست کی شومی تقدیر اور گرداب سیاست میں پھنسے ہوئے لوگوں کی رہائی کے چارہ کار کی تلاش سے ناامید ہوکر کچھ لوگوں نے انسان دوستانہ سرگرمیوں کو تنہائی سے نکلنے کا بہترین ذریعہ جانا ،اور انسان دوستانہ سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے ، انسان دوستانہ سر گرمیاں اس بات کی غماز ہیں کہ سیاسی تنظیمیں واقعی اتحاد و ہم دلی کو وجود لانے میں نہ صرف یہ کہ ناکام ہیں بلکہ ان سے کسی باہمی اتفاق و یک دلی کی امید ہی بے کار ہے ۔
یہ انسان دوستانہ فعالیتیں انسان کے تنہائی سے فرار کرنے کا ایک ذریعہ ہیں ، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک ڈیموکریٹک انسان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تنہائی ہے ایسے انسان کی تنہائی ایسی ہی ہے جیسے کوئی اکیلا انسان ،لوگوں کی بھیڑ میں گم ہو گیا ہووہ انسان جو قافلہ سے الگ تھلگ ہو گیا ہے اور کسی سے اسکا کوئی تعلق بھی نہیں ہے اور آج کی مغربی بکھری ہوئی دنیا میں بالکل اکیلا ہے ایسی دنیا کہ جہاں نہ کوئی سیاسی پیوستگی و ہم آہنگی ہے اور نہ ہی فلسفی و دینی نظم و انضباط ،یوں اکیلے پن میں سایوں کی طرح پریڈ پر نکل پڑا ہے اب مغربی انسان کے لئے کوئی ایسی ذمہ داری نہیں ہے جسے وہ ادا کرے اس کے پاسبزوں کی ڈنٹھل کے سامنے خم ہو کر ان کی عبادت کرنے اور چاند کی روشنی کے سامنے خضوع کے ساتھ سر جھکانے اور زور گزر ہیجانات کے آگے تسلیم ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
انقلاب کوپر نیا اس طرح کی حالت کو واضح کرنے کی ایک بہترین مثال ہے اس لئے کہ انقلاب کوپر نیا نے زمین کو اس کے مرکزی جائے وقوع سے نکال کر مرکزی حیثیت سورج کو عطا کی اور اسے زمین کی جگہ مرکزی حیثت کا حامل جانا ،یعنی اس نے ایک مرکز کے وجود کی ضروت کے نظریہ کو اپنے عمل سے پائدار و محفوظ بنا دیا ، ایک مرکز کا وجود در حقیقت وہی نظریہ ہے جس پر اب مردگی چھائی ہوئی ہے یہ حقیقت میں دین کا تصور ہے اس لئے آج دین سے تہی دست مغرب کا انسان دین کی طرف بھاگتا نظر آ رہا ہے وہ دین جو اب پہلے کی طرح کچھ رسوم و آداب کے مجموعہ کا نام نہیں ہے بلکہ فرانس کے عظیم دانشور ا یکس ڈو ٹکیل {Alexis-Charles-Henri Clérel de Tocqueville} کے بقول دین ایسے دستورات کے مجموعہ کا نام ہے جو انسان کی معاشرتی رفتار کو ڈھالتا ہے اور اجتماعی طرز حیات کو وجود بخشتا ہے ، پس اب دین کے معنی صرف ایک عالی اور ماورائی مفہوم پر کسی فرد کا اعتقاد نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق اجتماعی اور معاشرتی زندگی سے بھی ہے ۔
مالی فساد وکرپشن
جمہوریت و ڈیمو کریسی میں جو طاقت ہے وہ صرف ایک مجازی طاقت نہیں ہے بلکہ ایسی طاقت ہے جو پیسہ کے بل پر اپنا اظہار کرتی ہے جہاں معاملہ پیسہ کا ہو تو جمہوریت کا حال یہ ہوتا ہے کہ عمومی مال کو خصوصی اور انفرادی سے تمیز نہیں دی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ رشوت کا لین دین اور مالی فساد و کرپشن مغربی انسان کے لئے پریشانی کا باعث نہیں ہے اور جب یورپ کے قدیم ممالک جیسے جرمنی و فرانس میں مالی کرپشن سامنے آتا ہے تو لفافے میں رکھ کر بس یہی جواب دیا جاتا ہے کہ انسانی طبیعت کا تقاضا ہے اور طمع و حرص اس کی ذات میں پایا جاتا ہے کبھی بھی اس کرپشن کو صنعتی سماج کی خصوصیات سے جوڑ کر نہیں دیکھا جاتا ہے البتہ مغربی ممالک میں فساد و کرپشن سے مقابلہ کا تصور پایا جاتا ہے لیکن مالی فساد سے مقابلہ کی راہوں کے عملی ہونے کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ لینے والی مشینری کا موجودہ ڈھانچہ مالی تخریب کاری پر نگرانی کے پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے کرپشن کے خلاف عملی قدم اٹھانا کافی دشوار ہو جاتا ہے اس لئے کہ کسی ایک فیصلہ تک پہنچے میں بہت سے لوگ دخیل ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں فساد سے مقابلہ کے سلسلہ میں بنائے گئے قانون کا بروقت نفاذ ممکن نہیں رہتا اور اسی کی بنیاد پر مالی فساد و کرپشن میں ملوث لوگوں کی طاقت میں اضافہ کے ساتھ قانون کے چنگل سے بچ نکلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔
مغرب کے لیبرل ڈیموکریسی کے نظام میں مالی اور دفتری فساد کے انواع و اقسام نظر آتے ہیں مثال کے طور پر ایک کلرک کی طاقت کا انحصار اس کے علم و تجربہ پرنہ ہو کر دوسرے سے اس کے تعلقات پر ہوتا ہے اور انہیں تعلقات کی بنا پر فساد میں اضافہ ہوتا ہے ان تعلقات ومراسم کے علاوہ بڑے درجہ کے افسروں ان کے رٹائر منٹ کے بعد بھی پرایئوٹ کمپنیوں میں اچھی اور کافی تنخواہوں پر کام دلا دینے کا وعدہ بھی فساد کا سبب ہے ؛ چنانچہ فرانس جیسے ملک میں بھی جہاں عمومی خدمات پیش کرنے اور لوگوں کی خدمت کرنے کی ضرورت کا نظریہ دیگر ممالک سے زیادہ بادوام رہا ہے ، حکومت کے اعلی مناصب نے اپنے جاذبہ و کشش اور اجتماعی مرتبہ کو کھو دیاہے جسکی وجہ سے نوکر پیشہ افراد کبھی کبھی مالی فساد کو ایک وسیلہ کے طور پرسامنے رکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ مالی فساد کا رونا رو کراپنی خدمات کے مقابل منھ مانگے دام حاصل کریں اور طرف مقابل کو اپنے شرائط پر قانع کر لیں ۔
جو بھی ہو عمومی کاموں اور مشاغل کا انحطاط کا سرچشمہ عمومی و سرکاری اور خصوصی کمپنیوں کے مابین نادرست روابط ہیں ،لہذا یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں ہے کہ قوم کے نابغہ افراد اپنے کام کا آغاز حکومتی مشینری سے کرتے ہیں اور انجام کار خصوصی و پرایئوٹ جگہوں پر اپنے کام کو ختم کرتے ہیں جس کا نتیجہ حکومت کی اہمیت کا کم ہونا ہے جب کہ حکومت کا احترام اسی وقت ہے جب وہ پرائیوٹ محکموں اور غیر سرکاری کمپنیوں کی طرح اسکیم تیار کرے اور ان کی طرح آگے بڑھے۔
اگر حکومت پرایئوٹ اور غیر سرکاری اداروں کی روش پر کام کرنا چاہے تو اپنے اس عمل میں شاید مختلف ماہرین او ر اپنے کام کے سلسلہ میں جانے پہچانے چہروں سے کسی وزارت کی پوسٹ پر تعاون اور مدد کی درخواست ممکن ہے پرایئوٹ کمپنیوں کے ہم سطح حکومتی مناصب کو نہ پہچا سکے لیکن عام لوگوں کے درمیان حکومت کی حیثیت کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے : لیکن مغربی مارڈن حکومتیں اس اقتدار کو کھونے کے بعد جو عومی مفادات کے سلسلہ میں امانت داری پر منتہی ہوتا تھا اس وقت پہلے سے زیادہ اس سوء ظن کا شکار ہیں کہ یہ حکومتیں مالی فساد کو صرف اسی لئے محکوم کرتی ہیں کہ اس محکومیت کے ذریعہ ہڑپی گئی ثروت و دولت کو اپنے پاس محفوظ کر سکیں ؛اس وضاحت کی روشنی میں اب بڑی بڑی جمہوریتوں میں مالی دھاندلے بازی رائج دستور و آداب کے خلاف کوئی برا عمل نہیں ہے بلکہ کامیبای کے واحد معیار کے طور پر پیسہ کی کامیابی و فتح کا ایک منطقی نتیجہ ہے ، اور دوسروں کے بہ نسبت زیادہ سے زیادہ طاقت اور ثروت حاصل کرنے کے لئے واحد وہ وسیلہ ہے جس کے بل پر راتوں رات سونے کے رتھ پر سوار ہوا جا سکتا ہے۔

جاری ہے …

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

//۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15996

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے