کتاب" اسرائیل کی مقدس دہشت گردی" کا تعارف - خیبر

کتاب” اسرائیل کی مقدس دہشت گردی” کا تعارف

03 جون 2018 16:18

اس کتاب کا اہداء ان فلسطینیوں کے نام ہے جو اسرائیل کے مظالم اور اس کی خبیث دہشت گردانہ کاروائیوں کا شکار ہوئے ہیں ۔مصنفہ روخارچ اپنے اہداییہ میں لکھتی ہیں :’’ دہشت گردانہ کاروائیوں اور ٹرریزم اور انتقام کو اسرائیلی معاشرہ میں ایک نئی قدر حتی تقدس کی حد تک سراہا جاتا ہے ‘‘۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ’’اسرائیل کی مقدس دہشت گردی‘‘ لیویا روخارچ نامی ایک یہودی و اسرائیلی خاتون کے ذریعہ صفحہ قرطاس پر سامنے آنے والی ایسی کتاب [۱] ہے جو ۱۹۸۰ میں منظر عام پر آئی اور اس کتاب پر مقدمہ معروف امریکن یہودی نوام چومسکی [۲]نے لکھا ہے ۔

یہ کتاب۱۹۳۳ ۔ ۱۹۴۸ )تک یہود ایجینسی کے سیاسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کا عہدہ رکھنے والے موشے شارٹ[۳] کی ڈائری اور انکی جانب سے لکھے جانے والے نوٹس پر مشتمل ہے جو کہ بعد میں صہیونی حکومت کے سب سے پہلے وزیر خارجہ ہوئے جسکا دورانیہ ۱۹۴۸۔سے ۱۹۵۶ ء رہا اور اسکے بعد ۱۹۵۴ سے ۱۹۵۵ تک اسرائیل کے وزیر اعظم کے طور پر انہوں نے اپنا کام کیا ۔موشے شارٹ کی ہر روز کی ڈائری کو سب سے پہلے ان کے بیٹے نے ۱۹۷۹ میں مقبوضہ فلسطین میں شائع کیا تھا ۔

مصنفہ لیویا روخارچ ،موشے شارٹ کی وزارت عظمی کے دوران وزیر داخلہ کے عہدہ پر رہنے والے اسرائیل راکاخ کی بیٹی ہیں۔

موشے شارٹ کی منظر عام پر آنے والی ڈائری جو کہ عبری میں نشر ہوئی تھی اسرائیل میں کسی کی توجہ کو اپنی طرف مبذول نہ کر سکی البتہ لیویا روخارچ کے قلم سے انگریزی زبان میں جب یہی کتاب مارکیٹ میں آئی تو بین الاقوامی سطح پر چوطرفہ طور پراس کی پذیرائی ہوئی ۔

مصنفہ روخارچ ۱۹۷۰ کی دہائی میں اٹلی کی طرف ہجرت کر گئیں، اور انہوں نے اپنے تشخص کو مخفی رکھا اور اپنی نام نشانی کو پوشیدہ رکھتے ہوئے انہوں نے فلسطین سے متعلق ایک اطالوی شہری کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری ۔

۱۹۸۰ ء میں روخارچ نے صہیونی حکومت کی شدید دھمکیوں کے باوجود امریکہ میں اس کتاب کو منتشر کیا، اور پھر ٹھیک ۵ سال بعد ۱۹۸۵ء میں روخارچ کی لاش روم کے ایک ہوٹل میں ملی ۔

اس کتاب کا اہداء ان فلسطینیوں کے نام ہے جو اسرائیل کے مظالم اور اس کی خبیث دہشت گردانہ کاروائیوں کا شکار ہوئے ہیں ۔مصنفہ روخارچ اپنے اہداییہ میں لکھتی ہیں :’’ دہشت گردانہ کاروائیوں اور ٹرریزم اور انتقام کو اسرائیلی معاشرہ میں ایک نئی قدر حتی تقدس کی حد تک سراہا جاتا ہے ‘‘۔ ۱۹۸۶ میں’’ اسرائیل کی مقدس دہشت گردی‘‘ کا تیسرا ایڈیشن بھی شایع ہو گیا ۔

اس کتاب میں سب سے پہلے ٹرریزم کی تعریف کرتے ہوئے اسکے مفہوم کی وضاحت کی گئی ہے اس کے بعد صہیونی حکومت کے فکری اور اعتقادی پس منظر کو اسی مفہوم کے تحت پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے نیز اس کے تاریخی سابقہ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔اسکے بعد صہیونی حکومت کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے طریقہ کار اور اس کے انواع و اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اختتام میں فلسطین میں موجود صہیونیوں کے فاشسٹی و دہشت گردانہ نظریات کے حامل گروہوں کو اسرائیل کے وجود سے قبل و بعد دونوں ہی مراحل میں متعارف کرایا گیا ہے ۔

اس کتاب میں چامسکی نے اپنے مقدمہ میں بہت ہی عمدہ و نفیس مطالب کو بیان کیا ہے من جملہ ان میں ایک بات یہ ہے کہ روخارچ نے اپنے مقدمہ میں دو صہیونی اسلوبوں mythical پر مشتمل مفروضوں اور ایک احساس کا نام لیا ہے اور ان اسلوبوں اور ایک احساس کے مجموعہ کو صہیونیوں نے، فلسطینیوں کی سرکوبی، ان پر تشدد، قتل، جیل میں ڈالنے ، دربدر کر دینے، انکے گھروں کو ویران کرنے، اور مقبوضہ فلسطین سے خود کو پیچھے نہ ہٹنے دینے کی دستاویز بنایا ہوا ہے ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن سے صہیونی حکومت نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے اور اٹھا رہی ہے ۔

ان صہیونی مفرضوں کو حسب ذیل انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

الف: مفروضہ تحفظ وامنیت : مفروضہ تحفظ و امنیت یا اس بات کا توہم کہ فلسطین میں موجود یہودیوں کا وجود دائمی خطرات کے سایہ میں ہے جوکہ بہت ہی سنگین ہیں ۔

ب : عربوں کا ڈر اور انکا خوف اور انکی دھمکیاں ؛ عربوں کی دھمکیوں، انکے خوف و ڈر کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ صہیونیوں نے پروپیگنڈہ کے ذریعہ اپنی مظلومیت کو اس کے بل پر پیش کیا ہے اور پیش کر رہے ہیں۔

ج: روخارچ نے حساس انداز میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ وہ چیز ہے جسے صہیونیوں نے اعراب کے خوف و ہراس کو اپنے لوگوں کے دلوں میں بٹھانے کے لئے مصنوعی انداز میں پیش کیا ہے ، اس ڈر و خوف کی فضا کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے اور انہیں اس بات کی تلقین کی جا سکے کہ اسرائیلی معاشرہ بہت بری طرح چو طرفہ طور پر گھرا ہوا ہے اور محاصرہ میں ہے ۔

حوالہ جات

[۱] ۔ Livia Rokach, Israel”s Sacred Terrorism, A Study Based on Moshe Sharett’s Personal Diary and Other Documents, USA: AAUG Press, 1980

[۲] ۔ اَورام ناؤم چومسکی (عبرانی: אברם נועם חומסקי) (پیدائش ۷ دسمبر ۱۹۲۸) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات ، فلسفی ، مؤرخ ، سیاسی مصنف، اور لیکچرار ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر رہے اور اس ادارے میں پچھلے ۵۰ سالوں سے کام کیا۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹرسائنس ، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔ وہ ۱۰۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف رہے ہیں۔ انکی ایک کتاب دنیا کس طرح کام کرتی ہے نے بڑی شہرت پائی۔

[۳] ۔ Moshe Sharett, Yoman Ishi [Personal Diary], edited by Yaqov Sharett, Tel Aviv: Ma”ariv, 1979.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/ت/۸۰۲/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=4417

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے