کتاب "امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ" پر اجمالی نظر - خیبر

کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” پر اجمالی نظر

30 جون 2018 14:38

جیمز پیٹراس لکھتے ہیں کہ آج کے معاشروں میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ بحث و مباحثے کی آزادی اور اسرائیلی لابیوں پر علی الاعلان تنقید کے لئے تحریک چلائی جائے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” (۱) نیویارک کی بنگ ہمٹن یونیورسٹی (۲) کے ممتاز پروفیسر “جیمز پیٹراس” (۳) کی کاوش ہے۔ انھوں نے اب تک ۶۳ کتابیں لکھی ہیں اور ان کے کتب کے تراجم ۲۹ زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔
اس کتاب میں مشرق وسطی کے سلسلے میں امریکی پالیسیوں میں یہودی لابی کے اثر و رسوخ اور تسلط کی تصویر کشی ہوئی ہے۔ مؤلف کا خیال ہے کہ یہودی لابی کے اثر و رسوخ کی جڑیں امریکہ کے نہایت بااثر، طاقتور اور خوشحال ترین خاندانوں کے ساتھ یہودی خاندانوں کے غیر معمولی تعلقات میں پیوست ہیں۔ مزید برآں یہودی لابیوں اور نظرپردازوں نے دباؤ بڑھانے، بلیک میل کرنے اور رائے عامہ کی حمایت اپنی جانب مبذول کروا کر اپنی فکری برتری کو بھی منوا لیا ہے۔
جیمز پیٹراس لکھتے ہیں کہ آج کے معاشروں میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ بحث و مباحثے کی آزادی اور اسرائیلی لابیوں پر علی الاعلان تنقید کے لئے تحریک چلائی جائے۔ ان کا خیال ہے کہ عالمی معاشروں کی خارجہ پالیسیوں کا نئے سرے سے اور زيادہ غور و فکر کے ساتھ، جائزہ لیا جائے۔ اور انھوں نے اپنی کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” کو اسی مقصد سے تالیف کیا ہے۔


کتاب “امریکہ میں اسرائیل کا اثر و رسوخ” چار حصوں اور ۱۴ فصلوں پر مشتمل ہے۔ مؤلف ابتدائی حصے کو “امریکہ میں اسرائیل کی طاقت” کے عنوان سے، امریکہ کو عراق کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنے میں اسرائیل کے حامی امریکی حکام اور یہودی لابیوں کے کردار پر زور دیتے ہیں؛ اور مختلف فصلوں میں بین الاقوامی معاشروں میں امریکہ کی طرف سے جنگوں کے اسباب فراہم کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
دوسرے حصے میں، شکنجے (ٹارچر)، دہشت گردی اور نسل کشی کو امریکہ اور یہودی ریاست کی سلطنت سازی کے عمل کا ناقابل جدائی اجزاء کے طور پر زیر بحث لاتے ہیں۔ اس حصے میں ایک فصل کو غزہ پر اسرائیلیوں کی وحشیانہ یلغار سے مختص کرتے ہیں اور اسے ہولناک بمباریوں کے ذریعے ایک نسل کو فنا کرنے اور ایک علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا نمونہ قرار دیتے ہیں۔
جیمز پیٹراس تیسرے حصے میں نفسیاتی جنگ کے شعبے نیز مزاحمت کی اخلاقی بنیادوں پر بحث کرتے ہیں۔ انھوں نے اس بحث کے ضمن میں “دہشت گردی کے ماہرین” نیز یہودی لابی کے کردار کا بھی جائزہ لیا ہے۔ پیٹراس کی رائے کے مطابق، دہشت گردی کے ماہرین شکنجے (ٹارچر) اور تشدد آمیز اقدامات، اجتماعی اور خودسرانہ گرفتاریوں، پورے عوام اور مختلف معاشروں کو بیک وقت سزا دینے جیسے اقدامات کا جواز فراہم کرنے کے لئے صہونیت اور استکبار کے دشمنوں کو غیر انسانی اوصاف اور خصوصیات کا ملزم ٹہراتے ہیں۔
کتاب کا چوتھا اور آخری حصہ، ریاستہائے متحدہ امریکہ کی استکباری پالیسیوں کی تشکیل اور استعماری منصوبہ سازیوں میں یہودی لابی کی اہمیت اور صہیونی لابیوں سے اس کے رابطوں کے جائزے پر مشتمل ہے؛ اور کتاب کی آخری فصل میں امریکہ کی مشرق وسطائی پالیسیوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ (۴)

حواشی

[۱]POWER OF ISRAEL IN THE UNITED STATES

[۲] Binghamton University

[۳] James Petras

[۴] www.coalitionoftheobvious.com/17112929

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/ت/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=6917

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے