کتاب "فلسطین حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں" کا تعارف - خیبر

کتاب “فلسطین حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں” کا تعارف

14 جون 2018 00:31

صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ستمبر ۲۰۱۵ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اس کتاب کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ اس کتاب میں ایرانی عہدیداروں کے ذریعے اسرائیلی کی نابودی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: یہ کتاب مسئلہ فلسطین پر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ان نظریات کا مجموعہ ہے جو گزشتہ سالوں میں آپ نے متعدد مقامات اور مختلف خطابات میں بیان فرمائے ہیں۔ اس کتاب کا مقدمہ آپ کے مشیر برائے بین الاقوامی امور ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے مقدمہ میں فلسطین کی اہمیت اور امت مسلمہ میں اس کے مقام پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر ولایتی نے مقدمے کے شروع میں لکھا ہے: مشہور ہے کہ پہلی عالمی جنگ سے پہلے اور سلطان عبد الحمید عثمانی کے زمانے میں ایک بانفوذ یہودی گروہ نے انہیں پیشکش کی کہ وہ فلسطین کو دنیا کے یہودیوں کو یکجا کرنے کے لیے انہیں بیچ دیں!۔ عثمانی بادشاہ نے اس یہودی گروہ کو جو جواب دیا وہ ایک مسلمان بادشاہ کی غیرت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے انہوں نے کہا: “میں نے آج تک نہیں سنا کہ کسی زندہ انسان کا بھی پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے”۔ ویانا کو فتح کرنے میں عثمانی حکومت کی ناکامی کے بعد اس سلطنت کا زوال شروع ہو گیا۔
یہ کتاب آٹھ فصلوں؛ کلیات، ناکامیاں اور کامیابیاں، ذمہ داریاں، جرائم، راہ حل، بہادر شخصیتیں، آگہی، روشن مستقبل پر مشتمل ہے۔
اس گرانقدر کتاب کا انگریزی زبان میں ترجمہ ” Palestine Selected Statements by Ayatollah Khamenei About Palestine” کے نام سے ۳۱۹ صفحوں میں اور عربی زبان میں «فلسطین فی مواقف آیه الله العظمی الامام الخامنئی (مدّظله)» کے نام سے ۵۲۶ صفحوں میں منظر عام پر آ چکا ہے۔
صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ستمبر ۲۰۱۵ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے اس کتاب کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ اس کتاب میں ایرانی عہدیداروں کے ذریعے اسرائیلی کی نابودی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔


اس کتاب کے ایک حصہ میں آیا ہے: “ناجائز حسب و نسب کی مالک ریاست، جعلی اور جھوٹی ریاست۔ پوری دنیا سے شرپسند لوگوں کو جمع کر کے اسرائیل نامی جعلی ریاست بنا دی! جہاں جہاں شیطانی صفت اور خبیث النفس یہودی تھے انہیں اکٹھا کیا۔ اکثر ممالک میں یہودی ہیں اور آرام و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں کسی کو کسی سے مطلب نہیں ہے، وہ ان کا ملک ہے اور وہاں وہ رہتے ہیں۔ لیکن جو یہودی مقبوضہ فلسطین میں گئے ہیں وہ حقیقت میں خبیث، شرپسند، لالچی، چور اور قاتل قسم کے لوگ تھے کہ پوری دنیا سے انہیں جمع کیا گیا۔ کیا یہ ایک قوم ہو جائے گی!؟ وہ قوم اور وہ ریاست جو اس طرح وجود میں آئی ہو اور اس نے اپنا نام اسرائیل رکھ دیا ہو صرف دھشتگردی کے علاوہ اس نے اور کیا کرنا ہے”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ک/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=5685

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے