کربلا اور انتظار کے درمیان الہی سنتوں کا رابطہ اور ہم - خیبر

کربلا اور انتظار کے درمیان الہی سنتوں کا رابطہ اور ہم

13 اکتوبر 2018 10:06

ایک شیعہ معاشرہ میں کربلا اور انتظار دو الک الگ قضایا نہیں ایک دوسرے سے جڑے مفاہیم ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں کربلا ہمارا ماضی ہے ظہور امام عصر علیہ السلام ہمارا مستقبل ہے۔

خیبر تجزیاتی ویب گاہ: ہر پر بار سماج و معاشرے میں رائج ثقافت و فرھنگ کے ریشے اور اس کی بنیادیں ماضی کے اقدار و تحفظات میں پنہاں ہوتی ہیں گرچہ معاشرہ آج کی فضاوں میں سانسیں لے رہا ہے آج کی دنیا میں جی رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اپنے ماضی سے علیحدہ ہو کر نہیں جیتا اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی معاشرہ ہو اپنے ماضی کو فراموش کر کے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ ہر معاشرہ اپنے وجود کو منوانے کے لئے اپنی تاریخ کا محتاج ہے اپنے ماضی کی خدمتوں کو یاد رکھے بغیر دو قدم نہیں چل سکتا اور اسی بنا پر ایک سماج و معاشرہ کے آئندہ کے خطوط کو آنے والے سے زیادہ گزشتہ کل میں پنہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ معاشرہ کے طول و عمق عرض پر مشتمل تینوں ابعاد کو گزشتہ کل متعین کرتا ہے جس کے بغیر معاشرہ کی تعمیر ممکن نہیں ۔

یہ بات قابل غور ہے کہ گرچہ تمام کے تمام ہی انسانی معاشرہ اپنی ایک متعین سمت رکھتے ہیں اور انکے اپنے اپنے مثبت و منفی پہلو ہوتے ہیں جنہیں وہ حال کے آئینہ میں دیکھ کر مستقبل کے لئے ایک بہتر کل کی تشکیل کے لئے کام میں لاتے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا معاشرہ ہمارے سامنے نہیں ہے جس کے کل کی تعمیر میں تخیلات و توہمات کا دخل نہ ہو خیال پردازی نہ ہو موہومات نہ ہوں اس لئے کہ ان کے ساتھ دو بڑی مشکلیں ہوتی ہیں؛

۱۔ انکا ماضی قوت و ضعف کا مجموعہ ہوتا ہے جس میں بہت ضروری ہوتا ہے کہ بر وقت مثبت اور مضبوط پہلووں کو صحیح و بجا طور پر منتخب کیا جائے۔

۲۔ یہ مستقبل کو لیکر جو خواب دیکھتے ہیں اس کی حقیقی پیرایہ میں ایک بازبینی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ انکی آرزوں کو عملی ہونے کا موقع مل سکے ۔

انہیں معاشروں میں ایک ایسا سماج بھی ہے جسکا ماضی بھی درخشاں ہے جس کا مستقبل بھی روشن ہے جس کے کل کی ضمانت بھی موجود ہے جسکے گزشتہ کل کی ضمانت اسکی درخشاں تاریخ ہے یہی وہ معاشرہ ہے جو اپنے گزشتہ کل کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے آنے والے کل کے لئے ایک مضبوط نظام حیات دے سکتا ہے۔ یہ وہ سماج ہے جسکا ماضی بھی درخشان ہے جسکا مستقبل بھی روشن ہے اگر ہم ایسے سماج کو ڈھونڈنے نکلیں تو ملے گا یہ وہ سماج ہے جس کی جڑیں امامت و ولایت میں گڑی ہیں یہ وہ سماج ہے جس کے ماضی میں حرکت ہے جوش ہے ولولہ ہے قربانیاں ہیں شہادتیں ہیں مقتل ہے دار و رسن ہے اور یہ ہر جگہ سر بلند ہے یہ وہ معاشرہ ہے جسکے پاس چودہ ایسے ہدایت کے سلسلہ ہیں جن سے ایسا نور ساطع ہے جو قیامت تک کے لئے رشد و ہدایت کی راہ کو نورانی کرتا رہے گا۔ اس معاشرہ میں حرکت بھی ہے خاموشی و سکوت بھی، عزم جہادی بھی ہے تقیہ بھی شھادت بھی ہے زندان و قید بھی، اس معاشرہ کا نصف النہار کربلا ہے ۔

کربلا وہ سلسلہ ہے جس نے آنے والی نسلوں کو ایک ایک زنجیر کے حلقے کی صورت میں دوسرے سے جوڑ کر رکھا اور یہی وجہ ہے کہ جہاں پر اس سماج و معاشرہ کی اعلی ترین تشکیل ہے ظہور امام عصر علیہ السلام کی شکل میں وہاں بھی یہی کربلا کا سورج جگمگاتا نظر آ رہا ہے

تحریک کربلا اور عقیدہ مھدویت اس سماج کے دو ایسے حقیقی عناصر و رکن ہیں جنکے بغیر اس معاشرہ کو سمجھنا مشکل ہے جب اس معاشرہ کی ایک سمت کربلا ہے دوسرے سمت مھدویت ہے تو اب ضروری ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری کو پہچانیں اور اس بات پر یقین رکھیں کہ کل ہمارا ہوگا۔

ایک شیعہ معاشرہ میں کربلا اور انتظار دو الک الگ قضایا نہیں ایک دوسرے سے جڑے مفاہیم ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں کربلا ہمارا ماضی ہے ظہور امام عصر علیہ السلام ہمارا مستقبل ہے۔

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی حکومت کا قیام بغیر کربلا کے بغیر نا مفہوم ہے، تصور حکومت مستضعفین ایک ایسا تصور ہے جس کی پشت پناہی خلا میں نہیں حقیقت کی فضاوں میں ہے لہذا ضروری ہے کہ کل کی تعمیر کے لئے ہمارا ماضی ہمارے سامنے واضح ہو ۔

جب ہم کربلا کے سلسلہ سے غور کرتے ہیں اور اپنے اس درخشان ماضی کو دیکھتےہیں تو ہمیں ایک الہی نظام نظر آتا ہے پروردگار کی کچھ سنتیں نظر آتی ہیں اس کے امتحان کا ایک نرالا انداز نظر آتا ہے جو ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ یہ سنتیں تکرار ہو سکتی ہیں یہ امتحان پھر ہو سکتا ہے لہذا ہمیں خود کو تیار رکھنا ہے ۔

قیام حسینی و مھدوی میں الہی سنتوں کا وجود اور ہماری ذمہ داریاں :

فلسفہ تاریخ اور اجتماعی مطالعات کے سلسلہ سے ہونے والی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہے الہی سنتیں اور اس کی جانب سے ہونے والے امتحانات نہ تبدیل ہونے والے قوانین کی شکل میں حوادث و واقعات پر حاکم ہیں اور قرآن کریم کی بہت سی آیات کریمہ سنن الہی کے ایک قانونی مدار میں حرکت کرنے کو بیان کر رہی ہیں ۔

سماج و معاشرہ کو ایک خاص قانون [۱] کے تحت چلانے کے سلسلہ سے قرآن کریم اور دیگر اسلامی متون میں جو کلمہ استعمال ہوا ہے اسے سنت کہا گیا ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ قرآن کریم میں نقل ہونے والے قصص، حوادث اور تاریخی واقعات اپنے دور کے کسی ایک خاص گروہ یا ایک خاص دور سے متعلق ہونے کے باوجود اسی سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر عمومیت پائی جاتی ہے۔

اور ہر دور کے انسانوں کے لئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم انسانوں کو ترغیب دلاتا ہے کہ کائنات کے بارے میں غور کیا جائے اور دنیا میں سیر و سفر کے ذریعہ اللہ کی نعمتوں کے سلسلہ سے اپنے مشاہدات کی روشنی میں حقائق کا ادراک کیا جائے حتی گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے اور اپنے لئے سعادت و کمال کی راہوں کا انتخاب کیا جائے ۔

تاریخی واقعات کے سلسلہ سے قرآنی ہدایات کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کے ان اہم واقعات میں جو انسانی زندگی کے سلسلہ سے ایسے راہنما اصول پیش کرتے ہیں جن پر چل کر بشریت کمال واقعی تک پہنچ سکتی ہے ایک بے نظیر واقعہ کربلا ہے جو گرچہ بہت مختصر سے عرصہ میں رونما ہوا لیکن اپنے اندر صدیوں پر محیط ایسی تعلیمات لئے ہوئے ہیں جسکی روشنی میں بشریت کو معراج ملتی رہے گی ۔اس مختصر سے واقعہ میں امتحان الہی کے دشوار و عالی ترین نمونے موجود ہیں جو حق و باطل کے معرکہ کے درمیان متجلی ہوتے ہیں کربلا کے بعد ایک اور پروردگارکی عظیم سنت جسے دنیا میں جاری و ساری ہونا ہے اور جس میں بنی نوع بشر کو اپنا دشوار ترین امتحان دینا ہے ظہور امام زمان عج اللہ تعالی فرجہ الشریف ہے جس میں ساری دنیا میں عدالت کا پرچم لہرائے گا اور برسوں سے ظلم و ستم کی چکی میں پستی بشریت کو جام عدالت سے سیراب کیا جائے گا ۔اب چاہے واقعہ کربلا ہو یا ظہور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا مرحلہ دونوں ہی میں ہم سب کا امتحان ہے بس فرق یہ ہے کہ واقعہ کربلا میں امتحان ہو چکا ہے اور ظہور کے بعد امتحان ہونا باقی ہے۔

ایسے میں ضروری ہے کہ ہم ان الہی سنتوں کو سمجھیں اور جانیں جو کربلا میں نافذ تھیں اور بعد کربلا ظہور امام زمانہ عج کے وقت دوبارہ تکرار ہوں گی یقینا کربلا میں رائج الہی سنتوں کی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے قیام عدالت پر تطبیق ہماری نصرت امام کی راہ میں معاون و مددگار ہوگی ۔

[۱] . تفصیل کے لئے رجوع کریں ، محمد نوری ، عبر ھای عاشورا ، ص ۲۴

تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=13171

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے