کیا زعفرانی رنگ لہو کے رنگ پر بھاری پڑے گا؟ - خیبر

ہندوستان کے بلند شہر میں ہجومی تشدد!

کیا زعفرانی رنگ لہو کے رنگ پر بھاری پڑے گا؟

08 دسمبر 2018 14:32

اگر یہ ساری باتیں عام لوگوں کی جانب سے ہوتیں تو شاید اتنی قابل غور نہ ہوتیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہلاک ہوئے پولیس انسپکٹر کے گھر والے بھی یہی کہہ رہے ہیں چنانچہ سبودھ سنگھ کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر انتہائی خلوص سے کام کرتے اور ساری ذمہ داری لے لیتے تھے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ:  گزشتہ چند دنوں سے ہندوستانی میڈیا میں مسلسل بلند شہر کے ہجومی تشدد کی خبریں مسلسل  گشت کر رہی ہیں مختلف ٹی وی چینلز پر  مسلسل ٹاک شو ہو رہے ہیں  اور بلند شہر میں ہونے والے ہجومی تشدد کو مختلف پہلووں پر مبصرین اپنی رائے دے رہے ہیں  کہ ایسا کیوں ہوا ؟ کس نے کیا ؟

ہندوستان میں سخت گیر مذہبی نظریہ رکھنے والی پارٹی بے جے پی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے لیکر اب تک بلند شہر جیسے نہ جانے کتنے ہی واقعات رونما ہو چکے ہیں نہ جانے کتنی ہی جانیں گئو کشی کی افواہ نے لے لیں ہیں۔ ”ہندوستان  میں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ملک میں مذہبی تشدد کے ۸۲۲ واقعات پیش آئے ہیں جن میں ۱۱۱ افراد ہلاک اور ۲۳۸۴ زخمی ہوئے”[۱]

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک مسلسل پھیلتی مذہبی منافرت کے بارے میں اب تو دیگر ممالک کے سرکردہ لوگوں نے بھی تشویش کا اظہار شروع کر دیا چنانچہ ہندوستانی شماریاتی انسٹی ٹیوٹ کلکتہ کے ۵۲ ویں سالانہ کانووکیشن میں حصہ لینے آئے نوبل انعام سے سرفراز ڈیوڈ جوناتھن کی یہ بات اسی پیرایہ میں دیکھی جانی چاہیے جس میں انہوں نے کہا تھا ” جس ملک نے مہاتما گاندھی جیسی عظیم شخصیت کو جنم دیا وہ ۲۱ ویں صدی میں بھی ذات پات اور مذہبی نفرت سے جد و جہد کر رہا ہے۔[۲]’’ آ پ کے پاس مہاتما گاندھی جیسے عظیم قائد تھے، جنہوں نے تشدد کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور عدم تشدد کا پیغام دنیا بھر میں پھیلایا لیکن اب یہاں نفرتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازین انٹررنیشنل کرسچیئن کنسرن کے صدر جیف کنگ نے اپنے خطاب میں اس مذہبی منافرت کے پیچھے ہندوستانی وزیر اعظم کی خاموشی کو بھی ایک سبب قرار دیتے ہوئے کہا تھا ” اگر نریندر مودی نے انتہا پسند ہندو گروپوں کو توانا ہونے سے پہلے روکا ہوتا تو آج بھارت کی سرزمین پر اقلیتوں کے خون سے ہولی نہ کھیلی جاتی[۳] اس طرح کے آپ کو بہت سے موارد مل جائیں گے جہاں ہندوستان کے باہر کی معروف و سرکردہ شخصیتوں نے ہندوستان میں بڑھتی عدم برداشت اور مذہبی انتہا پسندی کو ملک کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔ لیکن حکومت پر مسلسل بے حسی طاری ہےجبکہ اب تو کھلے عام مسلمانوں کو چند گھنٹوں میں ختم کردینے تک کی دھمکیاں سامنے بھی سامنے آ رہی ہیں  [۴] لیکن حکومت اور انتہا پسند عناصر میں ایک قسم کا درونی تال میل نظر آ رہا ہے اسی وجہ سے ان پر شکنجہ کسنے کے بجائے انہیں کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے جسکی وجہ سے مسلسل حوادث رونما ہو رہے ہیں اگرچہ یہ سارے حوادث نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ بر سر اقتدار پارٹی اور اسکی ہم خیال تنظیموں کی قلعی خود ہی کھلتی جا رہی ہے لیکن اس اعتبا ر سے تشویشناک ہیں کہ بلا وجہ محض ہوس اقتدار میں کچھ لوگ مذہب کی بنیادوں پر ووٹوں کی تقسیم کے ذریعہ اپنے آپ کو کرسی اقتدار تک پہنچانے کے لئے نہایت ہی گھناونا کھیل کھیل رہے ہیں ،حالیہ بلند شہر کا واقعہ جہاں قابل مذمت ہے وہیں اسکے بارے میں مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں ۔جہاں مذہبی رواداری کا نظریہ رکھنے والے اس پورے حادثے کا تجزیہ کرتے ہوئے زہریلی فضا  قائم کرنے والے اسباب و محرکات پر گفتگو کر رہے ہیں  وہیں حکمراں جماعت کی جانب  سے بات کو منحرف کر کے گئو کشی کے جرم پر بات ہو رہی ہے یاد رہے ۔

اصل ماجرا کیا ہے ؟

گزشتہ چند دنوں قبل  بلند شہر میں   ایک پولیس افسر کو ایک مشتعل ہجوم نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ لوگوں کو پرسکون رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔تفصیلات کے مطابق” ۴۷ سالہ انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ بلند شہر کے سیانا پولیس تھانے کے انچارج تھے۔ انھیں صبح اطلاع ملی تھی کہ پانچ کلومیٹر دور ایک گاؤں چگراوتی میں بلوائی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ بعض بلوائیوں نے کہا کہ انھیں کھیتوں میں گائیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ جلد ہی وٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر ویڈیوز گردش کرنے لگیں، جس میں ایک ٹریکٹر پر لاشیں لدی تھیں”[۵] بلند شہر کے سیانا کوتوالی علاقہ میں گئو کشی کا الزام لگا کر ہندوتوا تنظیموں نے نہ صرف پر تشدد احتجاج کیا بلکہ  بلند شہر-سیانا روڈ پر جام لگا کر پولس پر پتھر بازی کی۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین کی طرف سے فائرنگ بھی کی گئی اورمشتعل ہجوم نے پولس پر پتھراؤ کے دوران چنگراوٹھی پولس چوکی کو نذر آتش کر دیا۔[۶]

اس پورے ماجرے  میں جہاں مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں وہیں چند حسب ذیل سوالات کا تشفی بخش جواب اب تک نہ ملنا اس پورے قضیے کو الجھا رہا ہے جس کے سبب یہ معاملہ گئو کشی کا نہ ہو کر انتخابات کے تنورکے گرم کرنے سے جڑا نظر آرہا ہے ۔

۱۔  معاملہ کے کلیدی ملزم کی بجرنگ دل کے رکن یوگیش کی ابھی تک گرفتاری اب تک کیوں نہیں ہو سکی ؟  ۔

خبروں کے مطابق اس معاملے میں اب تک ۴ سے ۵ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ وہیں پولیس نے انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کے قتل معاملے میں کلیدی ملزم یوگیش راج کو بنایا ہے۔ بتایاجا رہا ہے کہ یوگیش راج ہندو وادی تنظیم بجرنگ دل کا کنوینر ہے[۷]۔

یہ کلیدی مجرم وہی ہے جو مشتعل بھیڑ کی قیادت کر رہا تھا اور اس سے پیشتر بھی اس نے پرتشدد بیانات دئے تھے جسے بے طرف میڈیا مسلسل نشر کر رہا ہے جن میں حج پر والے والی فلائٹس پر حملے کی بات بھی کہی گئی تھی ۔

۲۔ جب صلح ہو گئی تو تشدد کس نے بھڑکایا ؟

گو کشی کے شک میں بلند شہر کے جس گاؤں میں تشدد ہوا تھا اس گاؤں مہاؤ کے سابق پردھان کا کہنا ہے کہ پولیس والوں سے ہماری صلح ہوگئی  تھی ۔ انہوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ہمارے گاؤں والوں نے پتھراؤ بھی نہیں کیاتھا ۔ پتھراؤ کرنے والے لوگ باہری تھے ۔سابق پردھان پریم جیت سنگھ نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ، پولیس  کے ساتھ ہمار ی صلح ہوگئی تھی ۔ پولیس نے یقین دلایا تھا کہ ملزموں کے خلاف ایف آئی آر کی جائے گی ۔ہمارے گاؤں کے لوگ مان گئے تھے ،لیکن اچانک بجرنگ دل کے لوگوں نے ٹریکٹر پر قبضہ کر لیا ۔ ہم نے بہت سمجھانے کی کوشش کی ،لیکن وہ نہیں مانے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، پریم جیت سنگھ کے کھیت میں بھی گائے کی ہڈیاں اور آثار ملے تھے ۔ا۔سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ،ہم نے ٹریکٹر ہٹالیا تھا لیکن جب ہم ٹرالی ہٹانے گئے تو پتھراؤ شروع ہوگیا۔ پتھراؤ کرنے والے گاؤں کے نہیں تھے ۔ مجھے نہیں پتہ کہ پتھر کہاں سے آگئے ۔ گاؤں میں تو اتنے پتھر ہوتے نہیں ۔ میں تو صلح کر وا رہا تھا ۔ اچانک بھیڑ نے پتھر مارنا شروع کردیا۔یہ سب باہر کے لوگ تھے ۔ جب پتھر چلنے لگے تو ہم جان بچاکر بھاگے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لڑکا یوگیش  راج آگے  آگےتھا ،اس کا ہم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ مجھے نہیں پتہ کہ جب پولیس ایف آئی آر درج  کر رہی تھی تو پتھر کیوں چلے ؟ انہوں نے کہا یہ سب طے شدہ لگتا ہے۔این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے راج کمار نامی شخص نے بتایا کہ اس کے کھیت میں گائے کی ہڈیاں اور آثار ملے تھے ،ہم اس کو زمین میں گاڑنا چاہ رہے تھے لیکن بھیڑ نہیں مانی ۔ راج کمار کی بیوی رینو کا کہنا ہے کہ جب ہم کل کھیت پہنچے تو وہاں گائے کی ہڈیاں اور آثا رملے ۔ ہم نے اس کے بارے میں پولیس کو جانکاری دی ۔ اس وقت تک کافی تعداد میں گاؤں والے اور بھیڑ ہمارے کھیت میں پہنچ چکی تھی ۔ اس کے بعد ہم نے ہڈیوں کو کھیت میں گاڑنے کا فیصلہ کیا ،لیکن بھیڑ نہیں مانی۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ، بھیڑ ہی ٹرالی لے کر آئی اور اس میں گائے کی ہڈیاں اور آثار ڈالنے کو کہا کہ ہم تھانے جاکر جام کرتے ہیں ۔ اس پر ہم نے منع کیا اور کہا کہ ہم ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے ۔ لیکن بھیڑ نہیں مانی۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی بھیڑ کیسے اور کیونکر اکھٹا ہوئی اور جب صاحب معاملہ ،بات چین کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کر رہا تھا تو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے زبردستی گائے کے باقیات اپنی ٹرالی میں ڈال کر پرتشدد احتجاج اس حد تک کیا کہ ایک پولیس انسپکٹر کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔

۳۔ فرض منصبی ادا کرنے والے پلیس انسپکٹر کی جان کس نے لی؟ فی الحال یہ معاملہ پولیس کی ترجیح میں کیوں نہیں  ؟۔

ایک طرف ایک پولیس والے کی جان گئی ہے تو دوسری طرف پولیس کی ترجیحات میں گئو کشی ہی ہے اپنے ہی ساتھی کی موت فی الحال پولیس کی ترجیح نہیں ہے چنانچہ بلند شہر کے اے ایس پی رئیس اختر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا،’ اس وقت ہماری اہم فکر یہ ہے کہ کن لوگوں نے گائے کو مارا ہے۔ گائے کے قتل کو لے کر پھیلے تشدد میں ہی انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت ہوئی تھی۔ ہمارا ماننا ہے کہ پہلے جب ہم گئو کشی کی جانچ کر لیں گے تو اس سے پتا چلے گا کہ کیسے سبودھ سنگھ کی موت ہوئی تھی۔ ‘انھوں نے مزید کہا،’ گائے کا قتل کرنے والے ہماری ترجیحات میں ہیں۔ فی الحال قتل اور تشدد/فسادات معاملہ ہماری ترجیحات میں نہیں ہیں۔ [۸]‘ بلند شہر تشدد کے بارے میں وزیر اعلی کی جانب سے پریس ریلیز میں بھی ایک پولیس آفیسر کے مر جانے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اسکے بر خلاف گئو کشی کے معاملہ کو سنگین قرار دیتے ہوئے اسے منصوبہ بند بیان کیا گیا ہے جبکہ  دوسری طرف  اے ڈی جی کمار نے بتایا کہ گئوکشی کے ثبوت ابھی نہیں ملے ہیں ۔ گئوکشی کے الزام اور تشدد دونوں کی جانچ کے لیے آئی جی میرٹھ رینج کی قیادت میں ایک ایس آئی ٹی بنائی گئی ہے[۹]

۴۔ کیا سرکاری پولیس آفیسر کے قتل میں کوئی فوجی ملوث ہے ؟

این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ شائع کی ہے کہ انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کا قتل ایک آرمی جوان نے کیا ہے ، آرمی جوان کا نام جیتو عرف فوجی بتایا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ،یہ شک ظاہر کیا جارہا ہے کہ چھٹی پر جموں وکشمیر سے گھر آئے جیتو عرف فوجی کی گولی سے ہی انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کی موت ہوئی ہے ۔

حالاں کہ پولیس نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے،لیکن پولیس کا پہلا شک جیتو پر ہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تشدد کے دوران اس کو کئی بار دیکھا گیا تھا۔ واضح ہو کہ اس معاملے میں جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے اس میں کلیدی ملزم بجرنگ دل کا لیڈر یوگیش راج ہے ۔ اس کے علاوہ ۲۷ لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔

اتر پردیش پولیس کے ایک بڑے افسر کے مطابق، مقامی ،ملزم اور موقع پر موجود لوگوں سے پوچھ تاچھ میں جیتو فوجی کا نام سامنے آیا ہے۔ اس کو پکڑنے کے لیے دو ٹیمیں نکل چکی ہیں ۔ لیکن ہم لوکیشن اس لیے نہیں بتا سکتے کہ کیوں کہ اس سے جانچ متاثر ہوسکتی ہے۔جب ہم جیتو کو پکڑ لیں گے او رپوچھ تاچھ کر لیں گے تب بتاپائیں گے کہ کیا واقعی میں انسپکٹر سبودھ کا قتل جیتو فوجی نے کیا ہے۔ یہ ہماری شروعاتی لیڈ ہے ۔ ذرائع کے مطابق،جیتو کو پکڑنے کے لیے پولیس کی دو ٹیمیں جموں وکشمیر گئی ہیں ۔ ایک ٹیم یوپی ایس ٹی ایف کی ہے اور دسری یوپی پولیس کی ۔[۱۰]

۵۔کیا یہ پولیس کی سازش ہے اور اس معاملہ کا کوئی تعلق اخلاق کیس سے ہے ؟

بلند شہر میں گولی کا نشانہ بننے والے پولیس انسپکٹرکا اخلاق کے کیس سے تعلق بھی معاملہ کی سنگینی کا سبب بن رہا ہے اتر پریش کے اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) آنند کمار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انسپکٹر سبودھ دادری میں موب لنچنگ کے ذریعہ قتل کئے گئے اخلاق کے معاملہ میں جانچ افسر تھے۔پولس نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سبودھ کمار ستمبر ۲۰۱۵ سے ۹ نومبر ۲۰۱۵ تک اخلاق قتل معاملہ میں جانچ افسر تھے بعد میں ان کا تبادلہ ورانسی کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے سبودھ کمار وہ افسر تھے جنہوں نےاخلاق قتل کے بعد دادری کو قابو میں رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے تھے۔ وہ اس وقت ہر روز علاقہ کا دورہ کرتے تھے تاکہ شرپسند عناصر سر نہ اٹھا سکیں اور اس وقت وہاں ایک مسلم گھرانے میں شادی کی تقریب ہونی تھی اور اہل خانہ خوفزدہ تھے لیکن سبودھ کمار ہی تھے جنہوں نے اس شادی کو یقینی بنایا تھا۔ سبودھ وہ افسر تھے جنہوں نے ۱۷ ملزمین کے خلاف کیس درج کیا تھا اور ان کو گرفتار کیا تھا جو بعد میں ضمانت پر رہا ہو گئے تھے۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ثبوتوں کی روشنی میں ایک آفیسر کا فیصلہ اور کاروائی کرنا انکے قتل کا سبب بن گیا ؟۔

یاد رہے کہ سال ۲۰۱۵ میں گریٹرنوئیڈا کے دادری میں بھیڑ نے محمد اخلاق اوران کے بیٹے پرگھرمیں گھس کرحملہ کردیا تھا، جس میں اخلاق کو کافی چوٹیں آئیں۔ انہیں چوٹوں کی وجہ سے اخلاق کی موت ہوگئی تھی۔ اس کیس میں انسپکٹرسبودھ کمار سنگھ گواہ نمبر-۷ تھے۔

اگر یہ ساری باتیں عام لوگوں کی جانب سے ہوتیں تو شاید اتنی قابل غور نہ ہوتیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہلاک ہوئے پولیس انسپکٹر کے گھر والے بھی یہی کہہ رہے ہیں چنانچہ سبودھ سنگھ کی بیوی نے کہا ہے کہ ان کے شوہر انتہائی خلوص سے کام کرتے اور ساری ذمہ داری لے لیتے تھے۔ایسا واقعہ ان کے ساتھ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔اس سے پہلے بھی ان پر دو بار گولی چلائی جا چکی ہے۔لیکن کسی نے بھی ان کو انصاف نہیں دیا۔اب انصاف تبھی مانا جائے گا جب قاتلوں کو مارا جائے گا۔سبودھ کی بہن کا کہنا ہے کہ وہ اخلاق کیس کی تحقیقات کر رہے تھے اسی لئے انہیں مارا گیا ہے۔یہ پولیس کی ہی سازش ہے۔ سبودھ کمار کی بہن نے پولیس پر سنسنی خیز الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو پولیس نے مل کر مروایاہے۔خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق، انہوں نے کہا یہ پولیس کی سازش  ہے۔ میرے بھائی اخلاق قتل معاملے کی جانچ کررہے تھے اس لیے ان کو مارا گیا ہے ۔ مجھے افسوس ہے کہ وزیر اعلیٰ یا کسی عوامی نمائندے نے ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

انہوں نے حکومت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ،ہم پیسہ نہیں چاہتے ۔ وزیر اعلیٰ صرف گئو ،گئو ،گئو چلاتے رہتے ہیں ۔ اسی گئو ماتا کے لیے میرے بھائی نے جان دے دی ۔ اب وزیر اعلیٰ کچھ کریں گے[۱۱] یہ تمام باتیں موجودہ قرائن و شواہد کے پیش نظر اس مفروضے کی تقویت کا سبب ہیں جو انسپکٹر کی بہن نے سامنے رکھا خاص کر اس وقت جب ۴۰۰ لوگوں کی مشتعل بھیڑ اکھٹا تھی جو مارنے کاٹنے پر تلی تھی اسکے باجود انسپکٹر نہتھے ہی ان سے کیونکر مقابلہ کے لئے پہنچ گئے جیسا کہ عینی شاہدین نے بتایا کہ جب وہ چگراوتی پہنچے تو انھوں نے نہ تو بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں پستول تھا[۱۲]۔ اور انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق بھیڑ کے تھانے پر حملے میں زخمی سبودھ سنگھ پر ہاسپٹل لے جاتے ہوئے دوبارہ حملہ کیا گیا تھا اور ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ان کی موت ہوگئی تھی ۔ایک رپورٹ کے مطابق، انسپکٹر سبودھ کی پستول اور موبائل فون بھی غائب ہیں اب سوال یہ ہے کہ اگر ان ایک بار حملہ ہو چکا تھا تو دوبارہ حملہ کی صورت میں پولیس نے انکے دفاع کے سلسلہ سے مستعدی کیوں نہیں دکھائی ؟ اس پورے معاملہ میں سچائی کیا ہے یہ تو ایک نہ ایک دن واضح ہو ہی جائے گی لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس ہجومی تشدد نے اپنے ساتھ کئی سوال چھوڑ دئے ہیں جن سوالوں کے اندر ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کہیں یہ منصف مزاج بے طرف ایسے لوگوں کو دہشت گرد عناصر کا انتباہ تو نہیں جو بغیر کسی کے دباو میں آئے اپنے فرض منصبی کی ادائگی کو اپنے مذہب کی تعلیم سمجھتے ہیں ، اگر  یہ مستقل سوچ رکھنے والے منصف مزاج سرکاری افسروں کو دہشت گرد عناصر کی جانب سے ٹارگٹ کر کے یہ بتانے کی کوشش ہو کہ ہمارے رنگ میں نہیں رنگے تو اپنے خون سے رنگین ہو جاوگے تو معاملہ بلند شہر کی سطح سے بہت اوپر ہے ۔بھگوان سے دعاء ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو کہ زعفرانی رنگ لہو کے رنگ پر بھاری پڑ جائے اور ایک بار پھر مجرموں کو چھوڑ بے گناہوں پر جھوٹی تعزیرات دائر کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ  بلند شہر تو کیا ہر شہر کا سر شرم سے جھک جائے گا اور عدل و انصاف کی لاش پر زعفرانی پرچم لہرا رہا ہوگا رام کے نام کی شنکھ بج رہی ہوگی اور راون قہقے لگا رہا ہوگا ۔

 

 حواشی :

[۱] ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-42985630

[۲]  ۔ https://www.qaumiawaz.com/national/nobel-laureate-says-hate-is-on-the-rise-in-india-politicians-are-responsible

[۳]  ۔ https://roznama92news.com/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA-[3]%D8%A7%D9%86%D8%A%D9%BE%D8%B3%D9%86%D8%AF%DB%8C-%D8%B1%D9%88%DA%A9%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%DB%81-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D9%88%D9%84-%D9%85%DB%8C%D8%B2-%DA%A9%D8%A7%D9%86%D9%81%D8%B1%D9%86%D8%B3

[۴]  تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو : رمیندر کمار نے پولیس انسپکٹراورایس ایچ او، سیتامڑھی کو واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بھیڑ نعرے لگا رہی تھی کہ ایک گھنٹے کا وقت دیجئے تمام مسلمانوں کو ختم کر دیں‌گے… http://thewireurdu.com/44780/sitamarhi-bihar-communal-violence-zainul-ansari-durga-puja/

[۵]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-46457924

[۶]  ۔ https://www.qaumiawaz.com/national/mob-lynching-of-police-inspector-in-protest-after-alleged-cow-slaughter

[۷]  ۔http://thewireurdu.com/46715/bulandshahr-violence-nhrc-issued-notice-to-yogi-adityanath-govt/

[۸]  ۔http://thewireurdu.com/46936/bulandshahr-police-probe-cow-slaughter-killing-of-inspector-subodh-singh/

[۹]  ۔http://thewireurdu.com/46643/bulandshahar-violence-main-accused-is-leader-of-bajrang-dal-five-arrested/

[۱۰]  ۔ http://thewireurdu.com/46944/bulandshahr-violence-inspector-subodh-singh-was-shot-dead-by-jitu-fauji/

[۱۱]  ۔ http://www.dailysalar.com/news/39019/urdu-news-paper/

https://www.qaumiawaz.com/national/bulandshahr-riots-raises-questions-on-yogi-governance

http://urdu.news18.com/news/north-india/inspector-subodh-kumar-singh-killed-in-bulandshahr-violence-was-one-of-the-most-important-witness-in-dadri-akhlaq-lynching-case-257501.html

[۱۲]  ۔ https://www.bbc.com/urdu/regional-46457924

تحریر: ایس سندر وویک کمار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=16007

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے