کیا سعودی ایران کی طرف پلٹ آئیں گے؟ + بن سلمان کا جواب اور سعودی غیرت کا اظہار - خیبر

ٹرمپ کی عجیب اہانتیں؛

کیا سعودی ایران کی طرف پلٹ آئیں گے؟ + بن سلمان کا جواب اور سعودی غیرت کا اظہار

06 اکتوبر 2018 17:02

ٹرمپ کے نہایت خوفناک اہانتوں اور سعودیوں کی ہولناک خاموشی سے یہ ثابت ہوچکا کہ مشرق وسطی اور خلیج فارس کی سلامتی کا واحد راستہ خطے کے ممالک کا باہمی تعاون ہے اور یہ کہ امن و سلامتی کو تیل کی آمدنی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ نے ٹرمپ کی خوفناک اہانتوں اور سعودیوں کی ہولناک خاموشی کے بعد ایک بار سعودیوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تزویری حکمت عملی کے مطابق مشرق وسطی اور خلیج فارس کی سلامتی کا واحد راستہ خطے کے ممالک کا باہمی تعاون ہے اور یہ کہ امن و سلامتی کو تیل کی آمدنی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا / لیکن بنی سعود کے ولیعہد نے ٹرمپ کی اہانتوں کے جواب میں کہا: ہم نے امریکی خواہش کے مطابق عمل کرتے ہوئے ایرانی تیل کی عدم درآمد سے پیدا ہونے والی کمی کو پورا کردیا ہے اور یہ کہ “دوست لوگ” ہمارے بارے میں اچھی اور بری باتیں کہتے ہیں جنہیں دوستوں کے درمیان کی گفتگو کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے!!!
ٹرمپ کے نہایت خوفناک اہانتوں اور سعودیوں کی ہولناک خاموشی سے یہ ثابت ہوچکا کہ مشرق وسطی اور خلیج فارس کی سلامتی کا واحد راستہ خطے کے ممالک کا باہمی تعاون ہے اور یہ کہ امن و سلامتی کو تیل کی آمدنی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
سعودی عرب نے ۲۰۱۷ع‍ میں ۷۶٫۷ ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کرکے امریکہ اور چین کے بعد تیسرا رتبہ تو حاصل کرلیا لیکن اس کے باوجود عسکری طاقت اور دفاعی صلاحیت کے لحاظ سے، اس سے کہیں کم دفاعی بجٹ والے ممالک کے ساتھ قابل قیاس نہیں ہے۔ وہ جس قدر کہ امریکہ سے اسلحہ خریدے گا اس کی امن و سلامتی اتنی ہی امریکہ کے ارادے سے منسلک ہوجائے گی اور یہ وہی حقیقت ہے جو جناب ٹرمپ کے آج کل کے توہین آمیز لب و لہجے میں بالکل عیاں ہے؛ اور اس کے توہین آمیز جملے دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
درین اثناء ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ۴ اکتوبر کو اپنے ٹویٹر پیغام میں سعودیوں کی نسبت ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل توہین و تذلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ اس بےبنیاد تصور اور توہم کی سزا ہے “کہ اپنی سلامتی کو کسی اور کے سپرد کیا جاسکتا ہے”؛ اور ہم، ہم ایک بار پھر اپنا دوستی کا ہاتھ اپنے پڑوسیوں کی طرف بڑھا دیتے ہیں۔ آیئے ہم مل کر طاقتور خطہ بنائیں اور اس امریکی غرور کو لگام دیں”۔
جواد ظریف کی دعوت علاقے کو اندرونی طور پر طاقتور بنانے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی تزویری حکمت عملی اظہار تھا۔ ایران کا خیال ہے کہ دنیا کے مختلف علاقے کے ممالک باہمی تعاون سے اس طرح کے نظامات بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں صرف مشرق وسطی کے ممالک ابھی تک ناکام ہیں جس کی وجہ سے وہ مسلسل امریکی مداخلتوں کا نشانہ بنتا آرہا ہے اور ان مداخلتوں نے اس بدترین قسم کی بدامنی سے دوچار کررکھا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران ـ اسلامی انقلاب کے بعد ـ “لا شرقیہ ـ لاغربیہ” کی پالیسی کے تحت علاقے کے ممالک کو تسلسل کے ساتھ باہمی تعاون اور اندرونی سطح پر طاقتور علاقہ بنانے کی دعوت دی ہے لیکن عرب ممالک ـ بالخصوص خلیج فارس کی عرب ریاستیں ـ ابتداء ہی سے مغربی مداخلت کو دعوت دیتے آئے ہیں اور امریکہ کی مداخلت کو اپنی سلامتی کا ضامن قرار دیتے اور علاقے میں امریکی مداخلت کے لئے راستہ ہموار کرتے رہے ہیں اور بدقسمتی سے یہ پالیسی ہنوز جاری ہے اور بدامنی بھی جاری ہے کیونکہ مغربی مداخلت سے بدامنی ہی حاصل ہوتی ہے؛ فلسطین، یمن، شام، عراق اور سعودی عرب کے اندرونی حالات اس کا عملی ثبوت ہیں۔
ایران علاقے کی مقامی فوجی صلاحیتوں اور اندرونی سطح پر پنپنے والی سلامتی پر زور کیوں دیتا ہے؟
سابق بعثی عراقی صدر نے ایران پر حملہ کیا تو مغرب نے اس کی ہمہ جہت مدد و حمایت کی اور اس کو حتی کہ کیمیاوی ہتھیاروں سے لیس کیا اور جنگ کے آغاز سے ڈیڑھ سال گذرنے کے بعد صدام نے وسیع سطح پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے مگر مغرب نے ناقابل انکار ثبوتوں کے باوجود اس کے ہاتھ ان ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت نہیں کی جبکہ اگر ایران کے پاس آج کی طرح کے تسدیدی ہتھیار ہوتے تو وہ صدام کو ایسا کرنے سے روک سکتا تھا۔
آج ایران میزائل قوت اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت مختلف عسکری سطوح میں اعلی صلاحیتوں کا مالک ہے اور اس نے شام اور عراق میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرکے، بیرونی خطروں سے نمٹنے کے سلسلے میں اپنی یہ صلاحیت ثابت کردی ہے جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ ۱۴ ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحہ خریدنے سے نہیں بلکہ اندرونی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر طاقتور بننے سے خطرات کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر علاقے کے ممالک مل کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو نہ صرف باہمی تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے بلکہ بیرونی خطرات کا بھی سد باب کیا جاسکتا ہے اور ایک پرامن علاقے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
لیکن کیا سعودی حکمران ـ جو اس وقت امریکہ سے وابستگی کے لحاظ سے پہلے درجے کا ملک ہے ـ اس دعوت کو مثبت جواب دے گا؟
https://fa.alalam.ir/news/3817151

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/گ/۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=12845

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے