کیا عراق کی موجودہ سیاسی صورتحال میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کا ہاتھ ہے؟ - خیبر

کیا عراق کی موجودہ سیاسی صورتحال میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کا ہاتھ ہے؟

04 ستمبر 2018 15:47

امریکی اور سعودی حکام نے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرتے ہوئے اور بعض افراد عراق بھیج کر یہ دعوی کیا کہ عراق کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو جا سکتا ہے اور اس طرح شدید نفسیاتی جنگ کا آغاز کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: عراق کے حالیہ انتخابات کے بعد پچھلے ساڑھے تین ماہ کے دوران شیعہ پارلیمانی گروپس میں پائے جانے والے غیر معمولی اختلافات کے باعث امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی رالیں دوبارہ ٹپکنا شروع ہو گئیں اور انہوں نے عراق میں وزیراعظم کے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوششیں شروع کر دیں۔ یہ امر عراق کی اندرونی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا باعث بنی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ ممالک عراق کے خلاف نفسیاتی جنگ اور وہاں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں مصروف تھے۔ عراق کے انتخابات میں رونما ہونے والے واقعات سے ہر گز ایسی تبدیلی کے آثار ظاہر نہیں ہوتے جو ان ممالک کے حق میں ہوں کیونکہ ایک طرف اگرچہ شیعہ، سنی اور کرد انتخاباتی گروہوں کی تعداد زیادہ ہو جانے کے باعث پارلیمانی گروپس مزید چھوٹے ہو گئے ہیں لیکن امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی کوشش کے باوجود ایسے پارلیمانی گروپس تشکیل نہیں پا سکے جو سابقہ گروہوں سے یکسر مختلف طرز فکر کے حامل ہوں۔ مثال کے طور پر الدعوہ، مجلس اعلا، بدر اور صدریون جیسے سابق شیعہ گروہوں کو دوبارہ کامیابی حاصل ہوئی جبکہ کرد اور اہلسنت حلقوں میں بھی مشابہہ صورتحال سامنے آئی ہے۔
اس دوران امریکی اور سعودی حکام نے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرتے ہوئے اور بعض افراد عراق بھیج کر یہ دعوی کیا کہ عراق کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہو جا سکتا ہے اور اس طرح شدید نفسیاتی جنگ کا آغاز کر دیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ درج ذیل دو نکات پر توجہ کریں:
الف)۔ گذشتہ دو ہفتے کے دوران امریکہ کے وہم پرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں خصوصی نمائندہ بھیج کر پارلیمانی گروہوں کی ترکیب پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ بریٹ میک کرگ نے کردوں، سائرون کی لیسٹ میں موجود رہنماوں اور بعض دیگر شیعہ رہنماوں پر دباو ڈالتے ہوئے اس بات کی کوشش کی کہ عراقی پارلیمنٹ میں شیعہ وزیراعظم چنے جانے کا مقدمہ فراہم نہ ہو سکے۔ اس دوران حتی مسعود بارزانی نے جو کردستان میں ریفرنڈم کے دوران امریکی بے وفائی سے پہلے ہی ناراض تھے، نے ٹرمپ کے نمائندے کو کہا کہ وہ سب سے بڑے شیعہ پارلیمانی گروہ سے اتحاد میں ہی اپنا مفاد دیکھ رہے ہیں لہذا امریکی نمائندہ خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔ البتہ یہ امریکی سازشوں کا اختتام ثابت نہیں ہو گا اور یقیناً مستقبل میں بھی اس کی سازشیں جاری رہیں گی۔
ب)۔ دوسرا اہم نکتہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے عراق میں مقررہ وقت پر نئے صدر اور کابینہ کے انتخاب کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے پر مشتمل ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں خاص طور پر گذشتہ چند روز کے دوران سعودی عرب کے مشیر خارجہ اور عراق میں سابق سفیر ثامر السہبان جنہیں گذشتہ برس عراق سے ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک سے باہر نکال دیا گیا تھا نے متحدہ عرب امارات کے سفیر حسن احمد شحی سے مل کر چکنے چپڑے وعدوں کے ذریعے شیعہ انتخابات اتحادوں پر اثرانداز ہونے عراقی اور ایران شیعہ عوام کے درمیان اختلاف ظاہر کرنے کی بہت زیادہ کوشش کی۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ پارلیمنٹ میں سیٹوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے حیدر العبادی کے وزیراعظم بننے کے چانسز ۲۰۱۴ء سے بہت کم ہیں لہذا انہوں نے حیدر العبادی پر جہادی شیعہ گروہوں سے اتحاد نہ کرنے اور ایاد علاوی سے وابستہ الوطنیہ یا مقتدی صدر کی سربراہی میں سائرون اتحاد اور بعض کرد گروہوں اور اہلسنت اراکین پارلیمنٹ سے الحاق کرنے کیلئے دباو ڈالا۔
ان کے تین ممکنہ مقاصد تھے؛ پہلا بہت کم مدت میں پارلیمنٹ تشکیل پانے سے روکنا اور نئے صدر اور وزیراعظم کے انتخاب میں بہت زیادہ تاخیر ایجاد کر کے عراق کے جمہوری نظام کی بنیادیں کمزور کرنا، دوسرا امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی عراقی حکومت اور عوام کے خلاف سازشوں کو نتیجہ بخش کرنے کیلئے وقت حاصل کرنا اور تیسرا ممکنہ مقصد عراق کے اندرونی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور اس ملک کو سیاسی اور سکیورٹی بحران کے دہانے پر ظاہر کرنا تھا۔ اس بنیاد پر سعودی حکومت جو عراق میں سیاسی استحکام اور امن و امان کے قیام کا مخالف ہے، نے اعلان کیا کہ وہ حیدر العبادی کا وزیراعظم کے عہدے پر باقی رہنے کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری طرف سعودی میڈیا جیسے عکاظ اور الشرق الاوسط نے یہ ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ ایران حیدر العبادی کا وزیراعظم کے عہدے پر باقی رہنے کا مخالف ہے۔
لیکن اصل حقائق کیا ہیں؟ درج ذیل نکات پر توجہ دیں:
۱)۔ عراق میں پارلیمنٹ کی تشکیل میں تاخیر کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں بھی پارلیمنٹ کی تشکیل میں اس سے بھی زیادہ تاخیر دیکھی گئی تھی۔ اسی طرح اگر آئندہ چند ہفتوں میں عراق کے اراکین پارلیمنٹ نئے صدر اور وزیراعظم کے انتخاب میں کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکے تو یہ بھی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہو گی۔ البتہ موصول ہونے والی تازہ ترین خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پارلیمانی گروہ “الفتح” کے سربراہ ابو حسن العامری کی قیادت میں ایک شیعہ، سنی اور کردی اتحاد تشکیل پا چکا ہے جس کے پاس عراقی پارلیمنٹ کی کل ۳۲۸ سیٹوں میں سے ۲۰۳ سیٹیں ہیں۔ اسی طرح موجودہ عراقی صدر فواد معصوم کا دوبارہ اس عہدے پر باقی رہنے کا بھی قوی امکان موجود ہے۔
۲)۔ ایران کسی خاص فرد یا افراد کا عراق کے وزیراعظم یا صدر بننے کے بارے میں کوئی رائے نہیں رکھتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے صرف یہ بات اہم ہے کہ عراقی گروہوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پائی جائے جبکہ بیرونی ممالک کی مداخلت کا بھی مخالف ہے۔
۳)۔ امریکی اور سعودی حکام اور ذرائع ابلاغ کے زہریلے پروپیگنڈے کے باوجود عراقی عوام اور حکومت ایران سے قریبی اور اسٹریٹجک تعلقات کو اپنی پہلی اور اہم ترجیح سمجھتے ہیں اور خاص افراد اس پر اثرانداز نہیں ہو سکتے۔ ایران اور عراق کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کی دشمن قوتوں کی جانب سے جاری پروپیگنڈے کا جھوٹ آشکار ہونے میں زیادہ وقت باقی نہیں بچا۔

تحریر سعد اللہ زارعی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=11207

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے