کیوں ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی بنیں؟ - خیبر

کیوں ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی بنیں؟

15 نومبر 2018 12:45

امام خمینی(رہ) قائل تھے کہ تمام وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلسطین بھی رہے اور اسرائیل بھی رہے یہ خائن ہیں۔ اسرائیل نام کی کوئی حکومت حتیٰ ایک کلومیٹر زمین پر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اسلامی انقلاب کا اشعار یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کی جگہ ہے اور عیسائی اور یہودی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنے مقدس مقامات پر بھی جائیں لیکن جو ہزاروں کی تعداد میں باہر سے آ کر اس سرزمین پر قابض ہوئے ہیں وہ واپس جائیں۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق؛ مسئلہ فلسطین ایران کے اسلامی انقلاب کا ایک اہم اور بنیادی مسئلہ ہے۔ اگر چہ بعض پہلو کے اعتبار سے کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں لیکن بطور کلی اسلامی انقلاب کی تحریک کے آغاز سے ہی اس مسئلہ کو بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) نے مورد توجہ قرار دیا اور انقلاب کی کامیابی کے بعد تاحال رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران میں اس کی اہمیت کو ذرہ برابر کم نہیں ہونے دیا۔
درج ذیل گفتگو “استاد حسن رحیم پور ازغدی” کی تقریر سے ماخوذ ہے جو انہوں نے عالم اسلام کے علماء کے ایک اجلاس میں بیان کی اور مسئلہ فلسطین کا مخلتف اعتبار سے جائزہ لیا ہے۔
خیبر: کیا اسلامی جمہوریہ ایران میں وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اس کے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ کیا آج اسلامی جمہوریہ میں مسئلہ فلسطین کوئی نیا موضوع ہے؟
۔ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے تمام حریت پسندوں اور انقلابیوں کا دوسرا وطن ہے۔ ہمارے انقلاب کی سرنوشت شروع سے ہی مسئلہ فلسطین کے ساتھ آمیختہ اور جڑی ہوئی ہے۔ امام خمینی (رہ) جہاں شاہ ایران کے خلاف شعار دیتے تھے وہاں امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے خلاف بھی صدائے احتجاج بلند کرتے تھے۔ ابھی انقلاب کامیاب نہیں ہوا تھا کہ لوگ یہ نعرہ لگاتے تھے “آج ایران کل فلسطین”۔ انہی دنوں میں جب صہیونی ریاست تشکیل پا رہی تھی شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی ایران سے قاہرہ گئے اور وہاں انہوں نے ایک تقریر کی اور تقریر کے دوران یہ اعلان کیا کہ ہم یہاں سے ہی اسرائیل کے خلاف جہاد کا آغاز کرتے ہیں۔ بعد میں یاسر عرفات نے کہا کہ میں نے اسی تقریر کے دوران جہاد کا ارادہ کر لیا تھا۔ نواب صفوی نے اس تقریر کے بعد مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟ میں نے کہا کہ فلسطین کا رہنے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں( قاہرہ) میں کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا: میں یہاں انجینئرنگ کر رہا ہوں۔ شہید نواب نے کہا: “فلسطین کو اس وقت انجینئر کی ضرورت نہیں مجاہد کی ضرورت ہے”۔
لہذا تحریک انقلاب کے آغاز سے ہی مسئلہ فلسطین، اسلامی انقلاب کے اصول و مبانی کا حصہ قرار پا گیا۔
خیبر: کیا آپ کی نظر میں اسلامی جمہوریہ ایران مسئلہ فلسطین کے بارے میں ” ماں سے زیادہ دایہ مہربان” کی طرح نہیں ہے؟
۔ شروع سے ہی کچھ لوگ تھے جو یہ کہتے تھے کہ ” کیوں ہم فلسطینیوں سے زیادہ فلسطینی بنیں؟” جب خود فلسطینی ساز باز کر رہے ہیں اور اسرائیل کے مقابلے میں تسلیم ہونا چاہتے ہیں تو کیوں ہم ہمیشہ یہ نعرہ لگاتے رہیں “اسرائیل مردہ باد”؟ امام خمینی اور امام خامنہ ای دونوں بزرگوں نے اعلان کیا کہ مسئلہ فلسطین، فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے، ایک اسلامی مسئلہ ہے۔ دوسری طرف سے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ فلسطین عربوں کا مسئلہ ہے ہم ایرانی ہیں اور اس موضوع کا ہم سے کوئی ربط نہیں ہے۔ امام نے ان کے جواب میں فرمایا: “فلسطین اسلامی مسئلہ ہے نہ عربی”۔
خیبر: اگر فلسطین کے تمام لوگ کسی وقت صلح کر لیں اور تسلیم ہو جائیں ایسی صورت میں اسلامی انقلاب کا موقف کیا ہو گا؟
امام خمینی (رہ) نے فرمایا کہ اگر ایک دن فلسطین کے تمام لوگ قدس کو صہیونیوں کے حوالے کر دیں کہ البتہ ایسا دن نہیں آئے گا تو ہم تب بھی صہیونیت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔
امام خمینی (رہ) نے ابتداء میں ہی کہہ دیا تھا کہ فلسطین کے کمیونیسٹ گروہ کو مت دیکھیے گا البتہ ان کے ساتھ دشمنی بھی نہ رکھنا لیکن قدس کی آزادی ان کے ہاتھوں واقع نہیں ہو گی، اسی طرح بعض عرب ٹولیوں پر بھی فلسطین کے حوالے سے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ صرف ایک اسلامی تحریک ‘اللہ اکبر’ کے شعار کے ساتھ وجود پانا چاہیے اور صرف کلمہ توحید اور نام اللہ کے ساتھ فلسطین کو آزاد کیا جا سکتا ہے ہمیں مدد کرنا چاہیے کہ فلسطین میں ایک اسلامی جماعت وجود میں آئے جس کی بنیاد صرف توحید پر ہو۔ امام قائل تھے کہ کامیابی اسلام کے نام کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اسلام کے نام کے ساتھ حرکت کو حتیٰ اگر وقتی طور پر شکست کا بھی سامنا کرنا پڑے آخرکار کامیابی نصیب ہو گی۔
خیبر: آپ کی نظر میں اگر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتہ ہو جائے کہ اس سرزمین پر دو حکومتیں حکومت کریں تو مسئلہ قدس کا حل کیا ہو گا؟
۔ امام خمینی(رہ) قائل تھے کہ تمام وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلسطین بھی رہے اور اسرائیل بھی رہے یہ خائن ہیں۔ اسرائیل نام کی کوئی حکومت حتیٰ ایک کلومیٹر زمین پر بھی باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اسلامی انقلاب کا اشعار یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کی جگہ ہے اور عیسائی اور یہودی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنے مقدس مقامات پر بھی جائیں لیکن جو ہزاروں کی تعداد میں باہر سے آ کر اس سرزمین پر قابض ہوئے ہیں وہ واپس جائیں۔ فلسطین کی سرنوشت کو ملت فلسطین متعین کرے۔
امام خمینی (رہ) نے شاہ کے زمانے میں اعلان کیا تھا کہ حکومت ایران اور عرب ریاستوں نے ملت فلسطین کے حق میں خیانت کی ہے لہذا تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ قیام کریں اور اپنی فاسد حکومتوں کو کہ جو امریکہ اور برطانیہ کے ہاتھوں کی پروردہ ہیں اور اسرائیل کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہیں کو خاتمہ دیں اور اپنے ملکوں میں اسلامی اور عوامی حکومتیں تشکیل دیں۔

مجید رحیمی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/۱۰۰۰۳

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=14924

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے