گولان کی "جغرافیائی سیاسی" اہمیت اور ٹرمپی دعوے کے مضمرات - خیبر

گولان کی “جغرافیائی سیاسی” اہمیت اور ٹرمپی دعوے کے مضمرات

02 اپریل 2019 14:33

یہودی ریاست ایک طرف سے امریکی حمایت کے تحت اپنے توانائی کے ذخائر اور معاشی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف سے علاقے کے ممالک کو دباؤ میں لا کر اپنے آپ سے وابستہ کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ نہ صرف علاقے میں اس کی موجودگی کو تسلیم کریں بلکہ اس کی بالادستی بھی قبول کریں؛ اس ریاست کی بےحد آرزوؤیں یہاں تک ہیں کہ دو سال قبل تک اس غاصب ریاست کے وزیر دفاع لیبرمین کا دعوی تھا کہ علاقے کے تمام کے تمام پانی کے ذخائر اسرائیلی ریاست کی ملکیت ہیں اوراسرائیل پورے مشرق وسطی کے تمام ذخائر نکالنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی مجاز ہے۔

بقلم: میلاد پورعسکری
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شام کی جنگ کی خاموشی، داعش کی تنہائی، پامپیو کے دورہ لبنان اور ٹرمپ کی طرف سے گولان پر اسرائیلی قبضے کے تسلیم کئے جانے کے بعد، دو نئے واقعات ایسے ہیں جو علاقے میں نئی تبدیلیوں یا پھر عالمی استکبار و صہیونیت کی ایک نئی سازش کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ دو واقعات، در حقیقت اپنے تمام مبینہ مقاصد و اہداف کے ساتھ جنگ شام سے غیر متعلق نہیں ہیں۔ جنگ کے بعد اس ملک میں ایران کا اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے اور اسی موضوع نے یہودی ریاست کو تگ و دو پر مجبور کردیا ہے، کیونکہ اب حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی بھی آسان ہوچکی ہے اور اس کے ساتھ رابطے بھی پہلے سے کہیں زیادہ آسان؛ اور ایران یہودی ریاست کی سرحدوں کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ علاوہ ازیں شام میں پہلے کی امن و استحکام کی صورت حال بہتر ہوجانے کے باعث یہ ملک گولان کی آزادی کے سلسلے میں اپنا مطالبہ دہرانے ـ اور حتی کہ ایران جیسے طاقتور شریک کار کے ہوتے ہوئے ـ گولان کی آزادی کے لئے جنگ شروع کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔
چنانچہ یہودی ریاست اپنے لئے پرامن ماحول بنانے کی غرض سے اپنے پرانے اور دائمی ابدی حامی “امریکہ” کا دامن تھامے ہوئی ہے۔ اسی بنا پر پامپیو اپنے دورے کے دوران دھونس دھمکی کی زبان استعمال کرکے حزب اللہ کو تنہا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور لبنانی حکومت سے کہتے ہیں کہ حزب اللہ کا اسلحہ چھین لے اور یہ جماعت بھی لبنان کی دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح کا بےضرر! رویہ اپنائے اور امن یا جنگ کے سلسلے میں قوت فیصلہ اس جماعت کے ہاتھ میں نہ رہے۔ نیز لبنانی حکومت کو تجویز دیتے ہیں کہ اپنی سرحدی حدودی سے پسپائی اختیار کرے تا کہ یہودی ریاست لبنان کے تیل اور گیس کے ذخائر کی زیادہ سے زیادہ مقدار پر قابض ہوسکے۔ (۱) پامپیو لبنانی حکومت کے جتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ شام، عراق اور یمن کی جنگ میں حزب اللہ کے کردار کی وجہ سے “لبنان عالمی برادری کے مد مقابل آ کھڑا ہوا ہے!”، دلچسپ امر یہ کہ عالمی برادری سے امریکی وزیر خارجہ کی مراد امریکہ اور یہودی ریاست کی حامی چند یورپی ممالک” ہیں۔
پامپیو نے اپنے دورے کے دوران لبنانی حکومت کو مدد کا وعدہ دیا تاکہ وہ حزب اللہ کی مخالفت کی صورت میں ایران اور حزب اللہ کے خطروں سے نمٹ سکے! ‌انھوں نے لبنان کے مالیاتی اور معاشی مسائل حل کرنے کے سلسلے میں بھی وعدے دیئے ہیں اور کہا ہے کہ امریکہ لبنان کی مسلح افواج کو بھی ضروری وسائل اور ہتھیاروں سے لیس کرے گا۔ (۲) البتہ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر لبنان کی حکومت نے حزب اللہ کے بہت سے رسمی اور غیر رسمی اکاؤنٹس بھی بند کردیئے ہیں اور لبنان سے شامی پناہ گزینوں کے پروگرام پر عمل درآمد بھی روک لیا گیا ہے۔ (۳) حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ایران کو تنہا کرنے اور مغربی ایشیا سے ایران کا ہاتھ کوتاہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن وہ دونوں جنگوں میں ناکام رہا ہے اور ایران کا اثر و رسوخ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس وقت بھی حزب اللہ پر دباؤ بڑھانے کا مقصد ایران کی تنہائی کے امریکی منصوبے کو آگے بڑھانا اور ایران کو یہودی ریاست کی سرحدوں سے دور کرنا ہے۔ شیعیان لبنان کی مجلس اعلی کے ادارہ اوقاف کے سربراہ “شیخ حسن شریفہ” نے بھی کہا ہے کہ امریکیوں کے لبنان کے دوروں کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ بڑھانا اور لبنان اور شام کے درمیان جدائی کی دیوار حائل کرنا ہے۔ (۴)
تیل کی بو سونگھ چکے ہیں مائیک پامپیو
لیکن جو دوسرا موضوع جسے پامپیو نے اپنے ایجنڈے میں رکھا تھا، تیل اور گیس اور توانائی کا مسئلہ تھا۔ لبنان کے وزیر توانائی نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ دریافتوں اور انکشافات سے معلوم ہوا ہے کہ اس ملک کے تیل اور گیس کے ذخائر اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں جس کا اس سے پہلے تخمینہ لگایا گیا تھا؛ یعنی لبنان کے ساحلی پانیوں کے ۴۵ فیصد حصے میں ۹۔۹۵ ٹریلین فٹ مکعب گیس اور ۵۔۸۶ کروڑ بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کے اخراج کی صورت میں لبنان کے بہت سارے مالی اور اقتصادی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
بدقسمتی سے لبنان میں جاری سیاسی بدامنی کی وجہ سے دریافتوں اور انکشافات کے اس سلسلے کو مسائل کا سامنا ہے۔ (۵) اسی رو سے یہودی ریاست ـ جو کچھ عرصہ قبل ہی اس حقیقت سے آگاہ ہوچکی تھی ـ نے ان ذخائر کی طرف دست درازی کا آغاز کردیا ہے یہاں تک کہ سنہ ۲۰۱۱ع‍ میں غاصب ریاست کو خبردار کیا کہ لبنان کے توانائی کے ذخائر کی طرف اس ملک کی اجازت کے بغیر، دست درازی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ (۶)
اس کے باوجود کہ سنہ ۲۰۱۴ع‍ میں لبنان کے پانیوں سے ۴ یا ۵ کلومیٹر دور، مشترکہ سمندری علاقے میں “کاریش” نامی کنویں پر قبضہ کرکے مقبوضہ فلسطین، قبرص، یونان اور اٹلی کے درمیان گیس پائپ لائن کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تا کہ لبنان مجبور ہو کہ اگر مستقبل میں اس نے توانائی کے وسائل یورپ برآمد کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا تو اسے اسی پائپ لائن کے ذریعے اپنا کام چلانا اور اپنے دشمن کو محصول اور اخراجات کی مد میں ادائیگی کرنا پڑے اور اپنے دشمن کی بالادستی تسلیم کرنا پڑے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ریاست کی بےحد آرزوؤیں یہاں تک ہیں کہ دو سال قبل تک اس غاصب ریاست کے وزیر دفاع لیبرمین کا دعوی تھا کہ علاقے کے تمام کے تمام پانی کے ذخائر اسرائیلی ریاست کی ملکیت ہیں اور اسرائیل پورے مشرق وسطی کے تمام ذخائر نکالنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی مجاز ہے۔ (۷)
مذکورہ بالا حقائق کی رو سے، یہودی ریاست ایک طرف سے امریکی حمایت کے تحت اپنے توانائی کے ذخائر اور معاشی صلاحیت میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف سے علاقے کے ممالک کو دباؤ میں لا کر اپنے آپ سے وابستہ کرنا چاہتی ہے تاکہ وہ نہ صرف علاقے میں اس کی موجودگی کو تسلیم کریں بلکہ اس کی بالادستی بھی قبول کریں۔ یقینا امریکہ بھی ـ جسے معمول کے مطابق توانائی کے وسائل کی قلت کا سامنا رہتا ہے ـ اپنا حصہ اٹھا لے گا۔

ٹرمپ رسواکن جھوٹا دعوی
دوسرا واقعہ جو حالیہ ایام میں رونما ہوا گولان کی پہاڑیوں پر یہودی ریاست کی مالکیت کے سلسلے میں ٹرمپ کا جھوٹا دعوی تھا۔ گوکہ اس دعوے کو روس، چین، ترکی، ایران بہت سارے دوسرے ممالک ـ حتی کہ یورپی ممالک ـ نے جھٹلایا اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوترش نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا اور اس پورے علاقے کے ایک مقبوضہ علاقہ قرار دیا جو کہ شام کا اٹوٹ انگ اور جزو لاینفک ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن امریکہ نے بھی ۱۹۸۱ع‍ کی قرارداد نمبر ۴۹۷ کے ضمن ميں منظور اور تسلیم کیا ہے۔ (۸)
تجزیہ نگاروں اور مبصرین نے اس دعوے کے سلسلے میں مختلف قسم کے خیالات کا اظہار کیا ہے؛ زیادہ تر مبصرین نے یہودی ریاست کے پارلیمانی انتخابات کی آمد کو اس کا سبب گردانا ہے اور یہ کہ ٹرمپ نے اس اقدام کے ذریعے صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو کے بدعنوانی کے بڑے بڑے کیسز غزہ میں ۴۸ گھنٹوں کی مختصر جنگ میں غاصب صہیونیوں کی رسوا کن شکست اور لیبرمین کے فرار سے پیدا ہونے والی ناگفتہ بہ صورت حال سے نکالنے اور اس کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ (۹)
بعض دوسرے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعوی علاقے میں امریکہ اور بین الاقوامی صہیونیت کے مقاصد کے عدم حصول کی وجہ سے سامنے آیا ہے؛ وہ یوں کہ وہ شام، لبنان اور عراق میں جنگ کا آغاز اور صدی کی ڈیل نامی شرمناک سودے کا آغاز کرکے مغرب کا مجوزہ نقشہ مشرق وسطی میں لاگو کرنے کی کوشش کی جس میں انہيں نہ صرف بری طرح ناکام ہونا پڑا بلکہ انہیں لینے کے دینے پڑ گئے اور وہ اپنے مقاصد سے بہت دور ہوئے؛ اور محاذ مزاحمت یہودی ریاست کے اپنے تعمیر کردہ حصار تک رسائی حاصل کرچکا ہے اور اس ریاست کی طرف سے کسی بھی قسم کا نامناسب اقدام اسے ناقابل تلافی رد عمل سے دوچار کرسکتا ہے۔ (۱۰)
علاقہ گولان کی غیر معمولی تزویری اہمیت
اس کے باوجود، مذکورہ بالا تبصروں کے ساتھ ساتھ، اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ ٹرمپ کے اقدام کا سبب گولان کی اپنی تزویری اہمیت ہے۔ یہ علاقہ جتنا کہ یہودی ریاست کے لئے اہم ہے اتنا ہی شام کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ گولان عسکری لحاظ سے بھی، پانی کے ذخائر کے لحاظ سے بھی اور آبادی کے لئے بھی یہودی ریاست کے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے گوکہ ان تین حوالوں کی وضاحت سے پہلے اس علاقے کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔
گولان کی تاریخ کے سلسلے میں سی آئی اے کا موقف بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ٹرمپ کے انفرادی اور غیر معقول دعوے کے بعد حتی کہ امریکی مرکزی سراغرساں ایجنسی نے بھی اپنی رپورٹ کے ضمن میں تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: “تاریخی لحاظ سے گولان کی پہاڑیاں کبھی بھی متحدہ یہودی ریاست کا حصہ نہیں رہے ہیں اور اس علاقے میں کبھی بھی قابل توجہ یہودی آبادی کا بسیرا نہیں رہا ہے”۔ (۱۱)
گولان کا مرتفع علاقہ شام کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور لبنان کے انتہائی جنوبی پہاڑی علاقے سے ملحق ہے۔ یہودی ریاست نے سنہ ۱۹۶۷ع‍ کی چھ روزہ جنگ کے دوران بہت سے عرب علاقوں کے ساتھ ساتھ، گولان پر بھی قبضہ کیا اور سنہ ۱۹۸۱ع‍ میں یہودی ریاست نے اپنی پارلیمان (کنیست Knesset) کی منظوری سے گولان کے مقبوضہ سرزمین [فلسطین] میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔ گوکہ سنہ ۱۹۶۷ع‍ میں قبضے کے ایام سے ہی یہاں آب رسانی، زراعت، آبادکاری وغیرہ کا آغاز ہوچکا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غاصب ریاست کبھی بھی گولان کے سلسلے میں کسی سمجھوتے اور اسے شام کے حوالے کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی اور ۱۴ برس کے اس عرصے کے دوران محض عالمی رائے عامہ اور اندرونی ماحول کو اس علاقے کے غصب کے لئے تیار کرنے کے لئے خاموشی اختیار کی گئی تھی۔

گولان کی اہمیت فوجی اور سلامتی کے لحاظ سے
گولان میں ۲۰ سے زائد چوٹیوں کی اونچائی ۱۰۰۰ میٹر تک پہنچتی ہے جن کے بدولت یہاں کے باشندے اطراف کے علاقوں پر عسکری برتری رکھتے ہیں اور اطراف کی مؤثر نگرانی کرسکتے ہیں۔ نیز اس کے دامن کوہ کے علاقے شام کے دارالحکومت دمشق اور مقبوضہ فلسطین کے شہر جلیلہ کے درمیان واقع ہوئے ہیں جس کے باعث شام کے مفادات کو اس علاقے پر یہودی ریاست کے قبضے کی وجہ سے خطرات لاحق ہیں جبکہ گولان پر شام کی حاکمیت پلٹنے کی صورت میں یہودی ریاست کے دارالحکومت اور آبادی کے بڑے مرکز کے لئے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔
گولان کی اہمیت آبی ذرائع کے لحاظ سے
حقیقت میں شام اور یہودی ریاست کے تنازعات کا ایک اہم حصہ گولان کی آبی سیاست سے ہے۔ (۱۲) کیونکہ فلسطین کی غصب شدہ سرزمین خشک اور نیم خشک خطے میں واقع ہوئی ہے جبکہ گولان کا علاقہ پانی کے ذخائر سے مالامال ہے اور تین اہم آبی علاقے یعنی “مسعدہ جھیل، طبریہ جھیل اور دریائے اردن” اسی علاقے کے سرچشمے یہیں واقع ہیں۔ غاصب ریاست گولان پر قبضہ کرکے اپنی ۳۳ فیصد آبی ضروریات یہیں سے پوری کررہی ہے اور شام کے مجموعی آبی ذخائر کے ۱۴ فیصد حصے پر قابض ہے۔ مشرق وسطی میں آبی ذخائر کی شدید قلت اور یہودی ریاست کی صنعت و زراعت میں گولان کے آبی ذخائر کے مؤثر کردار کی بنا پر، اس ریاست نے کافی عرصے سے آبی جنگ (Water war) کا آغاز کیا ہوا ہے اور بعید از قیاس ہے کہ وہ اس عظیم سرمائے سے ہاتھ کھینچ لے چنانچہ شام میں ایران کے اثر و رسوخ نیز ترکی کے “گاپ (GAP) آبی منصوبے (۱۳) پر شام ـ ترکی تنازعے اور مستقبل میں شام کو ممکنہ آبی قلت کا سامنا کرنے کے باعث، آبی جنگ کو نظر سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔
خطے کی آبادیاتی اہمیت
جون ۱۹۶۷ع‍ میں شام کے ایک لاکھ اڑتالیس ہزار باشندے گولان میں آباد تھے لیکن یہودی ریاست کے قبضے کے بعد یہاں کی آبادی ۲۰۰۰۰ نفوس تک گھٹ گئی جن میں سے ۱۷۰۰۰ دروز اور ۳۰۰۰ علوی تھے۔ چونکہ یہودی ریاست اس علاقے کو معیشت اور سلامتی کے تناظر میں اہمیت دے رہی تھی چنانچہ اس نے اس علاقے سے ان ہی حوالوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا؛ چنانچہ اس علاقے کا ۱۰۰ مربع کلومیٹر علاقہ صنعتی باغات پر مشتمل ہے جبکہ ۵۰۰ مربع کلومیٹر کا علاقہ حیوانات اور مال مویشیوں اور مالداروں کی ضرورت کے چارے کی پیداوار کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ اگرچہ گولان کے کچھ حصوں میں موجود قدرتی گیس اور تیل نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور کچھ علاقوں کو سیاحت کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
گولان میں تعمیر ہونے والی بستیوں سے در حقیقت دو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے: شام کو سطحی پانی (Surface water) سے محروم کرنا اور شامی افواج کے حملوں کا سد باب کرنا۔ نیز یہاں کی بستیاں تین شرطوں سے مشروط رہی ہیں: ۱۔ زراعت کے لئے مناسب زمین، ۲۔ آبی ذخائر کی موجودگی اور ۳۔ تزویری محل وقوع۔
بالفاظ دیگر یہودی ریاست گولان میں کسی بھی آبادیاتی مقصد کو مد نظر نہیں رکھتی تھی بلکہ صرف اپنی سلامتی اور خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کے درپے تھی؛ چنانچہ یہاں متعدد بستیاں تعمیر کئے جانے کے باوجود آبادی میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق، سنہ ۱۹۸۳ع‍ سے سنہ ۲۰۰۰ع‍ تک یہاں آبسنے والی صہیونی یہودیوں کی آبادی میں سالانہ ۵۰۰ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ (۱۴) لیکن نئے حالات کے پیش نظر یہودی ریاست کے ایک اہلکار نے اعلان کیا ہے کہ اگلے ۱۰ سے ۱۵ سال کے عرصے میں گولان کے علاقے میں آبادی میں اضافے کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے گا تاکہ یہودی یہاں کی اکثریتی آبادی میں تبدیل ہوجائیں اور یوں یہودی ریاست گولان پر اپنی بالادستی اور حاکمیت کو مستحکم کرسکے۔ (۱۵)

…………….
حوالہ جات:
۔۱ https://www.farsnews.com/news/139712290002040
۲- https://www.farsnews.com/news/13971229000285
۳- http://www.entekhab.ir/fa/news/466412.
۴- http://www.ghatreh.com/news/nn46715207.
۵- https://www.isna.ir/news/92080703726.
۶- http://www.irna.ir/fa/News/85211.
۷- https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/11/13/1644762.
۸- https://fa.alalamtv.net/news/4136136.
https://www.tabnak.ir/fa/news/887196.
https://tnews.ir/news/6027129491012.html
۹- https://fa.alalamtv.net/news/4135876. http://www.entekhab.ir/fa/news/466385.
۔۱۰https://www.farsnews.com/news/13980103000278
۱۱٫ https://www.dailysabah.com/politics/2019/03/30/1981-cia-report-reveals-facts-on-israels-illegal-occupation-of-golan-heights
۱۲۔ آبی سیاست (Hydro-politics جس کو Water politics بھی کہا جاتا ہے) جغ سیاسیات (Geopolitics) کے ذیلی شعبے کے طور پر سیاسی رویوں میں پانی کے کردار پر بحث کرتی اور آبی ذخائر کی کمی سے پیدا ہونے والے بحرانوں کا جائزہ لیتی ہے۔
۔۱۳The Southeastern Anatolia Project (Turkish: Güneydoğu Anadolu Projesi, GAP)
۱۴۔ تزویری مطالعات کا سہ ماہی مجلہ، بلندی های جولان و امنیت رژیم صهیونیستی (گولان کی چوٹیاں اور صہیونی ریاست کی سلامتی، موسوی، سید حسین، موسم گرما سنہ ۱۳۸۸ ہجری شمسی، شمارہ ۴۴، ص۱۸۰-۱۵۱٫
۱۵۔ https://fa.alalamtv.net/news/4136171

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍ت؍۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
  • linkedin
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=20090

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے