ہالی ووڈ میں یہودیوں کے تابع رہو ورنہ دھمکائے جاؤ گے - خیبر

ہسپانوی اداکار مانوئل گالیانا کے ساتھ گفتگو

ہالی ووڈ میں یہودیوں کے تابع رہو ورنہ دھمکائے جاؤ گے

17 مئی 2018 14:00

میری رائے یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں جتنی بھی فلمی صنعت ہے، یا تو مکمل طور پر ان لابیوں اور یہودیوں کے ہاتھ میں ہے یا پھر ان کے مقاصد کی راہ میں سرگرم عمل ہے۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: ہسپانوی محقق و مصنف مانوئل گالیانا (Manuel Galiana) ان اہم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے صہیونیت سے متعلق مختلف شعبوں ـ جیسے اقتصاد اور سیاست ـ میں متعدد کتابیں تالیف کی ہیں۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں سینما آرٹ، صہیونیت اور ہالی ووڈ کے سلسلے میں متعدد مضامین اور مقالات شائع کئے ہیں جن کی بنا پر انہیں خاص توجہ دی گئی ہے۔ گالیانا کی تازہ ترین کاوش “سینما اور صہیونیت” کی اشاعت کے سلسلے میں انھوں نے ایک پریس بریفنگ دی اور اس کے بعد ان سے ایک انٹرویو لیا گیا جس کا متن پیش خدمت ہے:
س۔ ایران میں جب کوئی ہالی ووڈ کے پس پردہ ماسونیوں اور صہیونیوں کے کردار پر بات کرتا ہے تو کچھ لوگ اس کا جواب سخت الفاظ میں دیتے ہیں اور اس پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ آپ کا وہم ہے اور آپ ہر چیز کو سازش سمجھتے ہو، کیا آپ کے خیال میں بھی یہ ایک خودساختہ تصور اور وہم ہے؟
– جن نشستوں میں مجھے بلایا گیا ہے اور جن کانفرنسوں میں دوسرے ماہرین کے ساتھ شریک ہوتا رہا ہوں، وہاں میں نے “ہالی ووڈزم” کے بارے میں بات کی ہے اور ان امور پر بھی روشنی ڈالتا رہا ہوں۔ نتیجہ یہ رہا ہے کہ میں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا ہے کہ ہالی ووڈ کچھ منصوبہ بند اقدامات کر رہا ہے، مثلا کچھ اقدار کا خاتمہ کررہا ہے، خاندان اور گھرانے کی بنیادیں اکھاڑ رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اسی بنا پر میں اور میرے جیسے دوسرے ماہرین کا ہرگز یہ تصور نہیں ہے کہ یہ صرف ایک ابہام یا ایک نظریۂ سازش (Conspiracy theory) ہے۔ ممکن ہے کہ ایک عام ایرانی یا ہسپانوی شہری ایسا تصور رکھتا ہو کہ یہ ایک حقیقی قضیہ نہیں ہے اور صرف ایک وہم ہے جس کا سبب یہ ہے کہ ان کی معلومات کافی نہیں ہیں۔
مغرب میں، یورپ اور امریکہ میں ایسی متعدد کتابیں اور مقالات کی اشاعت عمل میں آئی ہے جن میں اشارہ ہؤا ہے کہ اداکار، ہدایتکار اور دوسرے اہم افراد جو سینمائی صنعت میں کردار ادا کررہے ہیں، یہودیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں یا پھر وہ خود یہودی ہیں۔ کِرک ڈاگلس (Kirk Douglas) اور آرنلڈ شوازینگر (Arnold Schwarzenegger) وہ اداکار ہیں جنہوں نے اپنے نام تک تبدیل کئے ہیں۔

س۔ ابلاغیاتی پیداوار (production) کے شعبے میں صہیونی اور ماسونی لابیوں کی کارکردگی کی کیفیت کیا ہے؟ کیا وہ براہ راست میدان میں کود جاتی ہیں یا پھر اپنا ایجنڈا خاص قسم کے افراد کے سپرد کرتے ہیں، یا پھر ماحول سازی کے ذریعے فنکاروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور انہیں خاص سمت میں کام کرنے کی ہدایات دیتی ہیں؟

– شاید ماسونیت کو صہیونیت کا بہت اچھا چہرہ اور اچھی شکل قرار دیا جاسکے۔ وہ تقریبا تمام ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ ایک کانفرنس کے دوران میرا رابطہ ہالی ووڈ کے ایک ہدایت کار سے تھا۔ وہ اس بات کو جھٹلا رہا تھا کہ یہودیوں کا کوئی کنٹرول ہے اور کہتا تھا کہ “مسئلہ پیسے کا ہے، جس کے پاس دوسروں سے زیادہ پیسہ ہو، وہ بہتر فلم بنا دیتا ہے”۔ اسی وقت بھی متعدد یہودی ہدایتکار، پروڈیوسرز اور اداکار تھے جو کہتے تھے کہ “ہالی ووڈ ہمارا ہے”۔

س۔ کیا صہیونی اور ماسونی براہ راست ابلاغیات اور فن کے شعبوں میں افرادی قوت کی تربیت کے لئے براہ راست اقدام کرتے ہیں؟ کیا آپ نو وارد اور مشہور افراد میں سے کسی کو جانتے ہیں جو اس تربیتی عمل کا ثمرہ ہو؟

– نام سے تو میں کسی کو نہیں جانتا جو اس قسم کے حالات میں واقع ہؤا ہو، لیکن ابلاغیات سے وابستہ اکثر افراد یا تو یہودی ہیں یا پھر اگر یہودی نہیں ہیں تو ممکن ہے کہ انہیں بعض پس پردہ تنظیموں کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جائے۔

گو کہ ٹام کروز (Tom Cruise) یہودی نہیں ہیں اور سائنٹالوجی کلیسا (Church of Scientology) کے پیروکار ہیں لیکن وہ کبھی بھی نہیں چاہتے تھے کہ یہ حقیقت آشکار ہوجائے کہ وہ ایک ہمجنس باز ہیں اور ان کا تعلق دوسرے ہم جنس باز جان ٹراولٹا (John Travolta) سے ہے اور ان کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ فاش ہوگیا۔ اس کے باوجود کہ وہ یہودی نہیں ہیں اور خدا پر ایمان نہیں رکھتے لیکن وہ صہیونیوں اور ماسونیوں کے مفادات کے لئے کام کررہے ہیں۔

س۔ امریکی اور یورپی سینما میں ان خاص لابیوں کا کتنا حصہ ہے؟

ـ میری رائے یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں جتنی بھی فلمی صنعت ہے، یا تو مکمل طور پر ان لابیوں اور یہودیوں کے ہاتھ میں ہے یا پھر ان کے مقاصد کی راہ میں سرگرم عمل ہے۔ یہ لابیاں زندگی کے لئے نئے معیار متعارف کرانے کے درپے ہیں، روایتی اقدار اور گھر اور خاندان، ماں اور باپ کے ساتھ اولاد کے تعلق کو نابود کرنا چاہتی ہیں؛ ادیان و مذاہب کی بےحرمتی کرتی ہیں اور یہودیوں کے سوا کسی بھی دین و مذہب پر حملہ آور ہوتی ہیں۔

س۔ سنا ہے کہ ان یہودی سرغنوں کی منظوری کے بغیر دنیا میں فلم کی نمائش ممکن نہیں ہے یا پھر بہت ہی دشوار ہے، کیا آپ کے خیال میں یہ درست ہے؟ کیا اس کے لئے کوئی مثال دی جاسکتی ہے؟ ہمارے ہاں تو مثال یہ ہے کہ مشہور ایرانی ہدایتکار مجید مجیدی نے “محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ـ نامی فلم بنائی تو اس کی عالمی نمائش کے سلسلے میں ان کے خلاف شدید کوششیں ہوئیں۔

ـ جی ہاں! اگر کوئی فلم ان کے مفادات کی سمت میں نہ ہو تو اس کی نمائش بہت مشکل ہے۔ میل گبسن (Mel Gibson) نے فلم دی پیشن آف دی کرائسٹ (The Passion of the Christ) بنائی اور اس فلم کی نمائش ہوئی تو پانچ چھ سال تک انہیں فلم بنانے کی اجازت تک نہ ملی۔ میل گبسن اس فلم کی نمائش میں اس لئے کامیاب ہوئے کہ وہ ذاتی طور پر بہت زیادہ مشہور و مقبول انسان تھے اور ان کے دوستوں کا اچھا خاصا حلقہ تھا، بہت طاقتور تھے اور ماضی میں اچھے خاصے فنکارانہ کارناموں کے خالق رہ چکے تھے۔ ورنہ اگر کوئی اٹھنا چاہے اور ان لابیوں کی مرضی اور طرز فکر و اسلوب کے مقابلے میں نئے افکار اور نئے اسلوب کی بنیاد رکھنا چاہے تو تقریبا اس کی کامیابی کی امید تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔

میل گبسن سے کہا گیا تھا کہ “تمہاری فلم فلاپ ہوجائے گی، کیونکہ تمہیں کسی بھی کمپنی کی حمایت حاصل نہیں ہے” لیکن یہ فلم بہت کامیاب رہی اور اچھی خاصی تجارتی سطح تک پہنچی۔ جیسا کہ کہا جارہا ہے حضرت عیسی علیہ السلام پر یہودیوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم بیان کرنے والی یہ فلم واحد فلم تھی جو کسی کمپنی کی مدد کے بغیر تیار کی گئی اور اس قدر بکی۔

جی ہاں! جہاں تک مجھے معلوم ہے میل گبسن اور ان کے دوستوں نے یہ فلم ذاتی خرچے پر بنائی تھی۔

س۔ کیا مستقل اور خودمختار فلمسازی سے کسی قسم کی امید رکھنا درست ہے؟ کیا یہ امید رکھنا درست ہے کہ ماسونی صہیونی طاقت کے حلقے سے باہر، ایک خودمختار سینما کو نشوونما دی جائے جو عالمی تہذيب اور عوامی سفارتکاری میں کردار ادا کرسکے؟

ـ موجودہ حالات کو مد نظر رکھا جائے تو میرا نہیں گیا کہ ایسا کچھ ممکن ہو؛ کیونکہ جس مالی بحران کی پیشنگوئی کی جاسکتی ہے، وہی رونما ہوجائے، اس طرح کے بحرانوں کا ازالہ کرنے کے لئے منظم تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے بھی بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

خودمختار اور آزاد سینما ـ جس کی اس وقت دنیا میں مثال دی جاسکتی ہے ـ وہی سینما ہے جو ایران میں موجود ہے اور ہر کوئی یہاں منعقدہ فلم فیسٹیولوں میں اپنی مستقل اور آزاد کاوشیں نمائش کے لئے پیش کرسکتا ہے۔ وہ چیز جو اسی نام سے یورپ میں بھی موجود ہے، اس کے پس پردہ بھی بہرحال ایسا ہی کنٹرول پایا جاتا ہے جو امریکہ میں پایا جاتا ہے۔

منبع: http://resanehenghelab.com

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/م/ت/۶۰۲/ ۱۰۰۰۱

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=3117

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے