ہمارے فلسطینی بھائی اور ہمارا طریقہ احتجاج - خیبر

ہمارے فلسطینی بھائی اور ہمارا طریقہ احتجاج

۲۷ اردیبهشت ۱۳۹۷ ۱۲:۲۵

اسلامی امت اپنے انسانی وظیفہ، اُخوت و بھائی چارے کے حکم اور اپنے اسلامی اور عقلی معیاروں کے مطابق اِس بات کی پابند ہے کہ وہ استعمار کے اِس گماشتے(اسرائیل) کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرے: امام خمینی

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: شک نہیں کہ جو کچھ چند دنوں قبل فلسطین میں ہو ا، اور جس طرح اسرائیل نے بے گناہوں کو راست فائرنگ کا نشانہ بناتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارا، اس سے ہر ایک صاحب احساس بے چین و پریشان ہے؟ کہیں جغرافیائی حدود مانع ہیں تو کہیں حکومتوں کی پالسییاں آڑے ہاتھوں آتی ہیں کہیں نوکر پیشہ افراد ہیں تو کہیں بزنس و تجارت کی مصروفیتوں میں گھرے لوگ ۔ ایسے میں بہت سے دردمند لوگ بس اسرائیل کے مظالم کے سامنے پیچ و تاب کھا کر اپنا دل مسوس کر رہ جاتے ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں البتہ اتنا تو طے ہے کہ ہم دنیا میں ہونے والے ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھ سکتے کہ یہ بات ہماری تعلیمات کے خلاف ہے۔ اب ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں ؟
ہم کیا کریں اس کے لئے یوں تو سوچ بچار کے ذریعہ بہت سی راہوں کو تلاش کیا جاسکتا ہے لیکن سر دست ہم چند نکات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو شاید موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے مناسب ہیں اور ہم سب انکو انجام دینے کی پوزیشن میں ہیں :
١۔ فلسطینی مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور کھل کر انکی حمایت کا اعلان
اِس سلسلے میں مسلمان اقوام کی ذمہ داری بہت سنگین ہے، اِسی طرح مسلمان حکومتوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ کھل کر سامنے آئیں اور فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان فلسطین کے خاص علاقے کی رہائشی کی صورت نہیں بلکہ ایک مسلمان ہونے کی بنیاد پر کریں اور یہ وہ چیز ہے جو واجب و ضروری ہے چنانچہ رہبر انقلاب ایک بیان میں فرماتے ہیں: ہماری قوم فلسطین کے دفاع کو ایک دینی واجب جانتی ہے اورراہ خدا میں کوئی ایسا ہدف نہیں جانتی ہے کہ جسے حاصل نہ کیا جا سکے…، حضرت امام خمینی کی وصیت اور اسلام کا دستور ہے اورہم اِسی طرح وفا دار بن کر اُن کا دفاع کرتے رہیں گے۔
٢۔فلسطینی عوام و مجاہدین کی مدد و نصرت
فلسطینیوں کی حمایت کے ساتھ دوسری چیز انکی عملی طور پر مدد کرنا ہے، مدد کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں، مثلا ہم اپنے ملکوں میں قائم فلسطین کے سفارت خانہ جا کرانکی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ان سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ٓآپ کو کن چیزوں کی ضرورت ہے امام خمینی رح ایک مقام پر اس سلسلہ سے فرماتے ہیں :
اسلامی امت اپنے انسانی وظیفہ، اُخوت و بھائی چارے کے حکم اور اپنے اسلامی اور عقلی معیاروں کے مطابق اِس بات کی پابند ہے کہ وہ استعمار کے اِس گماشتے(اسرائیل) کی جڑوں کو اکھاڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرے اورمحاذ جنگ پر نبرد آزما اپنے فلسطینی مجاہدوں کو اپنی مادی اور روحانی مدد اور خون کے عطیات، دوائیں، اسلحہ اور اشیائے خورد و نوش بھیجتے ہوئے اُن کی مدد کرے۔
البتہ بعض سیاسی مجبوریوں کی بنیاد پر فلسطینیوں کے لئے اسلحوں کی فراہمی شاید مشکلات کا سبب بھی بنے اور اتنی ضروری بھی نہ ہو لیکن شک نہیں کہ دواوں کے ذریعہ اور مالی اعانت کے ذریعہ انکی مدد کی جا سکتی ہے اور یہ وہ بات کہ جس میں ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے، کہ ہمارا اسلامی و انسانی فریضہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں کہ ۔”المُسلِمُون ید واحدة علیٰ من سواھم یسعیٰ بذمتھم ادنا ھم۔”(مسلمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں ہر اُس کے مقابلے میں جو اُن کی امت کا حصہ ہے اور اِس میں سب ذمہ داری کی حیثیت سے یکساں ہیں)۔ یہاں تفرقہ اندازی ،فرقہ پرستی اور نسل و نژاد پرستی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اوراسلامی امت میں کسی قسم کی کوئی امتیاز اوربرتری کا وجود نہیں ہے سوائے تقویٰ اور پر ہیز گاری کے،”اِنّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقیٰکُمْ وَاللّٰہُ حَسْبُنَا وَنِعْمَ الْوَکِیْل۔”
موجودہ حالات میں جب کہ ماہ مبار ک رمضان میں سب لوگ اس ماہ ضیافت کے اہتمام میں لگے ہیں جگہ جگہ روح پرور مناظر نظر آ رہے ہیں ، کہیں تلاوت قرآن کی مترنم آوازیں ہیں تو کہیں دعاوں کے زمزمے ایسے میں کیا ضروری نہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کے ساتھ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں جنہیں ہر وقت اسرائیل کے حملوں کا دھڑکا لگا رہتا ہے اور وہ نہ چین سے اس مہینہ میں عبادت کرسکتے ہیں نہ تلاوت قرآن کریم۔ ایسے میں کیا ہماری یہ ذمہ داری نہیں بنتی ہے کہ ہم انکی مالی امداد کریں؟ جو پیسوں کے محتاج ہیں اور انکی ناکہ بندی کر دی گئی ہے؟ کیا یہ لوگ مسلمان اور کلمہ گو نہیں ہیں؟ کیا یہ لوگ اپنے انسانی حقوق کیلئے قیام کا حق نہیں رکھتے ہیں؟ یہ ذمہ داری وجوب کی حد تک ہے کہ ہم ان کے بارے میں کچھ کریں شہید مطہری اس سلسلہ سے فرماتے ہیں: تمام مسلمان اقوام اور حکومتوں پر واجب ہے کہ وہ فلسطین کے اسلامی مسئلے کوسچائی کے ساتھ اپنے مسائل میں سر فہرست قرار دیں اور اپنی طاقت و توانائی کے مطابق اُس کے صحیح راہ حل کیلئے اقدامات کریں۔
حتی امام خمینی رح نے تو زکات اور سہم امام جیسے شرعی وجوہات کو فلسطینی مجاہدین کو دینے کے بارے میں فتویٰ دیتے ہو ئے ارشاد فر ماتے ہیں:
”بسم اللّٰہ الرّحمٰن الرّحیم”۔
یقیناً یہ بات شائستہ ہے بلکہ واجب ہے کہ شرعی وجوہات مثلاً زکات اور تمام صدقوں کو کافی مقدار میں راہ خدا کے اِن فلسطینی مجاہدوں کیلئے مخصوص کرنا چاہیے۔ اُن مجاہدوں کیلئے جو میدان جنگ میں نبرد آزما ہیں اور انسانیت کے اِس دشمن اور کافر صہیونیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے سر پر کفن باندھے جہاد کررہے ہیں اور ساتھ ہی اسلامی امت کی ہاتھ سے نکل جانے والی عزت آبرو کو لوٹانے کیلئے جی توڑ کوششوں میں مصروف ہیں اور اسلام کی عظیم تاریخ کو عظمت و سر بلندی بخشنے کیلئے ہمہ تن سر گرم ہیں۔
٣۔اتحاد بین المسلمین کی کوششوں کو فروغ دینا
فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی ایک وجہ مسلمانوں کا آپس میں متحد نہ ہونا ہے، اب اگر انکی مدد ہماری شرعی ذمہ داری ہے تو یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم انکی مدد کے لئے آپس میں متحد ہوں اس لئے کہ اگر ہم اپنے اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اسلام کے بلند و بالا اہداف سے آشنا ہوجائیں اور اسلام کی جانب لوٹ آئیں تو کوئی بھی نہ ہمیں اسیر کر سکتا ہے نہ ہمیں ذلیل کر سکتا ہے اگر آج اسلامی معاشرہ ذلت کا شکار ہے تو اسی اختلاف کی بنیاد پر کتنی اچھی بات کہی تھی امام خمینی رح نے :
یہ اسلامی ممالک کے داخلی اختلافات ہی ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ فلسطین کی روز مرہ کی مشکلات کا سبب بنے ہیں بلکہ خود اسلامی معاشرہ کے گوناگوں مسائل کا سبب بھی ہیں کاش اسلامی ممالک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے یہ کروڑوں مسلمان سیاسی شعور اورعقلی بلوغ کے حامل ہو تے، آپس میں ہم آہنگ اور متحد ہوتے اوردشمن کے مقابلے میں ایک صف میں کھڑے ہوتے تو بڑی استعماری حکومتوں کیلئے یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اِن ممالک میں رخنہ اندازی کرتیں تو پھر مٹھی بھر یہودیوں کی بات تو چھوڑ دیجئے جو استعمار کے ایجنٹ اور گماشتے ہیں۔
٤۔صہیونیوں کا اقتصادی بائیکاٹ
صہیونییت کے ہاتھوں کو کاٹنے اور ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اپنے تمام تر امکانات و وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے کوشش کریں کہ تمام صہیونیوں سے اپنے ہر قسم کے تجارتی معاملات کو مکمل طور پر کاٹ دیں شک نہیں کہ جب صہیونیوں کو انکے مفادات خطرے میں دکھیں گے تو انہیں اپنی غلطیوں کا احساس ہوگا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ یہ محض ایک بات کی صورت ایک حرف کی صورت ہے کاش مسلمان صرف باتوں میں نہیں حقیقت میں اس پر عمل کرتے ۔
۵۔ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اور حقوق انسانی کے اداروں کو احتجاجی مکتوب :
ایک اور طریقہ احتجاج یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل سکریٹری اور دیگر اداروں کو اسرائیلی ظلم و ستم کے خلاف مکتوب بھیج کر ان سے مانگ کی جائے کہ اس سلسلہ سے ضروری کاروائی کریں، اور بجائے اسکے کہ اپنا وقت بے جا معاملات میں صرف کریں ان باتوں پر کریں جنہیں اگر آج حل نہ کیا گیا تو انسانیت کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائے گا۔
۔ انشاء اللہ ماہ مبارک رمضان کی تمام تر عبادت و بندگی کے درمیان ہم اپنے دینی بھائیوں سے غافل نہیں رہیں گے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ت/ت/۳۰۱/ ۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=3106

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے