ہندوستان میں استعمار کا آغاز - خیبر

ہندوستان میں استعمار کا آغاز

04 دسمبر 2018 09:32

اب سوال یہ ہے کہ کیا واسکو داگاما اتفاقی طور پر اس تجارتی مرکز سے ٹکرا گیا اور اس جگہ سے اسکی کوئی قبلی آشنائی نہ تھی یا پھر اس نے منصوبہ بند طریقے سے اس علاقے کا رخ کیا ۔ اس سلسلہ سے اس فرد کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ بات ایقان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گاما نے حادثاتی طور پر ہرگز اس جگہ کا انتخاب نہیں کیا تھا ۔

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ: پرتگال کے دولت مند بادشاہ نے اپنے ہسپانوی رقیب سے نہ پچھڑنے کی خاطر جدید دنیا کو فتح کرنے اور لوٹنے کے لئے واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ]نامی[۱] شخص کو دریا کے راستے روانہ کر دیا جو کہ ۱۴۹۸ء میں ہندوستان کے ساحل پر پہنچ گیا۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اس شخص کا یہ سفرِ ہندوستان مشرق میں یورپ کے ان استعماری مراکز کی تاسیس کا سبب بنا جویہودیوں کے ذریعہ ایک حکومت سے دوسری حکومت تک منقتل ہوتے رہے ۔ یہ استعمار، پرتگال، برطانیہ، اسپین و… سولہویں صدی کے آغاز اور ۱۹ ویں صدی کے دوران واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ]، پرتگال کے اشراف زادہ گھرانے سے تعلق رکھتا تھا ۳۲ سال کے سن میں اس نے دربار پرتگال میں خدمت کا آغاز کیا اور بحری بیڑوں کی سربراہی میں فرانسوی قزاقوں سے مقابلہ کرنے میں مشغول ہوگیا۔

مانوئل کے حاکمیت تک پہنچنے کے دو سال بعد گاما ایک اہم خدمت کے لئے یعنی مشرقی دریا سے راست رابطے کے لئے منتخب ہوا، لیور پول یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر ریان (Ryan) کے بقول گاما بالکل بھی کریستف کلمپ جیسے دریائی مہم جو سے مشابہہ نہیں تھا، برخلاف اسکے وہ ایک سیاسی اور فوجی شخصیت کے طور پر جانا جاتا تھا اور اس طرح کی شخصیت کا انتخاب بر صغیر میں بلند مدت اہداف کا ترجمان تھا ۔

واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ] چار کشتیوں پر مشتمل بیڑوں کے ساتھ ہندستان کے سفر پر روانہ ہو گیا اور انجام کار ۲۲ مئی ۱۴۹۸ ء کو ہندوستان کے مالابار ساحل پر بندرگاہ کالیکوٹ (calicut) پہنچا، واسکوڈے گاما ۲۰ مئی ۱۴۹۸ کو کالی کٹ اس وقت ہندوستان پہنچا جب اس سے چار سال قبل کولمبس نے امریکا کی دریافت کر لی تھی ممباسہ (موجودہ کینیا) کے نزدیک اس نے کئی عرب تجارتی جہازوں کو لوٹا تھا۔ عرب ملاح اور جہازراں احمد بن ماجد کے تعاون سے اسے ہندوستان جانے کا راستہ ملا۔ اس کے بعد وہ شمال میں مالندی (مغربی افریقا) پہنچا جہاں اسے پہلی بار ہندوستانی تاجر نظر آئے۔ وہاں سے اس نے کسی ہندوستانی ملاح کو (غالباً اغوا کرکے) آمادہ کیا کہ اسے ہندوستان تک لے جائے۔ یوں اسکی ہندوستان تک پہنچنے کی راہ ہموار ہوئی، کامیابی کے ساتھ گاما نہ صرف ہندوستان پہنچا بلکہ ۱۴۹۹ ء میں کامیابی کے ساتھ پرتگال بھی پلٹ گیا ۔ لارڈ کرزن Lord George Nathaniel Curzon کی تعبیر کے مطابق گاما کا یہ سفر پرتگال کے لئے شہرت و ثروت کی ایک صدی فراہم کی تعمیرکا سبب بنا ۔

اس دور میں کالکوٹ ایک بڑا اور باوقار ایسے شہر کے طور پر جانا جاتا تھا جس میں سامری نامی ہندو سلاطین حکومت کرتے تھے لیکن یہ چھوٹی سی ریاست کا ایک پھلتا پھولتا اقتصاد تھا اور چین و سکون و امن اور تجارتی سہولتوں کی فضا اس پوری ریاست میں قائم تھی امن واحساس تحفظ کا حال یہ تھا کہ اس علاقے کے فرمانرواوں اور تاجروں کو ہرگز کسی قلعہ بنانے یا مقتدر عسکری بیڑوں کی ضرورت محسوس نہ ہوئی اور ظاہری امن کے چلتے انہیں کبھی نہیں لگا کہ انکے تحفط کے لئے قلعوں کا ہونا ضروری ہے علاوہ از ایں کالیکوٹ مشرقی خطہ میں کپڑوں کی پیداوار اور مصالحوں کے بڑے برآمد کرنے والوں میں تھا یہاں تک کہ کالیکو نامی ایک مخصوص کپڑا مغربی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان کا حامل تھا ۔

اس اقتصادی رونق کے ایک بڑے حصہ دار مسلمان تاجر تھے جنہوں نے اس سرزمین پر پرتگالیوں کے آنے سے قبل اپنی تجارتی سرگرمیوں سے اس سرزمین کو دنیا کے ایک اہم تجارتی مرکز میں تبدیل کر دیا تھا، چونکہ اسی جگہ سے دنیا کے مختلف گوشوں میں اجناس جاتی تھیں اور یہیں سے مال چین ،افریقا، سعودی عرب اور ایران کے لئے روانہ ہوتا تھا ، ابن بطوطہ نے ۱۳۶۲ ء میں اس بندرگاہ کا مشاہدہ کیا اور اسے دنیا کی بڑی بندرگاہوں میں سے ایک قرار دیا اسی طرح اس شہر کی توصیف میں کہتے ہیں کہ سلطان کالکوٹ اگرچہ ایک بوڑھا کافر ہے اور اپنی داڑھی کو تراشتا ہے لیکن شہر کے بزرگ لوگ ایرانی اور مسلمان ہیں مثال کے طور پر قاضی شہر«فخرالدین عثمان» ہے جو ایک فاضل اور کریم و نیک انسان کے طور پر جانا جاتا ہے ، شہر کے امیر التجار کی حیثیت سے بحرینی باشندہ ابراہیم کا نام آتا ہے حتی «ناخدا مثقال» اس زمانے کا معروف ثروت مند جسکی بہت سی کشتیاں تھیں وہ بھی اسی شہر کا ساکن تھا ۔

یہ تو اس شہر کا حال تھا ایسے میں ظاہر ہے کہ گاما جب اس ثروت و تجارتی بندرگاہ کے حامل شہر میں آئے گا تو اسکا فائدہ بھی اٹھائے گا چنانچہ گاما کی آمد پر کالکوٹ کے حاکم نے اسکا بڑھ کر پر تپاک استقبال کیا اور باوجودیکہ گاما کی طرف سے حاکم کو پیش کئے جانے والے ہدایا و تحائف اس قدر بے وقعت ، ناچیز و حقیر تھے کہ حاکم کے مصاحبوں اور طرفداروں کی ہنسی کا سبب بنے لیکن کالکوٹ کے حاکم نے دونوں حکومتوں کے ما بین تجارتی تعلقات کے سلسلہ سے اپنی آمادگی کا اعلان کر دیا ۔ چنانچہ واسکوڈے گاما کی ہندوستان تک بحری راستے کی اس دریافت کے بعد تقریباً سو سالوں تک پرتگالیوں کو مشرق کے ساتھ مصالحوں کی تجارت پر برتری حاصل رہی۔ اس کے بعد یورپ کی دیگر اقوام نے بھی اس تجارت میں پرتگالیوں کی اجارہ داری کو للکارنا شروع کر دیا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا واسکو داگاما اتفاقی طور پر اس تجارتی مرکز سے ٹکرا گیا اور اس جگہ سے اسکی کوئی قبلی آشنائی نہ تھی یا پھر اس نے منصوبہ بند طریقے سے اس علاقے کا رخ کیا ۔ اس سلسلہ سے اس فرد کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ بات ایقان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ گاما نے حادثاتی طور پر ہرگز اس جگہ کا انتخاب نہیں کیا تھا بلکہ یہ وہ سرزمین ہے جس کے بارے میں ایک پیڈرو داکولہم Pedro da Covilham نامی جاسوس نے پہلے ہی اس کی شناسائی کر کے اسکے شہرت اور اس وقت اس شہر کی دولت و شوکت کی آواز کو پرتگال کے سیاسی اور مالی مراکز یعنی یہودیوں تک پہنچا دیا تھا ۔

واسکو داگاما نے اسی طرح پرتگال کی طرف پلٹنے سے پہلے کوچن cochin اور کانانور cannanor اور ساحل مالابار کی طرف بھی سفر کیا ، ان دو بندرگاہوں کے سفر نے بعد میں بر صغیر میں پرتگال اور مغرب کی استعماری بنیادوں کے قائم ہونے میں ایک اساسی رول ادا کیا اور پھر مختصر سے عرصہ میں ہی یہ علاقہ اس لحاظ سے کہ ہندوستان کے دیگر جنوبی علاقوں کی بہ نسبت کسی مقتدر و مضبوط حکومت کے زیر نگرانی نہ تھا اس لئے آسانی کے ساتھ گاسپار داگما یا یوسف عادل کی سربراہی میں اولیں یہودی گروہوں کے تصرف میں آ گیا اور پرتگال کی استعماری سیاست کے لئے علاقہ میں ایک مضبوط اڈے یابیس کے صورت تبدیل ہو گیا [۲]۔

حواشی :

[۱] ۔واسکو ڈے گاما Vasco da Gama, ˈvaʃku ðɐ ˈɣɐmɐ] کو ایک پرتگالی بحری قزاق کے طور پر جانا جاتا ہے جس نے یورپ سے جنوبی افریقا کے گرد گھوم کر ہندوستان تک بحری راستہ دریافت کیا اور مہم جوئی اور تجارت کی ایک نئی دنیا کھولی۔ وہ ۱۴۶۹ء میں پرتگال میں پیدا ہوا اور ۱۵۲۴ء میں کوچی ہندوستان میں اس دنیاسے گزارا۔

[۲] ۔ مزید تفصیلا ت کے لئے ملاحظہ ہو ۔ کتاب زرسالاران یهودی و پارسی، غارتگری ماوراء بحار و تمدن جدید غرب، ج۱، ص۴۰-۳۶٫

تلخیص و ترجمہ : سید نجیب الحسن زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد/ی/۱۰۰۰۲

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=15833

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے