ہٹلر زمانہ کے جرائم پر اسرائیل کی خاموشی چہ معنی دارد؟ - خیبر

ہٹلر زمانہ کے جرائم پر اسرائیل کی خاموشی چہ معنی دارد؟

24 اکتوبر 2018 15:24

جمال خاشقجی کے قتل کیس کے حوالے سے تقریبا پوری دنیا نے بن سلمان اور سعودی عہدیداروں کی مذمت کی ہے لیکن صہیونی ریاست نے ایسے مقام پر خاموشی کو ترجیح دی، ایسا کیوں؟

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، گزشتہ بیس دنوں میں اسرائیل کے علاوہ تقریبا پوری دنیا نے ہم صدا ہو کر آل سعود کو لعنت ملامت کی اور خوفناک جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ان کی مذمت کی۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی فائل بظاہر ترکی کی پارلیمنٹ میں تقریبا ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی اور یہ احتمال دیا جا رہا ہے کہ اس کے بعد اس موضوع کو اس سے زیادہ مورد گفتگو نہیں بنایا جائے گا۔

بن سلمان اگر چہ اس جرم کے اصلی مجرم تھے لیکن جیسا کہ امریکہ چاہتا تھا نہ انہیں عدالت کے کٹہرے میں لایا گیا اور نہ ان کے سیاسی مستقبل کو کوئی صدمہ پہنچنے دیا۔

ایسے حالات میں بس یہ دیکھتے رہیں کہ یہ بپھرا ہوا اور بے لگام بھیڑیا امریکی حمایتوں کے زیر سایہ علاقائی اور عالمی سطح پر کیسی کیسی تباہی پھیلاتا اور کیسے کیسے خوفناک جرائم کا ارتکاب کرتا پھرتا ہے۔ اور دنیا اس کے بعد اس “ہٹلر زمانہ” اور “۲۱صدی کے صدام” کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہے؟

یہ سب باتیں اپنی جگہ ہیں لیکن اصلی سوال جو ہمارے پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ گزشتہ ۲۰ دنوں میں صہیونی ریاست نے جمال خاشقجی کے قتل کیس کے حوالے سے کیوں زبان نہیں کھولی اور مکمل خاموشی کو ہرچیز پر ترجیح دی؟ اس سوال کے جواب کو ہر چیز سے پہلے خود اسرائیلی اخبار “ہاآرتض” میں تلاش کریں اس اخبار نے لکھا: ۵۰ سال دعا کی کہ کوئی بن سلمان جیسا برسر اقتدار آئے جو تل ابیب کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں پر دستخط کرے۔

ہاآرتض کی اس تحریر پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر چہ بن سلمان پہلے وہ شخص نہیں ہیں جنہوں نے اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہو بلکہ ان سے پہلے بھی کم از کم دو تین تاریخی ادوار میں ایسا اتفاق ہوا ہے لیکن اس صہیونی ریاست کی منحوس حیات کی ۷۰ ویں دہائی میں بن سلمان نے جو گرین سگنل دکھائے ہیں وہ بھی ایسے حالات میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرامپ مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کے لیے صفحہ تاریخ سے مٹانا چاہتے ہیں، انتہائی خطرناک ہیں اور یہ عالم اسلام و آزادی قدس کی راہ میں بہنے والے خون شہداء کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی خیانت ہے۔

موجودہ حالات میں بلکہ اس کے بعد بھی امریکہ کی طرف سے خاشقجی نام کی چھڑی ہمیشہ بن سلمان کے سرپر سایہ فگن رہے گی اور امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ اپنے مجوزہ امن منصوبے “صدی کی ڈیل” کو عملی جامہ پہنانے میں آسودہ خاطر ہو گیا ہے چونکہ اس نے سعودی قاتل ولیعہد کی بادشاہی کی ضمانت جو اپنے ذمہ لی ہے اس کی اجرت سعودی ولیعہد سے وصول کر مسئلے فلسطین کو یکسرے کرنے میں خرچ کرے گا۔

واضح ہے کہ ایسے حالات میں اسرائیل کو سعودی ہٹلر کے خونریز کارناموں کے مقابلے میں خاموشی ہی اختیار کرنا چاہیے اور پوری دنیا کے مخالف سمت اپنی گنگا بہانا چاہیے چونکہ امریکی حکومت نے سعودی ولیعہد کے کارناموں کی توجیہ کرنے اور صہیونی ریاست نے خاموشی اختیار کرنے کے بدلے بن سلمان کے سامنے کئی دیگر فائلیں کھول کر رکھی ہیں اور بعد از ایں، ان سے انہیں ان فائلوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی امید وابستہ ہے۔

سب سے پہلی فائل جو بن سلمان کے سامنے کھل کر آئی ہے وہ پہلی فرصت میں “صدی کی ڈیل” کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔

دوسرے مرحلے میں بن سلمان کو امریکہ سے اسلحہ خریدنا ہے (اور اس کا استعمال علاقے کے اسلامی ممالک پر کرنا ہو گا) اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی کو پورا کر کے ایرانی تیل کی ضرورت کو کم کرنا ہے، تاکہ ڈونلڈ ٹرامپ کے غیر سنجیدہ منصوبوں کی وجہ سے امریکی معیشت کو جو دھچکا لگا ہے وہ پورا ہو جائے۔

تیسرا اہم کام جو بن سلمان کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے کرنا ہو گا وہ یہ ہے کہ علاقے میں اسرائیل کی سرپرستی میں ایران مخالف اتحاد قائم کرے اور صہیونی ریاست کو تنہائی سے نکالے۔

اور چوتھی ذمہ داری سعودی ولیعہد کی ایران مخالف عرب نیٹو کی تشکیل ہے اور پانچواں اقدام عالم اسلام اور اسرائیل کے درمیان روابط کو معمول پر لانے کے لیے مسلمانوں میں دراڑیں پیدا کرنا ہے۔

واضح رہے کہ خاشقجی کیس کے بعد بن سلمان عالم اسلام بلکہ پوری دنیا میں ایک قاتل اور مجرم شخص کے عنوان سے پہچانے گئے ہیں اور ان کے پاس سعودی عرب کی بادشاہی اور خادم حرمین کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے کوئی چانس باقی نہیں رہا ہے مگر اسی صورت میں وہ اس عہدے پر براجمان ہو سکتے ہیں کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنائے۔

اسرائیل نے خاموشی اختیار کی لیکن اس کی خاموشی کے پیچھے بہت سارے راز پوشیدہ ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد؍خ؍۱۰۰۰۳

 

  • facebook
  • googleplus
  • twitter
  • linkedin
لینک خبر : https://kheybar.net/?p=13787

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے